Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

آج ہی سے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 497 - Saadi kay Qalam Say - Aaj HI Say

آج ہی سے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 497)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’قرآنِ مجید‘‘ کا ساتھ نصیب فرمائے…دنیا میں بھی…مرتے وقت بھی…قبر میں بھی،حشر میں بھی…اور جنت میں بھی…قرآن مجید نور ہے،ہدایت ہے،روشنی ہے، رحمت ہے، امام ہے، رہنما ہے… بچانے والا ہے، بڑھانے والاہے،ساتھ نباہنے والا ہے… چھڑانے والا ہے… دلکش،دلربا اور مونس ساتھی اور ہمسفر ہے…

ہمیں سوچنا چاہیے کہ…مرتے وقت ہم اپنے ساتھ کتنا ’’قرآن مجید‘‘ لے کر جاتے ہیں…

مجاہدین کرام کے نام

کامیاب مجاہدین کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ…جیسے ہی ’’رجب‘‘ کا مہینہ ختم ہوا، انہوں نے قرآن اور جہاد کو تھام لیا…شعبان میں محنت کی اور رمضان المبارک میں فتوحات پائیں …ماشاء اللہ ،جہاد کا نور اب ہر طرف پھیل چکا ہے…جہاد کے دوست اور دشمن سب نمایاں ہو کر سامنے آ چکے ہیں…جہاد کے بری،بحری اور پہاڑی محاذ کھل چکے ہیں…قدیم اسلحہ اور گھوڑوں سے لے کر جہاز اور ٹینک تک مجاہدین کے پاس موجود ہیں…جہاد کا مسئلہ اب چند سال پہلے کی طرح ’’اجنبی‘‘ نہیں رہا…جہاد کے موضوع پر کتابیں، بیانات اور دیگر دستاویزات ہر جگہ مہیّا ہیں…دشمنانِ اسلام جہاں بھی مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں…وہاں انہیں مجاہدین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے …اَقوامِ متحدہ نام کا ادارہ اب آخری ہچکیاںلے رہا ہے… سوویت یونین نام کا اِتحاد بکھر چکا ہے …اور دہشت کا نشان امریکہ اب ’’اُبامہ‘‘ ہوتا جا رہا ہے… کمزور، رسوا، بدنام، غیر مقبول…اور بے رُعب…اور یورپی اِتحاد اپنے وجود کو بچانے کی آخری کوششیں کر رہا ہے…جہاد نے گذشتہ پندرہ سال میں دنیا کے حالات اور دنیا کے نقشے کو بدل ڈالا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے…مجاہدین کو چاہیے کہ قرآن مجید کو مضبوط تھام لیں…پھر ان کی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا…کیونکہ قرآن مجید کا آغاز ہی سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے…ماضی کے کئی اسلامی لشکروں نے سورۂ فاتحہ کی برکت سے بڑے بڑے شہر اور قلعے فتح کئے…اور اسی قرآن مجید میں سورہ ’’الفتح‘‘ موجود ہے… یہ سورت مجاہدین کو ’’فاتح جماعت‘‘ بنانے کا طریقہ سکھاتی ہے…اور اسی قرآن مجید میں سورہ ’’النصر‘‘ موجود ہے…جو زمین پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اُتارنے کا طریقہ بتاتی ہے…مجاہدین کے معاشی مسائل کے حل کے لئے سورہ ’’اَنفال‘‘ موجود ہے…اور مجاہدین کو پہاڑوں جیسا حوصلہ دِلانے والی سورۂ توبہ بھی ہمارے سامنے ہے…

’’مجاہد‘‘ جس قدر ’’قرآن‘‘ سے جڑے گا،اسی قدر اس کا جہاد کامیاب اور شاندار ہو گا… شعبان شروع ہو چکا…قرآن مجید کو سینے سے لگا لیجئے… محاذوں کی گرمی ہو یا ریاضت و تربیت کی سرگرمی …دعوت کی بھاگ دوڑ ہو یا کسی مہم کی محنت … قرآن مجید آپ کے ساتھ رہے…جن کو درست پڑھنا نہ آتا ہو وہ فوراً سیکھنا شروع کر دیں…جو پڑھنا جانتے ہوں وہ تلاوت میں اضافہ کردیں … جو حفاظ ہیں وہ حفظ کو پختہ کر یں…اور سب مل کر قرآن مجید زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں…

قرآن،شعبان ،رمضان

قرآن مجید کو اپنے ساتھ لینے اور قرآن مجید کی خدمت کرنے کا میدان بہت وسیع ہے…سب سے پہلے اپنے دل میں ’’قرآن مجید‘‘ کی عظمت بٹھائیں کہ یہ کتنی بڑی اور کتنی ضروری نعمت ہے … کوئی نعمت اس کے برابر نہیں کیونکہ باقی سب نعمتیں ’’مخلوق ‘‘ ہیں…جبکہ قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام ’’مخلوق‘‘ نہیں ہو سکتا…

اس کے لئے اچھا ہو گا کہ…آپ فضائل قرآن مجید کی احادیث کا ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں…دوسرا کام یہ کہ اپنے دل میں اس بات کا عزم باندھیں کہ میں نے ان شاء اللہ قرآن مجید کو اپنے ساتھ لے جانا ہے…

جب یہ فکر دل میں بیٹھ گئی تو ان شاء اللہ اس کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا…

عجیب نقشے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص تجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا جانتا ہے…وہ بہت پختہ حافظ بھی ہے…اور قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر بھی جانتا ہے…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ نہیں جاتا… روح نکلتے وقت بھی قرآن مجید اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں فرماتا…اور قبر و حشر میں بھی اس کا ساتھ نہیں دیتا…بلکہ اُلٹا اس کے خلاف گواہی دیتا ہے…یا اللہ! ایسی صورتحال سے آپ کی پناہ…

اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ…ایک شخص شرعی عذر کی وجہ سے درست قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا… وہ حافظ اور عالم بھی نہیں…تلاوت بھی زیادہ نہیں کر سکتا…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ جاتا ہے…اور آگے کے تمام مراحل میں اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا ہے…

وسیع اور دلکش میدان

دل میں قرآن مجید کی عظمت ہو…قرآن مجید پر مکمل ایمان ہو…قرآن مجید کو ساتھ لینے کی فکر، کڑھن اور حرص ہو…اور اسے اپنی اہم ضرورت سمجھتا ہوتو…خدمت قرآن کا میدان بہت دلکش اور وسیع ہے…تلاوت سیکھنا،تلاوت کرنا…ادب کرنا، قرآن مجید کو سمجھنا، سمجھانا … قرآن مجید پڑھانا…قرآن مجید کی تعلیم کے لئے سہولیات اور اَسباب فراہم کرنا…قرآن مجید کی طرف لوگوں کو بلانا…قرآن مجید کی دعوت چلانا …قرآن مجید چھاپنا، چھپوانا، تقسیم کرنا…قرآن مجید کی محبت عام کرنا…قرآن مجید پر عمل کرنا… عمل کرانا…قرآن مجید کے احکامات کو خود پر ، معاشرے پر اورزیرِاختیار اَفراداور علاقے پر نافذ کرنا…قرآنی تعلیم کی حفاظت کرنا…قرآن مجید کی تعلیم دِلوانا…قرآن مجید کی تفسیر بیان کرنا، تفسیر لکھنا یا کوئی بھی علمی خدمت کرنا…

ماضی میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں…جو قرآن مجید کے ادب کی بدولت کامیاب ہو گئے… اور ایسے بھی گذرے ہیں کہ بظاہر قرآن مجید ان کے ساتھ تھا…مگر یقین،عمل اور ادب کے نہ ہونے کی وجہ سے …وہ قرآن مجید کے ساتھ سے محروم رہے …ایک شخص قتال فی سبیل اللہ کا منکر ہو اور تلاوت کر رہا ہو آیاتِ قتال کی…یہ تلاوت خود اُس کے خلاف حجت بن جائے گی…

آج ہی سے

الحمد للہ شعبان شروع ہو چکا ہے…آپ آج سے ہی اپنی زندگی کا ’’قرآنی منصوبہ‘‘ طے کر لیں …پھر اس کے لئے دعاء اور محنت شروع کر دیں …اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں…ایک آدمی ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ میں نے ان شاء اللہ مرنے سے پہلے قرآن مجید کے چار سو مکتب قائم کرنے ہیں… ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ان شاء اللہ محاذوں تک قرآن مجید کے نسخے پہنچانے ہیں…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے اول تا آخر ایک بار قرآن مجید کی ہر آیت کو ان شاء اللہ ضرور سمجھنا ہے کہ میرا رب مجھ سے کیا فرما رہا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے درست تلفظ کے ساتھ قرآن مجید سیکھنا ہے،پھر روز تلاوت کرنی ہے اور اپنی ساری اولاد کو ان شاء اللہ حافظ بنانا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک ایسا پریس قائم کرنا ہے جو صرف قرآن مجید چھاپے گا اور درست چھاپے گا اور مفت تقسیم کرے گا…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک بار قرآن مجید کا اس طرح مطالعہ کرنا ہے کہ…ہر آیت پر غور کروں گا کہ میرا اس پر کتنا یقین ہے اور کتنا عمل ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں ان شاء اللہ ایک سو افراد کو قرآن مجید پڑھنا سکھا جاؤں گا…وہ پڑھتے پڑھاتے رہیں گے…اور میرا کارخانہ چلتا رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…میں اپنی اولاد کو سورہ فاتحہ خود حفظ کراؤں گا…اولاد زندہ رہی اور بڑی ہوئی تو لاکھوں بار فاتحہ پڑھے گی جس کااجر ان شاء اللہ میرے لئے جاری رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں جلد سازی کی چھوٹی سی دکان بنا لوں گا… چھٹی کے دن مساجد میں جاکر قرآن مجید کے ضعیف نسخے اٹھا لاؤں گا اور ان کی جلد بنا کر واپس رکھ دوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…میں کسی غریب آدمی کے ایک بچے کی قرآنی تعلیم کا سارا بوجھ اپنے سر لے لوں گا…اور اس کی تعلیم مکمل ہونے تک ان شاء اللہ خرچہ اٹھاتا رہوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں قرآن پاک کے فضائل کی دس احادیث ٹھیک ٹھیک یاد کروں گا اور روز کچھ مسلمانوں کو سناؤں گا…اور انہیں قرآن مجید پڑھنے اور سمجھنے کی دعوت دوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ روزآنہ اتنا قرآن مجید حفظ کروں گا اور مرتے دم تک حفظ کرتا رہوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں قرآن مجید کا ایک نسخہ لے کر…کسی مستند عالم یا مستند ترجمہ کے ذریعے اس پر نشانات لگا دوں گا تاکہ…تلاوت کے وقت دھیان رہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں… پھر یہ نسخہ بعد والوں کے کام بھی آتا رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں نے خود بھی قرآن مجید حفظ کرنا ہے…اپنی بیوی اور اولاد کو بھی کرانا ہے اور اپنے پورے خاندان کو بھی کرانا ہے ان شاء اللہ…

دیکھا آپ نے کہ خدمت قرآن کا میدان کتنا وسیع ہے…اور اہل ہمت کے لئے اس میں کیسے کیسے امکانات موجود ہیں…یہ اوپر جو چند نیتیں بغیر ترتیب کے لکھی ہیں …یہ بطور مثال ہیں… اصل ترتیب درج ذیل ہے:

(۱) قرآن مجید پر ایمان لانا

(۲) قرآن مجید پر عمل کرنا

(۳) قرآن مجید کی تلاوت سیکھنا اور کرنا

(۴) قرآن مجید کی دعوت دینا

(۵)قرآن مجید سمجھنا، سمجھانا، پڑھنا اور پڑھانا

(۶) قرآن مجید کو حفظ کرنا،پھر حفظ رکھنا، اور قرآن مجید کا ادب کرنا…

اسی طرح اوپر جو نیتیں لکھی ہیں…ان کے علاوہ بھی خدمت قرآن کے بے شمار طریقے ہیں …آپ صرف تاریخ پر نظر ڈالیں تو اہل سعادت نے خدمتِ قرآن پر زندگیاں قربان کر دیں… تفسیر الگ خدمت، ترجمہ الگ خدمت، الفاظ الگ خدمت، معانی الگ خدمت،تجوید الگ خدمت، کتابت،اشاعت، دعوت الگ خدمت …

اور بے شمار خدمات…ارے بھائیو! شہنشاہِ اعظم، اللہ اکبر کا عظمت والا کلام ہے…اس لئے اس کے خُدّام بھی بے شمار، خدمتیں بھی بے شمار اور ان خدمات کا اجر بھی بے شمار…اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے  …مگر ایک کام تو ابھی سے کر لیں…شعبان آ گیا ہے آج سے ہی اپنی تلاوت میں کچھ اضافہ کر لیں…وقت بہت قیمتی ہو جائے گا…بہت قیمتی …

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online