Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اُمید کا چراغ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 498 - Saadi kay Qalam Say - Umeed ka chiragh

امید کا چراغ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 498)

اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعاء مانگو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو…

یہ حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے…حدیث ترمذی شریف میں موجود ہے … اب دوسری حدیث شریف لیجئے!

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں …میں نے آپ ﷺ کی وفات سے تین دن پہلے آپ سے یہ فرمان سنا …تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ’’حسن ظن ‘‘ رکھتا ہو ( صحیح مسلم)

اب تیسری حدیث مبارکہ سے اپنے دل کو روشن کیجئے…

 

حضور اقدس ﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے…وہ موت آنے کی حالت میں تھا…آپ ﷺ نے فرمایا : تم خود کو کیسے پاتے ہو؟اس نے عرض کیا… یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی قسم میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں…آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب ایسی حالت میں کسی بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے وہ عطاء فرما دیتا ہے جس کی اسے اُمید ہو اور اسے اس چیز سے بچا لیتا ہے جس کا اسے خوف ہو( ترمذی)

ان تین احادیث مبارکہ میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ’’حسن ظن‘‘ یعنی اچھا گمان اور اچھی اُمید رکھنا یہ ایک عظیم الشان عبادت ہے…حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ…ایک مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن ظن‘‘ نصیب ہونے سے بڑھ کر بہتر چیز اور کوئی نہیں…مشہور زمانہ بزرگ حضرت مالک بن دینار کا جب انتقال ہو گیا تو ایک محدث نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا : میں بہت گناہ لے کر حاضر ہوا مگر مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو ’’حسن ظن ‘‘ تھا اس نے میرے تمام گناہوں کو مٹا دیا…واقعی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن ظن‘‘ ایک بڑی نعمت،قلبی عبادت اور جنت کی قیمت ہے…مگر افسوس کہ آج اکثر لوگ اس نعمت سے محروم ہیں…ہر کسی کو اللہ تعالیٰ سے شکوہ ہے کہ …میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور میری تو دعائیں سنی ہی نہیں جاتی…اور میں تو ہوں ہی بد نصیب…استغفر اللہ،استغفر اللہ،استغفر اللہ … افسوس کہ بعض لوگ تو یہاں تک بھی سوچتے ہیں کہ …مجھ سے گناہ کروائے جا رہے ہیں تاکہ مجھے جہنم میں جلایا جا سکے…میں گناہوں سے بچنے کی جتنی کوشش کرتا ہوں…نہیں بچ پاتا… بہت غلط سوچ،بہت غلط سوچ…استغفر اللہ،استغفر اللہ، استغفر اللہ…خوب سن لیں…اللہ تعالیٰ سے بدگمانی رکھنے والے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے…

بات دراصل یہ ہے کہ شیطان پہلے ہاتھ پکڑ کر ہمیں گناہوں کی گلی میں لے جاتا ہے…اور  پھر ہمیں سمجھاتا ہے کہ تم اب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قابل نہیں رہے…اس لئے دو چار دن کی زندگی ہے اس میں عیش عیاشی کر لو…نیکی کرنا اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے … توبہ پر قائم رہنا تمہارے لئے ممکن نہیں ہے…کئی لوگ شیطان کے اس دھوکے میں آ جاتے ہیں…اور پھر گناہوں میں دھنستے چلے جاتے ہیں…کاش ان مسلمانوں کے کانوں تک …کوئی اُن کے رب کا یہ اعلان پہنچا دے…اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر لیا ہے…تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو…اللہ تعالیٰ تو سارے گناہ بخش دیتے ہیں…وہ بہت بخشنے والے مہربان ہیں …بس موت سے پہلے پہلے ہماری طرف متوجہ ہو جاؤ…ہم سے رجوع کرو…ہم سے معافی مانگ لو…اچانک موت آ ئے گی تو پھر موقع نہیں رہے گا …سبحان اللہ! …ایسی رحمت والا اعلان فرمانے والے رب سے بھی اگر ’’حسن ظن‘‘ نہ ہو تو پھر کس سے ہو گا؟

دراصل گناہوں پر توبہ،استغفار نہ کرنے کی وجہ سے دل سخت ہو جاتا ہے…انسان ایک خاص گھٹن اور مایوسی کے پنجرے میں بند ہو جاتا ہے … اور شیطان اس پر مکمل قبضہ جما لیتا ہے…لیکن اگر بندہ ہمت کرے…اور اللہ تعالیٰ سے بار بار معافی مانگے…بار بار استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ سے ’’حسن ظن‘‘ رکھے کہ وہ دعاء سنتے ہیں…قبول فرماتے ہیں…توبہ اور استغفار سنتے ہیں… مغفرت اور معافی دیتے ہیں …اُن کی رحمت میرے گناہوں سے بڑی ہے…وہ بار بار معاف فرمانے سے نہیں اُکتاتے…وہ اپنا دروازہ اپنے بندوں کے لئے بند نہیں فرماتے…میں جتنا گندا ہوں پھر بھی اُنہی کا بندہ ہوں اور ان کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے…تو ایسا بندہ شیطان کی قید سے آزاد ہو کر…بندگی کی شاہراہ پر آ جاتا ہے … یاد رکھیں ! ’’حسن ظن‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نہ فرائض ادا کرے…نہ حرام سے بچنے کی کوشش کرے…نہ وہ توبہ کرے اور نہ استغفار…نہ اپنے گناہوں پر نادم ہو اور نہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھے…اور ساتھ یہ کہتا پھر ے کہ…اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں…اور دین میں کوئی سختی اور پابندی نہیں ہے…یہ ساری باتیں وہی لوگ کرتے ہیں …جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت…کوئی تعلق اور کوئی ’’حسن ظن‘‘ نہیں رکھتے…ان میں سے اکثر کو آخرت کا یقین نہیں ہوتا …وہ کہتے ہیں کہ اگر کبھی آخرت برپا ہوئی اور حساب کتاب ہوا تو اللہ تعالیٰ ہمیں نہیں پکڑے گا…کیونکہ ہم دنیا میںکامیاب ہیں…یہ ’’حسن ظن‘‘ نہیں دھوکا ہے …اور نفس کی شرارت ہے…’’حسن ظن‘‘ تو اللہ تعالیٰ سے وفاداری اور محبت کا نام ہے…اللہ تعالیٰ کی باتوں پر یقین اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اطمینان …

وہ دیکھیں ! سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا… ان کے چاروں طرف کے مناظر اللہ تعالیٰ سے مایوسی کی دعوت دے رہے ہیں…وقت کا سب سے بڑا ظالم اُن کی کھال اُدھیڑ رہا ہے…مگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین میں مستحکم ہیں…ایسے دردناک حالات میں بھی انہیں اللہ تعالیٰ سے ’’حسن ظن‘‘ ہے کہ…وہ میرے لئے جنت کا گھر اپنے پاس بنا دیں گے … یہ ہے یقین اور یہ ہے ’’حسن ظن‘‘ … آج ہماری دو تین دعائیں قبول نہ ہوں تو فوراً اللہ تعالیٰ سے بدگمان ہو جاتے ہیں…اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دائیں بائیں جھکنے لگتے ہیں…

یہ دیکھیں! یہ تین صحابہ کرام جو غزوہ تبوک سے رہ گئے تھے…حضور اقدس ﷺ نے ان سے قطع تعلق فرما لیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آئے…آپ تینوں باقی مسلمانوں سے الگ رہیں…تینوں مدینہ منورہ میں اکیلے اور تنہا… غموں کے تھپیڑوں پر تھے…زمین اُن پر تنگ… اور اُن کی جانیں ان پر تنگ… حضرت آقا مدنیﷺ کی ناراضگی سے بڑھ کر اور کیا غم اور صدمہ ہو سکتا تھا…مگر اس حالت میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے جڑے رہے…اُسی کو مناتے رہے…اُسی سے اُمید باندھتے رہے…ارشاد فرمایا: وَظَنُّوْااَنْ لَّامَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِیعنی اُن کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ بچا سکتی ہے…پس اسی اُمید نے کام بنا دیا اور ان کی توبہ ایسی شان سے قبول ہوئی کہ…قرآن عظیم الشان کی آیت مبارکہ بن گئی…

آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن ظن ‘‘ رکھنے کی دعوت دی جائے…انہیں توبہ اور استغفار کی طرف بلایا جائے…مایوسی کے اندھیروں میں انہیں اُمید کا چراغ دکھایا جائے…حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں …جو اللہ تعالیٰ سے ’’حسن ظن ‘‘ رکھتا ہے وہ ہمیشہ اچھے اعمال کی طرف بڑھتا ہے… ماضی میں جھانکیں …توبہ،استغفار اور اُمید کی روشنی نے چوروں،ڈاکوؤں اور بدکاروں کو…زمانے کا صف شکن مجاہد اور ولی بنا دیا…مسلمانوں میں جب اللہ تعالیٰ سے اُمید پیدا ہو گی تو وہ مخلوق سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے…اللہ تعالیٰ سے اُمید ہو گی تو جہاد کا کامیابی والا راستہ سمجھ آئے گا … اور اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین پیدا ہو گا…اللہ تعالیٰ سے اُمید ہو گی تو مسلمان ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد اپنے ساتھ لے سکیں گے…اُمید کا یہ چراغ روشن ہو…اُس کے لئے ایک ادنیٰ سی کاوش’’ الیٰ مغفرۃ ‘‘ کی شکل میں پیش کی گئی ہے …الحمد للہ یہ کتاب شائع ہو چکی ہے…اور اگلے آٹھ دن میں ملک کے چار شہروں میں ان شاء اللہ اس کی رونمائی کے اجتماعات ہوں گے …یا اللہ! آسان فرما…یا اللہ! قبول فرما …یا اللہ!

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor