Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مبارک مہینے کا نصاب (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 500 - Saadi kay Qalam Say - Mubarak maheene ka nisab

مبارک مہینے کا نصاب

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 500)

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کو سمجھنے ، پانے ،منانے…اور کمانے کی توفیق عطاء فرمائے…

جھوٹ کے سمندر

ہم آج کل جس ماحول میں ہیں…وہ گویا کہ جھوٹ کا ایک ناپاک سمندر ہے…

سیاست جھوٹ، تجارت جھوٹ، تفریح جھوٹ … بس ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ…

 

جھوٹ کوئی چھوٹا گناہ تو ہے نہیں…یہ تو لعنت ہے لعنت… محرومی ہے محرومی اور اندھیرا ہے اندھیرا…فرمایا: مومن سے ہر گناہ ہو سکتا ہے مگر مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا… مگر اب تو ہر ہاتھ میں کئی کئی موبائل… اور ہر موبائل جھوٹ کا پہاڑ … ابھی چند دن پہلے عراق کے ایک شہری نے…جو برطانیہ میں مقیم ہے…فیس بک پر ایک جھوٹ چھوڑ دیا…’’شجوہ‘‘ نامی قبضے سے دولت اسلامیہ پسپا … قصبے پر عراقی حکومت کا قبضہ مستحکم… علاقہ چھوڑ کرجانے والے افراد واپس شجوہ کی طرف رواں دواں…دولت اسلامیہ کو ذلت آمیز شکست… اس نے اس جھوٹی خبر کے ساتھ چند نقشے اور تصویریں بھی لگا دیں… بس پھر کیا تھا…لاکھوں افراد اس خبر کو نشر کرنے لگے…کئی افراد نے تو اس جھوٹی دیگ میں مزید چاول بھی ڈال دئیے کہ… شجوہ کی لڑائی میں اتنے مجاہدین مارے گئے … عراقی اور ایرانی شیعوں کی ویب سائٹوں پر فوراً … فتح مبارک کے ہیش ٹیگ لگ گئے… کئی افراد نے اس جنگ میں شرکت کرنے اور بہادری دکھانے کے دعوے بھی نشر کر دئیے… تین چار دن یہ طوفان برپا رہا…تب اس عراقی شہری نے لکھا کہ…میں آپ سب سے معذرت چاہتا ہوں… عراق میں شجوہ نام کا کوئی شہر،قصبہ یا علاقہ ہے ہی نہیں… عراقی زبان میں شجوہ ’’پنیر‘‘ کو کہتے ہیں جو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے… میں نے مذاق میں یہ خبر گھڑی تھی… اب میں شرمندہ ہوں…ازراہ کرام! یہ سلسلہ بند کیا جائے…

انداہ لگائیں کہ …جھوٹ کہاں تک ترقی کر گیا… ابھی ایک کمپنی پکڑی گئی ہے…جو بڑی بڑی تعلیمی سندیں اور ڈگریاں جاری کرتی تھی … معلوم ہوا کہ اس نے جو یونیورسٹیاں بنا رکھی تھیں … ان کا روئے زمین پر وجود ہی نہیں ہے…وہ سب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر قائم تھیں…اور سالہا سال سے تعلیمی اسناد جاری کر رہی تھیں… جی ہاں! وہی ڈگریاں جن کے فخر میں قرآن و سنت کی تعلیم کا (نعوذباللہ) مذاق اڑایا جاتا ہے…

آج کل کئی دن سے بی بی سی پر ایک خبر لگی ہوئی ہے…اور ایسی مضبوط لگی ہے کہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی… حالانکہ جب کابل کے گیسٹ ہاؤس کو مجاہدین نے نشانہ بنایا تو وہ خبر صرف چند گھنٹے رہی … پھر اُڑا دی گئی… اسی طرح مجاہدین کی دیگر کارروائیوں والی خبریں…یا تو لگتی ہی نہیں … اور اگر کسی مجبوری سے لگانی پڑیں تو…دوچار گھنٹوں میں انہیں ہٹا دیا جاتا ہے…مگر یہ خبر کئی دن سے لگی ہوئی ہے کہ…ایران،طالبان کی مدد کر رہا ہے…یہ خبر یہودی اخبار ’’وال سٹریٹ جنرل‘‘ نے گھڑی ہے… ایران، افغانستان کے طالبان کو اسلحہ بھی دے رہا ہے اور پیسے بھی… اندازہ لگائیں …کیسی جھوٹی اور فتنہ انگیز خبر ہے… ایران امارت اسلامی افغانستان کا ہمیشہ سے عملی دشمن رہا ہے… اور اب بھی اس کی یہ دشمنی ٹھنڈی نہیں پڑی… مگر امارت اسلامیہ افغانستان کو بدنام کرنے…اور افغانستان میں ’’دولت اسلامیہ‘‘ کے جنگجو کھڑے کرنے کے لئے …یہ خبر بنائی گئی ہے…تاکہ مجاہدین کو آپس میں لڑایا جا سکے… اور لوگوں میں یہ بات عام ہو کہ امارت اسلامی افغانستان… ایران کی حامی ہے اس لئے اس کے خلاف بھی (نعوذباللہ) جہاد کیا جائے…

الغرض …ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے … ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ… سچائیوں ،رحمتوں اور مغفرتوں سے بھرپور مہینہ رمضان المبارک تشریف لا رہا ہے…تاکہ ہم جھوٹ کے سمندر سے بچ کر… سچ اور رحمت کے جزیرے پر آئیں…اور اپنے محبوب رب سے ’’مغفرت‘‘ کا انعام پائیں… اس لئے جھوٹ کے تمام آلات بند کر دیں…جھوٹ پڑھنا، جھوٹ دیکھنا، جھوٹ سننا اور جھوٹ بولنا سب کچھ بند کر دیں … اپنے ٹچ موبائل بند کر کے تالوں میں ڈال دیں … اخباروں ، کالموں ، ڈراموں اور ویڈیو… سب سے تعلق توڑ لیں… اور مغفرت کے موسم سے…خوب خوب فیض یاب ہوں…

کیا معلوم اگلا رمضان ملے گا یا نہیں…

رمضان اور جہاد فی سبیل اللہ

رمضان المبارک اور جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق اور رشتہ بہت گہرا ہے… غزوہ بدر جیسا عظیم معرکہ جو قرآن پاک کا خاص موضوع ہے… رمضان المبارک میں برپا ہوا… حج عمرے کی سعادتیں ساری امت کو’’فتح مکہ‘‘ کی برکت سے ملیں… اور فتح مکہ کا غزوہ رمضان المبارک میں ہوا… وہ بڑے بڑے بت جن سے …ایک دنیا گمراہ تھی …رمضان المبارک میں گرائے گئے… اکثر مورخین کے نزدیک جہاد کا مبارک آغاز بھی رمضان المبارک میں ہوا… جب آپ ﷺ نے …اپنے چچا جان محترم حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں …اسلام کا پہلا سریہ روانہ فرمایا… عصماء یہودیہ کے قتل کا واقعہ بھی… رمضان المبارک کا مبارک کارنامہ ہے…یہ دشمن دین خاکہ پرست گمراہ عورت تھی…اسلامی غیرت کا شاہکار سریہ …’’ام قرفہ‘‘ بھی رمضان المبارک میں پیش آیا اور سریہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ…جویمن کی طرف بھیجا گیا تھا…وہ بھی رمضان المبارک میں لڑا گیا… اس سریہ کی خاص بات یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو ’’امیر لشکر‘‘ مقرر فرمایا اور پھر اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر عمامہ باندھا…

رمضان اور جہاد کی ایک اور بڑی مناسبت …جو قرآن مجید کے الفاظ سے سمجھ آتی ہے…وہ یہ کہ… دونوں کی فرضیت کے لئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے گئے …

فرمایا: کتب علیکم الصیام…تم پر روزہ فرض کر دیا گیا… بالکل اسی طرح فرمایا …کتب علیکم القتال… کہ تم پر جہاد فرض کر دیا گیا… اہل تفسیر نے اس میں بہت عجیب نکتے لکھے ہیں … اگر ہم وہ لکھنے میں مشغول ہوئے تو آج کا اصل موضوع رہ جائے گا… بس اتنا یاد رکھیں کہ… قرآن مجید کی ایک ہی سورت…یعنی سورہ بقرہ میں جہاد کی فرضیت بھی موجود ہے… اور رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت بھی… پس دونوں اسلام کے قطعی فریضے ہیں…اور کتب علیکم کے لفظ سے بہت تاکیدی فرضیت معلوم ہوتی ہے … کتب علیکم الصیام کہ تم پر روزہ پورا کا پورا ڈال دیا گیا ہے کہ…یہ روزہ دل سے بھی رکھو، زبان سے بھی…کانوں سے بھی…آنکھوں سے بھی…جسم سے بھی اور روح سے بھی…

بہت آسان نصاب

ہم رمضان المبارک کو کیسے پا سکتے ہیں؟… بڑے لوگوں نے تو بہت محنتیں فرمائیں… ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کے رمضان کا حال پڑھتے ہیں تو شرم اور ندامت سے پانی پانی ہو جاتے ہیں… اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو اپنے نفس کو فائدہ پہنچائیں اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کا رسالہ… فضائل رمضان ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں… اور کچھ نہیں تو کم از کم رمضان  المبارک کا احساس اور شعور ضرور پیدا ہو جائے گا … اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو موبائل اورنیٹ کی لعنت سے بچائے…اور صرف اس کے ضروری اور مفید استعمال کی توفیق عطاء فرمائے… اس ظالم نے علم اور مطالعہ کے اوقات کو برباد کر دیا ہے… رمضان المبارک کے بارے میں قرآنی آیات … اور احادیث مبارکہ پڑھ کر بندہ نے ایک مختصر دس نکاتی نصاب نکالاہے… آپ ایک کاغذ پر یہ نصاب لکھ لیں…اور روزانہ رات کو اپنا محاسبہ کریں کہ…ہم نے اس پر کتنا عمل کیا…بے حد آسان اور ممکن نصاب ہے… پھر اللہ تعالیٰ جس کو توفیق عطاء فرمائے وہ مزید جو کچھ کر سکتا ہو…کرتا چلا جائے…

ہم نے رمضان المبارک میں ان شاء اللہ یہ دس کام روزانہ کرنے ہیں…

(۱)روزہ… یہ فرض ہے اور یہی رمضان المبارک کی اصل عبادت ہے…ساری زندگی کے نفل روزے رمضان المبارک کے ایک فرض روزے کے برابر نہیں ہو سکتے…

(۲) پانچ نمازوں کا باجماعت تکبیر اولیٰ سے اہتمام… ویسے تو یہ ہمیشہ کرنا چاہیے مگر رمضان المبارک میں اسے ایک لازمی سعادت کے طور پر دیکھا جائے کہ جو ہر حال میں حاصل کرنی ہے ان شاء اللہ… یہ عمل ہمارے لئے پورے رمضان کو پانے اور کمانے کا ذریعہ بن  جائے گا…

(۳) تراویح… عشاء کی نماز کے بعد باجماعت بیس رکعات… یہ رمضان المبارک کا خاص تحفہ اور انعام ہے… اور اس میں ایک قرآن پاک پڑھنا یا سننا ایک مستقل سنت ہے…

(۴) قرآن پاک کی تلاوت اور قرآن پاک سے خاص تعلق …یہ بڑا مبارک عمل ہے…آگے چل کر ہم اسے کچھ تفصیل سے عرض کریں گے… اگر ہم اپنے ساتھ قبر اور آخرت میں پورا قرآن یا کچھ قرآن لے جانا چاہتے ہیں تو رمضان المبارک میں یہ نعمت پانا آسان ہے…

(۵) سحری کھانے کا اہتمام… سحری کے بہت فضائل اور برکات ہیں یہ ہرگز نہیں چھوڑنی چاہیے…مگر سحری رات کے آخری حصے میں کریں اور زیادہ دبا کر نہ کھائیں کہ سارا دن ڈکار بجاتے رہیں…

(۶) افطار کرانے کا اہتمام… یہ رمضان المبارک میں مغفرت کا خاص تحفہ ہے کہ آپ کسی مسلمان کو افطار کرائیں …خواتین کے تو مزے ہیں ان کو اپنے گھر والوں اور بچوں کو افطار کرانے کا اجر ملتا ہے… کیونکہ وہ اس قدر محنت سے افطار تیار کرتی ہیں…کسی روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت بہت زیادہ ہے… جب دل میں یہ فضیلت حاصل کرنے کا جذبہ ہو…اور یہ شعور ہو کہ اس عمل کی برکت سے مجھے مغفرت مل سکتی ہے تو … انسان خود ہی اپنی استطاعت کے مطابق بہت سے طریقے نکال سکتا ہے… بعض لوگوں کو دیکھا کہ عین افطار کے وقت کسی ویران جگہ جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں …چند کھجوریں،ٹھنڈا پانی یا شربت لے کر…اور پھر اس وقت جو وہاں سے گزرتا ہے اسے افطار کراتے ہیں… آپ افطار کے موقع پر …بعض لوگوں کی جو پُر تکلف دعوتیں کرتے ہیں … اگر اسی رقم سے عمومی افطاری تیار کریں تو… درجنوں افراد کو افطار کرا سکتے ہیں… کئی لوگوں کو دیکھا کہ اس حرص میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ کے پیارے مجاہدین کو …محاذ اور تربیت گاہوں تک افطار پہنچائیں …ہمارے کچھ دوست …جامع مسجد عثمانؓ و علیؓ کے معتکفین کے افطار اور سحر کا انتظام کرتے ہیں تو سچی بات ہے ان پر رشک آتا ہے…

بہرحال یہ ایک ایسا عمل ہے کہ… جو صرف رمضان المبارک میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے… عام دنوں میں آپ کھانے کا پورا ٹرک تقسیم کر دیں تو رمضان المبارک میں کسی روزہ دار کو کھلائی گئی ایک روٹی کے برابر نہیں ہو سکتا…عام دنوں میں بھی روزہ رکھنے والوں کو…اگر آپ افطار کرائیں تو وہ بھی اجر کا کام ہے… مگر رمضان المبارک کی افطاری… بہت بڑی چیز ہے… بہت مبارک، بہت خاص…یا اللہ! وسعت اور توفیق عطاء فرما…

(۷) چار چیزوں کی کثرت پہلی چیز …لا الہ الا اللہ کا ورد… دوسری چیز!استغفار تیسری چیز اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال… چوتھی چیز جہنم سے پناہ مانگنا…

(۸) جہاد میں وقت لگانا…یہ اوپر رمضان المبارک اور جہاد کے تعلق میں اشارتاً آ چکا ہے… جہادی محنت میں وقت لگانا… جہاد میں مال لگانا … صدقہ خیرات اور مسلمانوں کے ساتھ غمخواری کرنا، ان کی حتی الوسع مدد کرنا…

(۹) اپنے ملازموں ،ماتحتوں ،گھر والوں پر کام کے معاملے میں نرمی، آسانی اور تخفیف کرنا … کسی مسلمان پر بوجھ زیادہ ہو تو اس کا بوجھ ہلکا کرنے میں مدد کرنا…

(۱۰) شراب خوری، والدین کی نافرمانی،رشتہ داروں سے قطع رحمی…مسلمانوں سے بغض رکھنا …جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا…ان چھ گناہوں سے خاص طور پر بچنا چاہیے کیونکہ یہ رمضان المبارک میں روزہ کی خرابی اور مغفرت سے محرومی کا ذریعہ بن جاتے ہیں…

یہ ہے وہ بہت آسان سا نصاب جو ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے ممکن ہے…خواتین نمازوں کو اہتمام سے اول وقت ادا کریں تو ان کا اجر باجماعت ادا کرنے والے مردوں کی طرح ہے … باقی جو اہل ہمت ہیں…ان کے لئے رمضان المبارک کمانے کا سیزن ہے…اعتکاف،قیام اللیل،نوافل،صدقات ، مجاہدے ، ریاضتیں اور بہت کچھ…

تین اوقات باندھ لیں

زندگی کے لمحات چونکہ گنے چنے ہیں…اس لئے ان کو ضائع نہیں کرنا چاہیے…بلکہ ترتیب سے گزارنا چاہیے…اس رمضان المبارک میں تین اوقات باندھ لیں…یعنی اپنے پر یہ عہد لازم کر لیں کہ فلاں تین اوقات میں بس یہ تین کام کرنے ہیں…ان شاء اللہ

(۱) تلاوت کا وقت… اس میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھیں…جن کی تجوید کمزور اور غلط ہو وہ زیادہ تلاوت کی جگہ اس سال اپنا تلفظ درست کریں …اور اسی وقت میں قرآن مجید کا کچھ حصہ یاد بھی کر لیں…یہ وقت ایک گھنٹہ ہو یا کم ،زیادہ

(۲) قرآن سمجھنے کا وقت…اس میں قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں…اچھا ہے کہ کسی عالم سے…اگر اس کی ترتیب نہ بنے تو کسی مستند اردو تفسیر سے…اس عمل کی برکت سے آپ اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنے دل پر آتا محسوس کریں گے…

(۳) چار کاموں کی کثرت کا وقت… اس میں کلمہ طیبہ ،استغفار،جنت کی دعاء اور جہنم سے پناہ … یہ چاروں کام کم از کم تین سو بار سے تین ہزار بار تک…

اس رمضان المبارک میں…بندہ فقیر و محتاج کو بھی اپنی دعاء میں کبھی کبھار یاد کر لیا کریں… آپ کا احسان ہو گا…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول للّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online