Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آخری گھنٹے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 480 - Saadi kay Qalam Say - Aakhri Ghante

آخری گھنٹے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 480)

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مغفرت،ثابت قدمی اور نصرت عطاء فرمائے

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ

ایک سچی کہانی

آج کی مجلس میں ایک سچی کہانی عرض کرنی ہے…اور اسی کہانی کی روشنی میں موجودہ حالات پر چند باتیں…اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے

گیارہ فروری 1994؁ء…کشمیر کے علاقہ ’’اننت ناگ‘‘ سے ہماری گرفتاری ہوئی…پہلے کچھ دن کھندرو کیمپ میں رکھا گیا…اور پھر بادامی باغ کے ’’آرمی عقوبت خانے‘‘ آر آر سینٹر منتقل کر دیا گیا…یہ کہانی بادامی باغ سری نگر کے اسی عقوبت خانے کی ہے

دنیا دھوکے اور امتحان کی جگہ

دنیا ہر انسان کا عارضی گھر ہے…اور یہ امتحان گاہ ہے… اللہ کے دشمن کرسیوں پر اور اللہ کے دوست سولیوں پر…اللہ کے دشمن ہنستے دمکتے …اور اللہ کے دوست روتے بلکتے درد سے کراہتے …اللہ کے دشمن حکمران اور اللہ کے دوست قید میں …یہ سب کچھ امتحان ہے کہ…کون اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہتا ہے اور جنت خریدتا ہے…اور کون دنیا کے یہ رنگ دیکھ کر گمراہ ہو جاتا ہے… آج 26جنوری تھی اس زمانے کا ابرہہ یعنی اُبامہ اور اس زمانے کا ابو جہل یعنی مودی…کس قدر خوش تھے…ان کے گرد بڑی فوج،بڑے پہرے تھے …انڈیا میں یوم آزادی کی پریڈ تھی…کافروں نے اپنی شان و شوکت دکھانے کی ہر کوشش کی … منافقین منہ میں رال لئے اُن کو دیکھتے رہے کہ… کاش ہمیں بھی ایسی عزت ملے… جبکہ اہل ایمان پر آج کا دن بھی آزمائش والا گزرا… چھاپے ، گرفتاریاں،غم، آنسو…اور ایک دوسرے کو دلاسے…پاکستان کی موجودہ حکومت نے تو ظلم اور کفر نوازی میں سابقہ تمام حکومتوں کو مات دے دی ہے…مگر ظلم کا انجام بھی بھیانک ہوتا ہے…یہ حکومت اور اس کے حکمران بھی…بد دعاؤں کی زد میں آنے کو ہیں…انہوں نے تو چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بھی روند ڈالا ہے…اور یہ دنیا کی واحد اسلامی حکومت ہے جو نعوذ باللہ جہاد جیسے مقدس اسلامی فریضے کو ’’جرم‘‘ قرار دے کر عذاب الہٰی کو آوازیں دے رہی ہے…دنیا امتحان کی جگہ ہے یہاںموٹی اور تنی ہوئی گردنوں والے حکمرانوں کو…ایک وقت تک ڈھیل دی جاتی ہے…اور پھر رسی کھینچ لی جاتی ہے…دوسری طرف اہل ایمان ہمیشہ آزمائے جاتے ہیں…انبیاء علیہم السلام اور ان کے بعد سچے ایمان والے…طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالے جاتے ہیں…اور یہ آزمائشیں ان کے لئے حقیقی کامیابی کی ضمانت اور جنت کا ٹکٹ بن جاتی ہیں…جبکہ کافروں اور منافقوں کو جو کچھ دینا ہوتا ہے اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے…اور آخرت میں ان کے لئے عذاب کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہوتا…آج دنیا بھر کی جیلوں میں اہل ایمان…اپنی ایمانی آزمائش کے دن کاٹ رہے ہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچے اہل ایمان میں شمار فرمائے…ہم نے بھی چند سال جیل کاٹی…اس قید کا پہلا سال سری نگر کے بادامی باغ میں گذرا…

قانون بدل جاتے ہیں

غزوہ بدر سے لے کر جہاد افغانستان تک … ہر جہاد میں کافروں کو ایسی مار پڑی کہ جہاد کے نام سے ان کی روحیں کانپتی ہیں…اسی لئے منافق حکمرانوں کو استعمال کرتے ہیں کہ…جہاد کے خلاف کام کرو… آج دنیا کی ہر جیل میں خواہ وہ مسلمانوں کے ممالک کی ہو یا کفار کے ملکوں کی… مجاہدین کے لئے الگ سیل ہوتے ہیں،الگ طرح کا تشدد ہوتا ہے …اور ان کے لئے ملک کا ہر قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے…

پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں …کئی مسلمان پھانسی پر لٹکا دیئے گئے…ان کا کیس لڑنے والا ایڈووکیٹ چیختا رہا کہ… پرویز مشرف خود زندہ ہے توپھر کوئی اس کا قاتل کیسے بن گیا؟…مگر یہ لوگ داڑھیوں والے تھے،دین سے نسبت رکھتے تھے تو انہیں بے دردی سے لٹکا دیا گیا …یعنی زندہ مقتول کے قاتل مار دیئے گئے… جبکہ صولت مرزا نے ایک سو قاتلانہ وارداتوں کا اقرار کیا…مگر چونکہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں تو وہ ابھی تک زندہ ہے…معلوم نہیں یہ حکمران کس منہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے…بادامی باغ کا آر آر سینٹر کوئی جیل نہیں تھا…وہ ایک تفتیشی مرکز تھا…قانون کے مطابق وہاں کسی بھی قیدی کو صرف نوے دن تک رکھنے کی اجازت تھی…پھر یا تو اسے رہا کر دیا جاتا تھا یا کیس بنا کر جیل بھیج دیا جاتا تھا…یہ بہت تنگ اور اذیت ناک جگہ تھی… وہاں نوے دن رہنا بھی آسان کام نہیں تھا…مگر جب ہمارا معاملہ آیا تو یہ قانون بھی تبدیل ہو گیا اور ہمیں ایک سال کے لگ بھگ غیر قانونی طور پر اس سینٹر میں رکھا گیا…مقامی کشمیری مجاہدین آتے اور چلے جاتے مگر ہم پاکستانی اپنے تنگ اور تاریک سیلوں میں پڑے رہ جاتے…اور ہمیں کہا جاتا کہ تم نے بس یہیں رہنا ہے، یہیں مرنا ہے…اسی دوران کسی خیرخواہ نے ہمیں مشورہ دیا کہ آپ لوگ یہاں سے نکلنے کے لئے کچھ کریں…کیونکہ یہاں رہتے ہوئے نہ تو آپ کا اپنے گھروں سے رابطہ ممکن ہے …اور نہ ساتھیوں سے…اور چونکہ آپ لوگوں کو یہاں غیر قانونی طور پر رکھا گیا ہے تو اس لئے جب …معاملہ اوپر تک جائے گا تو شاید قانون کے مطابق آپ کو جیلوں میں شفٹ کر دیا جائے…مشورہ معقول تھا اور آپس کے مشورے میں طے پایا کہ بھوک ہڑتال کی جائے…ایسی بھوک ہڑتال جس میں جان نہ جائے کہ خود کشی ہو …مگر حکام پر کچھ دباؤ آ جائے…ہم بارہ افراد تھے…اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ہم نے بھوک ہڑتال شروع کر دی…اور مطالبہ یہ رکھا کہ ہمیں بھی جیل منتقل کیا جائے…

آزمائش کے آٹھ دن

ہم پہلے ہی عقوبت خانے کی آزمائش میں تھے …اب ساتھ بھوک ہڑتال بھی چل پڑی… ابتداء میں مقامی حکام نے سمجھانے کی کوشش کی …مگر ہم مضبوط رہے…پھر انہوں نے زور زبردستی شروع کی…مگر ہم ڈٹے رہے…وہ ہمیں اپنی سیلوں سے نکال کر باہر برآمدے میں بٹھا دیتے اور ہمارے سامنے ابلے ہوئے چاولوں کی پلیٹیں رکھ کر…بھاشن دیتے کہ آپ لوگ کھانا کھا لو…کھانا نہ کھانے سے آپ کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں…کھانا نہ کھانے میں آپ لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے…اور آپ کا دھرم(دین) بھی بھوک ہڑتال کی اجازت نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ…اس وقت ہم اپنا مطالبہ دہراتے کہ نہیں ہم نے ہرگز کھانا نہیں کھانا…آپ لوگ کم از کم اپنے قانون کا تو احترام کرو وغیرہ…

یہ سلسلہ چار دن چلا …ہمارے بعض ساتھی کمزور ہو گئے اور بعض بیمار…مجبوراً مقامی حکام کو اوپر بتانا پڑا…تب ویڈیو کیمرے لا کر ان کے سامنے وہی سب کچھ کیاگیا جو روز ہوتا تھا…پھر بعض ساتھی بیمار ہو گئے تو انہیں آرمی کے ہسپتال لے جایا گیا…جہاں ان کی داڑھیاں کاٹ دی گئیں اور زبردستی ان کی بھوک ہڑتال ختم کرا دی گئی… باقی جو ساتھی رہ گئے ان کو روز ڈرایا دھمکایا جاتا… مختلف طریقے سے خوف پھیلایا جاتا…اور بعض ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا…

آخری دن

بالآ خر وہ دن آ گیا جس میں ہمارے لئے فتح اور آسانی مقدر تھی…مگر انسان کہاں جانتا ہے کہ کون سا دن فتح والا ہے اور کون سا دن شکست والا …اس دن کا آغاز بہت مشکل تھا مگر اختتام بہت پیارا…صبح سے ہی ہمیں ڈرانے،دھمکانے کا عمل تیز ہو گیا…بعض ساتھیوں کو میڈیکل روم لے کر جا کر سخت مارا گیا…اور پھر انہیں نڈھال حالت میں لا کر ہمارے سامنے گھسیٹتے ہوئے اپنے سیلوں میں ڈال دیا گیا…حکام اس دن سرخ آنکھوں کے ساتھ آتے اور طرح طرح کی گالیاں بکتے…اور کہتے کہ آج اگر تم نے بھوک ہڑتال نہ توڑی تو ہم تمہیں ’’بی ایس ایف‘‘ کے ٹارچر سیل ’’پاپا ٹو‘‘ میں ڈال دیں گے…’’پاپاٹو‘‘ کے تشدد کی داستانیں وہاں بہت عام اور بہت دردناک تھیں…

جب دو ساتھیوں کو بہت مارا گیا تو …ان کی حالت دیکھ کر اکثر ساتھیوںکا غم سے برا حال ہو گیا …انسان اپنی تکلیف سہہ لیتا ہے مگر اپنے عزیز ساتھیوں کی تکلیف سے دل زخمی ہو جاتا ہے… ایک معزز ساتھی کسی طرح میرے سیل پر آئے اور کہنے لگے …اب ہمیں بھوک ہڑتال توڑ دینی چاہیے …اور ساتھیوں کو کھانے پینے کی اجازت دے دینی چاہیے کیونکہ…ظلم اور تشدد بہت بڑھ گیا ہے…اور اگر ہماری قسمت میں اسی عقوبت خانے کا دانہ پانی ہے تو …اپنے مقدر کو قبول کر لینا چاہیے …اب ساتھیوں کو مزید مار کھاتے دیکھنا میرے بس میں نہیں…آپ اس پر ہمدردی سے سوچ لیں … میں ان کی بات سے متاثر ہوا اور کہا کہ میں دو رکعت پڑھ کر استخارہ کرتا ہوں…پھر کوئی فیصلہ کرتے ہیں…اللہ اکبر کبیرا…وہ عجیب دردناک لمحات تھے…کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز ادا نہیںکر سکتا تھا…اب دل پر مزید بوجھ کہ اگر ہم بھوک ہڑتال توڑیں تو…مشرکین کے سامنے اہل اسلام کی پسپائی اور ظاہری شکست ہے…اور اگر بھوک ہڑتال جاری رکھیں تو…مظلوم اور مسافر مجاہدین پر مزید تشدد کے ہم ذمہ دار بنتے ہیں… اس وقت جو حالت تھی،کیفیت تھی،درد تھا اور بے بسی تھی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے… بیٹھے بیٹھے دو رکعت نماز ادا کی اور دعاء میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی…ذہن اسی طرف جا رہا تھا کہ ساتھیوں کو تشدد سے بچایا جائے اور بھوک ہڑتال ختم کر دی جائے…دعاء کے دوران بوٹوں کی زور دار آواز آئی…ایک سپاہی تیزی سے میرے سیل کے سامنے آیا بلند آواز سے مجھے برا بھلا کیا…کھانا کھانے کا اصرار کیا اور اسی درمیان چپکے سے منہ قریب کر کے کہا…آپ کا مسئلہ حل ہونے والا ہے …چند گھنٹے ہیں، مضبوط رہنا…یہ آہستہ سے یہ کہہ کر پھر بلند آواز سے بھوک ہڑتال توڑنے کا کہتا ہوا تیزی سے واپس چلا گیا…اور یوں …غریب ،مسافر،بے بس،نڈھال اور کمزور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت آ گئی…اس نے چند گھنٹوں والی جو بات کہی تھی وہ فوراً سب ساتھیوں کو بتا دی گئی…اور سب کے جذبے دوبارہ جوان ہو گئے…

آخری گھنٹے

غالباً اوپر کے حکام نے نیچے والوں کو اب یہ آخری تین چار گھنٹے دئیے تھے کہ ان میں …جو کر سکتے ہو وہ کر کے بھوک ہڑتال ختم کراؤ…ورنہ ہمیں مجبورا ًان کو جیل میں منتقل کرنا پڑے گا… بس پھر کیا تھا…

عقوبت خانے کے حکام نے ہم پردباؤ کی حد کردی… ایسا سخت دباؤ کہ اگر ہمیں پہلے سے اطلاع نہ مل چکی ہوتی تو یقینا ہم ٹوٹ جاتے… آخر گوشت پوست کے بنے کمزور انسان تھے… ان آخری چار گھنٹوں میں ایسا خوفناک اور دہشت ناک ماحول بنایا گیا کہ…کبھی کبھار دل مکمل طور پر بیٹھ جاتا اور یہ خیال آتا کہ شاید وہ اطلاع بھی جھوٹی ہے…اور ہمیں پھنسانے کے لئے خود ہی غلط اطلاع دی گئی ہے…مگر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی …اور ہم ان کی سختی کے مقابلے میں پہلے سے بھی زیادہ سختی،مضبوطی اور عزیمت دکھانے لگے… بالآخرچار گھنٹے یہ خونی تماشا ختم ہوا…سرخ آنکھوں والے چہرے مسکراتے ہوئے آئے… کچھ نئے لوگ بھی ساتھ تھے…ہمیں مبارک باد دی کہ ابھی گاڑیاں پہنچ رہی ہیں…آپ کوٹ بھلوال جا رہے ہیں …چلو ہمارا آخری کھانا کھا لو…ہم نے کہا: ہم کوٹ بھلوال جا کر کھا لیں گے …تھوڑی دیر میں گاڑیاں آ گئیں اور ہم تنگ جیل سے ایک کھلی جیل کی طرف روانہ ہو گئے…

موجودہ حالات

الحمد للہ کفر کے اتحادی لشکر عبرتناک شکست کھا چکے ہیں…زمانے کا مؤرخ حیران ہے کہ اس واقعہ کو کیسے لکھے کہ…چالیس ملکوں کے مشترکہ اتحادی لشکر نے افغانستان میں اکیلے طالبان سے شکست کھائی ہے…ایٹمی طاقتوں کا غرور ٹوٹ چکا ہے…اور وہ جس جہاد کو مٹانے نکلے تھے وہ جہاد خود ان کے ملکوں میں داخل ہو چکا ہے…اور مجاہدین کے بڑے بڑے نئے لشکر وجود میں آ چکے ہیں…افغانستان سے غیر ملکی افواج تیزی سے نکل رہی ہیں…مگر وہ جاتے جاتے آخری لمحات میں ایسا خوف، ایسا ظلم اور ایسی دہشت مچانا چاہتے ہیں کہ…شاید اس کی وجہ سے وہ مجاہدین سے اپنی شکست کا بدلہ لے سکیں…اور اپنی شرمندگی کو کچھ کم کر سکیں…ساتھ ہی وہ ’’ پاکستان‘‘ کو اپنی شکست کا بڑا ذمہ دار سمجھتے ہیں …اور چاہتے ہیں کہ … جاتے جاتے اس ملک کو کھنڈر بنا جائیں…

بس اب آخری گھنٹوں کا خونی کھیل شروع ہے…پاکستان میں ہر طرف مارو،پکڑو، لٹکاؤ کی آوازیں ہیں…اور یہ ملک ایک نئی خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے…اور مجاہدین پر ہر طرف سے دباؤ ہے،تشدد ہے اور سخت پابندیاں ہیں…ہاں! شکست کھانے والا کفر ہمیشہ آخری گھنٹوں میں … یہی حرکت کرتا ہے…مگر اے مجاہدین اسلام!

یہ تو سوچو کہ…گذشتہ چودہ سال تم کس کی نصرت سے ’’فتح یاب‘‘ ہوئے؟…ہاں! صرف ایک اللہ کی نصرت سے…صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت سے…

تو پھر ان آخری گھنٹوں میں بھی…اللہ تعالیٰ موجود ہے…وہ ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا… حوصلہ رکھو، ایک دوسرے کو حوصلہ دلاؤ…تشدد سے نہ گھبراؤ…پابندیوں اور بیانات سے نہ ڈرو… اللہ تعالیٰ کل بھی موجود تھا، آج بھی موجود ہے… اللہ تعالیٰ کل بھی ناصر تھا…آج بھی ناصر ہے… اسی کی طرف رجوع کرو…اور اسی کو پکارو…

اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor