ایک تاریخ ساز شخصیت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 481 - Saadi kay Qalam Say - Aik Tareekh Saaz Shakhsiyat

ایک تاریخ ساز شخصیت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 481)

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو ایمان اور راحت والی موت عطاء فرمائے…

ہمارے زمانے کے ایک بڑے عالم… بزرگ اور اللہ والے…شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا عبد المجید لدھیانوی صاحب گذشتہ کل انتقال فرما گئے…

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون…اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہْ

 

آج ’’ کہروڑپکا ‘‘ میں اُن کا جنازہ بڑی شان سے اُٹھا…اہلِ اسلام کا ایسا ہجوم تھا کہ شمار کرنا مشکل…علمائ، مجاہدین، طلبہ اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد،دور اور قریب ہر جگہ سے کھنچے چلے آ رہے تھے…واقعی تاریخی جنازہ تھا بلکہ تاریخ کو زندہ کرنے والا جنازہ تھا…

آپ تاریخ پر ایک نظر ڈالیں…اہل حق کے جنازے عجیب شان سے اُٹھے…حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے تو اپنی زندگی میں فرما دیا تھا کہ …اے حکمرانو! اے دین میں تبدیلیاں کرنے والو!

’’ بیننا وبینکم الجنائز‘‘

ہمارااور تمہارا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے…اللہ والوں کے جنازوں میں مخلوق ہر طرف سے اُمڈتی ہے…اللہ تعالیٰ کے ملائکہ بھی ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں…اور حضرات شہداء کرام کی ارواح بھی بعض خاص جنازوں میں حاضر ہوتی ہیں… گویا کہ دین کے ان خادموں کے جنازے ’’یوم مشہود ‘‘ ہوتے ہیں…وہاں حاضری ہی حاضری ہوتی ہے… فرشتے، اولیائ، خواص،عوام اور معلوم نہیں کون کون سی مخلوقات حاضرہوتی ہیں…اور ان جنازوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے…حکمران بے چارے حیرانی، حسرت،حسد اور تعجب کے ساتھ ان جنازوں کو دیکھتے ہیں…کیونکہ ان کو تو اپنے جلسوں کے لئے سرکاری ملازمین زبردستی لانے پڑتے ہیں…جبکہ ان کے جنازوں میں بے وضو افراد زیادہ ہوتے ہیں…جو دعائے مغفرت کے لئے نہیں، اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے لئے جنازے میں شریک ہوتے ہیں…

حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے…دنیا کے حکمرانوں اور اہل بدعت کو یہ چیلنج کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فقیر بندے کے قول کی لاج رکھی اور امام احمد بن حنبلؒ کا ایسا شان والا جنازہ اٹھا کہ… صرف اس جنازے کے مناظر دیکھ کر اُسی دن بیس ہزار یہودی اور عیسائی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے…وقت کے حاکم نے جنازہ گاہ کی زمین ناپ کر اندازہ لگایا تو…جنازہ کے شرکاء کی تعداد سترہ لاکھ سے زائد بن رہی تھی…اس زمانے نہ جہاز تھے نہ گاڑیاں…نہ موٹروے تھے اور نہ اطلاع دینے کے برقی آلات…مگر پھر بھی اتنے مسلمان جنازہ میں حاضر ہوئے…اور پھر جو لوگ نماز جنازہ سے رہ گئے انہوں نے تدفین کے وقت قبرستان میں نماز جنازہ ادا کی…مگر پھر بھی لوگوں کا سلسلہ جاری رہا اور ایک بڑی تعداد نے ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی…ایک محدث لکھتے ہیں کہ مجھے شہر میں داخل ہونے کے بعد حضرت امام صاحبؒ کی قبر تک پہنچنے میں پورے سات دن لگ گئے…یعنی اتنا ہجوم تھا کہ تھوڑا سا فاصلہ بھی سات دنوں میں طے ہوا…اور بعد میں مسلمانوں کا جم غفیر ان کی قبر پر حاضری دیتا رہا…حضرت امام بخاریؒ کا انتقال دربدری کی حالت میں ہوا لیکن نماز جنازہ میں مسلمانوں کا ایسا ہجوم تھا کہ اہل اقتدار حیران رہ گئے…موت ایک لازمی حقیقت ہے

کل نفس ذائقۃ الموت

اور اس دنیا میں رہنا کوئی اعزاز و اکرام کی بات نہیں…اگر موت ،عذاب ہوتی تو حضرات انبیاء علیہم السلام پر نہ آتی…اور دنیا میں رہنا ہی اِعزاز ہوتا تو تمام انبیاء کرام اور تمام صحابہ کرام آج بھی زمین کی پشت پر موجود ہوتے…دنیا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے …جبکہ موت ایک دروازہ ہے…ہر انسان نے اس دروازے سے گذرنا ہے…اور اس دروازے کے بعد یا تو راحت ہی راحت ہے یا عذاب ہی عذاب…

حضور اقدس ﷺ نے ایک بہت ہی پُر تاثیر اور جامع دعاء سکھلا دی ہے:

اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِی ہُوَ عِصْمَۃُ اَمْرِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَاشِی وَاَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَادِی،وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِّیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ

اس دعاء میں پانچ چیزوں کا سوال ہے…

(۱) یا اللہ! میرا دین ٹھیک فرما دیجئے…دین ہی سب سے بڑی حفاظت ہے…

(۲) یا اللہ! میری دنیا ٹھیک فرما دیجئے … اس دنیا میں میرا معاش اور رہنا سہنا ہے…

(۳) یا اللہ! میری آخرت ٹھیک فرما دیجئے …اُسی آخرت کی طرف میں نے جانا ہے…

دین کی اصلاح، دنیا کی اصلاح، آخرت کی اصلاح

(۴) یا اللہ! میرے لئے زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ فرما دیجئے…یعنی میں جتنے دن زندہ رہوں، زیادہ سے زیادہ خیریں اور نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں بڑھاتا جاؤں…

(۵) یا اللہ! موت کو میرے لئے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا دیجئے…یعنی موت کے دروازے میں داخل ہوتے ہی میرے لئے راحت ہی راحت ہو جائے…نہ غم، نہ پریشانی…نہ تنگی، نہ عذاب…نہ افسوس، نہ حسرت…

یہ دعاء حدیث صحیح میں آئی ہے… اللہ کرے ہر مسلمان کو یہ یاد ہو اور وہ اسے سجدے میں بھی مانگے اور رکوع میں بھی …اور اہم اوقات میں بھی اور قبولیت کے لمحات میں بھی…اس دعاء کے آخری الفاظ میں ’’حسن خاتمہ‘‘ کا سوال ہے…

وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ

ان الفاظ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ موت ’’عذاب ‘‘ نہیں ہے…بلکہ اہل ایمان کے لئے یہ راحت کا ذریعہ ہے…آرام،سکون،چین،عافیت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے میزبانی …اور اگر یہ موت شہادت والی ہو تو پھر اس میں ایک طاقتور ، زندگی بھی ہے…ایسی زندگی جو دنیا کی زندگی سے زیادہ مضبوط، زیادہ پُرتعیش اور زیادہ لذیذ ہے… جبکہ حضرات انبیاء علیہم السلام کو موت کے بعد جو زندگی عطاء فرمائی جاتی ہے وہ شہداء کی زندگی سے بھی زیادہ طاقتور اور وسیع ہوتی ہے…

اسلام نے ہم مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ … جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو دوسرے مسلمان اس کی نماز جنازہ ادا کریں…یہ ایک مسلمان بھائی کا اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں پر حق ہے…اور نماز جنازہ ادا کرنے کی بہت فضیلت ہے…اگر کوئی صرف نماز جنازہ ادا کرے تو اس کے لئے ایک ’’قیراط‘‘ اجر کا وعدہ ہے…اور جو تدفین تک شریک رہے اس کے لئے دو ’’قیراط‘‘ کا اعلان ہے…اور قیراط کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک بڑے پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا اجر کا ذخیرہ ہوتا ہے…اُحد پہاڑ سے بھی بڑا…شاید میدانی اور شہری علاقوں کے رہنے والے افراد نہ جانتے ہوں کہ ایک پہاڑ اپنی لمبائی اور چوڑائی میں میلوں تک پھیلا ہوا ہوتا ہے…اور قیراط سے مراد عام پہاڑ نہیں بلکہ بڑا پہاڑ ہے…اسی لئے روایت میں آیا ہے کہ…ایک صحابی نے جب پہلی بار یہ حدیث دوسرے صحابی سے سنی تو افسوس کے ساتھ زمین پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہائے! ہم نے اب تک کتنے قیراط کا نقصان کر ڈالا…یعنی اگر یہ حدیث پہلے سن لیتے تو اور زیادہ محنت اور اہتمام کے ساتھ جنازوں میں شرکت کرتے…

پھر بعض جنازے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ … ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور مغفرت چھم چھم برس رہی ہوتی ہے…جب اس جنازے کے شرکاء نماز جنازہ میں دعاء کرتے ہیں

…اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا…

یا اللہ ! ہمارے زندوں کی بھی مغفرت فرما اور ہمارے وفات پانے والوں کی بھی مغفرت فرما…

تو اس دعاء کے ساتھ ہی…سب سے پہلے خود اُن کی مغفرت کر دی جاتی ہے…

چنانچہ یہ کہنا درست ہے کہ بعض جنازے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں اخلاص کے ساتھ شرکت کرنے والے تمام افراد کی مغفرت فرما دی جاتی ہے…

بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے…اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا بہت اکرام فرمانے والے ہیں…پاکستان میں اس وقت اہل حق پر آزمائش کا دور چل رہا ہے…صرف اہل حق کو ہی ہدف بنا کر ایک اندھا آپریشن جاری ہے…اور اب تک تیس ہزار سے زائد افرادگرفتار کئے جا چکے ہیں…کئی بے گناہ افراد کو گرفتاری کے بعد سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے…اس وقت ہر مسجد اور ہر مدرسہ خوفناک نگرانی کی زد میں ہے…ایسے حالات میں امت مسلمہ کے ایک غمخوار قائد کا اٹھ جانا مزید بڑا سانحہ ہے…لیکن ان کے وصال پر مسلمانوں نے جس پُر وقار اور عظیم الشان ’’اجتماعیت ‘‘ کا ثبوت دیا ہے…اور لاکھوں افراد اس مردِ درویش کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں…اس سے حکمرانوں کو یہ سبق ضرور مل چکا ہو گا کہ…علماء اور مجاہدین اس ملک کی ایک حقیقت ہیں…اور انہیں کمزور یا قلیل سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش…مزید بدامنی کا ذریعہ بنے گی…کیونکہ یہ لوگ ایک قلبی نظریاتی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں…اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کمزور نہیں ہیں…حضرت اقدس مولانا عبد المجید صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ…ہمارے اکابر میں سے تھے… آپ ایک مایہ ناز محدث، محقق اور زمانہ ساز مدرس تھے … آپ جہاد کے پُرجوش داعی اور تحفظ ختم نبوت کے جری سالار تھے…آپ حضرت سید احمد شہیدؒ کی تحریک کو پرکھنے والے اُن گنے چنے اہل تحقیق میں سے تھے کہ…جنہوں نے اس تحریک کو مکمل گہرائی کے ساتھ سمجھا…اور اس تاریخی جہادی سفر کے چپے چپے کی داستان کو یاد کیا…حضرت لدھیانویؒ جب کبھی حضرت سید احمد شہیدؒ کے مزار پر حاضر ہوتے تو جہاد بالاکوٹ کا ایسا مدلل اور مفصل نقشہ بیان فرماتے کہ سننے والے ششدر رہ جاتے … انڈیا سے رہائی کے بعد جب پاکستان آنا ہوا تو حضرت ؒ نے بندہ کے ساتھ کئی بار بہت مثالی شفقت کا معاملہ فرمایا…وہ سارے مناظر آج بھی یاد آتے ہیں…اللہ تعالیٰ حضرت ؒ کو مغفرت ،رحمت اور اکرام کے اعلیٰ مراتب عطاء فرمائے…آمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭