Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اے ایمان والو! نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو! (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 482 - Saadi kay Qalam Say - Aye Emaan walo Na Dekho Hargiz na Dekho

اے ایمان والو! نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو!

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 482)

اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے…آج ایک بہت ہی اہم ’’نکتہ‘‘ عرض کرنا ہے…ایک بہت مفید قرآنی نکتہ

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ

نکتہ کی اہمیت

اس قرآنی نکتہ کی اہمیت یہ ہے کہ جس نے اسے سمجھا،دل میں بٹھایا اوراس پر عمل کیا وہ ہمیشہ سیدھے راستہ پر رہا…اور فتنوں سے بچا رہا … اور جس نے اس نکتے کو نظر انداز کیا وہ طرح طرح کے فتنوں میں پھنس گیا،ناکام ہو گیا، گمراہی میں جا گرا…اور گمراہی اور ناکامی کا سوداگر بن گیا…

صرف ایک آیت نہیں

قرآن مجید کا یہ نکتہ صرف کسی ایک آیت میں بیان نہیں ہوا…بلکہ یہ نکتہ بہت سی آیات میں نہایت تفصیل کے ساتھ سمجھا کر بیان فرمایا گیا ہے …قرآن مجید کی بعض پوری پوری سورتوں کا مرکزی موضوع یہی نکتہ ہے…پس خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو اسے سمجھ لیتے ہیں،اپنا لیتے ہیں …اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ان میں شامل فرمائے…(آمین)

نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو

قرآن مجید کا یہ نکتہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ … ’’نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو‘‘…یعنی پسند کی نگاہ سے نہ دیکھو! توجہ نہ کرو…متاثر ہونے والے انداز سے نہ دیکھو…اگر دیکھو گے تو گر جاؤ گے،تباہ ہو جاؤ گے…کہیں کے نہیں رہو گے…

کیا نہ دیکھیں؟

قرآن مجید نے سمجھایا کہ…کافروں کی طاقت کو نہ دیکھو…اُن کے مال و دولت کو نہ دیکھو! ان کی چمکتی دمکتی زندگیوں کو نہ دیکھو!…ان کی سلطنت کو نہ دیکھو!…ان کے اُڑنے پھرنے کو نہ دیکھو!…ان کی عسکری قوت کو نہ دیکھو! … منافقین کے مال اور اولاد کی کثرت کو نہ دیکھو! … یہ نہ دیکھنے والے جتنے جملے میں نے لکھے ہیں…یہ لفاظی نہیں …ہر ایک جملے کے پیچھے قرآن مجید کی کوئی آیت یا کئی آیات اور قرآن مجید کے سچے قصے موجود ہیں…آپ میں سے جنہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ رکھا ہے وہ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے…جنہوں نے ترجمہ نہیں پڑھا ان کے لئے ان آیات کی طرف اشارہ عرض کر دیا جائے گا…

چند اشارے

حضرت سیدنا نوح علیہ السلام کے زمانہ سے کفر و شرک شروع ہوا…اور ساتھ یہ آزمائش بھی کہ کافروں اور مشرکوں کو اس فانی زندگی میں قوت، شوکت،مال،اولاد ،ترقی اور اقتدار دیا جاتا ہے … ان کافروں ،مشرکوں اور منافقوں کے لئے آخرت میں کچھ نہیں ہے…ان کے لئے آخرت میں عذاب ہی عذاب ہے…یہ وہ درخت اور لکڑیاں ہیں جن کو جلانے کیلئے پیدا کیا گیا ہے…البتہ دنیا میں ایمان والوں کی آزمائش کے لئے…اور بعض دیگر وجوہات سے اللہ تعالیٰ کافروں،مشرکوں اور منافقین کو…ظاہری قوت ،طاقت اور مال و دولت عطاء فرماتے ہیں…مگر یہ سب کچھ وقتی اور فانی ہوتا ہے…کافر ،مشرک اور منافق ہر زمانے میں یہی سمجھتے ہیں کہ …ان کا اقتدار ،ان کا مال، ان کی ترقی اور ان کی طاقت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے … مگر کچھ ہی عرصہ بعد میدان صاف ہو جاتا ہے اور اس میں دھول اُڑنے لگتی ہے…

حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج کے دن تک کی تاریخ پڑھ لیں…ہمیشہ یہی ہوا اور آئندہ بھی ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا… قرآن مجید نے جالوت کا قصہ اٹھایا…عسکری طاقت کا وہ امریکہ تھا…مسلمانوں میں سے جس نے اس کی طاقت پر نظر ڈالی وہ سہم کر رہ گیا کہ اس سے مقابلہ ناممکن ہے…مگر جنہوں نے حکم مانا کہ …نہ دیکھو! انہوں نے زمین کی بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور تھوڑی دیر میں جالوت کو شکست دے ڈالی…قرآن مجید نے قارون کا قصہ سنایا …اس کی معاشی اور اقتصادی طاقت ہر کسی کو فتنے میں ڈالنے کے لئے کافی تھی… جنہوں نے اس طاقت کی طرف دیکھا تو…قارون جیسا بننے کی فکر اور تمنا میں ڈوبنے لگے مگر جنہوں نے حکم مانا کہ … نہ دیکھو! …انہوں نے قارون کی طرف تھوک دیا کہ ایسا محروم شخص جس کے پاس آخرت کی اصل زندگی کے لئے ایک نیکی بھی نہیں…ہم اس جیسا بننے کی تمنا اور فکر کیوں کریں؟…یہ تو ایک ناکام انسان ہے…بظاہر ان کا یہ موقف ایسا تھا کہ … ان کا مذاق اڑایا جا سکے،مگر چند دن بعد جب قارون اپنی معاشی طاقت سمیت زمین میں دھنس رہا تھا تو …قارون جیسا بننے کی خواہش رکھنے والے تھر تھر کانپ رہے تھے…اور قارون کی دولت کی طرف ’’دیکھنے‘‘ کے اپنے جرم پر شرمندہ اور خوفزدہ تھے …قرآن مجید نے فرعون کا واقعہ سمجھایا…اس کی سلطنت ناقابل شکست تھی…اس سے مقابلے اور آزادی کی بات کرنا ایک طرح کی ظاہری بیوقوفی سمجھی جاتی تھی…اس کے اقتدار کے خاتمے کی دور دور تک کوئی امید نہیں تھی…مگر حکم تھا کہ یہ سب کچھ نہ دیکھو!…چند افراد نے حکم مانا اور طاقت کو دیکھنے سے انکار کر دیا اور مقابلے پر اتر آئے…ان میں سے چند ایک کو شہادت ملی اور باقی کو فتح…اور پوری قوم آزاد ہو گئی…اور ایسی سلطنت جس کے خاتمے کا اگلی کئی صدیوں تک وہم بھی نہیں تھا … مکمل طور پر مٹ گئی…اس طرح کی قرآنی مثالیں اور بھی ہیں…مگر ہم تیزی سے آگے بڑھ کر اس دور میں آتے ہیں…جب ساری دنیا پر کفر و شرک کا راج تھا…اکیلے حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ کی پہاڑی پر کھڑے ہوئے اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اعلان فرما دیا…

اس مبارک کلمہ کا آغاز ہی یہ تھا کہ…’’لا الہ‘‘  اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت ،قوت سلطنت اور ظاہری خدائی کو نہ دیکھو…اگر دیکھو گے تو اس کلمہ کو اور کامیابی کو نہیں پا سکو گے…چنانچہ جو مسلمان ہوتا گیا وہ ’’لا الہ‘‘ کے حکم کو اپناتا گیا کہ اب کسی کو نہیں دیکھنا…حالانکہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے تھا …ابو جہل کی جاہلانہ عسکری طاقت…قریش کی خوفناک قبائلی طاقت…بنو امیہ کی سحر انگیز معاشی طاقت…اور چاروں طرف پھیلے ہوئے کفر کی سمندری قوت…اگر حضرات صحابہ کرام ان طاقتوں اور قوتوں کو دیکھتے…ان سے متاثر ہوتے …ان سے اپنا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے تو ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتے…مگر وہ ’’نہ دیکھو،نہ دیکھو ،ہرگز نہ دیکھو‘‘ کی ترتیب پر مضبوط رہے … اور آگے بڑھتے گئے…اور یہ تمام طاقتیں موم کی طرح پگھلتی گئیں…مکڑی کے جالے کی طرح ٹوٹتی گئیں…صحابہ کرام آگے بڑھتے گئے…اور قرآن انہیں بار بار یہی نکتہ یاد دلاتا رہا…اپنی نظریں ان کافروں کے مال و اسباب کی طرف نہ پھیرو…تمہیں ان کا زمین میں اڑنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے…تمہیں ان کے مال و اولاد کی کثرت متاثر نہ کرے…تمہیں ان کی عسکری اور اقتصادی قوت کمزوری میں نہ ڈالے…یہ سب کچھ وقتی تماشا ہے،عارضی دھوکہ ہے اور آزمائش کے پھندے ہیں…ایک آیت، دو آیت،تین آیت…قرآن مجید بار بار یہ نکتہ سمجھاتا رہا…اور صحابہ کرام اسے دل میں اُتارتے چلے …پھر منافقین کا گروہ وجود میں آ گیا…

ہٹے کٹے،تروتازہ،چمکیلے، بظاہر عقلمند، چرب لسان…دانشوری کے دعویدار اور ہر طرح کے مفادات کو جمع کرنے والے…فرمایا ان کو بھی نہ دیکھو! یعنی ان کی اس ظاہری ٹیپ ٹاپ سے متاثر نہ ہونا…پوری ’’سورۃ المنافقون ‘‘ نازل ہو گئی اور ’’نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو!‘‘ کا نکتہ ایمان والوں کے دلوں میں بٹھا گئی…پس پھر کیا تھا نہ روم ان کے سامنے ٹھہر سکا نہ فارس…نہ ترک ان کے سامنے جم سکے نہ بربر…نہ عرب ان کا مقابلہ کر سکے اور نہ عجم…اسلام بڑھتا گیا اور کفر سمٹتا گیا…

دیکھنے والے مارے گئے

’’نہ دیکھو، ہرگز نہ دیکھو‘‘ کے حکم پر جنہوں نے عمل نہیں کیا…وہ ہمیشہ مارے گئے اور ناکام ہو گئے…یہ وہ لوگ ہیں جو کلمہ تو کسی وجہ سے پڑھ لیتے ہیں…مگر اس کے پہلے حکم ’’لا الہ‘‘پر عمل نہیں کرتے…یہ ہمیشہ کافروں کی طاقت، قوت، مالداری اور ترقی کو دیکھتے ہیں…اور متاثر ہوتے ہیں…اور ہر زمانے میں یہی سمجھتے ہیں کہ کافروں کی اس طاقت کا مقابلہ مسلمانوں کے بس میں نہیں ہے…یہ لوگ کافروں کے مال اور ترقی کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ اصل کامیابی یہی ہے …ہم تو پیچھے رہ گئے…یہ لوگ کافروں کی عسکری قوت کو ہر وقت ناپتے تولتے رہتے ہیں … اور اس سے متاثر ہو کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ…ہمیں ان کی غلامی میں آ جانا چاہیے…کیونکہ یہ ناقابل شکست ہیں…یہ آج کی بات نہیں…رسول کریم ﷺ کے مبارک زمانہ سے یہ ’’گندی آنکھوں ‘‘ والا طبقہ موجود ہے…غزوہ خندق کے موقع پر جب رسول نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر کو توڑتے وقت اس سے نکلتے شعلوں کو دیکھ کر…مسلمانوں کو روم و فارس کی فتح کی خوشخبری عطاء فرمائی تو یہ ظالم…منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے تھے کہ…پیٹ پر بھوک سے پتھر بندھے ہیں اور باتیں ہیں روم و فارس فتح کرنے کی …ایک ظالم جو بڑا دانشور کہلاتا تھا یہاں تک بک گیا کہ…ہم آج آسانی سے بیت الخلاء تو جا نہیں سکتے…چاروں طرف کفار کا محاصرہ اور تیروں کی بوچھاڑ ہے…اور ہمیں دھوکا دیا جا رہا ہے روم و فارس فتح کرنے کا…اُحد کے موقع پر بھی اس طبقے کے یہی تبصرے تھے…اور حنین کے موقع پر جب مسلمانوں کے قدم اُکھڑے تو…ایسے ایسے ظالمانہ تبصرے ہوئے کہ انہیں لکھنا بھی محال ہے …پھر ہر موقع پر یہی ہوتا رہا…زیادہ دور نہ جائیں ابھی قریب ہی کا واقعہ ہے کہ…جب سوویت یونین نے ہر طرف چڑھائی شروع کی تو …مسلمانوں میں موجود یہ طبقہ ان کی طاقت اور پیش قدمی دیکھ کر…فوراً ان کے سامنے سجدے میں گر گیا…اور افسوس یہ کہ صرف خود نہیں گرا … بلکہ مسلمانوں پر بھی ان کا بھرپور اور جارحانہ دباؤ تھا کہ…اگر بچنا ہے تو سوویت یونین کی پناہ میں آ جاؤ …آپ اُس زمانے کے اخبارات اور کالم اٹھا کر دیکھیں…ایک ہی شور تھا کہ اب سوویت یونین ہی سب کچھ ہے…اسی کو مان لو اسی کی غلامی میں آ جاؤ…اور اب صدیوں تک سوویت یونین کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا…مگر ہوا کیا؟…وہ لوگ جو ’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو!‘‘ کے حکم پر تھے وہ سوویت یونین سے ٹکرا گئے…اور آج سوویت یونین نام کا کوئی ملک یا جانور دنیا میں موجود نہیں ہے…تب ان دانشوروں نے فوراً قبلہ بدل لیا اور اب انہوں نے ایک اور ’’الٰہ‘‘ کی پوجا شروع کر دی…اور مسلمانوں کو بھی چیخ چیخ کر اس کے سامنے جھکنے کا کہنے لگے کہ…امریکہ اور یورپ ناقابل شکست ہیں…ان کو مان لو…ان کی ہر بات مان لو … ان کے سامنے گر جاؤ…کیونکہ ان کا قدم اب اگلی کئی صدیوں تک پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے…نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ

قرآنی نکتے کا اعجاز

بات دراصل یہ ہے کہ انسانی حواس بہت کمزور ہیں…مثلاً آپ آج انٹرنیٹ، اخبارات اور چند رپورٹیں سامنے رکھ کر امریکہ،یورپ، اسرائیل یا انڈیا کی طاقت کو دیکھنے لگیں…تھوڑی  دیر میں آپ کا دل بیٹھ جائے گا…اور آپ کا نظریہ بن جائے گا کہ ان ملکوں نے زمین کے ہر چپے … ہوا کے ہر جھونکے…سمندر کے ہر قطرے،فضا کے ہر گوشے پر مکمل قبضہ کر لیا ہے…یہ جس کو چاہیں …ایک بٹن دبا کر مار سکتے ہیں…دنیا میں کوئی فون کال ان سے چھپی نہیں رہ سکتی…زمین کا کوئی گھر،کوئی کونہ گوگل ارتھ،ناسا رینج اور میزائل مار سے محفوظ نہیں ہے…یہ ممالک چاہیں تو زمین کو پورا الٹ دیں…موسموں کے رخ بدل دیں … سمندروں کو خشکی پر چڑھا دیں…اور منٹوں میں خطہ زمین کو تباہ کر دیں…

آپ مزید مطالعہ کرتے جائیں تو آپ کو ان کی طاقت کا ہوشربا طلسم…نا امیدی کے اندھیروں میں پھینکتا جائے گا…مگر آپ تھوڑا سا سر اٹھا کر دیکھیں…عراق میں ایک نوجوان مجاہد ایک امریکی کے سر پر خنجر لئے کھڑا ہے…چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہے…اور پھر چوبیس گھنٹے بعد امریکی کو قتل کر دیتا ہے…آخر ناسا، پینٹاگون، گوگل ارتھ اور میزائل کہاں چلے گئے…ریڈیائی لہروں کا نظام کہاں مر گیا؟…دس سال تک امریکہ کے سب سے مطلوب مجاہد شیخ اسامہ … آرام سے زندگی کے دن پورے کرتے رہے … اور بالٓاخر اپنوں کی غداری سے ان کا سراغ لگا نہ کہ …عسکری اور سائنسی طاقت سے…افغانستان کے محاذ پر امریکہ کو شکست ہوئی…اسرائیل نے اسی رمضان حماس سے شکست کھائی…عراق و شام میں مجاہدین کے بڑے بڑے لشکر وجود میں آئے…اگر آپ صرف کفر کی طاقت دیکھیں تو یہ سب کچھ ممکن نظر نہیں آتا…مگر زمین پر دیکھیں تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہر دن ہو رہا ہے…معلوم ہوا کہ جنہوں نے حکم مانا کہ…’’نہ دیکھو! ہرگز نہ دیکھو!‘‘ …اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت بھی دی اور کامیابی بھی…فتح بھی عطاء فرمائی اور عزت بھی…مگر جنہوں نے حکم نہیں مانا اور اپنی آنکھوں کو گندا کر لیا…کافروں کی طاقت و قوت کو دیکھ لیا وہ ذلت ،غلامی اور ناکامی میں جا گرے…یہ جاوید غامدی کا فتنہ کیا ہے؟…یہ وحید الدین کا فتنہ کیا ہے؟…یہ وہ لوگ ہیں جو کافروں کی طاقت و قوت اور مال و دولت کو دیکھتے ہیِں، ان سے متاثر ہوتے ہیں…ان کو کامیاب اور ناقابل شکست سمجھتے ہیں …اور ان کی غلامی میں اپنی کامیابی دیکھتے ہیں … یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی روم کو اسی طرح سمجھتے تھے … فارس کو اسی طرح سمجھتے تھے…تاتاریوں کو اسی طرح سمجھتے تھے…فاطمیوں کو اسی طرح سمجھتے تھے …خوارج کو بھی اسی طرح سمجھتے تھے…انگریزوں کو اسی طرح سمجھتے تھے…سکھوں کو اسی طرح سمجھتے تھے…منافقین کا یہ ایڈیشن شیطان کی طرف سے ہر چند سال بعد شائع ہوتا ہے…اور آج کل جو ایڈیشن چل رہا ہے اس کا نام غامدی،وحید الدین وغیرہ ہے…آج اگر امریکہ ختم ہو جائے تو یہ کسی اور کافر طاقت کو دیکھ کر اس کی غلامی کا درس دینا شروع کر دیں گے…ان لوگوں کو صرف اللہ کی طاقت اور اسلام کی قوت نظر نہیں آتی…باقی سب کچھ نظر آتا ہے…جی ہاں وہ سب کچھ …جس کو نہ دیکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی آخری کتاب میں…بار بار دیا ہے…

شیطان کی چال

ابھی آج کل جو حالات پاکستان میں…اور دنیا کے میڈیا پر چل رہے ہیں…اگر آپ صرف انہیں کو دیکھیں تو یہ سمجھیں گے کہ…پاکستان سے دین ختم، جہاد ختم، دیندار ختم، داڑھی والے ختم، پگڑیوں والے ختم…گلی گلی ناکے، قدم قدم پر چھاپے اور مارو،پکڑو کی صدائیں…مگر ان سب کو نہ دیکھتے ہوئے کراچی کے دیوانوں نے اللہ تعالیٰ کے توکل پر محنت کی اور جہاد کشمیر کا ایسا اجتماع کر ڈالا کہ…اچھے حالات میں بھی ایسا اجتماع ممکن نظر نہیں آتا…ان دیوانوں نے حالات،اخبارات اور بیانات کو نہ دیکھا…اپنے رب کی طرف دیکھا تو رب تعالیٰ نے ان کی نصرت فرما دی اور اپنی حفاظت کے مضبوط حصار ان پر ڈال دئیے اور الحمد للہ اجتماع ہو گیا…اگر یہ دیوانے حالات کو دیکھتے تو کیا…ایسے حالات میں پانچ سو افراد بھی جمع کر سکتے تھے؟…

آنکھوں دیکھا واقعہ

آج سے اکیس سال پہلے مجھے ’’سری نگر‘‘ جانے کا موقع ملا…ائیر پورٹ سے لے کر اپنے میزبان کے گھر تک جو کچھ نظر آ رہا تھا وہ انتہائی خوفزدہ اور مایوس کرنے والا تھا…پاکستان کے رہنے والے شائد اس پورے منظر کو نہ سمجھ سکیں … ہر طرف آرمی ہی آرمی تھی…ہزاروں کی تعداد میں مسلح دستے…ہر چند میٹر کے فاصلے پر فوجی بینکر …سڑکوں کے کنارے ہر چند گز کے فاصلے پر مسلح فوجی…عمارتوں کی چھتوں پر ہیوی مشین گنیں … سڑکوں کے درمیان فٹ پاتھوں پر بھی فوجی دستے …جہاں کہیں کوئی گلی، یا موڑ آتا تو وہاں بھی فوجی مورچے… صرف سری نگر شہر میں فوجی دستوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی…حیرت کی بات تھی کہ ایسے شہر میں مجاہدین کہاں رہتے ہوں گے … کیسے چلتے ہوں گے اور کیسے کارروائیاں کرتے ہوں گے…جبکہ ان دنوں تحریک عروج پر تھی اور سری نگر میں ہر ہفتہ دو چار کارروائیاں ضرور ہو جاتی تھیں …ہم ایک گھر میں پہنچے ابھی کچھ آرام کیا تھا کہ مجاہدین آنا شروع ہو گئے… اور ماشاء اللہ تمام کے تمام مکمل طور پر مسلح تھے…کلاشنکوفیں، راکٹ، گرینیڈ، ہر طرح کا اسلحہ ان کے پاس تھا…یہ ’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو ‘‘کا حکم ماننے والے افراد تھے …اللہ تعالیٰ نے انہیں راستے بھی سجھا دیے اور اپنی نصرت بھی انہیں عطاء فرما دی…ایک لاکھ آرمی کے بیچ وہ مسلح گھوم پھر رہے تھے…اگر یہ لوگ صرف دشمن کی طاقت کو دیکھتے اور اس کا اثر لیتے تو…شائد ایک چاقو لے کر بھی نہ گھوم سکتے…

ابھی حال کا واقعہ

آپ انٹرنیٹ اور عسکری معلومات کا کوئی میگزین پکڑ کر بیٹھ جائیں…فرانس کے دارالحکومت پیرس کی سیکورٹی کا جائزہ لیں… وہاں لگے ہوئے سی سی کیمرے شمار کریں…تیز رفتار پولیس کی تفصیل معلوم کریں…پولیس کی جائے واردات پربروقت پہنچنے کی صلاحیت بارے معلومات لیں…خفیہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کی رپورٹیں لیں…اُس علاقے کی سیکورٹی کا جائزہ لیں،جہاں گستاخ رسالے چارلی ایبڈو کا دفتر ہے …یقیناً آپ یہ فیصلہ دیں گے کہ ان تمام انتظامات کی موجودگی میں…رسالے کے دفتر کو کوئی خطرہ ہو ہی نہیں سکتا…مگر تین چار افراد نے ’’نہ دیکھو،ہرگز نہ دیکھو‘‘ کا حکم مانا اور چل پڑے …ساری دنیا نے دیکھا کہ وہ بھاری ہتھیاروں سمیت پہنچ گئے…اپنا کام اطمینان سے نمٹا گئے …اور بحفاظت وہاں سے نکل گئے…اور دو تین دن تک پورے ملک کو تگنی کا ناچ نچا کر بالآخر شہید ہو گئے…بے شک جو ’’نہیں دیکھتے‘‘ ان کے راستے کی تمام رکاوٹیں خود بخود دور ہو جاتی ہیں…

آخری گزارش

آج بات کچھ لمبی ہو گئی مگر کیا کروں، قرآن مجید کا اہم نکتہ سمجھنے اور سمجھانے سے ابھی دل نہیں بھرا…مزید بہت سی باتیں اور مثالیں ذہن میں ہیں…مگر امید ہے کہ آپ اس نکتے کو ان شاء اللہ سمجھ چکے ہوں گے،اسی لئے مزید تفصیل میں نہیں جاتے…بس آج کی آخری گزارش سن لیں … شیطان کوشش کرتا ہے کہ ہماری آنکھیں اس طرف لگا دے جس طرف دیکھنے سے ہمارے مالک نے ہمیں منع فرمایا ہے…ایک شخص اچھا خاصا دین اور جہاد کا کام کر رہا ہے…اچانک شیطان نے اسے اکسایا کہ دیکھو تو سہی حالات کتنے خراب ہیں … ذرا آنکھیں تو کھولو کہ کفر و نفاق کی طاقت کتنی بڑھ گئی ہے…اب تم مقابلہ نہیں کر سکتے…خوامخواہ پکڑے جاؤ گے، مارے جاؤ گے،تشدد ہو گا… کہیں کوئی پر امن جگہ دیکھو…پرسکون گھر،امن والا ماحول…اور بے خطر زندگی…آخر کب تک دھکے کھاتے رہو گے…یہ شخص نہیںجانتا کہ اس کی زندگی میں اب صرف چند دن ہی باقی ہیں … اور وہ شیطان کے دھوکے میں آ کر دین کا کام چھوڑ دیتا ہے…اور پھر چند دن بعد مر جاتا ہے … بھائیو! اندازہ لگاؤ کہ کتنے نقصان میں جا پڑا…اگر چند دن اور ’’نہ دیکھو‘‘ کے حکم پر ڈٹا رہتا اور کام میں جڑا رہتا تو کتنی اچھی حالت میں موت آتی… دوسری بات یہ کہ اگر ہم خدانخواستہ اپنی آنکھیں گندی کر لیں…یعنی کافروں اور حکمرانوں کی طاقت دیکھ کر اور اسے مان کر اللہ تعالیٰ کا راستہ چھوڑ دیں تو ٹھیک ہے…ہم نے خود کو بظاہر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے محفوظ کر لیا…اب وہ ہمیں خطرہ سمجھ کر نہ پکڑیں گے نہ ماریں گے…

مگر ہم اپنے باقی دشمنوں کا کیا کریں گے … ہارٹ اٹیک،کینسر،گردے فیل ہونا، ایکسیڈنٹ …گھریلو قتل وغارت…چور،ڈاکو،کرائے کے قاتل…

یہ سب تو اب بھی کسی وقت ہمیں مار سکتے ہیں …تو پھر اللہ تعالیٰ کا راستہ چھوڑنے سے ہمیں کیا ملا؟…موجودہ حالات میں شیطان بہت سرگرم ہو کر وساوس پھیلا رہا ہے کہ…دیکھو، دیکھو!… اے ایمان والو! شیطان کی نہ مانو…اور کہہ دو … ’’نہیں دیکھتے،ہرگز نہیں دیکھتے‘‘…ہم نے تو ایک دن وہ آزمائشیں نہیں دیکھیں جو حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے…ساڑھے نو سو سال تک روزانہ دیکھیں…وہ ڈٹے رہے کامیاب ہو گئے …حضرات صحابہ کرام ڈٹے رہے کامیاب ہو گئے…

بس کامیابی کا نسخہ یہی ہے…استقامت، استقامت اور استقامت…اور ’’نہ دیکھو…ہرگز نہ دیکھو‘‘…جن کو وساوس کا سامنا ہے وہ روزانہ سو سو بار سورۃ فلق اور سورۃ الناس پڑھیں…اور کافروں،مشرکوں، حکمرانوں اور منافقوں کی طاقت ،قوت،وقتی جبر و ستم کو نہ دیکھیں…ہرگز نہ دیکھیں…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor