Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اللہ، اللہ ربی لا اشرک بہ شیئاً (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 488 - Saadi kay Qalam Say - Allah Allah Rabbi La Ushrik Behi Shaiya

اللہ، اللہ ربی لا اشرک بہ شیئاً

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 488)

اللہ، اللہ…اللہ تعالیٰ میرا رب ہے…میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

دو باتیں

آج کی مختصر سی مجلس میں بس دو باتیں ہیں

پہلی یہ کہ ایک بہت قیمتی اور طاقتور دعاء یاد کر لیں…یہ دعاء رسول نبی کریم ﷺ نے خاص طور پر اپنے گھر والوں کو سکھائی…اور پھر ساری امت کو سکھائی…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

اللہ اللہ میرا رب ہے…میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا

دوسری بات یہ کہ…بہت اہم نکتہ دل میں بٹھا لیں کہ…جب ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ہر طاقت کا انکار کر دیں گے تو…ساری طاقتیں خودبخود ’’ بے طاقت‘‘ ہو جائیں گی…حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا… میں اللہ تعالیٰ کو مانتا ہوں…نمرود کو نہیں…بس جیسے ہی دل کی گہرائی سے نمرود کی طاقت کا انکار فرمایا … نمرود، اس کی حکومت اور اس کی آگ… سب بے طاقت ہو گئیں…ارے! ہر کسی کو مانو تو ہر کوئی نقصان پہنچاتا ہے…اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ مانو تو کوئی بھی کچھ نہیںبگاڑ سکتا …

اللہ کا بندہ

آپ نے اپنے اردگرد یہ جملہ بہت سنا ہو گا کہ …فلاں آدمی کی بہت چلتی ہے…وہ وزیر اعظم کا بندہ ہے…فلاں آدمی کو پولیس کچھ نہیں کہتی وہ کور کمانڈر کا بندہ ہے…فلاں شخص سے تو انتظامیہ بھی ڈرتی ہے وہ گورنر کا بندہ ہے…بہت پہلے کی بات ہے کہ حج ویزہ کے سلسلہ میں ایک سرکاری دفتر جانا ہوا تھا…وہاں موجود وزیر صاحب نے ایک شخص کو ملاقات کے لئے جلد بلا لیا…وجہ یہ تھی کہ وہ کسی جنرل کا بندہ تھا…اندازہ لگائیں…کسی طاقتور کا بندہ ہونا کتنے کام کی چیز ہے…

اب جو شخص اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو…بلکہ صحیح معنی میں وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بن جائے تو اس کی طاقت کتنی ہو گی؟…وزیر اعظم کے بندے کو وزیر اعظم سے چھوٹے عہدیدار کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے … جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوگا اسے اللہ تعالیٰ سے چھوٹے افراد کس طرح کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟…اور اللہ تعالیٰ سے تو سب چھوٹے ہیں…وزیراعظم سے بڑے بہت سے ہو سکتے ہیں…مگر اللہ تعالیٰ سے بڑا کوئی بھی نہیں…اللہ اکبر، اللہ اکبر…اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے…

اس لئے دعاء کا پہلا حصہ ہی یہی ہے…’’ اللہ اللہ ربی‘‘…اللہ تعالیٰ میرا رب ہے…اور میں اس کا بندہ ہوں…سبحان اللہ…اللہ کا بندہ …اللہ کا بندہ… اللہ کا بندہ

جب کوئی شدت، پریشانی ،مصیبت آئے

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ…رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اذا اصاب احدکم ھمّ اولاواء فلیقل:

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

جب تم میں سے کسی کو کوئی پریشانی یا سختی پیش آئے تو وہ کہے:

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

’’ ھَمّ‘‘ کہتے ہیں فکرمندی، پریشانی … الجھن،بے چینی…یا آج کل کے الفاظ میں تفکرات اور ٹینشن

’’لَاْوَاء ‘‘ کا معنی ہے…شدت، سختی، مصیبت… رزق یا زندگی کی تنگی…ان دو تکلیفوں کا علاج یہ فرمایا کہ…اعلان کر دو کہ میں اللہ کا بندہ ہوں…اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں مانتا … دراصل ہمارے اندر توحید کی کمی آتی ہے تو ساتھ خوف،غم،پریشانیاں اور مصیبتیں لاتی ہے…دل میں توحید موجود ہو تو دل اپنے مرکز کے ساتھ جڑا رہتا ہے…اور اس میں کسی کا خوف نہیں آتا … مثال لے لیجئے…جو لوگ امریکہ سے ڈرتے ہیں …وہ دن رات امریکہ کی غلامی اور ذلت کا خوف اٹھاتے ہیں…اور جو نہیں ڈرتے ان کے لئے گویا امریکہ موجود ہی نہیں ہے…آپ کبھی محاذ جنگ پر جا کر وہاں موجود مجاہدین کی خوشی، بے فکری اور اطمینان دیکھ لیں تو حیران رہ جائیں گے…اس سے بھی زیادہ عام سی مثال لے لیں…جو لوگ جنات  کو  حد سے زیادہ مانتے ہیں…ان سے ڈرتے ہیں،ان کو طاقتور سمجھتے ہیں…وہی بتاتے ہیں کہ جنات ان کو ہر وقت چمٹے رہتے ہیں…ان کو ستاتے ہیں…ان کے گھروں پر حملے کرتے ہیں…لیکن جو جنات کو نہیں مانتے…نہ ماننے کا مطلب یہ کہ ان کو کوئی بڑی طاقت یا مؤثر قوت نہیںمانتے…آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ کوئی جن ان کے قریب بھی کبھی آیا ہو…ارے بھائیو! اور بہنو!اللہ کے سوا کسی پتھر کو بھی مانو تو وہ بھی … خدا بننے کی کوشش میں سیدھا سر پر آ لگتا ہے…کسی کتے کو بھی طاقتور مانو تو وہ اچھل اچھل کر بھونکتا ہے اور کاٹنے کو دوڑتا ہے…اس لئے ضروری ہے کہ …دل میں توحید کو مضبوط کیا جائے…بس صرف ایک اللہ کو مانو…اور باقی سب سے کہہ دو کہ … نہیںمانتے،نہیں مانتے…لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ…اللہ ہی خالق، اللہ ہی نفع و نقصان کا مالک …باقی سب مخلوق،باقی سب فانی

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

کوئی لاکھ اچھلے،کودے،چیخے،دھاڑے کہ مجھے مانو…مجھے مانو…اس کو صاف بتا دیں کہ …جی بالکل نہیں مانتے…بالکل نہیں مانتے … بالکل نہیں مانتے…نہ کسی پتھر کو نہ مورتی کو…نہ کسی ستارے کو نہ کسی سیارے کو…نہ کسی طاقت کو نہ کسی قوت کو…نہ کسی جن کو نہ کسی سائے کو…نہ کسی قبر کو نہ کسی آستانے کو…نہ کسی پنڈت کو نہ کسی نجومی کو…نہ کسی مہاراج کو، نہ کسی گوروگھنٹال کو … نہ کسی ٹونے باز کو نہ کسی جادوگر کو…نہ ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا وجود ہی نہیں…وجود تو ہے …مگر موثر نہیں…نفع و نقصان کا مالک نہیں … شر اور خیر کا فیصلہ کرنے والا نہیں…یہ سب محتاج یہ سب کمزور یہ سب فانی…میں تو اللہ کا بندہ ہوں …صرف ایک اللہ کا…اسی کے سامنے جھکتا ہوں…اسی سے مانگتا ہوں…صرف اسی کو مانتا ہوں…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

کرب اور خوف کے وقت

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے…کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الا اعلمک کلمات تقولیھن عند الکرب او فی الکرب

کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو تم مصیبت کے وقت ،یا مصیبت میں کہا کرو

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

اللہ،اللہ ہی میرا رب ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی

سبحان اللہ! جو انسان توحید خالص کے قلعہ میں پہنچ جائے…اسے کون تکلیف پہنچا سکتا ہے؟…

الکرب یعنی غم،مصیبت،تنگی…ہر وہ حالت جو انسان کو تکلیف اور پریشانی میں ڈال دیتی ہے…

ایک عجیب واقعہ

ایک مشہور محدث گزرے ہیں…عبد الرحمن بن زیادؒ…یہ اپنے رفقاء کے ساتھ سمندری سفر میں تھے کہ رومیوں نے انہیں قید کر لیا…مسلمانوں اور رومیوں کی جنگیں چلتی رہتی تھیں…چنانچہ یہ بھی جنگی قیدی بنا لئے گئے…اسی قید کے دوران رومیوں کا تہوار آیا تو بادشاہ کے حکم سے ان مسلمان قیدیوں کو بھی اس دن…اچھا کھانا دیا گیا اور وہ بھی زیادہ مقدار میں…بادشاہ کی مقرب ایک عورت دربار میں پہنچی اور چیخنے چلانے لگی کہ…ان مسلمانوں نے میرے بیٹے،خاوند اور بھائی کو قتل کیا ہے اور تم ان قاتلوں کی دعوتیں کر رہے ہو…اس نے اپنے بال نوچ کر ایسا غمناک ماتم کیا کہ بادشاہ بھی غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا کہ…ان تمام قیدیوں کو لاؤ اور ایک ایک کر کے میرے سامنے قتل کرو…قیدی لائے گئے اور جلاد نے انہیں قتل کرنا شروع کیا…جب وہ حضرت عبد الرحمن بن زیاد کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا:

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

اللہ،اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا

سبحان اللہ! سزائے موت کا وقت جب لوگ جان بچانے کے لئے ہر سہارا ڈھونڈتے ہیں … ہر ظاہری طاقت کے قدموں میں گرتے ہیں…ہر صاحب اختیار کی منتیں کرتے ہیں…اور ہر کسی کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں…حضرت عبد الرحمن فرما رہے تھے کہ…اس وقت بھی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی طاقت کو نہیں مانتا…اس وقت بھی میںاللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف نہیں دیکھتا…اس وقت بھی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا…میں تو اللہ کا بندہ ہوں … زندہ رہوں تب بھی اس کا بندہ…اور مر جاؤں تب بھی اس کا بندہ…وہ مجھے ان کافروں کے ہاتھوں موت دے تب بھی وہ میرا رب…وہ مجھے بچا دے تب بھی وہ میرا رب…یہ جہان بھی اس کا اور وہ جہان بھی اس کا…زندگی بھی اس کا عطیہ … اور موت بھی اس کا تحفہ…ہماری زندگی میں بھی وہی سب کچھ…اور ہمارے مرنے کے بعد بھی وہی سب کچھ…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

انہوں نے جیسے ہی توحید کے یہ عاشقانہ الفاظ پڑھے،بادشاہ نے فوراً جلاد کو روک لیا اور کہا مسلمانوں کے اس عالم کو میرے پاس لاؤ … خلاصہ یہ کہ ان کو اور ان کے باقی رفقاء کو باعزت رہا کر دیا گیا…غور کریں…جس وقت بادشاہ کی طاقت اندھا ناچ رہی تھی…اور بادشاہ کے جلاد کی تلوار گردنیں کاٹ رہی تھی…رسیوں میں بندھے ہوئے ایک مرد مومن نے…بادشاہ کی طاقت کا انکار کر دیا کہ…میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا…تو اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ کو ان کے لئے ’’ بے طاقت ‘‘فرما دیا…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

مبارک مصیبتیں

مسلمان پر تکلیف اور مصیبت اس لئے آتی ہے تاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں اور وہ خالص ایک اللہ کی طرف رجوع کر کے…ایمان اور کامیابی کے بڑے بڑے درجات حاصل کر لے …ایک بزرگ کا فرمان ہے:

اے ابن آدم! تمہاری وہ حاجتیں اور مصیبتیں کتنی برکت والی ہیں جن میں تم بار بار اپنے مالک کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہو…

ایک اور اللہ والے فرماتے ہیں:

جب مجھے کسی تکلیف اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے مناجات کی لذت ملتی ہے…اور ایک اللہ سے مانگنے کی حلاوت دل میں اترتی ہے تو …میں چاہتا ہوں کہ کاش یہ مصیبت جلد دور نہ ہو …یہ حاجت جلد پوری نہ ہو…تاکہ مجھے اپنے مولیٰ، اپنے مالک اور اپنے محبوب کے دروازے پر اور زیادہ دیر بھیک مانگنے کی لذت ملتی رہے…

اسی لئے یہ مقولہ بھی مشہور ہے کہ … مصیبت،مخلص بندے کو اللہ تعالیٰ سے ملا دیتی ہے …کیونکہ مخلص بندہ…نہ حکومتوں کے سامنے جھکتا ہے…نہ مخلوق میں سفارشیں ڈھونڈتا ہے…نہ پتھروں اور آستانوں سے مدد مانگتا ہے…اور نہ دنیا کے طاقتور لوگوں کو سہارا بناتا ہے…وہ تو بس ایک مالک،ایک خالق ،ایک مولیٰ…یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں مشغول ہو جاتا ہے…اور مانگتے مانگتے اپنے مالک کے قریب ہوتا جاتا ہے…ارے! محبوب مالک کا قرب مل جائے تو اور کیا چاہیے … سب بھائی اور بہنیں … اس دعا کو یقین کے ساتھ یاد کریں…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

 اور موجودہ حالات میں وجد کے ساتھ پڑھا کریں…

اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئَا

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor