Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مرغوب اور مہنگی نعمت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 501 - Saadi kay Qalam Say - Marghoob aur Mehngi Naimat

مرغوب اور مہنگی نعمت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 501)

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو جو بہت قیمتی نعمتیں عطاء فرمائی ہیں…ان میں سے ایک انمول نعمت ’’گرمی کے روزے‘‘ ہیں…

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمْ

اللہ تعالیٰ کے ہاں جن عبادات کی قدر اور قیمت بہت زیادہ ہے…ان عبادات میں گرمی کے روزے بھی شامل ہیں…

سخت گرمی کے روزے!

موت کی سکرات کو ٹھنڈا کرتے ہیں … موت کے وقت کی گرمی سے اللہ تعالیٰ بچائے وہ دل اور جسم کو پگھلا دیتی ہے…

سخت گرمی کے روزے!

قیامت کے دن کی شدید پیاس اور شدید گرمی کے وقت کا ٹھنڈا شربت ہیں…اُس دن سورج سر پر ہو گا… بالکل قریب، نہ کوئی پردہ… نہ کوئی چھت، لوگ اپنے پسینے میں ڈوبتے ہوں گے… کھولتا ہوا گرم پسینہ…تب ان لوگوں کو ٹھنڈے جام پلائے جائیں گے…جو گرمیوں کے سخت روزے خوشی خوشی برداشت کرتے تھے…

سخت گرمی کے روزے!

ایمان کی خصلت اور علامت ہیں…یہ ایمان کی چوٹی تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں…یہ ایمان کی حقیقت کا حصہ ہیں…یعنی جو سچا مومن ہے وہ گرمی کے روزوں سے پیار رکھتا ہے…وہ گرم ترین دن ڈھونڈتا ہے تاکہ اس میں روزہ رکھے … وہ گرمی کے دن روزہ رکھ کر دوپہر کا انتظار کرتا ہے تاکہ…گرمی بڑھے تو پیاس زیادہ ہو…اور پھر وہ اس پیاس میں اپنے رب کے پیار کو تلاش کرتا ہے…

سخت گرمی کے روزے!

مومن کو اس مقام پر لے جاتے ہیں … جہاں اللہ تعالیٰ اس پر فخر فرماتے ہیں اور فرشتوں سے کہتے ہیں کہ… میرے بندے کو دیکھو! …اور اسی دن اللہ تعالیٰ جنت کی حور سے اس مومن کا نکاح کرا دیتے ہیں…

سخت گرمی کے روزے!

ان نعمتوں میں سے ہیں  کہ… جن کی خاطر اللہ تعالیٰ کے خاص بندے دنیا میں زندہ رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ…اگر یہ نعمتیں نہ ہوں تو ہم ایک منٹ زندہ رہنا گوارہ نہ کریں… جہاد میں لڑنا …رات کو تہجد ادا کرنا…نماز کے لئے چل کر مسجد جانا… اور سخت گرم دن کا روزہ رکھنا…

سخت گرمی کے روزے!

ایک مومن کو ’’صبر‘‘ کا اونچا مقام دلاتے ہیں…اس کے عزم اور ہمت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے ایک کارآمد انسان بناتے ہیں…

اللہ کرے! ہمیں بھی گرمی کے روزوں سے عشق نصیب ہو جائے…تاکہ ہم موت اور آخرت کی گرمی سے بچنے کا انتظام کر سکیں…آئیے چند روایات اور چند حکایات پڑھتے ہیں…کیا عجب! ہم بھی اہل محبت کی یہ نشانی پا لیں…

سچے مومن کی چھ صفات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے… ( یعنی حضرت آقا مدنی ﷺ کا فرمان ہے)

چھ صفات جس شخص میں ہوں وہ حقیقی مومن ہے:

(۱) وضو پورا کرنا (۲) بادلوں والے دن نماز میں جلدی کرنا (۳) سخت گرمی میں زیادہ روزے رکھنا (۴) دشمنوں کو تلوار سے قتل کرنا (۵) مصیبت پر صبر کرنا (۶) بحث نہ کرنا اگرچہ تو حق پر ہو ( الدیلمی فی الفردوس)

دوسری روایت میں آپ ﷺ کا فرمان ہے:

چھ خصلتیں خیر والی ہیں:

(۱) اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنا

(۲) گرم دن کا روزہ رکھنا

(۳) مصیبت کے وقت اچھا صبر کرنا

(۴) بحث نہ کرنا اگرچہ تم حق پر ہو

(۵) بادلوں والے دن نماز میں جلدی کرنا

(۶) سردی کے دن اچھا ( یعنی پورا) وضو کرنا ( البیہقی)

ایک اور روایت میں ان صفات کو ایمان کی حقیقت قرار دیا گیا ہے کہ جس شخص کو یہ چھ صفات نصیب ہو جائیں تو وہ ایمان کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے ( رواہ المروزی)

ایک عجیب قصہ

یہ واقعہ حدیث شریف کی کئی کتابوں میں کچھ فرق کے ساتھ مذکور ہے… خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو …سمندری جہاد کے سفر پر بھیجا، آپ اپنے رفقاء کے ساتھ کشتی پر جا رہے تھے کہ …سمندر سے ایک غیبی آواز آئی… کیا میں تمہیں وہ فیصلہ نہ سناؤں جو اللہ تعالیٰ نے اوپر فرمایا ہے؟ …حضرت ابو موسیٰؓ  نے کہا…ضرور سناؤ…آواز دینے والے نے کہا…اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جو شخص خود کو کسی گرم دن…اللہ تعالیٰ کے لئے پیاسا رکھے گا ( یعنی روزہ رکھے گا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم فرمایا ہے کہ …اس کو قیامت کے دن ضرور سیراب فرمائیں گے… حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بعد گرم دنوں کی تلاش میں رہتے تھے…ایسے گرم دن کہ جن میں لوگ مرنے کے قریب ہوں… آپ ایسے دنوں میں روزہ رکھتے تھے… ( رواہ ابن المبارک وابن ابی شیبہ وعبد الرزاق وفی سندہ کلام)

حضرت آقا مدنی ﷺ کا عمل

بخاری اور مسلم کی ایک روایت کا خلاصہ ہے کہ:

حضور اقدس ﷺ ایک گرم دن میں سفر پر تشریف لے گئے ( رمضان المبارک کا مہینہ اور جہاد کا سفر تھا) گرمی اتنی شدید تھی کہ حضرات صحابہ کرام اپنے ہاتھ اپنے سروں پر رکھتے تھے…مگر اس حالت میں بھی حضور اقدس ﷺ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزہ کی حالت میں تھے … اور بھی کئی روایات میں سخت گرمی کے سفر کے دوران آپ ﷺ کا روزہ رکھنا ثابت ہے…اتنی گرمی کہ بعض اوقات آپ ﷺ نے اپنے اوپر پانی بھی ڈالا…تاکہ گرمی کی شدت کچھ کم ہو…

حضرت ابو بکرؓ و عمرؓکا عمل

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تو مستقل یہ معمول تھا کہ:

’’گرمی کے موسم میں روزے رکھتے تھے اور سردیوں میں افطار فرماتے‘‘

یعنی نفل روزوں کے لئے گرمی کے موسم کو منتخب فرما رکھا تھا…حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بھی سخت گرمیوں میں روزے رکھنے کا معمول تھا…حتی کہ سفر میں جب گرم لو کے تھپیڑے آپ کو ایذاء پہنچا رہے ہوتے تھے تو آپ روزہ کی حالت میں ہوتی تھیں…

جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت کے قریب اپنے بیٹے ’’عبد اللہ‘‘ کو وصیت فرمائی کہ اے پیارے بیٹے… ایمان والی صفات کو لازم پکڑنا…انہوں نے عرض کیا…اے پیارے ابا جی! وہ کونسی صفات ہیں…ارشاد فرمایا

(۱) سخت گرمی میں روزہ رکھنا

(۲) دشمنوں کو تلوار سے قتل کرنا ( یعنی اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو)

(۳) مصیبت پر صبر کرنا

(۴) سرد دنوں میں پورا وضو کرنا

(۵) بادلوں والے دن نماز میں جلدی کرنا

(۶) شراب نہ پینا

( ابن سعد فی الطبقات)

مجھے گرمی لوٹا دو

حضرت عامر بن عبد قیس رضی اللہ عنہ … حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دعوت پر بصرہ سے شام منتقل ہو گئے… وہاں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بار بار پوچھتے کہ کوئی حاجت، خدمت ہو تو بتائیں…مگر حضرت عامر کچھ نہ مانگتے …جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اصرار بڑھا تو حضرت عامرؓ نے فرمایا: مجھے بصرہ کی گرمی لوٹا دیجئے تاکہ مجھے سخت روزے نصیب ہوں… یہاں آپ کے ہاں روزہ بہت آسان گذر جاتا ہے… حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ …سخت گرمیوں میں نفل روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات بے ہوشی اور غشی طاری ہو جاتی …مگر روزہ نہ توڑتے … اور جب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو فرمایا:اپنے پیچھے ایسی کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جا رہا کہ …جس کے چھوڑنے کا افسوس ہو…سوائے دو چیزوں کے …ایک گرمی کے روزہ میں دوپہر کی پیاس… اور دوسرا نماز کے لئے چلنا… ( بس ان دو چیزوں کے چھوٹنے کا افسوس ہے) ( ابن ابی شیبہ)

اسی طرح کی روایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی ہے کہ وہ اپنی وفات کے وقت اس بات پر افسوس فرما رہے تھے کہ… اب گرمی کے روزے کی پیاس نصیب نہیں ہو گی…

میں کب آپ کی دلہن بنی؟

امام ابن رجب حنبلیؒ لکھتے ہیں…

جنت کی حور اپنے اللہ کے ولی خاوند سے پوچھے گی …کیا آپ کو معلوم ہے کہ کس دن مجھے آپ کے نکاح میں دیا گیا؟…یہ سوال و جواب اس وقت ہو گا جب وہ دونوں جنت میں …شراب کی نہر کے کنارے شان سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے…اور حور جام بھر بھر کر اپنے خاوند کو پلا رہی ہو گی…حور اپنے سوال کا جواب خود ہی دے گی … وہ ایک گرم دن تھا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو روزہ کی سخت پیاس میں دیکھا تو فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر فرمایا…میرے بندے کو دیکھو! اس نے میری خاطر اور میرے پاس موجود نعمتوں کی رغبت میں …اپنی بیوی، لذت،کھانا اور پینا سب کچھ چھوڑا ہوا ہے…تم گواہ رہو کہ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے…پس اس  دن اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت فرمائی …اور مجھے آپ کے نکاح میں دے دیا…

آخری بات

یہ موضوع بہت میٹھا اور مفصل ہے…ابھی مزید کچھ قصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر رمضان کے مبارک اوقات میں اختصار ہی بہتر ہے…آج کل ہم سب کو گرمی کے روزے نصیب ہیں…یہ بڑی مہنگی نعمت ہے جو پیسوں سے نہیں خریدی جا سکتی… اس نعمت کی قدر کریں…خوشی اور شکر سے روزے رکھیں… جو تھوڑی بہت تکلیف آئے وہ خندہ پیشانی سے برداشت کریں…شیطان کے اس جال میں کوئی نہ پھنسے کہ…یہ روزے میرے بس میں نہیں ہیں…کئی مرجی قسم کے مفکر بھی یہی فتوی دیتے ہیں… یہ سب ہمیں اس انمول نعمت سے محروم رکھنا چاہتے ہیں…اگر گرمی کے روزے ہمارے بس میں نہ ہوتے …تو ہمارا رحیم و مہربان رب کبھی ہم پر یہ روزے فرض نہ فرماتا… جب اللہ تعالیٰ نے یہ روزے فرض فرمائے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ روزے ممکن ہیں… اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے سخت گرمی میں روزے بھی رکھتے ہیں اور مزدوری بھی کرتے ہیں… اور ساتھ خوشی اور شکر بھی ادا کرتے ہیں…دین کے دیوانے گرمی کے روزوں کے ساتھ ’’ مہم ‘‘ کی محنت اور حکمرانوں کے ’’جبر‘‘ کو بھی جھیل رہے ہیں…اللہ تعالیٰ ہمت، قبولیت، استقامت اور بہت جزائے خیر عطا فرمائے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor