Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقابلۂ حُسن (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 435 - Saadi kay Qalam Say - muqabla e husn

مقابلۂ حُسن

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 435)

اﷲ تعالیٰ اپنا فضل فرما کرہم سب کے دلوں سے دنیا کی محبت دور فرما دے…

اَللّٰھُمّ زَھِّدْنَا فِی الدُّنْیَا وَأَحْسِنْ خَاتِمَتَنَا

تعجب ہے اُن لوگوںپر

ایک روایت میں آیا ہے:

 

اُن لوگوںپر تعجب ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والے گھر…یعنی آخرت کو مانتے ہیں مگر محنت اور بھاگ دوڑ فنا ہونے والے گھر یعنی دنیا کے لئے کرتے ہیں…

ہاں! بے شک دنیا وہی جمع کرتا ہے جو عقل سے محروم ہے، اور دنیا کی خاطر وہی دشمنی کرتا ہے جو علم سے خالی ہے اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے سے وہی حسد کرتے ہیں جو ناسمجھ ہیں اور دنیا کی خاطر وہی محنت کرتے ہیں جو یقین سے محروم ہیں…

 الحمدﷲ رب العالمین

کئی ہفتے سے جمعۃ المبارک کے اعمال کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے… جمعرات کو’’مکتوب‘‘ جاری ہوتا ہے اور مسلمانوں کو پکارتا ہے کہ’’سید الایام‘‘ دنوں کے امام یعنی جمعہ کے دن کو سمجھو اور قیمتی بناؤ…درود شریف کی کثرت، جمعہ نماز کے لئے جلد مسجد پہنچنا، سورۃ الکہف کی تلاوت اور دیگر سنتیں… اس دوران ایک مقابلہ بھی منعقد ہوتا ہے جسے ’’مقابلہ حُسن‘‘ کا نام دیا گیا ہے… بے شک درود شریف اور سلام شریف کی کثرت سے مسلمان کو ہر چیز میں’’حسن‘‘ نصیب ہوتا ہے… ایمان میں بھی مزید حُسن آجاتا ہے اور اعمال میں بھی… اور درود شریف کی خوشبو سے روح کی بدبو اور کثافت دور ہوجاتی ہے… الحمدﷲ یہ مقابلہ خوب جارہا ہے… کئی افراد ماشاء اﷲ بیس ہزار سے زائد درود وسلام کی اطلاع بھیجتے ہیں تودل بہت خوش ہوتا ہے… جمعۃ المبارک کی نماز کے لئے جلدی مسجد پہنچنے کی بھی کئی حضرات ہمت کر رہے ہیں… آج کل فتنے ہی فتنے ہیں… ان فتنوں کی حفاظت کے لئے اﷲ تعالیٰ نے جمعۃ المبارک کے دن اور جمعۃ المبارک کے اعمال میںخاص تأثیر رکھی ہے… دنیا اور مال کی محبت انسان کو بے عقل اور بے وقوف بنا دیتی ہے… جو مال سے محبت رکھتاہو اس کی عقل میں اندھیراچھا جاتاہے… الحمدﷲ درود شریف کی محنت سے جو روشنی اور خوشبو دل و دماغ اور ارواح میں آرہی ہے اُس کی موجودگی میں’’حبّ دنیا‘‘ کے فتنے کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے… ان شاء اﷲ

 بڑا فتنہ، بڑا گناہ

ارشاد فرمایا:

ہر اُمت کے لئے ایک فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے…(ترمذی)

فتنہ… یعنی سخت آزمائش میں ڈالنے والی چیز… یہ کوئی معمولی لفظ نہیں فتنہ ایسی چیز ہے جس کے خوف سے حضرات انبیاء علیہم السلام بھی روتے اور پناہ مانگتے تھے حالانکہ انہیں کسی فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں تھا… مال ہماری اس اُمت کا کڑا امتحان ہے… ہم اپنے اندر جھانکیں اور دائیں بائیں دیکھیں تو مال کا فتنہ سانپ کی طرح پھن اٹھائے پھنکار رہا ہے…اکثر لوگ کسی نہ کسی طرح اس فتنے کی زد میں آکر اپنا دین اور اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں… مال، مال، مال، پیسہ ، پیسہ، پیسہ بس یہی سوچ ہے، یہی فکر ہے، یہی کامیابی کا معیار، یہی محبت اور دوستی کا معیار ہے… اسی کی خاطر جینا ہے، اسی کی خاطر مرنا ہے… نہ حلال، حرام کا فرق نہ چاروں طرف اٹھتے ہوئے جنازوں پر نظر… عزت بھی مال کی اورغیرت بھی مال کی… وہ چیز جسے حضرت آقامدنیﷺ نے گندگی اور غلاظت سے بدتر قرار دیا وہ آج ہمارے سروں کاتاج ہے… دنیا اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر سے بھی زیادہ گھٹیا ہے… جب کوئی انسان اس دنیا سے محبت کرتا ہے تو وہ بھی بے وقعت، بے عزت اور گھٹیا ہو جاتا ہے… جو شخص صبح اس حال میں اٹھے کہ اس کے دل میں دنیا کی فکر ہو تو اُس پر چار مصیبتیں مسلط کر دی جاتی ہیں… وہ سارا دن پریشانی، غم اور بے اطمینانی میں گذارتا ہے… اور اس کا دل ہر طرح کے نور اور قوّت سے محروم رہتا ہے…

  حملہ بار بار ہوتا ہے

لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نماز ادا کرلی، زکوٰۃ دے دی، جہاد کر لیا، روزہ رکھ لیا اور وظائف کر لئے تو اب شیطان ہم پر دنیا کی محبت کا زہریلا حملہ نہیں کرے گا… ایسا نہیں ہے… نیک لوگوںپر’’حبّ دنیا‘‘ کا حملہ زیادہ ہوتا ہے اور بار بار ہوتا ہے… اور شیطان اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ان’’سعادت مندوں‘‘ یعنی خوش نصیبوں کو’’شقی‘‘ یعنی بدبخت، بدنصیب اور جہنمی بنا دے… جب انسان کے دل میں دنیا کی محبت آتی ہے تووہ لمبے لمبے اور دور دور کے منصوبے بناتا ہے… جب دور دور کے منصوبے بنتے ہیں توموت کی یاد بھول جاتی ہے… جب موت کی یاد بھولتی ہے تو دل سخت ہو جاتا ہے… اور جب دل سخت ہوجاتا ہے تو آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے نہیں روتیں… اور آنکھوں کا خشک ہونا شقاوت یعنی محرومی اور بدنصیبی کی علامت ہے…

’’یا اللہ! شقاوت سے ہم سب کی حفاظت فرما‘‘

دنیا کی محبَّت کا حملہ ہر نیک مسلمان پر روز ہوتا ہے اور بار بار ہوتا ہے… اور یہ حملہ معمولی نہیں ہوتا بکہ ماہر ترین جادوگروں کے جادو سے بھی زیادہ تیز اور خطرناک ہوتا ہے… اور جیسے جیسے انسان موت کے قریب ہوتا ہے یہ حملہ سخت ہوتا جاتا ہے کہ… اب کچھ تو اپنی دنیا کا بھی سوچو، کچھ تو اپنی زندگی بھی سنوار لو، کچھ تو اپنے بچوں کے لئے بھی بنا جاؤ… ایک جادوگر گذرا ہے’’سامری‘‘ جس کا تذکرہ قرآن مجید میں ہے… ایسا خطرناک جادو گر کہ جس نے ایک حملے سے بنی اسرائیل کو ایمان سے شرک پر گرا دیا… اور ایسا گناہ کروایا کہ ستر ہزار افراد کے خون سے وہ گناہ دُھل پایا…

اس اُمت پر’’حب دنیا‘‘ کا حملہ سامری کے جادو سے بھی زیادہ خطرناک اور تیز ہوتا ہے… اس لئے کبھی اس بات سے مطمئن نہ ہوںکہ اب مجھ پر ’’حبّ دنیا‘‘ کا حملہ نہیں ہوگا… ہم سب اپنے دل کا ہمیشہ جائزہ لیں کہ اس میں دنیا کی محبت گھس تو نہیں گئی… اور ہر دن اور ہر نماز اور ہر عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگا کریں کہ… یا اللہ! اپنے فضل سے ہمیں حبّ دنیا اور حبّ مال سے بچائیے… خوب محتاج بن کر دعاء کریں… صبح شام سورہ الھکم التکاثر کم از کم تین بار پڑھیں… یَاخَبِیْرُیَا آخِر کا زیادہ ورد کریں… دنیا پرستوں کی صحبت سے دور رہیں موت کو یوں یاد کریں کہ بس ابھی آئی… اور مال کے بارے میں شریعت کے احکامات معلوم کریں اور اُن کو سختی سے اپنے عمل میں لائیں… مجاہدین خاص طور پر اس کی فکر کریں کیونکہ اُن پر حبّ دنیا کا حملہ عام نیک لوگوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے…

آج کل دبئی میں کچھ لوگ اپنے مثالی مرکز سے کٹ کر کرزئی حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں…اُن کا ماضی اور اب اُن کا حال دیکھ کر دل خوف سے کانپنے لگتا ہے… یا اللہ! زندگی کے آخری دن پچھلے دنوں سے اچھے بنا دیجئے… اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرما دیجئے…

 سخت ترین گناہ

قرآن مجید اول تا آخر… حبّ دنیا کی مذّمت سے بھرا ہوا ہے… پوری پوری سورتیں صرف یہی مسئلہ سمجھاتی ہیں کہ… دنیا کے دھوکے میں نہ پھنسو اورآخرت کی فکر اور محنت کرو… سورۃ الکہف جو جمعہ کے دن پڑھی جائے تو اگلے جمعہ تک دل کو نور سے بھر دیتی ہے… وہ عجیب عجیب طریقوں سے دنیا کی محبت سے روکتی ہے… وہ ہمیں سکھاتی ہے کہ تمہاری ٹوٹی ہوئی کشتی تمہارے لئے بہتر ہے کہ وہ تمہیں قزاقوں سے بچاتی ہے… نئی کشتی کی فکر میں نہ پڑو ورنہ مارے جاؤ گے… وہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ اولاد کی وجہ سے دنیا کی محبت میں نہ پڑو بعض اولاد ایسی ہوتی ہے جو تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا مستحق بنا سکتی ہے… اور نیکی کر کے اس کا معاوضہ طلب نہ کرو… اور نیکی کرنے والوں کی اولاد کے لئے اللہ پاک رزق کی حفاظت کا خود بندوبست فرماتے ہیں… سورۃ الکہف ہمیں جلتے اور اجڑتے ہوئے باغات دکھاتی ہے… اوراصحاب کہف کی ہجرت کے قصے سناتی ہے… وہ نوجوان جنہوں نے دنیا کی ترقی اور اُس کے عیش و آرام کو چھوڑا تو کیسی عظیم الشان نعمتوں اور کامیابیوں کے مستحق بن گئے…الغرض یہ قرآن پا ک کا خاص موضوع ہے… وہ ہمیں قارون کا انجام اور فرعون و ہامان کی تباہی بھی دکھاتا ہے… اورقوم عاد کی سائنسی ترقی کو برباد ہوتے ہوئے بھی دکھاتا ہے… دراصل’’حبّ دنیا‘‘ دل میں ہو تو نہ ایمان مضبوط جگہ پکڑتا ہے… اور نہ جہاد کی ٹھیک توفیق ملتی ہے… اور نہ انسان کے ارادے بلند ہو سکتے ہیں… ایک حکایت میں تو یہاں تک آیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا:

’’اے موسیٰ! دنیا کی محبت پر مائل نہ ہوں،کیونکہ دنیا کی محبت سے بڑا کبیرہ گناہ اور کوئی نہیں ہے ‘‘

حضرت فضیل بن عیاضؒ بڑے ولی اور صاحب علم گزرے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

تمام شرور کو ایک گھر میں بند فرما دیا گیا ہے اور اُس گھر کی چابی دنیا کی محبت ہے… یعنی جسے دنیا کی محبت کا مرض لگ گیا اب وہ ہر شر میں مبتلا ہو جائے گا… اور تمام خیروں کو ایک گھر میں بند کر دیا گیا ہے اور اس گھر کی چابی ’’زُہد‘‘ ہے… یعنی دنیا سے بے رغبتی… پس جو دنیا سے بے رغبت ہو جائے گا اُسے ان شاء اللہ ہر خیر مل جائے گی…

آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ… قرآن پاک کی وہ آیات جو’’حبّ دنیا‘‘ کی مذمت کرتی ہیں… انہیں ہم خود بھی بار بار پڑھیں، اپنے اہل اولاد کو بھی سنائیں اور مسلمانوں تک بھی… اُن کی روشنی پہنچائیں… کیونکہ مال کی محبت کا سیلاب ایک خطرناک سونامی کی شکل میں مسلمانوں کو تباہ اور کمزور کررہا ہے… اور دشمنان اسلام کی تین کوششیں ہیں:

۱۔ مال کی ضرورت بہت بڑھا دی جائے

۲۔ مالداروں کو پُرکشش بنا کر لوگوں کا آئیڈیل بنا دیا جائے

۳۔ حلال حرام کا فرق مٹا دیا جائے… مسلمان حرام کھائے گا تو کسی کام کا نہیں رہے گا

آپ باریکی سے غور کریں کہ ان تین چیزوں پر کس طرح سے محنت کی جارہی ہے… چنانچہ آج انسان کی ضروریات اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ ہر انسان مزید مال کا خود کو محتاج سمجھتا ہے… پھر وہ مال اُسے بھیک مانگ کرملے، سؤال کر کے ملے یا حرام طریقے سے ملے وہ خود کو مجبور سمجھتا ہے کہ میں اور کیا کروں؟مثلاً مہنگا علاج تو میں نے ضرور کرانا ہے… یا بچوں کے ولیمے اور شادی کی دعوتیں میں نے ضرور کرنی ہیں…

ایسے حالات میں جب کہ مسلمان مال کے پیچھے اندھا دھند دوڑ رہے ہیں انہیں قرآن پاک کے احکامات… اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ اور سیرت طیبہ سنانے کی ضرورت ہے… اور جہاد کی دعوت اس کا سب سے بہترین علاج ہے… بشرطیکہ دعوت دینے والے خود اس عظیم فتنے سے دور ہوں…

 کم از کم حفاظت کا درجہ

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی ایسا’’فتنہ‘‘ پیدا نہیں فرمایا جس سے بچنا ناممکن ہو…’’ حبّ دنیا‘‘ سے بھی بچا جا سکتا ہے، بس فکر کی ضرورت ہے… اور اس میں کم ازکم درجہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا نام کسی کو لوٹنے اور مال بٹورنے کے لئے استعمال نہ کریں… دینداری کے لبادے میں، جہاد کے لبادے میں، علم دین کے لبادے میں لوگوں کو لوٹنا ایسا جرم ہے، جس کی شدّت بہت سخت ہے…

آج کئی لوگوں نے دینی بھیس اپنا کر لوگوں کو’’مضاربت‘‘ میں لوٹ لیا… ہائے کاش وہ اللہ تعالیٰ کے نام اور دینی نسبت کی اس قدر گستاخی کی جرأت نہ کرتے… اسی طرح جو مال دین کے نام پر، اللہ تعالیٰ کے نام پر اجتماعی طور پر جمع کیا گیا ہو اس میں ہر گز خیانت نہ کریں اور اُسے کبھی اپنے ذاتی مقاصد کے لئے خرچ نہ کریں…مجاہد کسی سے چندہ لینے جائے… اور پھر بعد میں اُسی فرد سے اپنی ذاتی حاجات کے لئے سؤال کرے… یہ کتنا بُرا عمل ہے؟ اے مسلمانو!رزق مقدرہوچکا اور اس میں کسی حیلے بہانے اور تعارف سے نہ کمی ہو سکتی ہے نہ زیادتی… ایک آدمی بھیک مانگے اور کہے اے لوگو! میری مدد کرو… یہ اگر ضرورت مند نہیں ہے تو گناہ گارہوگا… اور دوسرآدمی بھیک مانگے… اس میں بار بار اللہ رب العزت کا نام لے کہ… اللہ گواہ ہے میری یہ حالت ہے وہ حالت ہے… یہ اگر ضرورت مند نہیں تو بڑا مجرم ہے اس نے سؤال کا گناہ بھی کیا اور اللہ رب العالمین کے عظیم نام کو بھی غلط استعمال کرنے کی گستاخی کی…

بھائیو! اور بہنو! ہم کسی سے بھی سؤال نہ کریں… نہ کسی مالدار سے، نہ کسی جماعت سے، نہ کسی ٹرسٹ سے… ہم صرف اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں تو ہمارے ایمان میں بہار اور نکھار آجائے… حضرت آقا مدنیﷺ نے ارشاد فرمایا:

دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے…

یا اللہ! امان، یا اللہ! امان، یا اللہ! حبّ دنیا سے امان…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor