Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انمول موقع (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 485 - Saadi kay Qalam Say - Anmol Moqa

انمول موقع

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 485)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مساجد آباد کرنے والا بنائے…سبحان اللہ…کتنا پیارا…اور میٹھا لفظ ہے…

مسجد،مسجد، مسجد…محبوب رب سے سجدے میں مناجات کی جگہ،ملاقات کی جگہ… واہ مسجد …پیاری مسجد…میٹھی مسجد…دنیا کے ہر غم،ہر فکر اور ہر گناہ سے آزادی کی جگہ

مسجد،مسجد،مسجد…

سب سے اُونچی جگہ

چاند پر جانا ترقی نہیں…مریخ پر پہنچ جانا ترقی نہیں… مچھر مکھیاں اُڑتی رہتی ہیں…اِنسان بھی اُڑتے پھرتے رہتے ہیں…ہاں! ایک مسلمان کا مسجد کو پا لینا واقعی ترقی ہے…بڑی ترقی…

کوئی میری اس بات پر ہنستا ہے ، تو ہنستا رہے …ترقی کہتے ہیں بلندی کو …اللہ تعالیٰ کے گھر سے بلند جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے؟ …مسجد کا براہ راست تعلق ’’ جنت‘‘ سے ہے…

قیامت کے دن ساری زمین،چاند،ستارے تباہ ہو جائیں گے …مگر مسجد کی زمین کو جنت لے جا کر جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا…مسجد کی زمین قیامت کے دن اُن اِیمان والوں کے لئے گواہی دے گی…جنہوں نے اس مسجد کو آباد کیا…وہاں رکوع اور سجدے کئے…اندازہ لگائیں مسجد کتنی طاقتور ہے اور مسجد کی سلطنت کتنی وسیع ہے…دنیا سے لے کر آخرت تک…زمین سے لے کر آسمان تک…اور آسمان سے لے کرجنت تک…ہائے دل چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں مسجدیں بناتے چلیں جائیں…ان مسجدوں میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی اذانیں گونجیں…حضورِ اَقدس ﷺ نے مسجد میں اَذان بلند کرنے والوں کو تین بار دعا دی:

اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِینْ

یا اللہ! اَذان دینے والوں کی مغفرت فرما دیجئے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا…یا رسول اللہ! آپ نے اذان کی ایسی فضیلتیں بیان فرمائیں کہ…آپ کے بعد مسلمان اذان کی خاطر ایک دوسرے پر تلواریں برسائیں گے…یعنی ہر شخص یہ چاہے گا کہ میں اذان دوں…ظاہر بات ہے کہ سب تو اذان نہیں دے سکیں گے…مگر دینا ہر کوئی چاہے گا تو آپس میں لڑائی ہو گی اور اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر تلواریں نکالی جائیں گی…حضورِ اَقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:

کَلَّا یَا عُمَرْ

اے عمر ! ایسا نہیں ہو گا

انہ سیأتی علی الناس زمان یترکون الاذان علی ضعفائھم

لوگ تو ایسے ہو جائیں گے کہ اذان کا کام اپنے کمزور لوگوں پر چھوڑ دیں گے…اللہ، اللہ، اللہ…آج مؤذن کا لفظ کتنا ہلکا ہو گیا…استغفرا للہ، استغفر اللہ… کمزور بوڑھے…اور وہ جن کو بے کار سمجھا جاتا ہے، اذان کا کام اُن کے سپرد کر دیا جاتا ہے…چلیں،ان کمزورں کے مزے ہو گئے کیونکہ حضورِ اَقدس ﷺ نے فرمایا:

وتلک لحوم حرمھا اللّٰہ عزوجل علی النار

یہ وہ گوشت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام فرما دیا ہے

لحوم المؤذنین

اذان دینے والوں کے جسم کا گوشت…جہنم کے لئے حرام…جہنم کی آگ اس کو چھو بھی نہیں سکتی…یہ فضیلت نہ کسی سائنسدان کے لئے ،نہ ڈاکٹر، انجینئر کے لئے…اور نہ چاند پر چڑھنے والوں کے لئے…یہ فضیلت مسجدوں کو اَذان سے آباد کرنے والوں کے لئے ہے…اندازہ لگائیں کتنی بڑی ترقی ہے،کتنی بڑی…ایک مسلمان کو جہنم سے نجات مل جائے…اس سے بڑی ترقی اور کیا ہو سکتی ہے؟…اے دین کے دیوانو! مسجدیں بناؤ، مسجدیں آباد کرو…مسلمانوں کو مسجدوں سے جوڑو…اور جہاد کو مسجدوں سے قوت دو…

خوشی کا دن

الحمد للہ! دو دن بعد…ایک اور خوشی کا دن آ رہا ہے…۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۶؁ھ بمطابق ۵ مارچ بروز جمعرات …سات نئی مساجد کی تعمیر کا آغاز

الحمد للہ رب العٰلمین، الحمد للہ رب العٰلمین

دل کی تڑپ ہے کہ جماعت کم از کم تین سو تیرہ مساجد بنائے اور آباد کرے…دل کا درد ہے کہ جہاد اور مسجد آپس میں اسی طرح جڑ کر چلیں…جس طرح مسجد نبوی اور غزوۂ بدر کا جوڑ تھا…مساجد،دین اِسلام کا شعار اور علامت ہیں … مساجد ایک مسلمان کے ایمان کا ٹیسٹ ہیں…ہر شخص اپنے دل کو دیکھے اگر دل مسجد کی طرف لپکتا ہے…وہاں جا کر سکون پاتا ہے…تو سمجھ لیں کہ دل زندہ ہے اور اس میں اِیمان موجود ہے…لیکن اگر دل مسجد سے بھاگتا ہے…مسجد کو بوجھ سمجھتا ہے…اور مسجد میں جا کر بے چین ہوتا ہے تو سمجھ لیں کہ دل موت کے جھٹکوں پر ہے…اور کسی بھی وقت اِیمان سے خالی ہو سکتا ہے…آج کل جس طرح جسم اور خون کے میڈیکل ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں…ایک مسلمان کو چاہیے کہ…اپنے ایمان کی اپنے جسم سے زیادہ فکر رکھے…جسم نے تو ویسے گل سڑ جانا ہے … جبکہ ایمان کے بغیر کوئی گذارہ نہیں…

الحمد للہ! ملک کے مختلف شہروں میں مزید سات مساجد تعمیر کرنے کی ترتیب بن چکی ہے … جس دن ہم ان مساجد کے لئے اپنی جیب سے کچھ مال نکالیں گے…وہ کتنا خوشی کا دن ہو گا…ہاں واقعی عید جیسی خوشی کہ…اللہ تعالیٰ اپنے گھر کے لئے ہمارے مال کو قبول فرما لے…بندہ نے الحمد للہ ارادہ باندھ لیا ہے…اور ان شاء اللہ جمعرات کو مہم شروع ہوتے ہی اپنا ’’عطیہ‘‘ جمع کرانے کی سعادت حاصل کرے گا…آپ بھی نیت پکی کر لیں…اگر دو چار دن گوشت اور مرغی نہ کھائی تو کیا نقصان ہو گا؟…ویسے بھی آج کل ہر شہر میں حرام گوشت فروخت ہو رہا ہے…اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں مُردار اور نجس گوشت کھلایا جا رہا ہے … مسلمان جب تک کھانے پینے کے شوقین نہیں تھے تو کوئی انہیں حرام میں نہیں ڈال سکتا تھا…مگر جب سے چٹخارہ بازی مسلمانوں پر مسلط ہوئی ہے تو کوئی ان کو…خنزیر کے اَجزاء کھلا رہا ہے، تو کوئی ان کو کتے اور گدھے کا گوشت…کھانا پینا ایک ضرورت ہے مگر جب عادت یہ بن جائے کہ سامنے سادہ کھانا رکھا ہو تو …ہاتھ روک کر بیٹھے رہیں گے کہ کہیں اس پاک کھانے سے ہمارا پیٹ نہ بھر جائے…ہم نے تو ضرور کسی ہوٹل جا کر کسی نئی ڈش سے پیٹ بھرنا ہے تو پھر…مسلمانوں کے دشمن اِن کو حرام تک کھلا دیتے ہیں…آپ صرف زندگی کا ایک ہفتہ اس طرح گذاریں کہ کھانے کو صرف اپنی ضرورت سمجھیں…خواہش نہیں…دال ساگ جو ملے اس سے ضرورت پوری کر لیں…اور سنت کے مطابق پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائیں، تو آپ اپنی زندگی کو آزاد اورپُر سکون محسوس کریں گے…بڑی بڑی بیکریاں، بڑے بڑے ہوٹل اور طرح طرح کے مشروبات…آپ خود کو ان سے آزاد پائیں گے…کھانے کا کوئی اِشتہار…بوفے کا کوئی بورڈ اور ذائقے کا کوئی پوسٹر آپ پر اَثر انداز نہ ہو گا…اور آپ کو سادہ کھانے میں وہ مزہ آئے گا جو پانچ ستارہ ہوٹلوں کے کھانوں میں بھی نہیں ہوتا … مساجد کی تعمیر و آبادی کے لئے جو مال ہم لگائیں گے…وہ خوشبودار اَمانت بن کر ہمارے لئے محفوظ ہو جائے گا…جمعرات کے دن ہم مسلمانوں کے سامنے اللہ کے لئے جھولی بھی پھیلائیں گے … اپنی ذات کے لئے نہیں…اللہ تعالیٰ کے گھر اور دین کے لئے…تو یہ بھی خوشی اور سعادت کا موقع ہو گا…اسی مہم کے دوران ہم چندے کے ساتھ ساتھ…مسلمانوں کو مسجد حاضری کی دعوت بھی دیں گے…یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف بلائیں گے…یہ بھی بڑی خوشی کی بات ہو گی…اور ہم اس مہم کے دوران…اپنے محبوب رب کے گھروں یعنی مساجد کے فضائل بھی سنائیں گے…سبحان اللہ! محبوب کے گھر کے قصیدے…اور محبوب کے گھر کی دیواروں کے والہانہ بوسے…یہ بھی بڑی خوشی اور مسرت کا موقع ہو گا ان شاء اللہ…

آج منگل کا دن ہے…پرسوں جمعرات ہے…یہ رحمتوں اور خوشیوں بھری مہم آ رہی ہے …خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے سجدے اور اپنے مال سے اس مہم کا آغاز کرنا ہے…ان شاء اللہ…مکمل تیاری باندھ لیں…

اَنمول موقع

اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو اکیلے…پوری مسجد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنا لیتے ہیں…اُن پر ہمیں رشک آتا ہے…کبھی دل سے دعا بھی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی توفیق عطاء فرمائے …ایک سچے مومن کا عشق یا تو محاذ کے ساتھ ہوتا ہے یا مسجد کے ساتھ…ہاں ایک بات ضرور پوری زندگی مدنظر رہے…بعض لوگ اللہ تعالیٰ سے مال مانگتے ہیں…یا اللہ! مال دے ہم جہاد پر لگائیں گے،مساجد بنائیں گے…کھانے کھلائیں گے …ان کی دعا قبول ہو جاتی ہے…اور مال مل جاتا ہے اب وہ اپنے تمام عزائم اور ارادے بھول کر … اس مال کے مرید بن جاتے ہیں…اسی کی خدمت میں زندگی برباد کرتے ہیں…اسے جمع کرنے، بڑھانے،سنبھالنے اور محفوظ رکھنے کی فکر میں دن رات کاٹتے ہیں…ایسا مال دراصل وبال ہوتا ہے …بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے…اور قرآن مجید میں منافق کا حال مذکور ہے کہ…وہ اسی طرح مال مانگتا ہے کہ…یا اللہ! مال دے تاکہ تیری راہ میں لگاؤں …جب مال مل جاتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے…اس لئے جب بھی دین کی خاطر مال مانگیں تو ساتھ توفیق بھی مانگیں…یا اللہ! دین پر خرچ کرنے کے لئے مال عطاء فرما اور ساتھ اس مال کو دین پر خرچ کرنے کی ہمت ،صلاحیت اور توفیق بھی عطاء فرما…یا اللہ! ایک مسجد بنانے کی خواہش ہے …خالص آپ کی رضا کے لئے پوری مسجد…یا اللہ! مال عطاء فرما…اس مال سے مسجد بنانے کی توفیق عطاء فرما…اور اسے قبول فرما…اس طرح دعاء ہو تو پھر ان شاء اللہ وبال اور عذاب سے حفاظت رہتی ہے…جماعت کی طرف سے جب اس طرح کی کسی مہم کا اعلان ہوتا ہے تو…یہ ہمارے لئے بہترین موقع ہوتا ہے کہ… ہم اپنی آخرت بنا لیں…اہل علم نے لکھا ہے کہ…اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں…توبہ کے فضائل بے شمار ہیں…مگر توبہ کس کی قبول ہوتی ہے؟…

لکھا ہے کہ …توبہ قبول ہونے کی بڑی علامات تین ہیں:

(۱) دل اچھی صحبت کی طرف مائل ہو جائے …اور برے لوگوں کی صحبت سے دور بھاگنے لگے

(۲) نیک اَعمال کی توفیق ملنے لگے…

(۳) دنیا کی محبت کم ہو جائے یا ختم ہو جائے

اسی طرح اَحادیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ…گناہوں کے فوراً بعد کوئی نیکی کر لی جائے تو وہ نیکی ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے…

ہم سب الحمد للہ توبہ،استغفار کرتے رہتے ہیں …اور اس طرح کی مہم ہمارے لئے انمول موقع ہوتی ہے کہ…ہم اپنی توبہ کو مقبول بنا لیں…

مساجد کی محنت میں پہلا اِنعام اچھی صحبت ہے…ہم خود مساجد میں جائیں گے… مسلمانوں کو مساجد کی طرف بلائیں گے…مساجد کے تعاون کی مجالس سجائیں گے تو…یہ سب اچھی صحبت کے مقامات ہمیں نصیب ہو جائیں گے … دوسری علامت نیک اعمال کی توفیق…تو وہ بھی ان مہمات سے حاصل ہو جاتی ہے… ہر مہم میں الحمد للہ جانی اورمالی نیک اَعمال جمع ہوجاتے ہیں … اور جب ہم خود اپنا مال بھی لگاتے ہیں…اور مسلمانوں کو بھی مال لگانے کی ترغیب دیتے ہیں تو اس سے…دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے…اللہ تعالیٰ اس مہم کو کامیاب فرمائے…قبول فرمائے …اور اس میں ہمیں زیادہ سے زیادہ مقبول حصہ عطاء فرمائے…آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor