Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اے ایمان والو!جمے رہو، جڑے رہو (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 484 - Saadi kay Qalam Say - aye-emaan-walo-Jame raho jure raho

اے ایمان والو!جمے رہو، جڑے رہو

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 484)

اللہ تعالیٰ کو پانے کا واحد راستہ

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

مومن کے اعمال کو عرش تک پہنچانے کا واحد ذریعہ

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

دنیا میں کامیابی کی چابی

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

قبر میں آسانی اور راحت کا نسخہ

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

افضل ترین نیکی جو گناہوں کو مٹا دیتی ہے

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

ایمان کی جڑ…دین کی بنیاد …سب سے افضل ذکر…اور آخرت میں کامیابی کی پہلی شرط

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

بہت اہم نکتہ

آج کی مجلس میں ایک بڑا ’’اہم نکتہ‘‘ عرض کرنا ہے…یہ نکتہ قرآن مجید کی سورۃ الفتح کی آیت (۲۶) میں بیان فرمایا گیا ہے…بہت بڑا خزانہ ہے،رب کعبہ کی قسم، بہت بڑا خزانہ…اللہ تعالیٰ کا شکر جس نے ہمیں ’’قرآن مجید‘‘ جیسی نعمت عطاء فرمائی ہے…قرآن مجید جیسی اونچی اور اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) اور کوئی نہیں…حضرت آقا مدنی ﷺ کا احسان کہ ہم تک قرآن مجید پہنچایا…

الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین

پہلے ایک بات بتائیں

آج کے نکتے کا تعلق پاکستان اور دنیا کے موجودہ حالات سے ہے…اور اس نکتہ میں کلمہ طیبہ کا بیان بھی ہے…یہ نکتہ سمجھنے سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے وِرد کا معمول جاری ہے یا نہیں؟…الحمد للہ بارہ سو بار کلمہ طیبہ کے وِرد کی آواز لگی تو ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے اسے قبول کیا اور اپنا لیا…مگر کلمہ طیبہ اور استغفار سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے تو وہ…مسلمانوں کو اس سے غافل کرنے کا زور لگاتا ہے…اب معلوم ہواہے کہ کئی مسلمان بھائیوں اور بہنوں نے…کلمہ طیبہ کے ورد سے غفلت شروع کر دی ہے…استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ…حضرت جنید بغدادیؒ کا جب انتقال ہو رہا تھا تو کسی نے انہیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی تلقین کی…حضرت نے فرمایا اس کلمہ کو تو میں کسی وقت بھی نہیں بھولا…یعنی اسے یاد دلاؤ جو کبھی اس کلمہ سے غافل رہا ہو…میں تو الحمد للہ اس کلمہ سے کبھی غافل نہیں ہوا…سبحان اللہ! ایک وہ حضرات تھے جنہوں نے اس کلمہ طیبہ سے ایسا مضبوط تعلق جوڑا…اور ایک ہم ہیں کہ صرف بارہ سو بار کا ورد بھی بھاری لگتا ہے…حضرت شاہ ولی اللہؒ کو اللہ تعالیٰ نے بہت نفع اور برکت والا علوم عطائے فرمائے…آپ علم اور حکمت میں اپنے زمانے کے بادشاہ تھے…تفسیر و حدیث سے لے کر سیاست و مدنیت تک ہر علم میں آپ امام کا درجہ رکھتے تھے…یہ سارا کمال ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی برکت سے نصیب ہوا…بہت چھوٹی عمر میں اس کلمہ کے ساتھ جڑ گئے…ایک سانس میں دو سو بار ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا وِرد فرمایا کرتے تھے…اب یہ کلمہ تو ایسا ہے کہ اس کی شاخیں آسمان تک جاتی ہے…چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر علم و حکمت کے خزانے کھول دئیے…

ارے بھائیو! یہ کلمہ طیبہ ہی اصل میں کلمہ توحید ہے…اور کلمہ توحید سے بڑھ کر اور کوئی حفاظت نہیں…اور یہی کلمہ طیبہ ہی کلمۂ اِخلاص ہے… اور اِخلاص سے بڑھ کر کوئی قوت نہیں…آج کے مسلمانوں کے رجحان بس اس طرف ہے کہ روزی کے وظیفے کرو…حفاظت کے وظیفے کرو…ترقی کے وظیفے کرو…عزت کے وظیفے کرو…جو تھوڑا بہت وقت ذکر کے لئے نکالتے ہیں وہ سارا ان وظیفوں میں لگ جاتا ہے…اور اصل وظیفہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ رہ جاتا ہے…ارے بھائیو اور بہنو! یہ کلمہ طیبہ نصیب ہو گیا تو حفاظت،عزت،ترقی ،روزی اور کامیابی سب کچھ خود بخود مل جائے گا…کلمہ طیبہ کے بغیر نہ تو کوئی عمل قبول ہوتا ہے اور نہ کوئی وظیفہ کام کرتا ہے…آپ اپنے علاج کے لئے عاملوں کے دروازے پر نہ جائیں…آپ کے پاس سب سے بڑا عمل موجود ہے…اور وہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…کسی عامل کا کوئی تعویذ اس کلمہ کے برابر نہیں…کسی عامل کا کوئی پراسرار عمل اس کلمہ سے زیادہ طاقتور نہیں…یہی کلمہ …قول ثابت یعنی سب سے پکی بات ہے…یہ کلمہ سات آسمانوں اور سات زمینوں سے بھاری ہے…دنیا کا کوئی جادو اس کلمہ سے زیادہ طاقتور نہیں…دنیا کی کوئی نحوست…اس کلمہ کی برکت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی…کلمہ طیبہ کو دل میں اُتاریں … اُس کے نور کو سمجھیں…اُس کے معنیٰ کو دل و دماغ میںبٹھائیں… اوراس کا وِرد ایسی پابندی،ایسے اہتمام…اور ایسے ذوق و شوق سے کریں کہ یہ کلمہ ہماری روح میں اتر جائے…ہماری ہڈیوں اور گوشت میں سرایت کر جائے اور ہمارے خون میں شامل ہو جائے…

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

وعدہ کرتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو مرتے وقت ’’کلمہ طیبہ‘‘ نصیب فرمائے…اور ہمیں موت کے وقت خوف اور دہشت سے بچائے…بس موت آیا ہی چاہتی ہے…آج کا قرآنی نکتہ پڑھنے سے پہلے…آپ سب سچا وعدہ کریں کہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کا روزانہ ورد کبھی نہیں چھوڑیں گے…کبھی بھی نہیں…

صحت مند ہوں یا بیمار…مالدار ہوں یا غریب…آزاد ہوں یا قید…فائدہ محسوس ہو یا نہ ہو…کیفیت بنے یا نہ بنے…کسی بھی حال میں کلمہ طیبہ کا ورد ناغہ نہ ہو…اللہ نہ کرے بڑے بڑے گناہ ہو جائیں تب بھی کلمہ طیبہ کا ورد ناغہ نہ ہو…شیطان کہے گا کہ اب تمہارا منہ ’’کلمہ طیبہ‘‘ کے قابل نہیں رہا اس لئے پڑھنے کا کیا فائدہ؟ … تب شیطان کی نہ مانیں اور کلمہ طیبہ کے ورد میں لگ جائیں…کلمہ طیبہ بڑے بڑے گناہوں کو نیست و نابود کرنے کی طاقت رکھتا ہے…بارہ سو بار تو ابتدائی سبق ہے…جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی وہ تعداد میں اضافے کرتے جائیں … اضافہ نہ کرسکیں تو بارہ سو بار کو ہی پکا بنالیں…کھانا پینا اتنا ضروری نہیں……انسان آرام سے آٹھ دس دن بھوکا رہ سکتا ہے…نیند کرنا اتنا ضروری نہیں… انسان کافی وقت جاگ سکتا ہے اپنے ٹچ فون پر زندگی ضائع کرنا ضروری نہیں…بلکہ نقصان ہی نقصان ہے…جبکہ کلمہ طیبہ میں فائدہ ہی فائدہ ہے…فائدہ ہی فائدہ…تو پھر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وعدہ کر لیجئے کہ ان شاء اللہ…کلمہ طیبہ کے ورد کی پکی پابندی کریں گے…اور ہاں! کبھی کبھار کچھ وقت…آنکھیں اور زبان بند کر کے دل سے بھی پڑھا کریں

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

قرآنی نکتے کا خلاصہ

سورۃ الفتح میں جو نکتہ بیان فرمایا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے …

اگر تمہارے دشمن مکمل جہالت پر اتر آئیں …اور کسی وجہ سے ان سے لڑنے کی اجازت نہ ہو …تو ایسے وقت میں تم ضد اور جہالت پر نہ اترو …بلکہ کلمہ طیبہ کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاؤ … تب کچھ ہی عرصے بعد تمہارے لئے فتوحات کے ایسے دروازے کھلیں گے کہ…تم خود حیران رہ جاؤ گے…اور جہالت پر اترنے والا تمہارا دشمن … ذلیل و خوار ہو جائے گا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اصل مفہوم

آیت مبارکہ…غزوہ حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی…مسلمان ،حضرت آقا مدنی ﷺ کی قیادت مبارکہ میں عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تھے…مشرکین مکہ نے انہیں حرم شریف میں داخل ہونے سے روک دیا…راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں پر حملے کئے…اور اپنی جنگی طاقت سے انہیں مرعوب کرنے کی بھرپور کوشش کی…مسلمان کم تعداد میں تھے…اسلحہ اور لڑائی کا سامان بھی بہت قلیل تھا…اور علاقہ بھی دشمنوں کا تھا … ایسے وقت میں پہلا حملہ خوف اور بزدلی کا ہوتا ہے …مگر ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر مضبوطی کی برکت سے وہ اس حملہ کی زد میں نہ آئے…اب مشرکین نے انہیں ضد اور غیرت دلانے کے لئے جاہلانہ حرکتیں شروع کر دیں…پہلی حرکت یہ کہ انہیں حرم شریف سے روکا…دوسری یہ کہ معاہدہ نامہ میں مسلمانوں کے مقدس الفاظ کاٹنے پر اصرار کیا اور اپنی مرضی کے نام لکھوائے…تیسرا یہ کہ معاہدہ میں ایسی شرطیں رکھیں جن سے مسلمانوں کو ذلت کا احساس ہو…یہ سارا شیطانی چکر اس لئے تھا کہ مسلمان بھی …ضد پر اتر آئیں…دوسری طرف حکم یہ تھا کہ یہاں اس موقع پر کسی بھی حال میں جنگ نہیں کرتی…ایک تو حرم شریف کے تقدس کا مسئلہ تھا…اور دوسرا یہ کہ اس وقت یہاں جنگ ہوتی تو مکہ میں پھنسے ہوئے چند مظلوم مسلمان شہید کر دئیے جائیں گے…اب بڑا سخت امتحان تھا…مشرکین بار بار جاہلانہ حرکتیں کر کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کر رہے تھے…ان کی اکڑ اور ان کا طرز عمل ایسا تھا کہ اسے دیکھ کر دل غصے سے پھٹنے لگیں…حضرات صحابہ کرام کے ضمیر پر ہتھوڑے برس رہے تھے تو کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ …اگر ہم حق پر ہیں تو پھر اس طرح دبنے اور براشت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟…یہ بتوں کے پجاری کس طرح سے ہمیں ستا رہے ہیں جبکہ ہمارے پاس تلواریں اور جان دینے کا جذبہ موجود ہے…اسی دوران…ایک مسلمان قیدی جو مکہ مکرمہ سے بھاگ کر مسلمانوں کے لشکر پہنچ چکے تھے…مشرکین نے انہیں بھی واپس لے جانے کے ضد کی…یہ مرحلہ بڑا نازک تھا…غم،غصے اور غیرت سے کلیجے پھٹ رہے تھے…مگر ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی طاقت کام کر گئی…اور حضرات صحابہ کرام اس کلمہ سے جڑ کر جذبات میں بہنے سے بچ گئے … ایک امتحان تھا جو گذر گیا…مشرکین کے لئے ایک وقتی خوشی تھی جو چند دن میں بیت گئی…اور پھر ان کا ہر قدم،ذلت و زوال کی طرف اور مسلمانوں کا ہر قدم فتح اور عزت کی طرف بڑھتا چلا گیا…اور تھوڑے ہی عرصے میں مسلمان حرم شریف کے مالک بن گئے…اور وقتی ضد اور اکڑ دکھانے والے مشرکین کا قصہ ختم ہو گیا…

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

آیت مبارکہ کا ترجمہ

دیکھئے سورۃ الفتح کی آیت:۲۶

ترجمہ: جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد بٹھا لی اور ضد بھی جاہلیت کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی طرف سے تسکین (یعنی سکون، تحمل یا خاص رحمت) نازل فرمائی اور ان کو تقوی کے کلمہ پر جمائے رکھا اور وہی اس (تقوی کے کلمہ) کے مستحق اور اہل تھے…اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے…

کلمہ طیبہ پر جمنے کا وقت

وہ جو مسلمان کہلاتے ہیں…مگر کام ان کے سارے کافروں والے ہیں…نہ نماز کے پابند …نہ دین سے کوئی تعلق…قرآن مجید کی تعلیم کے دشمن اور کافروں کی غلامی میں اپنی کامیابی دیکھنے والے…وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اللہ کرے وہ مسلمان ہوں…ہمیں کسی کی تکفیر کا ہرگز ہرگز شوق نہیں…مگر وہ اہل ایمان کو …ستا رہے ہیں،دبا رہے ہیں…اور خود کو ’’اتاترک‘‘ بنا رہے ہیں … کمال اتاترک کسی زمانے آیا تھا پھر مر گیا…اب اس کا نام بھی ترکی میں مرنے کو ہے…وہ ایک بد نصیب انسان تھا…خود اس کے دور اقتدار میں اہل ترکی کہتے تھے…کسی ماں نے کمال اتاترک سے زیادہ منحوس بچہ نہیں جنا…اس نے مساجد کو ویران کیا…اذان پر پابندی لگائی…بے حیائی اور فحاشی کو عام کیا…دینی تعلیم ممنوع قرار دی… عربی رسم الخط پر پابندی لگائی…مگر آج ترکی میں یہ سب کچھ دوبارہ بحال ہو رہا ہے…خلافت عثمانیہ ماشاء اللہ پانچ صدیوں تک قائم رہی جبکہ کمال اتاترک کا کفری نظام سو سال بھی نہ کاٹ سکا…

پاکستان میں دین کے دشمن…آج اپنے دل کی زہریلی امنگیں پوری کرنے کے لئے کمال اتاترک کو آوازیں دے رہے ہیں…مگر بے فکر رہیں…کمال اتاترک مر گیا ہے…وہ واپس نہیں آئے گا اور نہ پاکستان کی سرزمین پر ایسے کسی بے عقل زندیق کے لئے کوئی گنجائش ہے…اب تو ساری دنیا تیزی سے بدل رہی ہے…اور جہاد فی سبیل اللہ کے محاذ چاروں طرف کھل چکے ہیں … پاکستان کے اہل دین کی کوشش ہے کہ …سیکولر طبقے اور حکمرانوں کے جاہلانہ مظالم…اس ملک کومکمل خانہ جنگی میں نہ دھکیل دیں…

اس لئے صبر ہے…برداشت ہے…اور قرآنی نکتے کے مطابق…کلمہ طیبہ سے جڑنے اور کلمہ طیبہ پر جمنے کا وقت ہے…پس اے ایمان والو! کلمہ طیبہ پر جمے رہو،کلمہ طیبہ سے جڑے رہو …اے دین کے دیوانو! کلمہ طیبہ دل میں اتارو …یہی دل کی زندگی ہے…کلمہ طیبہ میں غور کرو یہی عقل اور خیال کی روشنی ہے…کلمہ طیبہ کی دعوت دو…یہی امر بالمعروف کا سب سے اہم درجہ ہے …کلمہ طیبہ کا دل و جان اور زبان سے ورد کرو … یہی کامیابی، خیر اور نصرت کی ضمانت ہے…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor