Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اے ایمان والو!دیکھو، دیکھو،غور سے دیکھو! (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 483 - Saadi kay Qalam Say - aye-emaan-walo-dekho-ghaur-se-dekho

اے ایمان والو!دیکھو، دیکھو،غور سے دیکھو!

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 483)

اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں… اے ایمان والو! اے تمام دنیا والو!

سرکش ظالموں کے انجام کو دیکھو!

ضدی کافروں کے انجام کو دیکھو!

فسادیوں کے انجام کو دیکھو!

اُنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ …کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ  الْمُجْرِمِیْنَ…

کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ…کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ  الظَّالِمِیْنَ…کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ  الْمُنْذِرِیْنَ…

دیکھو، دیکھو! اُن کا انجام جو بڑے تکبر سے دین کو جھٹلاتے تھے… اور وہ جو اپنی عقل اور طاقت پر ناز کھاتے تھے… دیکھو! ان کا انجام جو دین کے مقابلے پر اپنی طاقت لائے تھے… اور جنہوں نے اہل ایمان پر مظالم ڈھائے تھے…

دیکھو! دیکھو! غور سے دیکھو! ان کا انجام جو دنیا کی ترقی کو سب کچھ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے منکر ہو گئے… وہ جن کو اپنی تعلیم، ترقی اور معیشت پر ناز تھا… دیکھو تو سہی ان سب کا کیسا بُرا اور حسرتناک انجام ہوا…

یاد رکھو! یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے…

اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ

یہ گھومنے والی، بدلنے والی، دفنانے اور مٹانے والی زمین صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے…

یُوْرِثُھَا مَن یَّشَاء

اللہ تعالیٰ کچھ وقت کے لئے جسے چاہتے ہیں یہ زمین دے دیتے ہیں… مگر اصل کامیابی اور اچھا انجام صرف اور صرف ایمان والوں کو عطاء فرماتے ہیں…

وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ

ہاں! اصل کامیابی، بہترین انجام صرف ایمان والوں کے لئے ہے… وہ ایمان والے جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں…

عبرتناک مناظر

اللہ تعالیٰ ہمیں حکم فرماتے ہیں کہ… ہم کافروں کی ظاہری طاقت اور ترقی دیکھ کر متاثر نہ ہوں… اور ان کو کامیاب نہ سمجھیں… اور پھر ہمیں حکم فرماتے ہیں کہ… ہم ان سرکش کافروں کے انجام کو اچھی طرح دیکھیں… اور اس سے عبرت حاصل کریں… چنانچہ قرآن مجید بہت سے عبرتناک مناظر ہمیں دکھاتا ہے…

وہ دیکھو! ذلت اور حسرت کے ساتھ ڈوبتا ہوا فرعون… دیکھو تو سہی… روئے زمین کا جابر ترین حکمران کس بے بسی سے ڈوب رہا ہے… وہ دیکھو! قومِ عاد کے بڑے بڑے لاشے اوندھے منہ پڑے ہیں… ان کے کارخانے، ان کی ایجادات اور ان کے مضبوط محلات سب مٹ چکے ہیں… وہ دیکھو! دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ دار ’’قارون‘‘ اپنی معیشت سمیت ذلت، عبرت اور بے بسی کی تصویر بنا… زمین میں دھنس رہا ہے…

وہ دیکھو! ابرہہ کا خوفناک عسکری لشکر… اپنے ہاتھیوں سمیت بھوسہ بنا پڑا ہے… وہ دیکھو! قوم ثمود ایک ماہر، فنکار اور ہنر مند ترقی یافتہ قوم… اپنی ترقی سمیت زمین بوس پڑی ہے… دیکھو، دیکھو، غور سے دیکھو! عبرت پکڑو یہ حضرت لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم… آزاد، لبرل، عیاش، جدت پسند، بے باک اور خوبصورت قوم… اسے اوپر اٹھا کر زمین پر دے مارا گیا… وہ جو حسن و خوشبو میں ہر وقت سنورتے تھے… اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے وبال سے بدبودار، مردار کیچڑ بن گئے … اور ان کے گناہوں کے اثرات نے زمین اور پانی تک کو بے کار بنا دیا…

وہ دیکھو! تجارت اور بزنس کی ماہر… حضرت شعیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم… وہ اپنی اقتصادی ترقی کے ساتھ تباہ کر دی گئی… اے کافرو! اپنے کفر پر ناز کرنے والو! تم بھی ’’سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ‘‘ زمین میں چل پھر کر دیکھو!…

 اور اے اہل ایمان تم بھی دیکھو…

کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ

کہ مجرموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا…

طوفان جواب دیتا ہے

وہ دیکھو! روئے زمین کا سب سے خوفناک طوفان… ایک پوری انسانی نسل کو ختم کرنے والا طوفان… پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والا طوفان…ایک ہزار سال سے قائم ایک بڑی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے والا طوفان… ایسا طوفان کہ… آسمان سے پانی برس نہیں رہا تھا بلکہ گر رہا تھا… اور زمین سے بھی پانی ہی پانی ابل رہا تھا … حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم پر آنے والا طوفان… ساڑھے نو سو سال وہ اکڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے نبی کو ستاتے تھے… ان کو ناز تھا کہ ہم عقل والے، دانش والے، طاقت والے، اور حکومت والے ہیں… طوفان آیا تو اتنی بڑی قوم کا نام و نشان تک باقی نہ رہا… آج کسی کو وہ احادیث مبارکہ سنائیں جن میں آخری زمانے مسلمانوں کے مکمل غلبے کی بشارت ہے تو سوالات کی بوچھاڑ لگ جاتی ہے… یہ ایٹم بم کہاں جائیں گے؟ … یہ امریکہ، یورپ، انڈیا اور کفر کے بڑے بڑے ممالک اور لشکر کہاں جائیں گے؟… یہ کفار کی فضائی قوت اور عسکری ٹیکنالوجی کہاں جائے گی؟ … اس کا مقابلہ کیسے ہو سکے گا؟…

قرآن مجید ’’ طوفانِ نوح‘‘ کا قصہ سنا کر… ان تمام سوالات کا جواب دے دیتا ہے کہ… اللہ تعالیٰ سب کچھ بدلنے اور سب کچھ اکھاڑنے کی طاقت رکھتا ہے… اور زمین پر ایسے حالات لاتا ہے کہ جن کا مقابلہ… کوئی مخلوق نہیں کر سکتی… اور بڑی بڑی تہذیبیں اور قومیں اس طرح سے مٹا دی جاتی ہیں کہ… ان کے آثار اور کوئی آہٹ تک باقی نہیں رہتی…

ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزاً

یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے… طوفانِ نوح اس کی ایک مثال ہے… وہ جو زمین پر کروڑوں کی تعداد میں تھے وہ ختم ہو گئے … اور وہ جو درجنوں کی تعداد میں تھے وہ زمین کے مالک، حاکم اور اگلی نسل کے معمار بنا دئیے گئے … اللہ تعالیٰ جب چاہیں اور جس طریقے سے چاہے ایسا کر سکتا ہے… اور وہ ایسا بارہا کر چکا ہے… یقین نہ آئے تو دیکھو، دیکھو، غور سے دیکھو!… بڑی بڑی سلطنتوں کا انجام…

اپنے آس پاس دیکھیں

اگر ہم اپنے آس پاس دیکھیں… قریب زمانہ کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں یہی نظر آئے گا کہ… ایمان والے ہمیشہ اچھے انجام سے سرفراز ہوتے ہیں… اور اہل کفر، اہل نفاق اور اہل ظلم کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے… پاکستان پر ایک مصیبت بن کر گرنے والے پرویز مشرف کے دور اقتدار کو دیکھیں … ’’ میں میں ہوں، میں میں ہوں‘‘ کی منحوس گونج تھی… اور جہاد کو جڑ سے ختم کرنے کے دعوے … آج وہ کس حالت میں ہے اور جہاد کس حالت میں… ہر شخص بہت آسانی سے سمجھ سکتا ہے… ہمارے لئے قرآن مجید کا یہ حکم تھا کہ ہم اس کی طاقت اور جبر کو ’’نہ دیکھیں، ہرگز نہ دیکھیں‘‘… اس کے خوفناک اقدامات سے نہ ڈریں… اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنا حق کام کرتے رہیں…

جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو مانا… اور اس کے نوسالہ اقتدار کے دوران ’’نہ دیکھو، ہر گز نہ دیکھو‘‘ کی ترتیب پر رہے… اُن سے اللہ تعالیٰ نے بڑا اور مقبول کام لیا… اور آج پرویز مشرف اس حالت میں آ پہنچا ہے کہ… ہمارے لئے قرآن کا حکم ہے… ’’دیکھو، دیکھو، غور سے دیکھو!‘‘ کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوتا ہے… یہ ایک مثال ہے… آپ غور کریں گے تو ہر طرف بہت سی مثالیں نظر آ جائیں گی… مومن اپنے ایمان اور کام پر رہے تو اس کے لئے مرنے میں بھی ناکامی نہیں… اور کافر و منافق کے لئے ناکامی اور ذلت کا سفر اس کی موت سے پہلے یا موت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے…

انجام کے فرق کی ایک جھلک

ایک بہت ایمان افروز نکتہ ہے… تھوڑا سا غور کریں…

سورۃ الدخان کی آیت (۲۹) دیکھیں… اللہ تعالیٰ سمجھاتے ہیں کہ… فرعون اور اس کی قوم غرق ہو گئی… اپنی تمام بڑی بڑی نعمتیں اور عیاشیوں کا سارا سامان یہاں چھوڑ گئی…

مگر اس قوم کے ہلاک ہونے پر نہ آسمان رویا نہ زمین روئی…

فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَائُ وَالْاَرْضُ (الدخان)

غور فرمائیے! نہ آسمان رویا نہ زمین روئی… اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اتنا بڑا بادشاہ… اور اتنی بڑی قوم غرق ہو گئی… مگر پھر بھی زمین کا نظام چلتا رہا… آسمان کے نظام میں بھی کوئی فرق نہ آیا… یعنی ان لوگوں کی کوئی کمی کسی بھی طرح محسوس نہ کی گئی… حالانکہ جب وہ جیتے تھے تو گویا زمین کے مالک تھے اور آسمان کو اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کرتے رہتے تھے… اور ان کا یہ دعوی تھا کہ زمین کو ہم نے آباد کیا ہے… اس کو ہم نے سنوارا ہے… اور اس کو ہم نے اپنی عقل سے ترقی دی ہے… جس طرح آج کل امریکہ اور یورپ کا دعوی ہے کہ… ان کی ایجادات نے زمین اور انسان کو بہت آگے کر دیا ہے… نعوذ باللہ، استغفر اللہ…

ارشاد فرمایا: نہ اُن پر آسمان رویا اور نہ زمین روئی… کئی مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ… آسمان و زمین کا یہ رونا اور نہ رونا اپنے اصلی معنیٰ پر ہے… جب کوئی ایمان والا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی موت پر آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی روتی ہے… جبکہ کافر کی موت پر نہ آسمان روتا ہے اور نہ زمین روتی ہے بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں… حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ…

ہر مومن کے لئے آسمان میں دو دروازے ہوتے ہیں… ایک دروازہ سے اس کا رزق نیچے اترتا ہے اور دوسرے دروازہ سے اس کا عمل اور اُس کا کلام اوپر جاتا ہے… جب یہ مومن انتقال کر جاتا ہے تو وہ دونوں دروازے اس کی کمی محسوس کرتے ہیں اور روتے ہیں… ( تفسیر ابن کثیر)

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا… کیا آسمان و زمین بھی کسی پر روتے ہیں؟… ارشاد فرمایا: ہر مومن کے لئے زمین پر وہ جگہ روتی ہے جس پر وہ نماز ادا کرتا ہے… اورآسمان میں ہر مومن کے لئے ایک راستہ ہوتا ہے جس سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے… فرعون کی قوم کا نہ زمین میں نماز والا ٹکڑا تھا اور نہ ان کا کوئی نیک عمل تھا جو آسمان کے راستہ اوپر جاتا… اس لئے ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین روئی…

اسی طرح کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ہے… جس  سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے وہ حصے جن پر کوئی مومن اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے… نماز اور سجدہ ادا کرتا ہے… ذکر و تلاوت کرتا ہے… یا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا کوئی بھی عمل کرتا ہے…

تو اس کی وفات کے بعد زمین کا وہ حصہ… اس کی کمی اور یاد میں روتا ہے… اس طرح آسمان کا وہ دروازہ جس سے مومن کا رزق اترتا ہے اور اس کا نیک عمل اوپر جاتا ہے… یہ دروازہ اس کی وفات پر بند کر دیا جاتا ہے تو آسمان روتا ہے… حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں… زمین ایک مومن کے انتقال پر چالیس دن روتی ہے… اور حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں… جب کوئی مومن انتقال کر جاتا ہے تو اس پر زمین اور آسمان چالیس دن تک روتے ہیں… ان سے پوچھا گیا کیا زمین بھی روتی ہے؟… فرمایا: اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟… زمین ایسے شخص پر کیوں نہ روئے گی جو اسے رکوع اور سجود سے آباد رکھتا تھا…

اور آسمان ایسے شخص پر کیوں نہ روئے گا جس کی تکبیر و تسبیح سے آسمان میں شہد کی مکھیوں جیسی آواز گونجتی تھی…

اندازہ لگائیں… موت سے انجام کا آغاز ہوتا ہے… اور اس آغاز میں اتنا فرق ہے… مومن کی موت بہت میٹھی ہے،کافر کی موت بڑی دردناک ہے… مومن کی موت پر زمین و آسمان روتے ہیں… کافر کی موت پر زمین و آسمان خوشیاں مناتے ہیں… پھر ایک مومن کے لئے کہاں جائز بنتا ہے کہ… وہ ظالموں،کافروں اور منافقوں کی ظاہری طاقت اور ترقی کو دیکھ کر متاثر ہو… اور خود کو اور اپنے ایمان کو حقیر سمجھے… یا اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو… یا یہ سمجھے کہ حالات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے… ارے ایمان والو! … ان ظالموں اور کافروں کے انجام کو دیکھو… خوب دیکھو، غور سے دیکھو! وہ دیکھو! مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر وحشی کتے کی طرح غرانے والا ’’ابو جہل‘‘… بدر کے ایک اندھے کنویں میں مردار پڑا ہے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor