Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مل گئے خاک میں وہ خاکے بنانے والے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 478 - Saadi kay Qalam Say - mil gae khaak mein ko khake banane wale

مل گئے خاک میں وہ خاکے بنانے والے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 478)

اللہ تعالیٰ کا سلام اور بے شمار رحمتیں…اُن شہداء کرام پر جنہوں نے عشق رسول ﷺ کا حق اَدا کر دیا…پیرس میں اِسلامی غیرت اور عشقِ محمد ﷺ کی شمع اپنی جان سے روشن کرنے والو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

قلم ہاتھ سے چھوٹتا ہے

سبحان اللہ ! کیسا تاریخی واقعہ ہے اور وہ تینوں شہداء کتنے عظیم ہیں…سچ کہتا ہوں جوش ،جذبے اور عقیدت سے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور قلم ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے…گستاخانہ خانے بنانے والوں پر تڑ،تڑ گولیاں برسانے والے…بڑا اونچا مقام لُوٹ گئے… جس کے دل میں بھی ایک ذرہ برابر عشق رسول ﷺ ہو گا وہ ضرور…ان شہداء کرام کو خراج تحسین پیش کرے گا…ان کے لئے دعاء مانگنا اپنی سعادت سمجھے گا…مجھے تو اس ولولے اور خوشی کے موقع پر ایک شعر بھی سوجھا ہے…

میرے آقا کی محبت کا یہ منظر دیکھو

مل گئے خاک میں وہ خاکے بنانے والے

من لی بھذا الخبیث؟

ہم جب اپنے آقا مدنی ﷺ کی زندہ سیرت پڑھتے ہیں تو اس میں ہمیں یہ اَلفاظ ملتے ہیں:

’’ من لی بھذا الخبیث‘‘

کون ہے؟کون ہے، جو میرے لئے… یعنی محض میری عزت و حرمت کے لئے اس خبیث کو ختم کر دے…کون ہے اس خبیث کے مقابلے میں میری نصرت کرنے والا؟…یہ ۲ھ کا واقعہ ہے…ایک یہودی تھا ’’ابو عفک‘‘ … بہت بڈھا… بہت ناپاک اور بہت منہ پھٹ…یعنی اس زمانے کا ’’چارلی ایبڈو‘‘…وہ حضرت آقا مدنیﷺ کی گستاخی میں اَشعار بکتا تھا…گویا کہ اللہ تعالیٰ کو گالیاں بکتا تھا…حضور اقدس ﷺ کی گستاخی …دراصل اللہ تعالیٰ کی گستاخی ہے…حضور اقدس ﷺ کی گستاخی…ہزاروں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے سے بھی زیادہ خطرناک جرم ہے…کیونکہ یہ جرم انسانوں کے لئے جہنم اور ہمیشہ ہمیشہ کی ناکامی کے دروازے کھولتا ہے… حضور اقدس ﷺ کی شان اَقدس میں گستاخی پورے پورے شہروں کو آبادیوں سمیت جلا دینے سے بھی زیادہ مہلک اور نقصان دِہ گناہ ہے…یہ گناہ ایک ہستی کے خلاف نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ہے… ابو عفک یہودی کی گستاخی جب حد سے گذر گئی تو حضرت آقا مدنیﷺ نے انسانیت کی حفاظت کے لئے نہایت درد کے ساتھ فرمایا:

’’ من لی بھذا الخبیث‘‘

کون ہے میرا مددگار،اس خبیث کے بارے میں؟

سبحان اللہ ! سعادت کا قرعہ حضرت سیدنا سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ کے حق میں نکلا…انہوں نے حضرت آقا مدنی ﷺ کے اَلفاظ مبارک سنے تو تڑپ اُٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ! میں نے پہلے ہی منت مانی ہوئی ہے کہ ’’ابو عفک ‘‘ کو قتل کر دوں گا یا خود مر جاؤں گا… پھر فوراً تلوار لے کر نکلے اور اس ظالم ،موذی،کینسر، ایڈز، ایبولا کو ختم کر دیا… چارلی ایبڈو رسالے نے جب حضور اقدس ﷺ کی شان عالی مقام کی گستاخی کا ارتکاب کیا…کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر خنجر چلایا… احتجاج کے باوجود اَڑیل گدھوں کی طرح اپنی ضد پر اَڑے رہے…اور اپنی سکیورٹی پر ناز کرتے ہوئے اپنی گستاخی پر قائم رہے تو میں سوچتا ہوں…گنبد خضراء سے آواز آتی ہو گی…

’’ من لی بھذا الخبیث‘‘

کون ہے؟ کون ہے،میرا عاشق،میرا جانباز اس خبیث رسالے کے مقابلے میں؟

آہ! چار سال تک یہ آواز آتی رہی…ہم مسلمان روتے رہے، بلکتے رہے، شرم میں ڈوبتے رہے…کئی دیوانے چاقو چھریاں لے کر روانہ بھی ہوئے مگر پکڑے گئے یا مارے گئے… کئی دیوانے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر روئے بھی… ہر ایک چاہتا تھا کہ پکار کر کہے:

انایارسول اللّٰہ،انایارسول اللّٰہ

میں ہوں، میں ہوں…اے اللہ کے رسول! آپ کی عزت و حرمت کا بدلہ لینے والا… مگر قسمت جاگی تو شریف اور سعید کی…وہ مکمل تیاری کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچے اور ایسی جنگ لڑی کہ آسمان بھی جھک جھک کر دیکھتا اور سلام کرتا ہو گا… چارلی ایبڈو کا غرور اور گستاخی خاک میں مل گئی…کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر شفاء کا مرہم لگا…سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم … دنیا نے دیکھ لیا کہ اسلام کی گود ابھی بانجھ نہیں ہوئی…اور حضرت آقا مدنی ﷺ کی محبت کا سورج آج بھی…الحمد للہ نصف النہار پر ہے…

میرے آقا کی محبت کا یہ منظر دیکھو

مل گئے خاک میں وہ خاکے بنانے والے

انصارِ محمد ﷺ

ہم جب اپنے آقا ﷺ کی سیرت مبارکہ پڑھتے ہیں تو اس میں ایک ایسا خوش نصیب ،خوش بخت، عالی مقام اور قابل رشک شخص بھی نظر آتا ہے جو آنکھوں سے معذور تھا مگر …اس کے دل کی آنکھیں روشن تھیں…

اُن کا اسم گرامی تھا…حضرت سیدنا عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ

سب پڑھنے والے جھوم کر والہانہ دعا کریں:

رضی اللہ عنہ، رضی اللہ عنہ، رضی اللہ عنہ واَرضاہ

مدینہ منورہ میں ایک بدبخت عورت تھی… عصماء یہودیہ… یہ بھی حضورِ اقدس ﷺ کی شان مبارک میں گستاخانہ اَشعار بکتی تھی…حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ اس نجاست کو ضرور ختم فرمائیں گے…اور پھر رمضان المبارک کی ایک رات انہوں نے یہ سعادت حاصل کر لی…

ارے ! یہ تو ایسی عظیم عبادت اور عظیم سعادت ہے کہ…کوئی شخص سو سال تک کعبہ شریف میں عبادت کرتا رہے اور نہ تھکے…اور کوئی شخص سو سال تک مسجد نبوی شریف میں اِعتکاف کرے اور ہر نماز پہلی صف میں اَدا کرے…اور روز لاکھوں بار مواجہہ شریف پر… درودشریف پیش کرے…تب بھی وہ اس عاشقِ رسول کے برابر تو کیا قریب بھی نہیں ہو سکتا …جو کسی گستاخِ رسول کا خاتمہ کر دے… حضرت کاندھلویؒ لکھتے ہیں:

’’ پیغمبر برحق ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا قتل اَعظمِ قربات اور اَفضل عبادت میں سے ہے‘‘

حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جب یہ عظیم کارنامہ سراَنجام دے دیا تو آپ ﷺ بے حد مسرور ہوئے اور صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا:

’’اذا احببتم ان تنظروا الی رجل نصر اللہ ورسولہ بالغیب فانظروا الی عمیر بن عدی‘‘

’’اگر آپ لوگ ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کی تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو‘‘

اب ایک اور بہت مزے کی بات سنیں… عشقِ رسول ﷺ تک پہنچ جانا کتنی بڑی سعادت ہے،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ…حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ ’’نابینا‘‘ تھے… لوگ انہیں ’’اَعمیٰ‘‘ یعنی نابینا کہتے تھے…آپ ﷺ نے پابندی لگا دی کہ اِن کو اَعمیٰ یعنی نابینا نہ کہو یہ تو ’’بصیر‘‘ یعنی خوب دیکھنے والے ہیں…

سبحان اللّٰہ وبحمدہ،سبحان اللّٰہ العظیم

ہاں ! اصل اَعمیٰ یعنی نابینا تو وہ ہیں جو … حضورِ اَقدس ﷺ کے مقام کو نہیں دیکھ سکتے… وہ اَندھے جو اپنی آنکھوں سے دنیا بھر کی طاقتوں کو دیکھتے ہیں… دنیا بھر کے گناہوں کو دیکھتے ہیں…مگر کائنات کی سب سے روشن ہستی کو نہیں پہچانتے… ہاں وہ اندھے ہیں جنہیں پاکستان میں ناموس رسالت کا قانون بُرا لگتا ہے… ہاں وہ اَندھے ہیں جو گستاخانِ رسول کا تحفظ کرتے ہیں… اور عاشقانِ رسول ﷺ کو نعوذ باللہ مجرم اور دہشت گرد سمجھتے ہیں… اَرے وہ آنکھیں کس کام کی جو جمالِ محمد ﷺ کو نہ دیکھ سکیں… جو شانِ محمد ﷺ کا اِدراک نہ کر سکیں… سلام ہو! ان گرم خون نوجوانوں کو جنہوں نے ہمارے زمانے کی لاج رکھ لی… اور خاکے والوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا… ہاں ! وہ اللہ تعالیٰ کے ’’اَنصار ‘‘ ہیں… ہاں ! وہ آقا مدنی ﷺ کے ’’اَنصار ‘‘ ہیں… دنیا لاکھ اُن کی مذمت کرے… ہم اُن سے محبت رکھتے ہیں…اُن کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں… اگر اُن کی تعریف کرنا جرم ہے…تو ایسا جرم بھی سعادت… اگر میں شاعر ہوتا تو آج ایک پورا قصیدہ…ان سچے جانباز عاشقوں کی شان میں لکھ دیتا…فی الحال تو…میرا دل ان کے ساتھ خوشی کا رقص کر رہا ہے…

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں

بصد سامان رُسوائی سربازار می رقصم

جو ہونا ہے، ہوتا رہے

یورپ والے بڑے بڑے مظاہرے کر رہے ہیں…ہر ملک اپنی سیکیورٹی سخت کر رہا ہے… یہ بیوقوف اتنا نہیں سوچتے کہ نائن الیون کے بعد سے تم سب یہی کچھ تو کر رہے ہو… مار رہے ہو،پکڑ رہے ہو، بمباری کر رہے ہو،…پھانسیاں دے رہے ہو…سیکیورٹی سخت کر رہے ہو…دھمکیاں دے رہے ہو،ڈرا رہے ہو… مگر تمہارے ان تمام اِقدامات کا کیا نتیجہ نکلا؟… سوچو، سوچو! کہ جہاد کمزور ہوا یا طاقتور… قتال فی سبیل اللہ محدود ہوا یا وسیع؟… اِسلام کی خاطر لڑنے والے کم ہوئے یا زیادہ؟… اب تم مزید بھی یہی اِقدامات کرو گے تو نتیجہ پہلے جیسا ہی نکلے گا…جب تم گستاخانہ خاکے بناؤ گے تو کیا حضرت محمد ﷺ کے دیوانے عاشق…ہاتھ میں چوڑیاں پہن کر بیٹھے رہیں گے؟… فرانس کو بڑا شوق ہے بمباری کا … افغانستان ہو یا لیبیا یا عراق…اس کے میراج طیارے ہر جگہ سب سے پہلے مسلمانوں پر بم برسانے پہنچ جاتے ہیں… تم بم برساؤ گے تو کیا مدینہ منورہ کے بیٹے تم پر پھول نچھاور کرتے رہیں گے؟… اَرے مان لو! کہ اسلام ایک حقیقت ہے… جہاد ایک حقیقت ہے… اور حضرت محمد ﷺ کی محبت ایک بہت بڑی حقیقت ہے… تم جس قدر جنگ کی آگ بھڑکاتے جاؤ گے…سختیاں کرتے جاؤ گے…مسلمان اسی قدر مضبوط اور جنگجو ہوتے چلے جائیں گے…کل جب تم نے خاکے بنائے تو ہم نے کہا تھا…

خاک ہو جائیں گے خاکے بنانے والے

اور آج الحمد للہ ہم یہ کہنے کے قابل ہو گئے کہ…

مل گئے خاک میں وہ خاکے بنانے والے

یاد رکھو! مسلمان کے لئے موت…کوئی ڈراوے کی چیز نہیں … بلکہ یہ تو وہ حسینہ ہے جس کے اَنگ اَنگ میں لذت اور راحت ہے…مسلمان اپنے دین کا… اپنے اللہ کا اور اپنے رسول ﷺ کا وفادار ہی رہے گا…اِن شاء اللہ…

اُسے یہ پرواہ نہیں کہ… کیا ہو گا؟…جو ہوتا ہے، ہوتا رہے…ہمارے لئے کل بھی اَللّٰہ… آج بھی اَللّٰہ… حسبنا اللّٰہ …اَللّٰہ ہی اَللّٰہ …اَللّٰہ ھو اَللّٰہ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor