Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدارس اور رَجب (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 494 - Saadi kay Qalam Say - Madaris aur Rajab

مدارس اور رَجب

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 494)

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ’’دین‘‘ کا لازمی اور ضروری ’’علم‘‘ عطاء فرمائے

رجب اور مدارس

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے،ہمارے ملک میں خالص دینی تعلیم کے ادارے موجود ہیں…ان اداروں کو ’’مدارس‘‘ کہا جاتا ہے…مدارس یعنی درس کے مقامات…پہلے کئی صدیوں تک مسلمانوں کے دینی مدارس ’’مساجد‘‘ میں آباد رہے…ان کی الگ عمارت نہیں ہوتی تھی…ہر مسجد میں ’’مدرسہ‘‘ لازمی تھا…پھر آبادی بڑھی،افراد زیادہ ہوئے تو مساجد کے پڑوس میں ’’مدارس‘‘ کی الگ عمارتیں بننے لگیں اور یہ مبارک سلسلہ آج تک جاری ہے …خالص دینی تعلیم کے مدارس پاکستان ، ہندوستان،بنگلہ دیش…امریکہ ،یورپ اور کئی افریقی ممالک میں موجود ہیں…اب کئی سالوں سے عرب ممالک میں بھی قائم ہو رہے ہیں … ورنہ وہاں حکومت کی زیر نگرانی دینی و عصری تعلیم کے مخلوط ادارے تھے…اور عرب شیوخ اور طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے شام ،عراق،ہند اور پاکستان کے مشائخ سے استفادہ کرتے تھے اور سند حدیث حاصل کرتے تھے…

 

ویسے وہاں بھی نجی طور پر اہل علم کے مدرسے ان کی ذات اور ان کے گھروں میں ہمیشہ قائم رہے ہیں…مدارس کو ’’دارالعلوم‘‘ بھی کہا جاتا ہے… اب ’’جامعہ‘‘ کا لفظ زیادہ چل نکلا ہے…کچھ عرصہ سے ’’معہد‘‘ یا ’’المعہد‘‘ کا لفظ بھی عام ہو رہا ہے …یہ عربی میں ’’سکول ‘‘ کا ہم معنی لفظ ہے…ان مدارس کا تعلیمی سال رمضان المبارک کے بعد ’’ شوال‘‘ کے مہینہ میں شروع ہوتا ہے…اور اختتام رجب کے آخر یا شعبان کے شروع میں ہوتا ہے …رجب کے مہینے میں مدارس کا ماحول بہت عجیب روح پرور بن جاتا ہے…طلبہ اپنے سالانہ امتحانات کی تیاری میں رات دن ایک کرتے ہیں …رات کے دو بجے بھی یہ مدارس اور ان سے ملحقہ مساجد کا ماحول جاگ رہا ہوتا ہے…علمی مذاکرے اور تکرار کی آوازیں گونجتی ہیں…کچھ طلبہ پریشان ہوتے ہیں کہ امتحان میں کیا ہو گا؟ کچھ پرسکون ہوتے ہیں کہ جیسا تیسا گزر ہی جائے گا کم از کم ’’راسب‘‘ یعنی فیل ہونے کا خطرہ نہیں…کچھ طلبہ مقابلہ کی کیفیت میں ہوتے ہیں کہ اچھی پوزیشن حاصل کریں…اور بعض طلبہ ان دنوں میں باقاعدہ توجہ سے دعاء بھی مانگتے ہیں …ورنہ پورا سال وہ دعاء سے دور رہتے ہیں…

لائق اور ذہین طلبہ کے گرد ان دنوں مجمع رہتا ہے…وہ خود بھی پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں…ذکر اور عبادت کے شوقین طلبہ ان دنوں اپنے معمولات کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں …مگر دینی تعلیم میں مشغول ہونا خود ایک اہم عبادت ہے…تو وہ تجدید نیت کے ذریعہ عبادت کا ذوق پورا کرتے رہتے ہیں…ہمارے حضرت شیخ مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی نور اللہ مرقدہ … امتحانات میں اچھی کامیابی کا وظیفہ ارشاد فرماتے تھے کہ ’’سورۃ ابراہیم‘‘ پڑھ لی جائے…تعلیم کے آخری سالوں میں الحمد للہ اس کا معمول رہا کہ صبح  امتحان گاہ جانے سے پہلے پڑھ لیتے تھے…الحمد للہ بہت فائدہ ہوا…اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیشہ اچھی کامیابی اور درجہ ممتاز عطاء فرمایا…اللہ تعالیٰ آخرت کے امتحان میں بھی کامیابی عطاء فرمائے…

دینی تعلیم کے درجے

دنیا فانی ہے اور اس کی تعلیم بھی عارضی نفع ہے …جبکہ دینی تعلیم کا نفع دائمی ہے…شرط یہ ہے کہ دینی تعلیم سے ’’دین‘‘ حاصل ہو جائے…دینی تعلیم کا ایک حصہ تو وہ ہے جو ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے فرض عین ہے …افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اکثر مسلمان دینی تعلیم کے اس’’فرض‘‘ حصے کو بھی حاصل نہیں کرتے … یوں وہ دین سے ’’جاہل‘‘ رہ جاتے ہیں…نہ ان کو فرائض ادا کرنے کا طریقہ آتا ہے اور نہ وہ حلال و حرام کے درمیان فرق کر سکتے ہیں…نہ ان کی زبان کلمات کفر سے محفوظ رہتی ہے اور نہ ان کو نکاح اور طلاق کا پتا چلتا ہے … یہ لوگ بظاہر بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لگتے ہیں …کوئی وزیر،کوئی لیڈر، کوئی بیوروکریٹ،کوئی سفارت کار، کوئی سائنسدان ،کوئی ڈاکٹر …اور کوئی انجینئر…مگر یہ بے چارے ’’غسل‘‘ تک کا طریقہ نہیں جانتے اور ناپاکی میں زندگی گذارتے ہیں …ان کے گھروں میں ’’قرآن عظیم الشان‘‘ کے نسخے موجود ہوتے ہیں مگر محرومی کی حد دیکھیں کہ وہ قرآن پاک کی ایک سطر بھی درست نہیں پڑھ سکتے …کیا کیمبرج کی ڈگریاں … اور کیا آکسفورڈ کی سندیں…یہ سب مل کر قرآن مجید کی ایک سطر کے علم کے برابر نہیں ہیں…

دینی تعلیم کا دوسرا درجہ وہ ہے جو ’’فرض کفایہ‘‘ ہے…کہ بعض مسلمان اسے حاصل کر لیں اور وہ باقی مسلمانوں کی رہنمائی کرتے رہیں…دینی مدارس کا جو نصاب ہے وہ اسی ’’فرض کفایہ‘‘ تعلیم پر مشتمل ہے… آج کل مسلمانوں کا رجوع عصری تعلیم کی طرف زیادہ ہے … اور مدارس کی طرف آنے والے طلبہ ان کے مقابلہ میں کافی کم ہیں … اس لئے فرض کفایہ بھی پورا نہیں ہو رہا… اور جو خوش نصیب طلبہ دینی مدارس کی طرف آ جاتے ہیں …ان کو بھی بہت سے لوگ واپس سکولوں کالجوں کی طرف گھسیٹ کر لے جاتے ہیں کہ … معاشرہ میں ان کچھ مقام ہو…یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے …دین اور دینی علم سے بڑھ کر اور کیا ’’عزت ‘‘ ہو سکتی ہے؟ …بہرحال دینی مدارس اس امت کا فرض ادا کر رہے ہیں…یہ زمین پر وحی الہٰی کی تعلیم و تبلیغ کے اسٹیشن ہیں…ان مدارس سے محبت رکھنا …ان کی حتی الوسع خدمت کرنا … ان کی آبادی میں محنت کرنا اور ان کی قدر کرنا…یہ سب ایمان کے تقاضے ہیں…

آج ہر مسلمان کوشش کرے کہ…کم از کم ایک بچہ…اپنا ہو تو بڑی خوش نصیبی ورنہ کسی اور کا …وہ اسے ضرور مدرسہ میں بھیجے گا…اس کے والدین کو دعوت دے کر…یا مالی تعاون کے ذریعہ …یا کسی بھی طرح…

ایک اچھا رجحان

الحمد للہ تحریک جہاد کے طاقتور ہونے سے … اسلام اور مسلمانوں کو عالمی طور پر جو عزت اور حیثیت ملی…اس کے نتیجہ میں بے شمار غیر مسلم افراد نے اسلام قبول کیا…اور الحمد للہ یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے…دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان جو عصری تعلیم حاصل کر چکے تھے…یا کر رہے تھے…ان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا…ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ ہم نے جو کچھ پڑھا ہے یہ تو زیادہ سے زیادہ…موت کے جھٹکے تک کام آنے کا ہے…مگر اس کے بعد آگے کیا ہو گا؟…قبر، حشر، پل صراط، میزان … حساب و کتاب یہ سب کچھ بالکل برحق ہے اور یقینی ہے…ہمیں ان یقینی اور بڑے مراحل کی تیاری کے لئے دینی علوم حاصل کرنے چاہئیں…آگے کے اندھیروں سے بچنے کے لئے قرآن کی روشنی ساتھ لینی چاہیے…آگے کا راستہ سمجھنے کے لئے سنت کا رہنما آلہ ساتھ لینا چاہیے …اس رجحان کے تحت بہت سے دنیا دار مسلمانوں نے مدارس و مساجد کا رخ کیا…مدارس نے بھی انہیں خوش آمدید کہا…کئی آسان اور مفید نصاب مرتب ہوئے…الحمد للہ ہماری جماعت نے دورہ اساسیہ اور دورہ خیر کے ذریعہ اس خیر میں اپنا حصہ شامل کیا اور ہزاروں مسلمانوں کو دین کی لازمی اور بنیادی تعلیم دی… وہ افراد جو کلمہ درست نہیں پڑھ سکتے تھے…وہ ان مختصر دوروں کی برکت سے نماز کی امامت کرانے کے قابل ہوئے…یادرکھیں درست اذان دینا اور امامت کرانا …یہ اتنا بڑا اعزازہے کہ…اس کی عظمت کو اگر سر اُٹھا کر دیکھیں تو ٹوپی گر جائے…والحمد للہ رب العالمین

ایک برا رُجحان

پاکستان میں ’’فتنہ پرویز مشرف‘‘ کے آنے کے بعد دینی مدارس کو جدید اور مولوی صاحب کو ’’لیپ ٹاپ‘‘ بنانے کا پروگرام ریاستی جبر کے ساتھ شروع ہوا…پرویز چلا گیا مگر بعد کی حکومتیں بھی اسی کی پالیسی پر گامزن رہیں…

الحمد للہ اکثر مدارس اور اہل مدارس ڈٹ گئے …ان کی استقامت پر اللہ تعالیٰ کی موعود نصرت اتری اور فتنہ ٹھنڈا اور کمزور پڑ گیا …مگر کچھ لوگ اپنی بد نصیبی سے پھسل گئے…شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ ’’جدت پسندی‘‘ اختیار کرنے میں دین کا تحفظ ہے،مدارس کا تحفظ ہے وغیرہ وغیرہ…

حالانکہ جو لوگ مدارس کی تاریخ جانتے ہیں…ان کے علم میں ہے کہ مدارس کا تحفظ کسی فرد،پارٹی یا پالیسی کا مرہون منت نہیں ہے…مدارس الحمد للہ صدیوں سے قائم ہیں…داڑھی اور پگڑی بھی ہمیشہ الحمد للہ اہل استقامت کے ہاں محفوظ رہی ہے …بڑے بڑے فتنے آتے ہیں مگر اہل استقامت کے سامنے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں … پرویز مشرف کا فتنہ جب عروج پر تھا اور اس کے منہ سے ہر دوسرا جملہ مدارس اور جہاد کے خلاف نکل رہا تھا…انہی دنوں ایک بڑے بزرگ عالم دین سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا…بات مدارس کے تحفظ کی چل نکلی تو انہوں نے مسکرا کر قلندرانہ انداز میں فرمایا … مولانا ! کچھ بھی نہیں ہو گا کچھ بھی نہیں …یہ خود ختم ہو جائے گا،مدارس اسی طرح قائم رہیں گے ان شاء اللہ، آپ نوجوان ہیں، ایوب کا زمانہ آپ نے نہیں دیکھا ہو گا…وہ مدارس کے خلاف اس سے بھی زیادہ سخت دھمکیاں اٹھاتا تھا …بالآخر اپنے کانوں سے اپنے خلاف گالیاں سن کر الٹا جا گرا…مدارس کا اصل تحفظ یہ ہے کہ اپنی بنیاد پر قائم رہیں…اور دینی تعلیم کی عزت و عظمت کا پاس رکھیں… بہرحال سیلاب آتا ہے تو بہت کچھ بہا کر لے جاتا ہے…پرویزی فتنہ آیا تو یہ برا رجحان پڑ گیا کہ … دینی تعلیم حاصل کرنے والے کئی افراد …عصری تعلیم کی طرف بھی جانے لگے … میٹرک ،ایف اے،بی اے،ایم فل اور ایم اے کے امتحانات دینے کا رجحان بڑھ گیا… مسلمان اگر دین کے علاوہ کسی اور چیز…میں عزت دیکھے تو اسے ضرور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے …چنانچہ ایسے افراد پر بھی ذلت آئی کہ دینی تعلیم کے رنگ، حلاوت اور مزاج سے محروم ہوئے…کئی ایک نماز تک سے دور ہو گئے…کئی ٹی وی چینلوں کے بے حیا ماحول میں جا پھنسے…بعض نے دینی اور عصری مخلوط تعلیم کے ادارے بنا کر شرعی حدود کی پاسداری نہ کرتے ہوئے …اور عصری تعلیم کو دینی تعلیم کے اوپررکھتے ہوئے پردہ،تقویٰ اور اپنے دین کا جنازہ نکال دیا …اور کئی ایک مستقل طور پر بری سیاست میں غرق ہو گئے…

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

انہوں نے چٹائی پر بیٹھ کر قرآن مجید پڑھانے کو نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ حقیر سمجھا تو خود ایسے حقیر ہوئے کہ…دفتروں میں نوکریوں کے لئے دھکے کھاتے پھرے اور اذان کی آواز پر مسجد جانے سے ان کے قدم بھاری ہو گئے…

یہی وقت جو وہ عصری تعلیم کے امتحانات کی تیاری میں گزارتے ہیں…قرآن مجید سیکھنے ،سمجھنے اور سکھانے پر لگا دیتے تو کتنا عظیم خزانہ پا لیتے … علماء کے لئے عصری تعلیم ممنوع نہیں ہے مگر اس کے لئے بہت سی شرائط ہیں…ان شرائط کو پورا کئے بغیر قرآن مجید پر سائنس کی کتاب اور حدیث شریف پر کیمسٹری کی گائیڈ رکھ دینا…خطرہ ہے،نقصان ہے …بہت عظیم نقصان…اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں دین اور دینی علوم کی وہ عزت عطاء فرمائے جو ہر مسلمان کے دل میں ہونا اس کے ایمان کے لئے لازمی ہے…

طلبہ کی چھٹیاں

قرآن مجید میں …دینی علوم کے طلبہ کی اپنے وطن واپسی کا تذکرہ موجود ہے…کہ وہ واپس جا کر اپنی قوم،قبیلے کو، خاندان کو…اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں…ان کو دین سکھائیں اور ان کی دینی رہنمائی کریں…کیا دینی مدارس کے طلبہ چھٹیوں میں گھر جا کر یہی کام کرتے ہیں…جی ہاں بعض طلبہ ضرور کرتے ہوں گے…قرآن مجید کے ہر حکم پر عمل کرنے والے افراد ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں…مگر اکثر طلبہ ایسا نہیں کرتے…بلکہ اپنے اعمال اور فرائض میں بھی مکمل طور پر مستعد نہیں رہتے…

ان سے گزارش ہے کہ …چھٹیوں کو قیمتی بنائیں…اہم ترین کام جہاد کی تربیت ہے… اسی طرح حافظ طلبہ قرآن مجید یاد کریں…آیات جہاد کا دورہ تفسیر…یا پورے قرآن مجید کا دورہ تفسیر پڑھیں…دعوت جہاد کا کام کریں…جماعت کا نصاب ماشاء اللہ دین کا جامع ہے…بس آج ہی نیت کر لیں کہ…چھٹیوں میں غفلت سے توبہ … اور کام کا عزم…دین کا کام…اللہ تعالیٰ کا کام …اور ہمیشہ کام آنے والا کام…ان شاء اللہ

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor