Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحُزْنِ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 495 - Saadi kay Qalam Say - Allahumma inni ayuzubika min al hamme wal huzan

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحُزْنِ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 495)

اللہ تعالیٰ کے ’’لشکر ‘‘ بے شمار ہیں…اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک بہت طاقتور لشکر کا نام ہے ’’اَلْھَمّ ‘‘…یعنی فکر،پریشانی،سخت اُلجھن… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتے ہیں اِس لشکر کو مسلّط فرما دیتے ہیں…

آئیے! دعاء مانگ لیں…جو حضرت آقا مدنی ﷺ نے سکھائی ہے…

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ

یا اللہ ! اپنی حفاظت اور پناہ دے دیجئے پریشانی اور صدمے  سے…

 

اُن دونوں کو سلام

آج کی مجلس کا اصل موضوع…فکر اور پریشانی کا علاج ہے…مجھے معلوم نہیں کہ آپ میں سے کون کون ’’پریشانی‘‘ کا شکار ہے؟ اور آپ کو علم نہیں کہ میں پریشان ہوں یا نہیں؟…بس آپس میں مل کر اس بھاری اور خطرناک بیماری کا علاج ڈھونڈتے ہیں…

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم سب الحمد للہ مسلمان ہیں…اور دنیا میں صرف ایک ’’دواخانہ‘‘ اور ہسپتال ایسا ہے جہاں ہر بیماری کی دواء اور علاج موجود ہے…وہ ہے ’’اسلام کا دواخانہ‘‘…جی ہاں! اسلام کے پاس ہر مرض کا علاج اور ہر بیماری کی دواء دستیاب ہے جبکہ باقی سب…صرف بیماریاں بیچ رہے ہیں صرف بیماریاں… ایڈز، کینسر،غم،فکر، خود کشی،بے حیائی، ہالی وڈ،بالی وڈ… فیشن،سود، حرص، لالچ، جھوٹ … عیاشی، فحاشی، بدمعاشی…کمیونزم، سیکولر ازم، سرمایہ داری،مغربی جمہوریت…اور نفس پرستی … بے شمار بیماریاں…

آج کا اصل موضوع چھیڑنے سے پہلے… دو گمنام شہداء کو سلام کر لیں…اس فکر بھری دنیا میں جن دو نوجوانوں کو…صرف ایک ہی فکر تھی کہ حضرت آقا مدنی ﷺ کے گستاخوں کا ایک جلسہ ہو رہا ہے…اس ناپاک جلسہ پر لعنت برس رہی ہے …اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی بھی حضرت آقا مدنی ﷺ کے ناموس کے لئے نہ اُٹھا تو… زمین و آسمان بھی شرمندہ ہوں گے اور لعنت کا وبال ہر طرف پھیل جائے گا…یہ دونوں نوجوان…نہ شادی کی فکر میں تھے نہ مال بنانے کی…

وہ ایسی تمام فکروں اور پریشانیوں سے آزاد تھے جن فکروں میں آج کے اکثر مسلمان دن رات روتے ہیں…انہوں نے بس ایک فکر کو اپنایا کہ حضرت آقا مدنی ﷺ کی حرمت اور ناموس کے لئے…جان دینی ہے…اور ناپاک و نجس کارٹون سازوں کو مارنا، ڈرانا اور بھگانا ہے…ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر عزم کیا…اور نکل پڑے…امریکہ جیسے ملک میں وہ ہر سیکورٹی رکاوٹ کو روندتے ہوئے…جلسہ گاہ تک جا پہنچے اور وہاں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرما گئے …اس لڑائی کے دوران ناپاک کارٹون ساز چوہوں کی طرح کانپتے رہے… ان کا جلسہ اور مقابلہ درہم برہم ہوگیا… وہ مار کھائے ہوئے گدھوں کی طرح وہاں سے بھاگ گئے…اور زمین و آسمان اور ساری مخلوقات میں درود و سلام کا شور برپا ہو گیا…

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدْ،اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدْ،اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدْ

رجب کے مہینے میں …عشقِ رسول ﷺ کی معراج پانے والے دونوں شہدائِ کرام کو دل کی گہرائی سے …عقیدت بھرا سلام

تین سخت لہریں

انسان کے دل پر جو تکلیف دِہ لہریں حملہ آور ہوتی ہیں…وہ تین طرح کی ہیں…

(۱) اَلْحُزْن

(۲) اَلْغَمّ

(۳) اَلْھَمّ

اگر ماضی میں گزرے ہوئے زمانہ کی کوئی تکلیف…کڑوی یاد بن کر دل پر حملہ آور ہو تو اسے عربی میں ’’حُزْن‘‘ کہتے ہیں…یعنی صدمہ … اردو میں غم بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے…

اور زمانہ حال کی کوئی تکلیف دل کو جلا اور پگھلا رہی ہو تو اسے عربی میں ’’غَمْ‘‘ کہتے ہیں…یعنی گھٹن ،بے چینی…

اور آگر آگے یعنی مستقبل کی کوئی فکر دل کو رُلا رہی ہو ،تڑپا رہی ہو…خونی اندھیروں میں نہلا رہی ہو…اور مایوسی کی کھائی میں گرا رہی ہو تو اسے ’’ھَمّ ْ‘‘ کہتے ہیں…یعنی فکر اور پریشانی…

ان تینوں مصیبتوں کا حملہ دل پر ہوتا ہے … اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر دل پر ہوتا ہے…کسی پر کم اور کسی پر زیادہ…کسی پر مفید اور کسی پر نقصان دِہ …ویسے علمی طور پر ان تین الفاظ میں …مزید تشریح اور فرق بھی ہے مگر آج ’’ کتب خانہ‘‘ کا نہیں ’’دواخانہ ‘‘ کا قصد ہے…آئیے پھر دعاء مانگ لیں…

لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ، یَا حَیُّی یَا قَیُّومُ ،اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْغَمّ…

بہت طاقتور

لوہا بہت طاقتور ہے مگر آگ اسے پگھلا دیتی ہے…آگ کی طاقت بہت مگر پانی اسے بجھا دیتا ہے…پانی کی طاقت بہت مگر ہوا اُسے اڑا دیتی ہے…ہوا کی طاقت بہت مگر انسان ہوا کو قابو کر لیتا ہے…انسان کی طاقت بہت مگر نیند انسان کو گرا دیتی ہے…نیند کی طاقت بہت مگر فکر اور پریشانی نیند کوبھی بھگا دیتی ہے…معلوم ہوا کہ ’’اَلْھَمّ ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے بہت طاقتور لشکر ہے…یہ کسی دل پر اُتر جائے تو دل زخموں اور اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے…دنیا بھر کی دوائیاں اس کو دل سے نہیں نکال سکتیں…دنیا بھر کے کھانے اور مشروبات اس کا علاج نہیں کر سکتے…لوگ نشہ کرتے ہیں تاکہ فکر اور پریشانی ختم ہو جائے مگر وہ اور بڑھ جاتی ہے اور دل میں زیادہ گہری اتر جاتی ہے… چنانچہ نشے کرنے والے اپنا نشہ مزید بڑھاتے جاتے ہیں …مگر مرتے دم تک فکر دل سے نہیں نکلتی…اگر نشہ سے نکل جاتی تو نشہ کرنے والے ایک بار نشہ کر کے باز آ جاتے…یہی فکر اور پریشانی ہے جو انسان کو خود کشی پر آمادہ کرتی ہے…یہی انسان کو بہت بڑے بڑے گناہوں میں ڈالتی ہے …یا اللہ! آپ کی پناہ…

اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ…یَا فَارِجَ الْھَمِّ کَاشِفَ الْغَمِّ اَذْھِبْ عَنَّا الْھَمَّ وَالْحُزْنَ

خوشخبری

اگر فکر اور پریشانی ’’آخرت ‘‘ کی ہو تو یہ بہت مبارک ہے…اس فکر اور پریشانی کی برکت سے دنیا کی پریشانیاں اور فکریں ختم ہو جاتی ہیں… انسان کا دل غنی ہو جاتا ہے…اور دنیا ناک رگڑ کر اس کے قدموں میں آتی ہے…اسے ’’ھَمُّ الْآخِرَۃْ‘‘ کہتے ہیں…دعاء مانگا کریں …

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ ھَمِّی الْآخِرَۃَ

یا اللہ! آخرت کو میری فکر بنا دے

اردو میں جو ہم ’’اہمیت‘‘ کا لفظ بولتے ہیں وہ اسی ’’اَلْھَمّ ‘‘ سے نکلا ہے…کہ دل میں آخرت کی اہمیت دنیا سے زیادہ ہو جائے…جس طرح کینسر کے مریض کو یہ فکر ہوتی ہے کہ…میں اس بیماری سے مر نہ جاؤں…چنانچہ وہ اس کے علاج کو ہر چیز سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہے…اس علاج کی خاطر مال مویشی بیچنے پڑیں…گاڑی فروخت کرنی پڑے…مکان بیچنا پڑے یا قرض لینا پڑے … وہ سب کچھ کر گزرتا ہے…پس اسی طرح ایک مسلمان کو آخرت کی فکر لگ جائے کہ…میری موت ایمان پر آئے ،مجھے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت مغفرت اور اکرام ملے…مجھے قبر کی تنہائی اور عذاب سے حفاظت ملے…حشر کے دن اور پل صراط اور میزان پر میرا معاملہ ٹھیک رہے…ان سب باتوں کی فکر اور بہت اہمیت …اور پھر اس کے لئے تیاری،قربانی اور محنت … اسے ’’ھَمُّ الْآخِرَۃ ‘‘ کہتے ہیں…جو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہم میں سے اکثر کو…نصیب نہیں ہے…ہم اپنے جسم کی ایک چھوٹی سی بیماری پر لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں…مگر آخرت کے لئے ہزاروں کا خرچہ بھی بھاری لگتا ہے…بہرحال جن مسلمانوں کو یہ فکر اور ’’ھَمّ ‘‘نصیب ہے انہیں بہت بہت مبارک ہو…اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے…

دوسری خوشخبری

وہ مسلمان جن پر اچانک کوئی ’’ھَمّ ‘‘ یعنی فکر یا پریشانی مسلط ہو جاتی ہے…مگر وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں …وہ اللہ تعالیٰ سے ہی اس کا علاج اور حل مانگتے ہیں…وہ اپنے جلے ہوئے دل سے اپنا ایمان یا دوسروں کا دل نہیں جلاتے…بلکہ اس جلے ہوئے دل سے اپنے آنسوؤں کو گرم کر کے سچا اِستغفار کرتے ہیں …ایسے لوگوں کو بھی بشارت اور خوشخبری ہو کہ…یہ پریشانی اور فکر کا یہ حملہ اُن کے گناہوں کو مٹانے اور درجات کو بلند کرنے کا ذریعہ بنتا ہے…اس سے ان کے بڑے بڑے خطرناک گناہ معاف ہو جاتے ہیں …اس سے ان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام مل جاتا ہے…

کیونکہ جسمانی تکلیف سہنا آسان ہے … مگر جب جسمانی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اَجر کے اتنے وعدے ہیں تو …قلبی اور روحانی تکلیف تو بڑی اذیت ناک ہوتی ہے…جو اسے صبر اور ذکر کے ساتھ کاٹ لے اس کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے…اسی لئے اللہ والے بزرگ ایسے لوگوں کو ہمیشہ صبر کے نسخے بتاتے رہتے ہیں … حضرت ابراہیم بن ادہم ؒ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اسی ’’ھَمّ ‘‘ یعنی فکر و پریشانی سے تڑپ رہا تھا…آپ نے اس بندہ ٔمومن سے فرمایا … میں تم سے تین باتیں پوچھتا ہوں :

(۱) کیا دنیا میں اللہ تعالیٰ کے چاہے بغیر کچھ ہو سکتا ہے؟

(۲) اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں جو رزق لکھ دیا ہے کیا اس میں سے کوئی ایک ذَرّہ کم کر سکتا ہے؟

(۳) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جتنی زندگی لکھ دی ہے…کیا اس میں سے کوئی ایک لحظہ یعنی سیکنڈ کم کر سکتا ہے؟…

اس شخص نے تینوں سوالوں کے جواب میں کہا …نہیں ہر گز نہیں…حضرت ؒ نے فرمایا: پھر فکر اور پریشانی کس بات کی؟

خطرہ ہے خطرہ

وہ لوگ جن کے دل پر ’’ھَمّ ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی کا حملہ ہوتا ہے…مگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے…کچھ مایوس ہو کر گناہوں اور نشے میں جا پڑتے ہیں…کچھ شرک ،کفر اور ٹونوں میں جا گرتے ہیں…کچھ دوسروں کو اِیذاء پہنچانے میں لگ جاتے ہیں…اور کچھ خود کشی کر کے اپنی دنیا اور آخرت تباہ کر لیتے ہیں…

ایسے لوگوں کا دل…شیطان کا تخت ہوتا ہے …وہ اس پر بیٹھتا ہے،ناچتا ہے اور تباہی مچاتا ہے …ہم سب مسلمانوں کو ایسی فکر اور ایسی حالت سے ڈرنا چاہیے…اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے…دنیا بڑی عجیب جگہ ہے …اس کی جو جتنی زیادہ فکر کرے یہ اسی قدر زیادہ کاٹتی ہے اور زیادہ دور بھاگتی ہے…ایک مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کسی بات کی فکر لگانے اور فکر کھانے سے کیا ہو گا؟…یہی وقت اللہ تعالیٰ سے مانگنے یا آخرت کی تیاری میں لگا دوں…

علاج

’’ھَمّ ‘‘ یعنی فکر اور پریشانی کا اصل علاج اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ ہے… کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے…وہ میری سنتا ہے…وہ میری ضرور مدد فرمائے گا…اندازہ لگائیں… ایک شخص کے دل پر بیک وقت تینوں خطرناک لہروں کا حملہ ہے… ماضی کا صدمہ بھی ہے یعنی حُزن…حال کا غم بھی جاری ہے…اور مستقبل کی فکر بھی ہے…محبوب ترین بیٹا سالہا سال سے گم ہے اور اب دوسرا بیٹا بھی گم ہو گیا…مگر اس کی زبان سے کیا نکلتا ہے؟

فَصَبْرٌ جَمِیلْ

ہاں! صبر ہی اچھا ہے…اور ساتھ فرماتا ہے

لَا تَیْأَسُوْا مِن رَّوْحِ اللّٰہ

اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو…اللہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں…

دوسرا بڑا علاج یہ کہ جس بارے میں فکر کا حملہ ہو اسی کے خلاف کوئی نیک کام کر لیا جائے…مال کی فکر اور پریشانی دل کو رُلارہی ہے تو ہمت کر کے جیب سے پیسے نکال کر صدقہ کر دیں…تھوڑی دیر میں فکر کا حملہ بھی ختم…اور ساتھ اِن شاء اللہ سکینہ بھی شروع…ویسے بھی صدقہ اس بیماری کا بہترین اور بڑا علاج ہے…

تیسرا علاج کثرتِ اِستغفار ہے…اور یہ اہلِ دل کا مجرب ہے…اور حضرت آقا مدنی ﷺ نے بھی…استغفار لازم پکڑنے والوں کو ہر فکر و پریشانی سے نجات کی بشارت دی ہے…

چوتھا علاج …

’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ ‘‘

کی کثرت ہے،جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے …

پانچواںعلاج…درود شریف کی کثرت ہے …اس پر دلائل روایات میں موجود ہیں…

اور بہت سے علاج اور بہت سی دعائیں حدیث شریف میں آئی ہیں

جو علاج چاہتا ہو…وہ تلاش کر لے…اور دنیا میں جس چیز کی فکر اور پریشانی حد سے زیادہ مسلّط ہو…اگر انسان اُس کو چھوڑنے یعنی اُس کی قربانی دینے کا عزم کر لے تو …پریشانی بھی دور ہو جاتی ہے اور نصرت بھی آ جاتی ہے…

اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْن

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online