Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ!! ( قسط ۲) (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 492 - Saadi kay Qalam Say - Ila Maghfiratin -2

اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ!! ( قسط ۲)

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 492)

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے…’’رجب‘‘ کا محترم اور معزز مہینہ شروع ہو گیا ہے…

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ

کسی مہینہ کے ’’محترم‘‘ اور معزز ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ…اس مہینہ میں نیکیوں کا وزن بڑھ جاتا ہے…اس لئے نیکیوں کو بڑھا دیا جائے …اور اس مہینہ میں گناہوں کا بوجھ اور وبال بھی بڑھ جاتا ہے…پس گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم نہ کیا جائے…جان بے چاری اتنا بوجھ کیسے اٹھائے گی…

 

فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ

اصل موضوع کی یاد دہانی

گذشتہ کالم سے ہماری مجلس کا جو موضوع چل رہا ہے…وہ یاد کر لیں…قرآن مجید کی آیات توبہ و استغفار جمع کرنے کا داعیہ تھا…ایک بڑی قربانی والے مرد مومن نے قرآن مجید کا سرخ غلاف والا ایک نسخہ ہدیہ کیا…اس نسخے پر تلاوت کے دوران ’’آیات مغفرت‘‘ کا ابتدائی کام ہو گیا … الحمد للہ تقریباً ڈھائی سو آیات پر نشانات لگا دئیے گئے…اب یہ خواہش اور کوشش تھی کہ ان آیات کی آسان اور مختصر تشریح لکھ دی جائے…یہ کام اگرچہ ’’ فتح الجواد‘‘ کے کام کی طرح مشکل نہیں تھا …وہ بہت علمی،احتیاط طلب اور تحقیقی کام تھا … اور بالکل نیا اور پیچیدہ…ویسے ’’فتح الجواد‘‘ کو عام نظروں سے پڑھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ…وہ بھی معمول کا کام ہے…آیت اور اس کا ترجمہ لکھ دیا…اور نیچے تفسیروں سے عبارتیں نقل کرتے چلے گئے…مگر ایسا نہیں ہے…کوئی صاحب علم جس کی عمر کے سالہا سال تفسیر کے مطالعہ اور تفسیر کی تعلیم و تدریس میں گزرے ہوں…وہ اگر ’’ فتح الجواد‘‘ کو دیکھے تو سمجھ سکتا ہے کہ…یہ کتنا مشکل کام تھا … ایک موضوع کی آیات لانا…ان آیات کا ایک رخ متعین کرنا…اس رخ کی تائید میں اسلاف کی شہادتیں جمع کرنا…اور پھر حال کو ماضی سے جوڑنا اور …فتنہ انکار جہاد کی ہر دلیل کو غیر محسوس طریقے سے توڑتے چلے جانا…بس اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ کام ہو گیا …وہ نہ میرے بس کی بات تھی اور نہ اس میں میرا واقعی کوئی کمال تھا…دور حاضر کے شہداء کرام کی قربانی پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ…جہاد اس قدر ناقابل تردید دلائل کے ساتھ چمکا…والحمد للہ رب العالمین…

مگر ’’آیات استغفار‘‘ کا کام آسان تھا … کوئی بھی مسلمان ’’استغفار‘‘ کا انکار نہیں کرتا … ہاں! اس بارے میں غفلت موجود ہے…انکار اور غفلت میں بڑا فرق ہے…غفلت دور کرنے کے لئے دلائل سے زیادہ…دعوت اور یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے…کام آسان تھا مگر پھر بھی ’’قرآن مجید‘‘ کا ہر کام…خاص آداب،خاص توجہ اور خاص وقت مانگتا ہے…پس اسی خاص توجہ اور خاص وقت کی تلاش میں دو تین سال گزر گئے …اور قرآن مجید کا سرخ غلاف والا نسخہ سفر و حضر میں میرے ساتھ رہا…

استغفار پر دوسری محنت

اس دوران فکر تو تھی کہ…یہ کام جلد ہو اور اپنی مغفرت کا کچھ سامان ہو جائے…چنانچہ استغفار اور توبہ کے موضوع پر…دیگر مواد جمع ہوتا رہا…ایک تو رنگ و نور کے بعض مضامین…دوسرا مکتوبات استغفار…تیسرا صیغ استغفار کی احادیث …چوتھا توبہ کے متعلق احادیث…پانچواں استغفار کی فضیلت پر احادیث… چھٹا استغفار کے بارے میں امام غزالیؒ کے علمی شہ پاروں کی تلخیص اور تسہیل…اور ساتواں استغفار اور توبہ کے درمیان تعلق اور فرق کی تحقیق وغیرہ…

الحمد للہ یہ سارا کام جمع ہوتا رہا…اس کی کتابت بھی ساتھ ساتھ چلتی رہی…پھر اس کی ترتیب بھی طے ہو گئی…ترتیب کے بعد بندہ نے اس  سارے مسودے کو دوبارہ پڑھا تو دل میں شوق بھڑک اٹھا…کتاب کا مسودہ اٹھا کر ایک دوردراز مسجد میں جا بیٹھا اور وہاں اللہ تعالیٰ سے وقت متعین اور مقید کرنے کا عہد باندھ لیا…

اور یوں الحمد للہ آیات پر کام شروع ہوا … اور ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں مکمل ہو گیا…

والحمد للّٰہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات

دلنشین خلاصہ

قرآن مجید کی آیات توبہ، آیات استغفار اور آیات مغفرت کو پڑھا جائے تو دل میں ایک عجیب سی روشنی چمکنے لگتی ہے…چند مضامین کا خلاصہ پیش خدمت ہے…

٭ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت کی طرف بلا رہے ہیں…آ جاؤ میرے بندو آ جاؤ، میں تمہیں معاف کروں، تمہیں بخش دوں

٭ جو اللہ تعالیٰ کا جتنا مقرب ہے وہ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی ’’مغفرت‘‘ اور ’’معافی‘‘ کا لالچی اور حریص ہے…اور وہ اللہ تعالیٰ سے بار بار مغفرت مانگ رہا ہے،استغفار کر رہا ہے…حالانکہ لگتا یوں ہے کہ ایسے لوگوں کو ’’استغفار‘‘ کی کیا ضرورت ؟؟ …وہ تو بخشے بخشائے لوگ ہیں…

٭ جو اللہ تعالیٰ سے جتنا دور ہے…جو جس قدر نفاق میں دفن ہے وہ اس قدر ’’استغفار‘‘ سے دور ہے…اس کے دل میں ہر چیز کی لالچ ہے…مگر ’’مغفرت‘‘ کی لالچ نہیں …حالانکہ ایسے لوگوں کو استغفار کی زیادہ ضرورت ہے…مگر وہ اپنے نفاق،اپنے گناہ اور اپنی حب دنیا پر مطمئن ہیں…اسی لئے نہ وہ معافی مانگتے ہیں اور نہ مغفرت…

٭ مسلمان کا ایسا کوئی بھی مسئلہ نہیں جو … استغفار سے حل نہ ہو سکتا ہو…ناممکن سے ناممکن کام…استغفار کی برکت سے ممکن ہو جاتا ہے … مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلنے کا واقعہ بطور دلیل موجود ہے…استغفار کی برکت سے شکست،فتح میں بدل جاتی ہے…استغفار کی برکت سے فتح پکی ہو جاتی ہے…استغفار کی برکت سے پانی، ہوا ،مٹی اور آگ کا نظام…انسان کے حق میں ٹھیک ہو جاتا ہے…خاندانی نظام درست ہو جاتا ہے… بانجھ پن دور ہو جاتا ہے…اقتصادی نظام بہترین ہو جاتا ہے…اور معاشرہ میں باہمی محبت، معافی، درگزر اور خدمت کا ماحول بن جاتا  ہے…

٭ مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت پانے کی لالچ ہو تو…اس کو دو متضاد فائدے ملتے ہیں…پہلا یہ کہ اس میں ’’تکبر‘‘ پیدا نہیں ہوتا وہ دل سے عاجز رہتا ہے اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے…اور دوسرا یہ کہ اس کی کمزوری دور ہو جاتی ہے اور وہ بہت طاقتور مومن بن جاتا ہے…

٭مجاہدین استغفار کریں تو ان کو قوت، ثابت قدمی اور فتح ملتی ہے…اور ان کا جہاد اور کام دور دور تک پھیل جاتا ہے…علماء استغفارکریں تو ان کے علم میں روشنی اور برکت آ جاتی ہے…اور ان کا علم خود ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نفع مند بن جاتا ہے…

٭کوئی گناہ ایسا نہیں جو …توبہ اور استغفار سے معاف نہ ہوتا ہو…شرط یہ کہ توبہ زندگی میں کرے…اور سچی توبہ کرے…جب عذاب کی علامات شروع ہو جائیں…موت کی سکرات شروع ہو جائے…یا جب موت آ جائے…تب توبہ قبول نہیں ہوتی…اس سے پہلے…ہر گناہ کی توبہ کا دروازہ کھلا ہے…اور سچی توبہ پر یہ بھی بشارت ہے کہ…گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا جاتا ہے…

٭ تم دیکھو گے کہ…لوگ مال،اولاد، عورتوں،مویشیوں،گھوڑوں،زیورات اور زمینوں کے حاصل کرنے میں…ایک دوسرے کو پیچھا دکھا رہے ہیں…ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے ہیں…ایسے وقت میں تم ان فانی چیزوں کو چھوڑو…اور اپنے رب کی مغفرت اور اپنے رب کی جنت پانے کے لئے…دوڑ لگا دو، محنت کرو، مقابلہ کرو اور ایک دوسرے سے سبقت کرو…

٭ کلمہ طیبہ کو دل میں بٹھا لو…اس کو پکا کرو…خود بھی پڑھو،اوروں تک بھی پہنچاؤ… استغفار خود بھی کرو…اس سے تمہارا کلمہ پکا اور مضبوط ہو گا…اور دوسرے ایمان والوں کے لئے بھی استغفار کرو…اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور استغفار کی طرف بلاؤ…

٭ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دنیا اور آخرت میں بچتا رہے گا…اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرے گا وہی ہر جگہ مرے گا…اللہ تعالیٰ کا خوف نعمت ہے…مگر ایسا خوف جس کے ساتھ امید بھی ہو…خوف اور امید دونوں کا مشترکہ اظہار…سچے استغفار میں ہوتا ہے…ایک طرف ڈر کہ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھ سے ظلم ہو گیا، میں نے یہ کیا کر دیا…میں تو ہلاکت کی طرف جا پڑا…یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ… ساتھ امید کہ معافی مل سکتی ہے…یا اللہ معاف فرما دے…بخش دے، مغفرت عطا فرما…پس جس کو یہ نصیب ہو گیا…اس کو ایمان کا بلند مقام مل گیا…

جو گناہ کر کے اللہ سے ڈرے ہی نہ…وہ سخت خطرے میں ہے…اور جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت سے مایوس ہو بیٹھے … وہ اس سے بھی زیادہ خطرے میں ہے…

٭ اسباب مغفرت کون کون سے ہیں؟ … مغفرت سے محرومی کے اسباب کون کون سے ہیں؟ …’’مغفرت‘‘ ایک مومن کے لئے سب سے بڑا انعام ہے…کس طرح؟

یہ سب کچھ قرآن مجید میں…موجود ہے … بس اتنا خلاصہ عرض کر دیا تاکہ خلاصہ …خلاصہ ہی رہے…

کتنی آسانی ہو گئی

توبہ،مغفرت اور استغفار کی جو آیات جمع کی ہیں وہ…ڈھائی سو سے کچھ زائد ہیں…ان آیات کی تفسیر میں…نہ تو لمبی چوڑی تقریر لکھی ہے اور نہ تفاسیر کے حوالے…بس چند سطروں میں اس آیت مبارکہ کا…توبہ،استغفار والا مضمون واضح کر دیا ہے…

اب عام پڑھا لکھا مسلمان…جو اردو پڑھ لیتا ہو…آسانی سے ان آیات کا مفہوم سمجھ سکتا ہے …اور تقریباً چار پانچ گھنٹے کے مطالعے یا تعلیم کے ذریعے…قرآن مجید کی تقریباً تمام آیات مغفرت کو پڑھ سکتا ہے…اور جو دین کے طالبعلم اور عربی سے واقف ہیں وہ ڈھائی تین گھنٹے میں ان تمام آیات کو پڑھ سکتے ہیں…ماشاء اللہ، لا قوۃ الا باللہ …دیکھیں کتنی آسانی ہو گئی کہ…اتنا اہم مضمون اور اس کی اتنی زیادہ آیات…چند گھنٹوں کی محنت سے سمجھی جا سکیں…آپ جانتے ہیں کہ…قرآن مجید بیماری بھی بتاتا ہے اور علاج بھی… ’’گناہ‘‘ بیماری ہے…اور’’ توبہ و استغفار‘‘ علاج اور شفاء ہے…علاج و شفاء کا مکمل نسخہ،مکمل نصاب، اور مکمل ترتیب…ان تمام آیات کو سمجھ کر پڑھنے سے ہمارے سامنے آ جائے گی ان شاء اللہ

الیٰ مغفرۃ

آیات توبہ اور آیات استغفار پر مشتمل اس کتاب کا نام…’’الیٰ مغفرۃ‘‘ رکھا ہے…یعنی مغفرت کی طرف…اس کتاب کے دو حصے ہیں …پہلے حصے میں قرآن مجید کی’’ آیات مغفرت ‘‘ …اور قرآن مجید کی استغفار والی دعائیں…جبکہ دوسرے حصے میں…استغفار اور توبہ کے موضوع پر احادیث مبارکہ…استغفار کے صیغے اور دعوت استغفار ہے…وہ بہت کچھ جو آپ ’’آیات‘‘ میں پڑھیں گے اس کی تشریح آپ کو دوسرے حصہ کی احادیث مبارکہ میں مل جائے گی…’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ نامی یہ کتاب تیاری کے مراحل میں ہے…اہل دل اس کی جلد اشاعت کے لئے دعاء فرما دیں…

شکریہ شہید بھائی!

قرآن مجید کا نسخہ دینے والے شہید بھائی کا شکریہ…ان کی قربانی کا گہرا تاثّر اور ان کے اخلاص کی گہری حرارت نے…خیال اور عزم کو تقویت دی…قرآن مجید کے نسخے ہدیہ میں آتے رہتے ہیں…سب ہی بہت محترم اور بہت مبارک ہوتے ہیں…اکثر کچھ تلاوت کر کے آگے بڑھا دیے جاتے ہیں…مگر یہ نسخہ کئی سال ساتھ رہا … اور الحمدللہ ایک ایسے کام کی بنیاد بن گیا جس کی مجھے خود سخت ضرورت تھی…دل چاہا کہ اس شہید کا نام اور اس کے حالات اور قربانی بھی لکھ دوں…مگر بہت سی وجوہات ایسی ہیں کہ نہیں لکھ سکتا…یہ بھی شہید کی کرامت اور اخلاص ہے کہ…یوں چھپ کر آپ سب سے محبت اور دعائیں پا رہا ہے … اے شہید بھائی! بہت شکریہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے…

دو دعائیں

کتاب کے اس تعارف کے موقع پر مسافر کا دل اپنے غفور اور مہربان رب سے دو دعائیں مانگ رہا ہے…

پہلی دعائ:یا اللہ مجھے اپنی مغفرت کی ایسی شدید لالچ عطا فرما کہ میں اس کتاب سے سوائے آپ کی مغفرت پانے کے…اور کسی بھی صلے کی کبھی بھی کوئی خواہش نہ رکھوں…یا اللہ! کتاب کی تیاری میںمعاونت کرنے والے اور پھر کتاب چھاپنے والے عزیز و احباب کو اپنی مغفرت کی ایسی شدید حرص عطاء فرما کہ وہ اس کتاب کی تیاری اور اشاعت میں دل اور جان لگا کر حد درجہ مثالی محنت کریں اور اسے ہر طرح سے عمدہ تیار کریں…یا اللہ ! اپنے بعض خوش نصیب بندوں کو اپنی مغفرت کی ایسی سخت لالچ عطاء فرما کہ…وہ اس کتاب کو خود بھی پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ تقسیم بھی کریں…یا اللہ! اس کتاب کے پڑھنے والے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی مغفرت کی ایسی شدید لالچ عطاء فرما کہ…وہ صبح و شام،رات دن آپ سے استغفار کریں یعنی آپ سے معافی اور مغفرت مانگیں…خصوصاً سحری کے وقت استغفار کو اپنا پختہ معمول بنائیں…

دوسری دعائ:یا اللہ جن جن کا تذکرہ پہلی دعاء میں ہوا…ان سب کو مغفرت کی لالچ ،مغفرت کا حرص اور مغفرت کی شدید خواہش دینے کے بعد…ان کی اس لالچ،حرص اور خواہش کو پورا بھی فرما دے…اور ان سب کو اپنی کامل مغفرت عطاء فرما دے…ایک بزرگ کا واقعہ پڑھا تھا…وہ کتے کو روٹی کھلا رہے تھے…اور یہ امید رکھ رہے تھے کہ…میں نے اس کے حرص اور لالچ کو پورا کیا ہے…

اللہ تعالیٰ تو مجھ سے زیادہ کریم اور سخی ہے…میں اگرچہ کتے سے بھی بدتر ہوں…مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کیا بعید کہ…مجھے معاف فرما دے اور میری لالچ پوری فرما دے اور میری لالچ ایک ہی ہے کہ…اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، مجھے اپنی مغفرت عطاء فرما دے…

سبحانک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک ونتوب الیک

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor