Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ!! ( قسط ۱) (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 491 - Saadi kay Qalam Say - Ila Maghfiratin -1

اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ!! ( قسط ۱)

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 491)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’مغفرت‘‘ مانگنے والا بنائے… اور ہم سب کو اپنے فضل سے ’’مغفرت‘‘ پانے والا بنائے…

حد درجہ پُرکشش

’’مغفرت‘‘ کا لفظ بہت پُرکشش ہے…یہ لفظ سنتے ہی دل مچلنے لگتا ہے،کبھی کبھار دھڑکنے لگتا ہے …’’مغفرت‘‘ کوئی معمولی چیز تو ہے نہیں … قرآن مجید دکھاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…حضرت نوح علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…اور دونوں جلیل القدر پیغمبر فرما رہے ہیں کہ…یا اللہ! اگر ہمیں ’’مغفرت‘‘ نہ ملی تو ہم تباہ ہو جائیں گے … اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ’’ مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…اللہ تعالیٰ کے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں …وہ دیکھیں قرآن مجید میں بہت عجیب منظر … فرعون اپنی مکمل فرعونیت کے ساتھ ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکا رہا ہے…میں تمہیں کھجور کے درختوں سے اُلٹا لٹکا دوں گا… میں تمہارے بازو اور ٹانگیں کاٹ دوں گا…میں تمہیں سولی اور پھانسی پر اُلٹا دوں گا…میں تمہیں سسکا سسکا کر سخت عذاب میں ماروں گا…

ایمان لانے والے جادوگروں نے کہا…کوئی فکر نہیں! تو یہ سب کچھ کر لے…ہماری لالچ بس اتنی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’مغفرت‘‘ مل جائے…’’ مغفرت ‘‘کی تلاش میں تیرے مظالم قبول ہیں… ’’ مغفرت‘‘ کی خاطر کٹ مرنا اور لٹک کر مرنا سب منظور ہے…وہ دیکھیں حضرت داؤد علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…حضرت سلیمان علیہ السلام ’’مغفرت‘‘ مانگ رہے ہیں…یہ سب معصوم انبیاء ہیں…کبیرہ گناہوں سے بھی پاک اور صغیرہ گناہوں سے بھی پاک…مگر وہ کس طرح تڑپ تڑپ کر مغفرت مانگتے ہیں…کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کو جانتے ہیں…اتنا عظیم رب ،اتنا عظیم،اتنا عظیم…اور ہم اتنے چھوٹے تو پھر اتنے عظیم رب کا حق کیسے ادا کر سکتے ہیں؟…اس کی عظمت اور شان کے مطابق کہاں اس کی عبادت کر سکتے ہیں؟…یا اللہ معافی، یا اللہ مغفرت…قرآن مجید نے اعلان فرمایا کہ…اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ’’کامل مغفرت‘‘ عطاء فرما دی ہے… سبحان اللہ! حضرت آقا مدنی ﷺ کی خوشی کی حد نہ رہی…فرمایا آج تو ایسی سورت نازل ہوئی جو مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے … اور پھر مغفرت کے شکرانے میں…عبادت بڑھا دی، ریاضت بڑھا دی اور محنت بڑھا دی…کیا ہم گناہگاروں اور بے کاروں کو بھی ’’مغفرت‘‘ ملے گی؟…یہ سوچ کر دل دھڑکنے لگتا ہے…کبھی خوف سے ڈوبنے لگتا ہے تو کبھی امید سے مچلنے لگتا ہے … مغفرت ، مغفرت ، مغفرت … اسی مغفرت کے مانگنے کو ’’استغفار ‘‘ کہتے ہیں … استغفار کا ترجمہ ہے مغفرت مانگنا،مغفرت چاہنا، مغفرت طلب کرنا…مغفرت کی لالچ میں یہ خواہش تھی کہ قرآن مجید کی مغفرت،توبہ اور استغفار والی آیاتِ مبارکہ کو جمع کیا جائے…قرآن مجید کی استغفار اور توبہ والی دعاؤں کو جمع کیا جائے … سالہا سال تک یہ خواہش دل میں رہی…وہاں پلتی اور بڑھتی رہی…مگر عمل میں نہ آ سکی…اس دوران توبہ اور استغفار کے موضوع پر چند مضامین کی توفیق ملی…الحمدللہ نتائج بہت اچھے نکلے…پھر ’’استغفار‘‘ کی ایک مہم چلی،اس پر ’’مکتوبات‘‘ کی توفیق ملی…ماشاء اللہ نتائج حیرت انگیز تھے… بڑی خوشی یہ ہوئی کہ…استغفار مہم نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کو بہت فائدہ پہنچایا…مجاہدین میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے’’استغفار‘‘ کا ذوق ایک جنون کی طرح ابھرا اور دور دور تک پھیل گیا …اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی تعریف فرماتا ہے …جو سحری کے وقت مغفرت مانگتے ہیں…یعنی استغفار کرتے ہیں

وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونْ

الحمد للہ یہ کیفیت بھی مضبوط ہوئی…فدائی مجاہدین نے درخواست کی کہ…استغفار مہم بار بار چلائی جائے…ایک دن میں تیس ہزار استغفار کا عمل بھی خوب رہا…اور روزانہ ایک ہزار بار ’’ استغفار‘‘ بے شمار افراد کا وظیفہ بنا…فدائی مجاہدین کے دل آئینے کی طرح ہوتے ہیں…اور استغفار کے مقام کو دل والے ہی سمجھتے ہیں…محبوب کو منانا ،محبوب سے معافی مانگنا…محبوب سے بار بار معافی اور توجہ کی عاجزانہ التجا کرنا…اپنے کسی عمل پر ناز نہ کرنا بلکہ معافی ہی مانگتے چلے جانا…یہ وہ عمل ہے جو دل کو مانجھ دیتا ہے…جو نفس کو پاک کر دیتا ہے …جو پردوں کو ہٹا کر حقائق کا چہرہ صاف کر دیتا ہے…یہ ساری صورتحال دیکھ کر شوق مزید بڑھا کہ…آیات استغفار کو جمع کیا جائے…

ایک بات سمجھیں

قرآن مجید کسی ایک موضوع کی آیات کو … اکٹھا جمع نہیں فرماتا…

توحید کی آیات ہوں یا نماز کی…جہاد کی آیات ہوں یا استغفار کی…

قصص والی آیات ہوں یا فکر آخرت کی…یہ پورے قرآن میں بکھری ہوئی ہیں…اور ایسا کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا احسان فرمایا ہے…اگر قرآن مجید میں بھی مخلوق کی کتابوں کی طرح ہر موضوع کی آیات اکٹھی ہوتیں تو…ہم بہت سی خیروں اور بہت سے علم سے محروم ہو جاتے …انسان کے ذہن میں جب نئی بات آتی ہے تو پچھلی بات مدھم پڑ جاتی ہے…ہم پہلے توحید کی آیات پڑھتے جو ہمارے دماغ میں روشن ہو جاتیں …مگر جب وہ باب ختم ہوتا اور ہم نماز کی سینکڑوں آیات کو اکٹھا پڑھتے تو توحید کا سبق دماغ میں مدھم ہو جاتا…پھر جب جہاد کی سینکڑوں آیات شروع ہوتیں تو نماز کا سبق کمزور ہونے لگتا…اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ قرآن مجید میں تمام ضروری باتوں کو…جگہ جگہ پر بکھیر دیا…اس سے ہر سبق ہر وقت تازہ رہتا ہے…اور انسان اکتائے بغیر اپنے دماغ کو روشن کرتا ہے…اور مختلف موضوع جب باہم جڑتے ہیں…اور ایک ایک آیت میں کئی کئی اسباق ملتے ہیں تو انسان کے ذہن کی قوت اور صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے…اب آپ قرآن مجید کا کوئی بھی صفحہ کھولیں…آپ کو صرف ایک موضوع نہیں ملتابلکہ ہر صفحہ پر انسانی ضرورت کی بہت سی ہدایات مل جاتی ہیں

والحمد للہ رب العالمین

یہ تو صرف ایک حکمت عرض کی گئی… جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں… انسان غورکرتا جائے تو حکمتوں کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں… اب دوسری بات سمجھیں… کیا یہ جائز ہے کہ کوئی شخص محنت کرکے قرآن مجید میں سے ایک موضوع کی آیات…ایک جگہ جمع کر لے؟…پھر خود بھی ان سے فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے…جی ہاں! یہ جائز ہے،اچھا ہے،بہت مفید ہے…اور بہت نافع ہے …قرآن مجید کے کسی بھی ایک حکم کی آیات جمع کریں…ان کو سمجھیں تو اس حکم کا پورا نظام دل و دماغ میں اتر جاتا ہے…اور پھر جب انسان قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو …اس میں اسے زیادہ لطف اور فائدہ محسوس ہوتا ہے…

خصوصاً آج کل کے زمانے میں…جبکہ افسوس ہے کہ اکثر مسلمانوں کو قرآن پاک کا ترجمہ نہیں آتا…یعنی ان کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے مالک و خالق نے ان کی ہدایت کے لئے جو دستور نازل فرمایا ہے وہ کیا ہے؟…ان حالات میں کسی ایک موضوع کی آیات کو جمع کر کے وہ موضوع مسلمانوں کو سمجھانا پھر دوسرے موضوع کی آیات جمع کر کے وہ موضوع سمجھانا ایک مفید اور نافع خدمت ہے…یہ قرآن مجید کو ’’کاٹنا ‘‘ نہیں بلکہ مسلمانوں کو قرآن مجید سے ’’جوڑنا‘‘ ہے…

روشنی چمکی

آیات توبہ و استغفار جمع کرنے کا شوق تھا مگر زندگی بے ہنگم…بے ساحل و بے کنارا…ہمت کمزور اور وقت کی قلت…اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ایک روشنی کی کرن نظر آئی …ہوا یہ کہ ایک مجاہد نے بہت متاثر کیا…اس کی قربانی،جانثاری اور شوق شہادت نے دل پر بہت اثر ڈالا…وہ اپنی بات اور اپنی تشکیل منوا کر چلا گیا…اور جاتے جاتے میرے لئے قرآن مجید کا ایک خوبصورت نسخہ ہدیہ بھیج گیا…ایسا ہدیہ تو ویسے ہی ’’متبرک ‘‘ہوتا ہے…اور پھر اتنی بڑی قربانی پیش کرنے والے ’’مرد مومن‘‘ کا ہدیہ…

بس میں نے ارادہ کر لیا کہ ان شاء اللہ اسی ’’نسخہ مبارکہ‘‘ پر آیات استغفار جمع کرتا ہوں … اس شہید نے ایسی کوئی وصیت یا فرمائش نہیں کی تھی …اس نے بس خاموشی سے قرآن مجید بھیج دیا … معلوم نہیں اس نے کیا دعاء مانگی ہو گی…لاڈلوں کے تو اپنے ناز ہوتے ہیں اور اپنے انداز…فدائی مجاہدین کا دل چونکہ روشن ہوتا ہے  اس لئے وہ … ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں جن کو دوسرے مسلمان آسانی سے نہیں سمجھ سکتے …مثلاً کئی افراد بندہ سے عجیب وغریب فرمائشیں کرتے ہیں…کوئی لکھتا ہے کہ جب آپ کو میر اخط ملے تو فوراً کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کریں اور میرے لئے دعاء کریں …کوئی لکھتا ہے کہ آپ کو قسم ہے کہ آپ نے روز تہجد میں میرا نام لے کر میرے لئے یہ تین دعائیں مانگنی ہیں…کوئی اصرار کرتا ہے کہ…میری بیوی خرچہ زیادہ کرتی ہے آپ اس موضوع پر فوراً مکتوب جاری کریں…وغیرہ…حالانکہ ایسے افراد جن پر امت کے اجتماعی معاملات کی ذمہ داری ہو…ان سے ایسے مطالبات کرنا درست نہیں ہے…ایسے افراد کا وقت ضائع کرنا اجتماعی نقصان کرنا ہے…اور ایسے افراد کو راحت پہنچانا اجتماعی نیکی ہے…یہ پورا معاملہ قرآن مجید نے نہایت تفصیل سے سمجھایا ہے…مگر چونکہ اپنی بات چل پڑی ہے اس لئے فی الحال اس کو تفصیل سے عرض نہیں کیا جا سکتا…لوگوں کے مطالبات کی ایک جھلک تو آپ نے پڑھ لی مگر آج تک کسی فدائی مجاہد نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا…جو تکلیف دِہ یا وقت ضائع کرنے والا ہو…وہ ہمیشہ آسان، مفید،اجتماعی اور نفع مند فرمائشیں کر کے جاتے ہیں…اور ان کی فرمائشیں پوری کرنے سے دل خوش ہوتا ہے…

یہ شہید بہت قربانی والا تھا…اس نے خط میں لکھا کہ میں نے آپ کو کئی بار دیکھا ہے…مگر آپ نے مجھے نہیں دیکھا… اور میں آپ سے ملاقات کی سخت خواہش کے باوجود آپ سے اس کا مطالبہ نہیںکرتا…اور اپنی اس خواہش کو بھی اللہ کے لئے قربان کرتا ہوں…بس مجھے اجازت چاہیے…وہ چلا گیا…قرآن مجید کا نسخہ دے گیا …اور اس کے چند دن بعد میں نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ بیٹھ کر…دو طرفہ تلاوت کے دوران آیات توبہ و استغفار پر نشانات لگا دئیے … ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ کہ اس موضوع پر بھی سینکڑوں آیات مبارکہ موجود ہیں…عمومی تلاوت اور عمومی تفسیر کے دوران اس کا اندازہ اکثر نہیں ہو سکتا…آیات کی فہرست توقع سے بڑی تھی … اس لئے پھر ہمت جواب دے گئی…اور میں سفر و حضر میں قرآن مجید کا یہ نسخہ ساتھ لئے پھرتا رہا … باقی داستان ان شاء اللہ اگلے ہفتے…

مجموعہ مقبول استغفار

رنگ و نور کے گزشتہ دو کالموں میں…قرآن مجید کی بیان فرمودہ توبہ و استغفار والی دعائیں جمع کی گئیں تھیں…بعض اہل ذوق کی فرمائش تھی کہ ان دعاؤں کو ترجمہ اور تشریح کے بغیر اکٹھا چھاپ دیا جائے تاکہ …پڑھنے والوں کو آسانی ہو… چوبیس دعائیں تو وہی ہیں جو دو کالموں میں تھیں … جبکہ پچیسویں دعائ…حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کعبہ کے وقت کی دعاء ہے…یہ دعاء مفصل ہے…عام طور پر اس کے پہلے اور آخری حصے کو ملا کر…ایک دعاء بنا دیا جاتا ہے…

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیمْ ( البقرۃ ۱۲۷) …وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمْ ( البقرۃ ۱۲۸)

اور درمیانی حصہ کو ہٹا دیا جاتا ہے…چنانچہ اسی طریقہ پر اس دعاء کو بھی مجموعہ میں شامل کر کے القلم کے اس شمارہ میں یہ تحفہ بھی قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے…

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیمْ… وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمْ 

 لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor