Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقبول استغفار اور مائدۃ الصابر ( قسط اول) (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 489 - Saadi kay Qalam Say - maqbool isteghfar aur maida tu sabir-1

مقبول استغفار اور مائدۃ الصابر ( قسط اول)

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 489)

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے…الحمد للّٰہ رب العٰلمین…اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں…انسان کے نفس پر پریشانیوں اور وساوس کا حملہ ہو جاتا ہے …اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں ہے…میں دنیا کا سب سے مظلوم ،سب سے بد حال اور سب سے زیادہ غمزدہ انسان ہوں …یہ بڑا خطرناک وقت ہوتا ہے…اکثر لوگ بڑی بڑی غلطیاں ایسے ہی لمحات میں کر بیٹھتے ہیں …اور پھر ساری زندگی پچھتاتے ہیں…ان کو یہاں تک یاد نہیں رہتا کہ ان کے پاس ’’کلمہ طیبہ‘‘ جیسی قیمتی نعمت ہے…وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو سانس لے رہے ہیں وہ کتنی بڑی نعمت ہے…ان کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ ان کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی غذا ہے…ان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے دل و دماغ میں قرآن مجید کی کتنی آیات ہیں…وہ یہ بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے کتنے پردے ہیں…ایسے پردے کہ اگر وہ اتار لئے جائیں تو ان کا سارا غم و غصہ شرمندگی میں بہہ جائے…

وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس وقت وہ جس غم و پریشانی کو محسوس کر رہے ہیں…یہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بعض قوتوں کے بل بوتے پر ہے…ورنہ ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ…انسان بے بسی کے جال میں پھنس جاتا ہے … تب وہ مار کھاتا ہے مگر غصہ نہیں کر سکتا …تب وہ ایسا تشدد دیکھتا ہے کہ جسم میں کچھ محسوس کرنے کی سکت تک نہیں رہتی…اس لئے جب بھی نفس پر پریشانیوں اور وساوس کا شدید حملہ ہو …اس وقت کوئی فیصلہ نہ کریں…اس وقت صرف اور صرف استغفار میں لگ جائیں…اپنے گناہ یاد کریں،ان پر روئیں…ان کی معافی اللہ تعالیٰ سے مانگیں…اور اپنے دل کو سمجھائیں کہ …اس وقت جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے وہ حقیقی باتیں نہیں…محض شیطان کا حملہ ہے…اور شیطان ذکر اور استغفار سے بھاگتا ہے…فیصلے کرنے ، دوسروں کو الزام دینے… اور زیادہ سوچنے سے نہیں…

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْن

مائدۃ الصّابر

الحمد للہ رنگ و نور کے عاجزانہ مضامین سے اب تک آٹھ کتابیں بن چکی ہیں…سات جلدیں رنگ و نور کے نام سے اور آٹھویں کتاب ’’مقامات‘‘ کے نام سے…آج کے کالم پر الحمد للہ نویں کتاب بھی ان شاء اللہ مکمل ہو جائے گی…اس کتاب کا نام ’’مائدۃ الصّابر‘‘ تجویزکیا ہے…بندہ نے اس کتاب کا ثواب ’’حضرت صابرؒ ‘‘ کے لئے ہدیہ کیا ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اسے حضرت ابا جی محترم اللہ بخش صابر نور اللہ مرقدہ کے لئے ’’صدقہ جاریہ‘‘ بنائے…

حضرت ابا جی ؒ کے بندہ پر اور جماعت پر بہت احسانات ہیں…ان کے جانے سے ہم نے جوکچھ کھویا ہے وہ واپس ہاتھ نہیں آیا…اللہ تعالیٰ اس کتاب کی عاجزانہ خدمت اور محنت کا مکمل ثواب حضرت ابا جیؒ کو عطا فرمائے…اور انہیں اپنی مغفرت اور اپنے فضل سے مقامِ صدیقین نصیب فرمائے…اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ’’مائدۃ الصّابر‘‘ سے ان شاء اللہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا …یہ کتاب کافی اہم مضامین پر مشتمل ہے اور ان پر رنگ و نور کے باقی تمام مضامین سے زیادہ محنت ہوئی ہے

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ۔وَتُبْ عَلَیْنَااِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ

مقبول استغفار

’’مائدۃ الصّابر‘‘ کا آخری مضمون استغفار کی ان دعاؤں پر مشتمل ہے جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہیں…اور امت کو سکھائی ہیں…قرآن مجید…اللہ تعالیٰ کا کلام ہے…قرآن مجید حضرات انبیاء علیہم السلام کا استغفار سناتا ہے کہ … فلاں نبی نے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگی…فرشتے اس طرح سے ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں…ماضی کے مقبول مجاہدین نے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا …اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں…آج کے کالم میں ان شاء اللہ قرآن مجید کے تیس پاروں میں موجود استغفار کی تمام دعاؤں کو جمع کرنے کا ارادہ ہے … تاکہ ایک ہی مجلس میں یہ نعمت ہم سب کے سامنے آ جائے اور ہم سب کو نصیب ہو جائے…استغفار خود ہی بہت مقبول عبادت اور افضل ترین دعاء ہے …پھر اگر یہ دعاء اور عبادت…قرآن مجید کے محکم اور مبارک الفاظ میں ہو تو…وہ قبولیت کے بہت زیادہ قریب ہو جاتی ہے…ان تمام دعاؤں کو سمجھ لیں،یاد کر لیں اور اپنے پاس لکھ لیں…پھر تہجد کے وقت،جمعہ کی رات…جمعہ کے دن عصر کے بعد…اور عموماً فرض نمازوں کے بعد ان دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کریں …یعنی مغفرت اور معافی مانگا کریں…امید ہے کہ ان شاء اللہ بہت کچھ ہاتھ آ جائے گا…

اہم نکتہ

قرآن مجید  کے پر نور، پرکیف، پرسکون سمندر میں سے،استغفار کے موتی چننے سے پہلے چند باتیں دل میں بٹھا لیں…

(۱) استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت مانگنا…چنانچہ حقیقی استغفار وہی مسلمان کرتا ہے جو خود کو گناہگار اور مغفرت کا محتاج سمجھتا ہے…

(۲) معافی مانگنے، مغفرت طلب کرنے … اور خود کو گناہگار سمجھنے کی کیفیت ہرکسی کو نصیب نہیںہوتی…جو لوگ شیطان اور نفس کی غلامی میں آ جاتے ہیں ان کو نہ اپنے گناہوں پر ندامت ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھتے ہیں…اس لئے استغفار کا نصیب ہونا بڑی نعمت ہے…

(۳) استغفار،بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے…اور یہ امید کا وہ دروازہ ہے جو کسی بندے کو اللہ تعالیٰ سے ٹوٹنے نہیں دیتا…اسی لئے قرآن مجید نے ’’استغفار‘‘ کی دعوت دی…حضرات انبیاء علیہم السلام نے ’’استغفار‘‘ کی دعوت دی … ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ دوسرے مسلمانوں کو ’’استغفار‘‘ کی دعوت دیا کریں…

(۴) استغفار کرنے والا مسلمان چند باتوں کا دل سے اعتراف کرتا ہے…پہلی بات یہ کہ میرا ایک رب ہے جسے میں نے منانا ہے…دوسری بات یہ کہ گناہ کی معافی صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مل سکتی ہے،کسی اور سے نہیں…تیسری بات یہ کہ میں گناہگار ہوں مگر اپنے گناہ پر خوش نہیں ہوں اور اس گناہ کے وبال سے خلاصی چاہتا ہوں…اندازہ لگائیں یہ تینوں باتیں کس قدر اہم اور وزنی ہیں … اسی لئے ایک بار ’’استغفر اللّٰہ‘‘ کہنا بہت بڑی عبادت اور دعاء ہے کہ اس میں…ایک ساتھ ایمان والی اتنی باتوں کا اقرار آ جاتا ہے…

اَسْتَغْفِرُا للّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِی لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوبُ اِلَیْہ

آئیے اب ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر قرآن مجید کی استغفار والی دعائیں ایک ایک کر کے سمجھتے اور پڑھتے ہیں…

(۱) وفاداری کا اعلان اور استغفار

سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیرْ ( البقرۃ ۲۸۵)

ترجمہ: ہم نے ( اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرنے کی نیت سے ) سنا…اور ہم نے مان لیا…اے ہمارے رب ہم تیری بخشش ( مغفرت) چاہتے ہیں اور ( ہم نے ) تیری طرف لوٹ کر جانا ہے…

اس دعاء میں اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام احکامات سے وفاداری کا اقرار بھی آ گیا اور استغفار یعنی مغفرت کا سوال بھی آ گیا…وہ افراد جن کا دل گمراہی کی طرف بار بار بھٹکتا ہو ان کو اس دعاء کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے…

(۲) معافی،مغفرت، نصرت، رحمت، آسانی کے سوال پر مشتمل جامع استغفار

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِن نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لَاتُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ( البقرۃ ۲۸۶)

ترجمہ: اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے ہمارے رب! ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا،اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف فرما دے،اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا کارساز ہے،کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد فرما…

استغفار پر مشتمل یہ قرآنی دعا ایک ’’نور ‘‘ ہے …جو انسان کسی بھی دشمنی یاحالت سے مغلوب ہو …وہ اسے زیادہ مانگے…کئی افراد جن کی شہوت بے قابو تھی انہوں نے اس استغفار کو اپنایا تو برائی ، بے تابی اور بے چینی سے نجات پائی…الغرض کوئی بھی برا دشمن،بری عادت یا بری حالت انسان کودبا رہی ہو تو یہ مبارک دعا یقین اور توجہ سے پڑھے … تو ان شاء اللہ اس دعاء کا نور مددگار بن کر پہنچ جائے گا…اس دعاء کے لئے ’’نور‘‘ کا لفظ حدیث پاک میں آیا ہے…

(۳) ہمیشہ کی نعمتوں کے مستحق بندوں کا استغفار

رَبَّنَا اِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ( آل عمران ۱۶)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم ایمان لاتے ہیں پس ہمارے لئے ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔

فرمایا کہ لوگ عموماً دنیا کی چیزوں پر فریفتہ ہوتے ہیں…دنیا کی چیزیں مثلاً عورتیں،بیٹے ، سونا چاندی کے ڈھیر، قیمتی گھوڑے،مویشی، کھیت وغیرہ… حالانکہ یہ وقتی فائدے کی چیزیں ہیں ہمیشہ کی کامیابی نہیں…جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لئے جو کچھ آخرت میں تیار فرمایا ہے وہ بہت بہتر ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت،حوریں وغیرہ… یہ دائمی نعمتیں جن بندوں کو ملیں گی ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہیں،اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہیں اور جہنم سے پناہ مانگتے ہیں…وہ کہتے ہیں

رَبَّنَا اِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

(۴)جہاد میں آزمائشیں اور مشکل حالات کے وقت کا مؤثر استغفار

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ( آل عمران ۱۴۷)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور جو ہمارے کام میں ہم سے زیادتی ہوئی ہے ( وہ بھی بخش دے) اور ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہمیں مدد عطاء فرما…

قرآن مجید نے بتایا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے اللہ والے رفقاء نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کیا…اس جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے دوران جب ان پر کوئی تکلیف،آزمائش یا ظاہری شکست آئی تو وہ نہ گھبرائے،نہ انہوں نے ہمت ہاری اور نہ دشمن کے سامنے د بے…بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر استغفار کرنے لگے

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ

جب انہوں نے یہ طرز اپنایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت کا بہترین اجر عطاء فرمایا … استغفار کی یہ دعاء بہت مقبول اور نافع ہے اور ہر زمانہ میں مجاہدین اور دین کی خاطر آزمائش اٹھانے والوں نے اسے اپنا کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت، رحمت اور نصرت حاصل کی ہے…

( ۵) عقل والوں کا استغفار

رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ( آل عمران ۱۹۳)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔

قرآن مجید کی ان آیات میں ’’اولوالالباب ‘‘ کا تذکرہ ہے…عقل مند،عقل والے،روشن فکر، روشن خیال ، سمجھدار،دانشور اور ذہین لوگ کون ہیں؟ … قرآن مجید نے ان کی علامات بیان فرمائی ہیں …سورۃ آل عمران کے آخر میں ملاحظہ فرما لیں …ان عقل والوں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں … اپنی برائیوں کے وبال سے بچنا چاہتے ہیں … اور ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ…ان کو ’’ حسن خاتمہ‘‘ یعنی ایمان پر موت نصیب ہو جائے …اس لئے وہ دعاء مانگتے ہیں

رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ

معذرت

ارادہ یہی تھا کہ آج کی مجلس میں قرآن مجید کی تمام استغفار والی دعائیں اکٹھی آ جائیں…مگر کالم کی جگہ پوری ہو گئی اور ابھی تک صرف پانچ دعائیں آئی ہیں…جبکہ بندہ نے جو دعائیں شمار کر رکھی ہیں وہ چوبیس کے لگ بھگ ہیں…اس لئے آپ سب سے معذرت…آج کے کالم کو پہلی قسط بنا کر باقی دعائیں آئندہ قسط میں ان شاء اللہ

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor