Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغفرت کی بارش (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 487 - Saadi kay Qalam Say - Maghfirat ki Barish

مغفرت کی بارش

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 487)

اللہ تعالیٰ ’’غافر‘‘ ہے، ’’غفور‘‘ ہے اور ’’غفّار‘‘ ہے…

بخشنے والا…مکمل بخشش اور مغفرت فرمانے والا…اور بار بار بخشنے والا…

اللہ تعالیٰ ’’سَاتِرْ‘‘ ہے، ’’سَتِّیر‘‘ ہے اور ’’سَتَّار ‘‘ ہے…

عیبوںپرپردہ ڈالنے والا…برائیوں اور کمزوریوں کو چھپانے والا…عیب دار انسانوں پر اچھائی کے پردے ڈالنے والا…

یہ اللہ تعالیٰ کے چھ اسماء الحسنی…پیارے پیارے نام ہمارے سامنے آ گئے…

اَلْغَافِرُ…اَلْغَفُوْرُ…اَلْغَفَّارُ…اَلسَّاتِرُ، السَّتِّیْرُ، اَلسَّتَّارُ…

اب نہایت ادب، بے حد توجہ اور عاجزی سے پکاریں…

یَا غَافِرُ…اے بخشنے والے…

یَاغَفُوْرُ…

اے مکمل مغفرت فرمانے والے…

یَا غَفَّارُ…

اے بار بار بخشش اور معافی دینے والے…

اِغْفِرْلِیْ…اِغْفِرْلِیْ…اِغْفِرْلِیْ…

میری مغفرت فرما…مجھے بخش دے … مجھے مغفرت عطاء فرما…

یَا سَاتِرُ…اے چھپانے والے…

یَا سَتِّیْرُ…اے پردہ ڈالنے والے…

یَا سَتَّارُ… اے ہر طرح کی کمزوریوں اور عیبوں کو ڈھانپنے والے…

اُسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا

ہماری کمزوریوں پر اپنا پردہ ڈال دے اور ہمارے خوف پر اپنا امن ڈال دے…

پہلے تین نام قرآن مجید میں آئے ہیں…

(۱) الغافر…یہ ایک مقام پر آیا ہے ( غافر الذنب)

(۲) الغفور…یہ قرآن مجید میں اکیانوے (۹۱) بار آیا ہے

(۳) الغفّار…یہ قرآن مجید میں پانچ بار آیا ہے…

گویا قرآن مجید میں مغفرت کا یہ نور … مسلمانوں پر ستانوے بار برسا…اگر ایک بار بھی برستا تو تمام اہل ایمان کی مغفرت کے لئے کافی تھا …مگر یہاں تو’’ربّ غفور‘‘ کی مغفرت کا سمندر ہے،پورا سمندر…اسی لئے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے مایوس ہونا…بہت بڑا گناہ ہے،جی ہاں! اللہ تعالیٰ بچائے کبیرہ گناہ ہے…حضرت امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں وہ احادیث اوراقوال جمع فرمائے ہیں، جن میں ’’کبائر‘‘ یعنی کبیرہ گناہوں کی تفصیل ہے…سات سے لے کر سات سو تک…مگر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان یہ ہے کہ …کل کبیرہ گناہ چار ہیں…

(۱) اَلْیَأسُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ…

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد سے مایوس ہو جانا

(۲) اَلْقَنُوْطُ مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ…

اللہ کی مغفرت اور رحمت سے نا امید ہو جانا

(۳) وَالْأمْنُ مِنْ مَکْرِ اللّٰہِ…

اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا

(۴) وَالشِّرْکُ بِاللّٰہِ…

اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا

کچھ لوگ گناہ کرتے ہیں اور گناہوں کی دلدل میں پھنستے جاتے ہیں…پھر جب خود کو ہر طرف سے گناہوں میں لتھڑا ہوا پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مکمل طور پر مایوس ہو کر…نہ استغفار کرتے ہیں اور نہ توبہ…وہ کہتے ہیں کہ ہم تو گناہوں سے نکل ہی نہیں سکتے…زبانی توبہ کا کیا فائدہ؟…ہمیں استغفار سے شرم آتی ہے کہ بار بار توبہ توڑ تے ہیں…بظاہر یہ اچھی سوچ ہے مگر حقیقت میں شیطانی نظریہ اور سوچ ہے…یہ اللہ تعالیٰ سے مکمل طور کٹ کر شیطان کی گود میں گرنے کا اعلان ہے…یہ اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت اور قوت مغفرت کا انکار کرنا ہے…کون سا گناہ اللہ تعالیٰ سے بڑا ہے…کون سا گناہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے زیادہ وسیع ہے؟…اللہ تعالیٰ جب مغفرت دینے پر آ جائے تو ایسی قوت والی مغفرت دیتا ہے کہ…گناہوں کے تمام اثرات تک مٹ جاتے ہیں…اگر کسی کے گناہوں کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا…گناہوں کے انڈے بچے دور دور تک پھیل گئے…تب بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت جب آتی ہے تو اُن تمام گناہوں اور ان کے اثرات کو ختم کر دیتی ہے…اور جو حقوق گناہگار کے ذمہ لوگوں کے ہوتے ہیں…وہ بھی ادا کروا دیتی ہے…اور جن گناہوں کا داغ بہت گہرا ہو…ان کی جگہ گہری نیکیوں کی توفیق لے آتی ہے…

ایک آدمی کروڑوں روپے کی خیانت کر کے …سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو اربوں روپے دے دیتے ہیں کہ وہ کروڑوں کی خیانت بھی واپس کر  آئے اور مزید کروڑوں کے صدقات جاریہ بھی چھوڑ آئے…اللہ تعالیٰ کوئی معمولی معافی دینے والے نہیں…غفور ہی غفور…غفّار ہی غفّار … حضرت وحشی رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا جرم کیا تھا…توبہ کرنے اور توبہ قبول ہو جانے کے باوجود غم میں کڑھتے تھے تو …ربّ غفور نے انتظام فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے ایک بڑے دشمن کو قتل کرنے کی سعادت عطا فرما دی… تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے…ارے سچے دل سے معافی تو مانگو،سچے دل سے توبہ کے دروازے پر تو آؤ…اللہ تعالیٰ غافر و غفور ہے…مغفرت کے اصل معنیٰ پردہ ڈالنے،ڈھانپنے اور چھپانے کے آتے ہیں… پرانے زمانے کی جنگوں میں سرپر جو لوہے کی ٹوپی پہنی جاتی تھی…اسے ’’مغفر‘‘ کہتے تھے…وہ سر کو حفاظت سے ڈھانپ لیتی تھی…اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مغفرت انسان کو گناہوں کے ہر شر سے … دنیا اورآخرت میں محفوظ کر دیتی ہے…ڈھانپ لیتی ہے…اہل دل فرماتے ہیں کہ…گناہ ایک ظلم ہے جو انسان اپنی ذات پر ڈھاتا ہے…پھر گناہگار تین قسم ہیں:

(۱) ظالم…یعنی عام گناہگار

(۲) ظلوم…بڑے سخت گناہگار

(۳) ظلّام…یعنی بار بار گناہوں میں گرنے والے

مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیں کہ …جو بندے ’’ظالم‘‘ ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ’’غافر‘‘ ہے…بخشنے والا…جو ’’ظلوم‘‘ ہیں یعنی سخت گناہگار…ان کے لئے اللہ تعالیٰ ’’غفور‘‘ ہے…یعنی ’’ٹھاٹھ‘‘ کی مغفرت دینے والا…اور جو ’’ظلّام ‘‘ ہیں بار بار گناہ کرنے والے ان کے لئے اللہ تعالیٰ ’’غفار‘‘ ہے…بار بار بخشش فرمانے والا…تم دل سے بخشش مانگو تو سہی…مغفرت مانگنے اور بخشش طلب کرنے کو ہی استغفار کہتے ہیں …دل کی ندامت کے ساتھ استغفار…بات یہ چل رہی تھی کہ…اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے نا امید ہونا یہ بڑا سخت کبیرہ گناہ ہے…دوسری طرف کچھ لوگ (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ سے بدگمان ہو جاتے ہیں…وہ دنیا میں تکلیفیں اور مصیبتیں دیکھ دیکھ کر شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں کہ…اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) نہیں سنتا…اللہ تعالیٰ مدد نہیں فرماتا… تو ایسا نظریہ بنا لینا بھی سخت کبیرہ گناہ ہے…اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے اور وہ نصرت بھی فرماتا ہے…مگر جلد باز انسان اس کی نصرت کے انداز کو ہمیشہ نہیں سمجھ سکتا…وہ سمجھتا ہے کہ نصرت نہیںآ رہی…حالانکہ نصرت آئی ہوئی ہوتی ہے…اگر وہ نہ آتی تو معلوم نہیں انسان کا کیا حشر ہوتا…یہاں ایک ضروری بات یاد رکھیں … اگر اپنے ایمان کی سلامتی چاہتے ہیں تو …غیر مسنون وظیفے اور عملیات زیادہ نہ کریں…عامل بننے کا شوق دل سے نکالیں …مومن اور تائب بننے کا شوق دل میں بسائیں…اگر کوئی مرشد کامل نصیب ہے تو پوچھ پوچھ کر وظائف کریں…اگر مرشد کامل نصیب نہیں تو …تلاوت قرآن پاک …نوافل…نفل روزے،صدقہ…کلمہ طیبہ، استغفار،درودشریف…اور تیسرے کلمہ میں لگے رہیں…یعنی فرض عبادت کے بعد جو وقت ملے …ان میں بس یہی اعمال کریں اور مسنون دعاؤں کا اہتمام…ان کے لئے نہ کسی مرشد کی اجازت ضروری… اور نہ ان میں کوئی خطرہ … باقی وظائف یا تو آخر میں مایوسی کی طرف کھینچ لیں گے…یا نعوذ باللہ اپنی ذات کا تکبر دل میں آ جائے گا جو تمام بیماریوں کی جڑ…اور مہلک کینسر ہے…

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ…ذی النورین تھے، جنت کی پکی بشارت رکھتے تھے … آقا مدنی ﷺ کے محبوب تھے…سخاوت کے تاجدار تھے…صدقات جاریہ کے امام تھے … حیاء میں اپنی مثال آپ تھے…مگر قبر پر جاتے تو زاروقطار روتے اور عذاب قبر کے خوف سے تھر تھر کانپتے…پھر ہمیں یہ کیفیت کیوں نصیب نہیں ہوتی؟…ہمیں قبر کا خوف ایک آنسو تک نہیں رلاتا …معلوم ہوا کہ دل اور نفس میں خرابی اور تکبر ہے …اسی لئے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ…اللہ تعالیٰ کی دنیا اور آخرت میں پکڑ سے بے خوف ہو جانا بھی کبیرہ گناہ ہے…یہ حالت بری صحبت سے بھی بن جاتی ہے…اور زیادہ غیر شرعی وظائف سے بھی کہ…انسان کو اپنے اصل مسائل موت، قبر،حشر اور آخرت کی فکر نہیں رہتی…اسی لئے جو وقت وظائف میں لگتا ہے…وہ سچے استغفار میں لگ جائے…استغفار کی برکت سے اللہ تعالیٰ انسان کی حالت تبدیل فرما دیتے ہیں…حضرت سیدہ مطہرہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک عورت آئی …اور مسئلہ پوچھنے کے انداز میں اپنے گناہ کا تذکرہ کر گئی…شاید کسی نے احرام کی حالت میں اس کی پنڈلی کو پکڑا یا چھوا تھا…اس نے جیسے ہی یہ بات بتائی…حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فوراً چہرہ پھیر لیا اور فرمایا:

رک جاؤ، رک جاؤ، رک جاؤ

اور پھر ارشاد فرمایا: اے ایمان والی عورتو! اگر تم میں سے کسی سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ دوسروں کو نہ بتائے…بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرے … یاد رکھو!بندے عار میں ڈالتے ہیں بدل نہیں سکتے …جبکہ اللہ تعالیٰ بدلتا ہے…عار میں نہیں ڈالتا …یعنی تم اپنے گناہ لوگوں کو بتاؤ گی تو لوگ تمہارے اس گناہ کو مٹا نہیں سکتے…نہ تمہاری حالت کو تبدیل کر سکتے ہیں…اور نہ گناہ کے شر اور نقصانات سے تمہیں بچا سکتے ہیں…ہاں البتہ وہ تمہیں عار اور شرمندگی میں ضرور ڈال سکتے ہیں… جب بھی اُن کو موقع ملا وہ تمہیں اس گناہ کی وجہ سے رسوائی،شرمندگی اور بدنامی میں مبتلا کر سکتے ہیں …جبکہ اللہ تعالیٰ نہ شرمندہ کرتے ہیں،نہ بدنام فرماتے ہیں اور نہ عار دلاتے ہیں…بلکہ وہ تمہاری بری حالت کو اچھی حالت میں تبدیل فرما دیتے ہیں …وہ تمہیں گناہ کے نقصانات سے بچا لیتے ہیں …وہ ’’العفو‘‘ ہیں…معاف فرمانے والے… کہ اس گناہ کو مٹا دیتے ہیں…اور ’’الغفور‘‘ ہیں کہ اس گناہ کو چھپا لیتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسی رحمت اور تبدیلی فرماتے ہیں کہ …خود گناہگار بندے کو بھی…اپنا گناہ یاد نہیں رہتا…گویا کہ گناہ کا ہر طرف سے نام و نشان ہی مٹ گیا…نہ وہ نامۂ اعمال میں باقی رہا، نہ وہ لکھنے والے فرشتے کو یاد رہا…نہ وہ اُس زمین کو یاد رہا جس پر وہ ہوا تھا …نہ وہ اُن اعضاء کو یاد رہا جن سے وہ گناہ کیا تھا … اور نہ خود گناہگار بندے کو یاد رہا…ایسا فضل اور ایسی مغفرت اور کون کر سکتا ہے؟…زندگی کے سانس چل رہے ہیں…سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے…توبہ کا دروازہ کھلا ہے…بھائیو! کثرت استغفار،بہت استغفار،سچا استغفار…

اچھی توبہ،خالص توبہ،سچی توبہ ،پکی توبہ

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ،نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor