Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِس نعمت کی قدر کریں! (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 493 - Saadi kay Qalam Say - Iss naimat ki qadar kaerin

اِس نعمت کی قدر کریں!

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 493)

اللہ تعالیٰ ’’قلم‘‘ تحریر اور وقت میں اپنے فضل سے ’’برکت‘‘ عطاء فرمائے… آج چار باتیں عرض کرنی ہیں

(۱) ایک شکر،ایک خطرہ

شکر اس بات کا کہ ’’یمن‘‘ کے بحران کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں کے سامنے ’’ایران‘‘ کی اصلیت واضح ہو گئی ہے…مسلمانوں کے لئے ’’ اسرائیل‘‘ سے بڑا خطرہ ایران…برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کی صد سالہ محنت سے وجود پانے والا ایرانی انقلاب…ہاں! بے شک اسرائیل بھی بڑا خطرہ اور بڑا دشمن ہے…مگر وہ تو اپنے وجود کو بچانے کی فکر اور خوف میں رہتا ہے…نہ اس نے افغانستان میں عالمی سامراج کا ہاٹھ بٹایا…نہ اس نے عراق کی مسلم آبادی کا قتل عام کیا…نہ اس نے شام میں مسلمانوں کے خون سے دریا سرخ کیے … نہ اس نے یمن میں مسلمانوں کے گلے کاٹے… مگر ایران نے یہ سارے کام کر ڈالے … آپ صرف عراقی شہر تکریت میں…مسلمانوں کے بھیانک قتل عام کی لرزہ خیز داستان پڑھ لیں… آپ یقین نہیں کریں گے کہ…کیا کوئی انسان اس قدر درندگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟…

 

دولت اسلامیہ کے مظالم کی داستانیں اہل مغرب نے خود گھڑی اور اڑائی ہیں…مگر تکریت میں ایرانی پاسبان نے جس طرح سے چنگیز اور ہلاکو کو شرمندہ کیا ہے…اس کی رپورٹنگ کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ کے پاس دو منٹ اور دو سطریں بھی نہیں…کیونکہ ایران اس وقت اہل کفر کی ’’ڈارلنگ‘‘ ہے…بی بی سی لندن کے بارے میں اندھے بھی جانتے ہیںکہ…یہ یہودیوں کے فنڈ سے چلنے والا ایک اسلام مخالف مؤثر ادارہ ہے … بی بی سی کو نہ مولوی بھاتے ہیں اور نہ اسلامی حکومتیں …مگر ایران کے لئے اس کا انداز ہی الگ ہے … وہاں کے ملاّ بھی برداشت،وہاں کی سخت گیر مذہبی حکومت بھی قبول…وہاں کی جارحانہ سزائیں بھی برداشت اور پھر…یمن بحران پر ایران کی دل کھول کر حمایت…جی ہاں! دجّال کا میدان تیار ہو رہا ہے …  دجّال کا میدان ،ایران ہی ایران …اور اب اس عفریت کا پنجہ تہران سے بیروت تک پھیل چکا ہے…مگر آگے کے خواب کچھ کڑوے ہیں…یمن کے بعد سعودیہ ضرور ہے …مگر مکہ،مدینہ پر پہرہ ہے…بہت مضبوط پہرہ …وہاں دجال داخل نہیں ہو سکتا…ہاں! مسلمانو !ایران خطرہ ہے…ایران ہی اس خطے میں اسرائیل…اور تمام اہل کفر کا محافظ ہے…مگر شکر ہے…اللہ تعالیٰ کا شکر کہ اب ’’تقیہ‘‘ کے پردہ میں چھپا یہ دشمن…بے نقاب ہو رہا ہے…اگر اس نے اپنے قدم حرمین یا پاکستان کی طرف بڑھائے تو بے آبرو بھی بہت ہو گا ان شاء اللہ

(۲) زلزلوں،طوفانوں، شیطانوں کا حملہ

اگر آپ نے روئے زمین کی تاریخ پڑھی ہو تو …آپ جانتے ہوں گے کہ…کبھی کبھار ایسا موسم آتا ہے کہ زمین پر زلزلوں،طوفانوں…اور شیطانوں کے حملے بڑھ جاتے ہیں…

آج کل کچھ ایسے ہی حالات نظر آ رہے ہیں …دنیا کی بلند ترین چوٹی ’’ایورسٹ‘‘زلزلے سے لرزی ہے…اور ہزاروں میل تک زمین اندر سے کانپ اٹھی ہے…نیپال ٹوٹا پڑا ہے جبکہ…جگہ جگہ آسمان گرج رہا ہے…اور زمین پر بجلی اور پانی گرا رہا ہے…

ایسے وقت ’’عذاب الہٰی‘‘ سے حفاظت کی دعاء اور تدبیر کرنی چاہیے…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکْ

عذاب الہٰی سے بچنے کا ایک بڑا نسخہ جو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے…وہ ہے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘… جہاد میں نکل آؤ… عذاب سے بچ جاؤ …جہاں بھی شرعی جہاد کا محاذ ملے اس کی طرف نکل پڑو…عذابوں کا رخ تم سے ہٹ جائے گا …جہاد میں جان لگاؤ…جہاد میں مال لگاؤ … جہاد میں زبان لگاؤ…جنگ،تربیت،تجہیز، معاونت اور دعوت…اور پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمت ہی رحمت…

اور عذاب سے بچنے کا دوسرا بڑا نسخہ ’’استغفار‘‘ ہے…ایک مسلمان کے لئے استغفار کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں…استغفار اس امت کی امان ہے اور استغفار ’’محافظ ایمان‘‘ ہے…اہل دل کے نزدیک ’’رجب‘‘ کے مہینے میں زیادہ استغفار بہت مفید ہے …گناہوں سے پاکی ملے گی تو ان شاء اللہ ہر مسئلہ حل ہو گا اور عذاب سے حفاظت رہے گی … زلزلوں،طوفانوں اور شیطانوں کے ان حملوں سے بچنے کے لئے استغفار بڑھا دیجئے…اپنے محبوب رب سے معافی مانتے جائیے اور اس کا قرب پاتے جائیے … استغفار کے وقت اللہ تعالیٰ کے خوف سے نکلنے والے آنسو کا قطرہ اتنا طاقتور ہے کہ … جہنم کی آگ کو بجھا دیتا ہے … دنیا کے طوفان اس کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں…

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ

جب بارش اور طوفان آئے تو…جہاد کی نیت کریں،جہاد میں مال لگائیں…اور استغفار و نماز میںمشغول ہو جائیں…آسمانی بجلی سے حفاظت کی دعاء آپ کو یاد ہو گی…

سُبْحَانَ الَّذِی یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہِ وَالْمَلَائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہ

اور دوسری دعائ:

اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَالِکَ

(۳) خدمت و حفاظت قرآن کا مقام

گذشتہ کل تاریخ کی مایہ ناز کتاب … ’’البدایہ والنہایہ‘‘ کی دسویں جلد کے ساتھ کچھ وقت گزارنا نصیب ہوا…یہ امام ابن کثیر الدمشقیؒ کی جامع تصنیف ہے اور اہل علم کے ہاں معتبر ہے … بات اس میں امت مسلمہ کے ایک جلیل القدر امام …حضرت امام احمد بن حنبلؒ کی چل نکلی…ان کے فضائل،حالات،وفات اور مناقب لکھنے کے بعد علامہ ابن کثیرؒ نے…امام صاحبؒ کے بارے میں دیکھے گئے خوابوں کا تذکرہ چھیڑا ہے…پہلے تو یہ ثبوت پیش کیا کہ سچے خواب معتبر ہوتے ہیں … اور یہ ایک مومن کے لئے…بشارت اور رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں…

اس پر صحیح احادیث بیان فرمائیں…اور آگے حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے بارے میں دیکھے گئے ’’مبشِّرات ‘‘ نقل فرمائے…ایک بزرگ امام احمد بن حنبلؒ کے پاس آئے جب تعارف ہو گیا تو انہوں نے بتایا کہ…میںنے آپ سے ملنے کے لئے چار سو فرسخ کا سفر کاٹا ہے …مجھے حضرت خضر علیہ السلام نے خواب میں حکم فرمایا کہ آپ کے پاس جاؤں اور آپ کو بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عرش کے ملائکہ سب آپ سے خوش ہیں…اسی طرح ایک اور خواب کا تذکرہ ہے کہ امام صاحب جنت میں چل رہے ہیں…اور بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے…میری تاج پوشی فرمائی ہے…مجھے سونے کے دو جوتے دئیے ہیں اور فرمایا ہے کہ…تم نے جو یہ کہا تھا کہ … قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے…یہ سب اس کا بدلہ ہے … امام صاحبؒ کے زمانہ میں ایک فتنہ اٹھا تھا …اور وقت کے حکمران اس فتنہ کے محافظ تھے … یہ فتنہ قرآن مجید کے خلاف تھا کہ …نعوذ باللہ قرآن مجید ’’مخلوق‘‘ ہے…حضرت امام صاحبؒ اس فتنہ کے خلاف ڈٹ گئے…اس پر انہیں مارا گیا،قید میں ڈالا گیا…پابندیاں لگائیں گئیں…اور کوڑوں سے پیٹا گیا…مگر آپ ڈٹے رہے اور بالآخر آپ کی استقامت نے اس فتنہ کی کمر توڑ دی …وہ پہلے کمزور ہوا اور پھر الحمد للہ بالکل ختم ہو گیا …امام صاحبؒ کی اس محنت کا حتمی نتیجہ تو ان کی وفات کے بعد آہستہ آہستہ ظاہر ہوا…مگر امام صاحبؒ کی محنت اور استقامت…اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مقام کے ساتھ قبول ہوئی…ہمارے زمانے میں … قرآن مجید کی آیات جہاد کے انکار کا فتنہ سرگرم ہے …حکمران اس فتنہ کے محافظ ہیں …اور یہ فتنہ بھی…خلق قرآن کے فتنہ کی طرح زمانے کی دانشوری سمجھا جاتا ہے…اس فتنہ کے علمبردار مختلف طبقے ہیں…کوئی کھلے انکار پر ہے تو کوئی تحریف کے راستے سے انکار تک آتا ہے … مقصد اور نتیجہ سب کے نزدیک ایک ہی نکلتا ہے کہ …ان آیات کا نعوذباللہ اس زمانہ میں تلاوت کے علاوہ اور کوئی مصرف نہیں ہے…اور مسلمانوں کو ان پر عمل کا تصور ہی چھوڑ دینا چاہیے…یہ فتنہ پہلے بہت طاقتور تھا اور منہ زور بیل کی طرح کسی کے قابو میں نہ آتا تھا…مگر اب الحمد للہ اس میں کمزوری آ رہی ہے…مگر آج بھی یہ فتنہ زندہ ہے…اور اسے زندہ رکھنے اور طاقتور بنانے کے لئے … اداروں کے ادارے اور ملکوں کے ملک محنت کر رہے ہیں …ایسے حالات میں چند دن بعد دیوانے آپ کے دروازے پر آئیں گے کہ…اے مسلمانو! چلو سات دن قرآن مجید کی آیات جہاد کی تفسیر پڑھ لو …آؤ ان آیات کی تفسیر پڑھو جن کی تفسیر کو مٹایا جا رہا ہے،چھپایا جا رہا ہے…آؤ اپنے رب کی کتاب کی اس خدمت میں اپنا حصہ ڈالو…آؤ اپنے رب کی کتاب کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالو…اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے…پھر وہ جن افراد کو اس کتاب کی حفاظت کی خدمت پر کھڑا فرماتا ہے…ان کو امام احمد بن حنبلؒ کی طرح اپنی مغفرت اور محبت سے مالا مال فرما دیتا ہے…

آج ہر ٹی وی چینل…ان آیات کے خلاف زہر اگل رہا ہے…آج ہر مغرب زدہ کالم نویس ان آیات کے مفہوم و معنٰی کا انکار لکھ رہا ہے…آج غیر ملکی سفارتخانوں سے…ماہانہ کروڑوں ڈالر کا فنڈ ان آیات کو مٹانے کے لئے جاری ہوتا ہے … آج قلم کاروں اور نام نہاد اہل تحقیق کے کئی جتھے …غامدی اور وحید الدین جیسے ملحدین کی قیادت میں ان آیات کے خلاف…اپنا پسینہ بہا رہے ہیں…

ان حالات میں اٹھو اور آؤ…ہم سب مل کر ان آیات کی تلاوت کریں…ان آیات کا ترجمہ پڑھیں…ان آیات کی تفسیر پڑھیں…ان آیات کی خوشبو سونگھیں اور اپنے دل و جان معطر کریں…

آؤ! ان آیات کے سائے میں شہداء بدر و احد سے ملاقات کریں…آؤ!ان آیات کی روشنی میں …اپنے محبوب نبی ﷺ کی بطور سپہ سالار زیارت کریں…آؤ! ان آیات کی روشنی میں عزت، عظمت اور آزادی و شہادت کا راستہ ڈھونڈیں … اور اعلان کر دیں…یا اللہ! ہم آپ کی کتاب پر ایمان لائے ہیں…ہم اس کتاب کی ایک ایک آیت …اور ایک ایک حکم کومانتے ہیں…ارے کیسے خوش نصیب ہیں وہ افراد…جو چند دن بعد ان مبارک آیات کا دورہ پڑھائیں گے…خود بھی چمکیں گے، سننے والوں کو بھی چمکائیں گے…خود بھی روئیں گے اور سننے والوں کو بھی رلائیں گے …اور مسلمانوں کو سمجھائیں گے کہ دین وہی ہے جو آقا ﷺ دے گئے…جہاد وہی ہے جو آقا ﷺ دے گئے…سبحان اللہ! خدمت قرآن،حفاظت قرآن اور دعوت قرآن کی یہ پر نور محفلیں…بس سجا ہی چاہتی ہیں…

بھائیو! ان محفلوں کے لئے محنت کرو…ان میں شرکت کرو…اور ان کی روشنی کا دائرہ وسیع کرو …ہاں سچ کہتا ہوں! اس نعمت کی قدر کرو…

(۴)مفید اور مبارک ذرات

چوتھی بات کے لئے جگہ کم رہ گئی…مختصر عرض ہے کہ کھانا اور رزق ضائع نہ کریں…پلیٹ اور برتن سنت کے مطابق صاف کریں…اجتماعی کھانا تو ہرگز ضائع نہ ہو…کھانے کے دوران جو ذرات اور لقمے دسترخوان پر گر جاتے ہیں…انکو چن کر کھا لیں…یہ ہمارے محبوب آقا ﷺ کی سنت ہے …دراصل شیطان ہمارے کھانے میں سے مفید اور برکت والے ذرات کو نیچے گراتا رہتا ہے … کیونکہ وہ دشمن ہے وہ نہیں چاہتاکہ ہم صحت و برکت حاصل کریں … اس لئے ہم اپنے محبوب کی سنت کے مطابق وہ مفید اور بابرکت ذرات چن کر شکر کے ساتھ کھا لیا کریں…چند دن اہتمام کریں تو فائدہ اور برکت اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے ان شاء اللہ

لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor