Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الحمدللّٰہ،استغفراللّٰہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 499 - Saadi kay Qalam Say - Alhamdulillah Astaghfirullah

الحمدللّٰہ،استغفراللّٰہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 499)

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے… ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب شائع ہوگئی اور بہت سے مسلمانوں تک پہنچ گئی

الحمد للہ، الحمد للہ

اس کتاب میں مزید بھی بہت کچھ لکھنے کا ارادہ تھا…مگر کوتاہی ہوئی اور وہ سب کچھ نہ لکھا جا سکا جس کا نقشہ دل و دماغ میں موجود تھا…اللہ تعالیٰ معاف فرمائے

استغفر اللہ، استغفر اللہ

 

ایک دعاء اپنا لیں

گذشتہ کالم میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’حسن ظن‘‘ رکھنے کی اہمیت کا بیان تھا …انسان جس نعمت کو پانا چاہے … اس کے لئے پہلا کام یہ کرے کہ اللہ تعالیٰ سے اس نعمت کو مانگے…دعاء بہت بڑی چیز ہے…یہ اگر دل سے ہو تو بڑے بڑے دروازے کھلوا دیتی ہے …مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر شہیدؒ سے ایک دعاء منقول ہے…

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ صِدْقَ التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ

یا اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے آپ پر سچا توکل اور آپ کے ساتھ ’’حسن ظن‘‘ نصیب ہو جائے…

بڑی اہم ،ضروری اور مؤثر دعاء ہے … تجربہ میں آیا ہے کہ جب دل پر غم، مایوسی اور بے بسی کے احساس کا حملہ ہو تو یہ دعاء مانگی جائے…بہت فائدہ ہوتا ہے…

حسن ظن کے مقامات

حضرت ابو العباس القرطبی ؒ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کا مطلب اور اس کے مواقع کو ایک جملے میں سمیٹنے کی کوشش فرمائی ہے…

اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ

٭ دعاء کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دعاء سنتے ہیں اور قبول فرماتے ہیں…

٭ توبہ کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں…

٭ استغفار کے وقت یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مغفرت عطا فرماتے ہیں…

٭ نیک اعمال کو شریعت کے مطابق کرتے وقت یہ یقین ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو رہے ہیں…

یہ سارے یقین اس وجہ سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں اور اس کا فضل بے شمار ہے…یعنی جب انہوں نے خود فرما دیا کہ ہم توبہ قبول فرماتے ہیں…بلکہ چاہتے ہیں کہ تمہاری توبہ قبول فرمائیں…ہم استغفار کرنے والوں کو مغفرت عطا فرماتے ہیں…ہم دعاء سنتے ہیں اور پوری فرماتے ہیں…ہم اپنے بندوں کے اعمال کی قدر کرتے ہیں…اور ہمارا فضل بہت عظیم اور بہت بڑا ہے تو پھر بندے کو شک کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جو شک کرے گا اپنا ہی نقصان کرے گا…فرما دیا کہ … ہمارا بندہ ہم سے جو گمان رکھے گا، ہم اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائیں گے …

آئیے! پھر دعاء مانگ لیں:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ صِدْقَ التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ

’’الیٰ مغفرۃ‘‘

آج جس کتاب کی بات چل رہی ہے…اس کا نام ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ ہے…سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا:

سَارِعُوا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ

دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف

اور سورۃ الحدید میں فرمایا گیا:

سَابِقُوا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ

سبقت کرو اپنے رب کی مغفرت کی طرف…

اس میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں…

پہلی بات تو یہ کہ ان آیات سے ثابت ہوا کہ…ہم آج کل جہاں ہیں یہ ہماری جگہ نہیں…یہ ہمارے رہنے کا مقام نہیں…یہ ہماری کامیابی کا میدان نہیں…ہمیں یہاں سے دوڑ کر کسی اور طرف جانا ہے…جہاں ہمارے لئے راحت ہے اور بڑی کامیابی…

پس ثابت ہوا کہ …سب سے پہلے ہمیں اس  دنیا میں رہنے، یہاں فٹ اور سیٹ ہونے اور یہاں سب کچھ بنانے کا خیال اپنے دل سے نکالنا ہو گا…

اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں کہ…اس میں یہاں رہنے اور بسنے کی فکر زیادہ ہے یا یہاں سے بھاگ کر کامیابی والے گھر کو بسانے کی فکر زیادہ ہے؟…

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ…انسان کو بہت جلدی جلدی اور بہت تیز تیز وہ اعمال کرنے چاہئیں جن سے مغفرت اور جنت ملتی ہو…بالغ ہونے کے بعد سستی عذاب ہے…وقت گزر رہا ہے…انسان کو چاہیے کہ آرام اور طعام میں زیادہ وقت برباد نہ کرے… اپنے ذہن پر ایک طرح کی جلدی سوار کرے…یہ جلدی نیک اعمال میں ہو کیونکہ ہمارے رب نے حکم فرما دیا کہ… آہستہ نہیں …بلکہ ’’سَارِعُوا‘‘ بہت تیز دوڑو…’’سَابِقُوا ‘‘ سبقت کرو… جنہوںنے اس حکم کو مانا وہ تھوڑی سی عمر میں بڑے بڑے کام کر گئے …اور جنہوں نے اس حکم کو نظر انداز کیا …وہ لمبی عمر پا کر بھی کچھ نہ کر سکے… حضرت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے جب بیت المقدس کو آزاد کرانے کا عزم کیا تو …اپنے اوپر بہت سے جائز اور حلال کام بھی ممنوع کر لئے…تاکہ مغفرت اور جنت والے کام میں تاخیر نہ ہو جائے…

تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ… دنیا مقابلے کی جگہ ہے…کھیلوں کے مقابلے، شکل و صورت کے مقابلے…مال و دولت کے مقابلے… حسب و نسب کے مقابلے…دنیا کے اکثر لوگ ان مقابلوں میں لگ کر برباد ہوتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ’’مقابلہ بازی‘‘ کا شوق رکھا ہے…تو ان آیات میں سمجھا دیا کہ مقابلہ ضرور کرو  مگر کھیل کود اور مال و دولت میں نہیں…بلکہ مغفرت پانے میں…جنت پانے میں… دین کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھو!…اور مقابلہ کر کے ،دوڑ لگا کر ان سے آگے بڑھنے کی فکر کرو … اور دنیا کے معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے کمزور افراد کو دیکھو… اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی کو کافی سمجھو…

حضرات مفسرین نے …ان دونوں آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ …مغفرت کی طرف دوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ …اُن اسباب کی طرف دوڑو جن سے مغفرت ملتی ہے… ایمان، اخلاص،جہاد میں ثابت قدمی، سود سے توبہ کرنا…کثرت سے استغفار کرنا …وغیرہ… مغفرت کے اسباب کون کون سے ہیں؟

آپ جب ’’ الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں گے تو آپ کے سامنے ’’ اسباب مغفرت‘‘ کی پوری فہرست آ جائے گی…اور وہ کون سے اسباب ہیں جن کی نحوست سے انسان مغفرت سے محروم ہو جاتا ہے… ان کی تفصیل بھی اس کتاب میں موجود ہے…اس کتاب کا ایک بڑا مقصد یہی ہے کہ…مسلمانوں کو ’’مغفرت‘‘ کا مقام اور اس کی ضرورت معلوم ہو …اُن میں مغفرت پانے کا جنون پیدا ہو …ان کو مغفرت مانگنے کی عادت نصیب ہو… اور وہ مغفرت کی طرف بھاگ بھاگ کر لپکنے والے بن جائیں …یاد رکھیں …ایک مسلمان کو ’’مغفرت‘‘ مل جائے تو اسے سب کچھ مل گیا… اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو گیا…

استغفر اللہ،استغفر اللہ،استغفر اللہ

یا اللہ! آپ سے مغفرت کا سوال ہے… مغفرت کا سوال ہے … مغفرت کا سوال ہے…

رکاوٹوں بھرا سفر

’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کتاب لکھتے وقت خود اپنی ذات کو بڑا فائدہ ہوا

الحمد للہ، الحمد للہ

پھر جن ساتھیوںنے اس کتاب میں معاونت کی… انہوں نے بتایا کہ کتاب کی تصحیح اور ترتیب کے دوران ان اوراق کو پڑھنے سے بہت فائدہ ہوا…یہ بات کئی افراد نے بتائی…

الحمد للہ، الحمد للہ

مگر اس کے باوجود کتاب میں تاخیر ہوتی چلی گئی … یقیناً یہ میری سستی اور کم ہمتی تھی …

استغفر اللہ، استغفر اللہ

دراصل کتاب شروع کرنے کے بعد سے لے کر…اس کی اشاعت تک بہت حوصلہ شکن رکاوٹیں آتی چلی گئیں… دل بے چین تھا کہ یہ کتاب جلدی آ جائے مگر ہر قدم پر کوئی رکاوٹ سامنے آ جاتی… اسی میں کئی سال بیت گئے… اسی دوران کئی افراد نے کتاب کا مسودہ پڑھ لیا اور کتاب جلد تیار کرنے کی فرمائش کی…اللہ تعالیٰ ان تمام افراد کو اپنی مغفرت اور جزائے خیر عطا فرمائے…جنہوں نے مختلف طریقوں سے اس کتاب کی تیاری اور اشاعت میں معاونت کی…بندہ ان سب کا دل سے شکر گزار ہے… مگر آخری سیڑھی بہت اہم ہوتی ہے… یہ سیڑھی انسان عبور کر لے تو پچھلا سارا سفر کا میاب ہو جاتا ہے… لیکن اگر اسی سیڑھی پر اٹک جائے تو پچھلا سفر بھی ندامت اور حسرت بن جاتا ہے… اس لئے آخری سیڑھی پر سہارا بننے والے کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے…برادر عزیز مولانا طلحہ السیف کی قسمت میں یہ نیکی آئی اور انہوں نے آخری سیڑھی کے مرحلے پر …اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محنت،جانفشانی اور معاونت کا حق ادا کیا … کتاب کے بکھرے مواد کو مرتب کیا، بار بار پڑھ کر تصحیح اور کتابت کے مراحل سے گذارا…اور ان کی اس محنت کو دیکھ کر مجھے ہمت ملی کہ کتاب کے حصہ اول کو لکھنے بیٹھ گیا…اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت اور بہترین بدلہ عطا فرمائیں…بندہ کے مکتب اور معاون نے بھی بہت محنت کی…اور آخر میں شعبہ نشریات کے ذمہ داروں نے دل وجان لگا کر…کتاب کو تیار کیا…

بندہ ان سب کے لئے …اور وہ معاونین جن کا تذکرہ نہیں آ سکا … سب کے لئے دل کی گہرائی سے دعاء گو اور شکر گزار ہے…

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلَھُمْ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلَھُم،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَلَھُم

وہ جو رہ گیا

ارادہ تھا کہ کتاب میں یہ چند چیزیں بھی شامل کی جائیں

(۱) قرآن مجید میں آنے والے وہ اسماء الحسنی جن کا تعلق ، مغفرت، توبہ اور معافی سے ہے… ان اسماء الحسنی کے تفصیلی معانی اور معارف لکھنے کا ارادہ تھا مثلاً

الغفور،الغفار،التواب،العفو،واسع المغفرۃ،اہل المغفرۃ،خیر الغافرین

(۲) حضرات انبیاء علیہم السلام کے استغفار کو قرآن مجید نے بہت اہتمام سے بیان فرمایا ہے…ان کی الگ فہرستیں بنا کر…ان کے معارف لکھنے کا ارادہ تھا… مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لئے بار بار استغفار فرمایا…پھر اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا تو اس سے رک گئے…مگر اس کے باوجود قرآن مجید بار بار ان کے اس استغفار کو بیان فرماتا ہے… اس میں بڑے اہم نکتے ہیں…اگر ہر مسلمان بیٹا اپنے والد کا ایسا خیر خواہ بن جائے تو وہ کتنے اونچے مقامات پا سکتا ہے… کاش مسلمان بیٹے اور بیٹیاں اپنے مسلمان والدین کے لئے اسی اہتمام سے استغفار کرنے والے بن جائیں…

(۳) توبہ اور استغفار کے بارے میں آیات تو بہت ہیں…آپ ’’الیٰ مغفرۃ ‘‘ کا مطالعہ کریں گے تو تقریباً سب آیات سامنے آ جائیں گی … مگر ان میں سے بعض آیات …توبہ اور استغفار پر بہت سے الٰہی قوانین اور نکات پر مشتمل ہیں…ارادہ تھا کہ ایسی دس آیات کی تفسیر مفصل لکھ دی جائے

(۴) توبہ اور استغفار دونوں کا معنی ایک ہے…یا دونوں میں فرق ہے؟ یہ بات ’’الیٰ مغفرۃ‘‘ میں واضح کر دی گئی ہے… مگر اس میں اور بہت سی تفاصیل تھیں جو تیاری کے باوجود نہ آ سکیں…

دراصل رکاوٹیں زیادہ تھیں…اور کتاب میں مسلسل تاخیر ہو رہی تھی …اس لئے جو کچھ تیار تھا اسی کو پیش کر دیا گیا …

الحمد للہ، استغفر اللہ،الحمد للہ، استغفر اللہ

اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ … اس کتاب سے مجاہدین کو جہاد میں ترقی اور استقامت کا راستہ ملے گا… سلوک و احسان کا ذوق رکھنے والوں کو معرفت کا آئینہ نصیب ہو گا…مایوسی کے گڑھوں میں سسکنے والوں کو امید کی سیڑھی ہاتھ آئے گی… گناہوں میں پھنسے اور الجھے ہوئے مسلمانوں کو دلدل سے باہر نکلنے کی راہ نظر آئے گی… مصائب اور پریشانیوں میں مبتلا مسلمانوں کو… روشنی اور راحت کا جزیرہ دکھائی دے گا…  ان شاء اللہ… 

اور اہل دل کو دل کی غذا ملے گی… کیونکہ یہ قرآن مجید کی دعوت ہے…یہ احادیث مبارکہ کی روشنی ہے… اور یہ مسلمانوں کی ایک اہم ترین ضرورت ہے…یا اللہ! قبول فرما …یا اللہ! مغفرت نصیب فرما…

آمین یاخیرالغافرین

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor