Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

اہم محنت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 502 - Saadi kay Qalam Say - Aham Mehnat

اہم محنت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 502)

اللہ تعالیٰ ’’بخل‘‘ اور ’’لالچ‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے

اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ

بخل یعنی کنجوسی کی بیماری تین وجوہات سے پیدا ہوتی ہے:

(۱) مال کی محبت

(۲) زیادہ زندہ رہنے کا شوق ،لمبی تمنائیں

(۳) بے وقوفی…کم عقلی

 

ایک دلچسپ قصہ

ہمارے ہی زمانے کا یہ قصہ کسی نے نقل کیا ہے … ایک صاحب کو انگور بہت پسند تھے… صبح اپنی فیکٹری جاتے ہوئے انہیں راستے میں اچھے انگور نظر آئے…انہوں نے گاڑی روکی اور دوکلو انگور خرید کر نوکر کے ہاتھ گھر بھجوا دئیے اور خود اپنی تجارت پر چلے گئے… دوپہر کو کھانے کے لئے واپس گھر آئے…دستر خوان پر سب کچھ موجود تھا مگر انگور غائب… انہوں نے انگوروں کا پوچھا… گھر والوں نے بتایا کہ وہ تو بچوں نے کھا لئے…کچھ ہم نے چکھ لئے…معمولی واقعہ تھا مگر بعض معمولی جھٹکے انسان کو بہت اونچا کر دیتے ہیں… اور اس کے دل کے تالے کھول دیتے ہیں… وہ صاحب فوراً دستر خوان سے اٹھے… اپنی تجوری کھولی، نوٹوں کی بہت سی گڈیاں نکال کر بیگ میں ڈالیں اور گھر سے نکل گئے… انہوںنے اپنے کچھ ملازم بھی بلوا لئے …پہلے وہ ایک پراپرٹی والے کے پاس گئے … کئی پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ منتخب کیا…فوراً اس کی قیمت ادا کی…پھر ٹھیکیدار اور انجینئر کو بلایا … جگہ کا عارضی نقشہ بنوا کر ٹھیکیدار کو مسجد کی تعمیر کے لئے… کافی رقم دے دی… اور کہا دو گھنٹے میں کھدائی شروع ہونی چاہیے…وہ یہ سب کام اس طرح تیزی سے کر رہے تھے…جیسے آج مغرب کی اذان تک ان کی زندگی باقی ہو…ان کاموں میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں… مگر جب دل میں اخلاص کی قوت ہو… ہاتھ بخل اور کنجوسی سے آزاد ہو تو… مہینوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے ہیں…ایک صاحب ’’نو مسلم‘‘ تھے… ان کو نماز کی تکبیر اولیٰ پانے کا عشق تھا… ایک بار وضو میں کچھ تاخیر ہو گئی… نماز کے لئے اقامت شروع ہوئی تو وہ وضو خانے سے دیوانہ وار شوق میں مسجد کے صحن کی طرف بڑھے…جلدی میں وہ وضو خانے کی ایک دیوار کے سامنے آ گئے تو ان کا ہاتھ لگتے ہی وہ دیوار اچانک بیٹھنے اور گرنے لگی… وہ تیزی سے ایک طرف ہو کر گزر گئے…نماز کے بعد سب لوگ حیران تھے کہ اس دیوار کو کیا ہوا…وہ نو مسلم صاحب فرماتے ہیں کہ جب سب لوگ چلے گئے تو میں نے جا کر دیوار پر زور لگانا شروع کیا کہ …کسی طرح سیدھی ہو جائے… مجھے خیال تھا کہ چونکہ میرے ہاتھوں سے یہ ٹیڑھی ہوئی ہے تو میں ہی اس کو سیدھا کر سکتا ہوں…مگر بار بار زور لگانے کے باوجود دیوار سیدھی نہ ہوئی…

تب سمجھ آیا کہ…نماز کو جاتے وقت میرے اندر اخلاص اور شوق کی جو طاقت تھی…اس نے اتنی مضبوط دیوار کو ہلا دیا تھا…اور اب وہ طاقت موجود نہیں ہے… یہی صورتحال تاجر صاحب کے ساتھ بھی ہوئی… اخلاص اور شوق کی طاقت نے …چند گھنٹوں میں سارے کام کرا دئیے… بہترین موقع کا پلاٹ بھی مل گیا… اچھا انجینئر اور اچھا ٹھیکیدار بھی ہاتھ آ گیا… اور مغرب کی اذان سے پہلے پہلے کھدائی اور تعمیر کا کام بھی شروع ہو گیا …شام کو وہ صاحب واپس گھر آئے تو گھر والوں نے پوچھا کہ آج آپ کھانا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟… کہنے لگے… اپنے اصلی گھر اور اصلی رہائشی گاہ کا انتظام کرنے…اور وہاں کھانے پینے کا نظام بنانے گیا تھا…الحمد للہ سارا انتظام ہو گیا … اب سکون سے مر سکتا ہوں… آپ لوگوں نے تو میری زندگی میں ہی… انگور کے چار دانے میرے لئے چھوڑنا گوارہ نہ کئے… اور میں اپنا سب کچھ آپ لوگوں کے لئے چھوڑ کر جا رہا تھا … میرے مرنے کے بعد آپ نے مجھے کیا بھیجنا تھا؟ … اس لئے اب میں نے خود ہی اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اپنے لئے آگے بھیج دیا ہے…اس پر میرا دل بہت سکون محسوس کر رہا ہے…

صدقہ ،خیرات کے فوائد

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں …صدقہ ،خیرات اور دین پر مال لگانے کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ… انہیں پڑھ کر پتھر دل انسان بھی ’’بخل‘‘ سے توبہ کر لیتا ہے…مگر شیطان پڑھنے نہیں دیتا… شیطان ہمارا دشمن ہے،اس نے ہمیں ذلیل کرنے کی قسم کھائی ہے…اور وہ ہمیں مال کے ذریعے زیادہ ذلیل کرتا ہے… مال کے نوکر بنے رہو…مال کے غلام بنے رہو… مال گن گن کر چھپا چھپا کر رکھتے رہو…دن رات مال جمع کرتے رہو…مال کی خاطر چوری کرو، خیانت کرو… حرمتیں پامال کرو… مال کی حفاظت کے لئے مرتے رہو…مال کے نقصان پر روتے رہو…

شیطان نے مال کے بارے میں جو’’ پیکج‘‘ بنایا ہے…اس کا خلاصہ ہے

’’سانپ سے سانپ تک‘‘

یعنی دنیا میں تم کالے سانپ کی طرح… مال کے اوپر چوکیدار بن کر بیٹھے رہو…اس مال سے کسی کو فائدہ نہ اٹھانے دو…اور جب یہ سارا مال چھوڑ کر مرجاؤ تو اس مال کو سانپ بنا کر تمہاری گردن میں لٹکا دیا جائے…اور وہ تمہارے چہرے پر کاٹتا رہے…

آج کے کروڑ پتی…ارب پتی اور سرمایہ دار کیا کر رہے ہیں؟… یہی سانپ والا کردار… غور کریں تو آپ کو ان کی شکلیں بھی سانپ جیسی نظر آئیں گی…

صدقہ،خیرات سے انسان کا نفس پاک ہو جاتا ہے… اس کا مال بھی پاک ہو جاتا ہے … آپ تجربہ کر لیں…سخت پریشانی اور سخت بیماری کے وقت اگر اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے مال خرچ کر دیا جائے تو… پریشانی دور اور بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے… دراصل مال کا وہ نوٹ یا حصہ… خود ایک بیماری اور پریشانی تھی…وہ جب تک ہمارے پاس موجود رہتا ہمیں اسی طرح تکلیف میں رکھتا مگر جب وہ چلا گیا… تو وہ خود بھی ہمارے لئے رحمت بن گیا …اور اپنے پیچھے بھی ہمارے لئے … رحمت چھوڑ گیا…

جہنم کی آگ کتنی سخت ہے… مگر صدقہ خیرات سے یہ آگ بجھ جاتی ہے…

قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا…جس کا صدقہ زیادہ اس کا سایہ بھی زیادہ…گناہوں کی آگ کو بھی صدقہ اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو…دراصل انسان جو گناہ بھی کرتا ہے اس گناہ کے برے اثرات اس کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں …مگر صدقہ کی برکت سے وہ گرم اثرات ختم ہو جاتے ہیں … صدقہ میزان حسنات کو بھاری کر دیتا ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صدقہ کرنے والے کی… اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر ومنزلت بہت بڑھ جاتی ہے … صدقہ انسان کو دنیا میں مالدار اور آخرت میں کامیاب بناتا ہے… اور صدقہ ہی اصل میں انسان کے دل کی خوشی ہے…

اہم مگر مشکل محنت

اسلام میں نیکیوں پر مال خرچ کرنے کی… بہت ترغیب ہے…

مسجد پر خرچ کرو…والدین پر خرچ کرو … اہل و اولاد پر خرچ کرو… دینی تعلیم پر خرچ کرو … غرباء مساکین پر خرچ کرو…کھانا کھلانے اور افطار کرانے پر خرچ کرو… مصیبت زدہ لوگوں پر خرچ کرو… پانی کے انتظام پر خرچ کرو… والدین کے ایصال ثواب پر خرچ کرو… وغیرہ

مگر سب سے زیادہ فضائل …جہاد پر خرچ کرنے کے ہیں…سب سے زیادہ اجر جہاد پر خرچ کرنے کا ہے… اور سب سے بڑا مقام جہاد میں مال لگانے کا ہے…

حتی کہ کعبہ شریف پر …اور حجاج کرام کی خدمت پر خرچ کرنے سے بھی زیادہ اجر جہاد پر خرچ کرنے کا ہے…جہاد چونکہ فرض ہے…اس لئے مال سے جہاد کرنا بھی فرض کے درجے میں آتا ہے…

ہمارے ساتھی اور رفقاء جو انفاق فی سبیل اللہ کی مہم میں شریک ہیں…وہ بہت اہم خدمت سر انجام دے رہے ہیں… آج ایک طرف یہ فتنہ سرگرم ہے کہ مجاہدین کو لوگوں سے بھیک نہیں مانگنی چاہیے…انہیں چاہیے کہ بینک لوٹیں،بھتہ لیں… لوگوں کو اغواء کر کے تاوان وصول کریں … کئی افراد اس طرح کے نعروں میں گمراہ ہو گئے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو گئے… حالانکہ اسلام میں مسلمانوں کے مال کو اغواء وغیرہ کے ذریعے حاصل کرنے کو…شرمناک قسم کا حرام قرار دیا گیا ہے…

دوسرا فتنہ حکمرانوں کی طرف سے ہے کہ… وہ شرعی جہاد پر مال دینے سے لوگوں کو روکتے ہیں …مجاہدین کو چندہ کرنے پر پکڑتے ہیں…اور طرح طرح کی پابندیاں اور رکاوٹیں ڈالتے ہیں … قرآن مجید کی ’’سورۃ المنافقون ‘‘ نے …یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ…کافروں اور منافقوں کے نزدیک مال بڑی چیز ہوتا ہے… وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مجاہدین کے مالی راستے بند کر دئیے جائیں تو ان کا جہاد اور ان کا دین ختم ہو جائے گا…حالانکہ ان کی یہ سوچ غلط ہے…اور زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے…

تیسرا فتنہ…کمزور دل مسلمانوں کی طرف سے ہے کہ… وہ اپنی مساجد اور اپنے منبروں پر …کفار اور منافقین کے ڈر سے… جہاد فی سبیل اللہ کو بیان نہیں کرتے… اسی لئے مسلمانوں کو جہاد کے وہ مسائل بھی معلوم نہیں ہیں…جو قرآن مجید میں نص قطعی کے طور پر صراحت سے مذکور ہیں… مثلاً کئی مسلمان پوچھتے ہیں کہ کیا مجاہدین کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟… یہ مسئلہ قرآن مجید نے صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے کہ… مجاہدین زکوٰۃ کا مصرف ہیں… آج بدعات پر خرچ کرنے کی ترغیب دینے والے بہت ہیں… کروڑوں اربوں روپے بدعات و خرافات پر دین کے نام سے خرچ کئے جاتے ہیں… آج نفل کاموں پر خرچ کرنے کی ترغیب دینے والے بہت ہیں… کروڑوں اربوں روپے نفل عمروں، وہاں کی مہنگی رہائشوں اور مدارس میں انگریزی تعلیم پر خرچ کئے جاتے ہیں… مگر جہاد پر خرچ کی ترغیب سنانے کا کوئی سلسلہ مساجد اور منابر پر موجود نہیںہے…

اب ان تین فتنوں کی موجودگی میں …جہاد کے لئے چندہ کس قدر مشکل ہو جاتا ہے؟… مگر اخلاص اور شوق ہر مشکل کا علاج ہے…

اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا جوش… ناموافق حالات میں مزید بڑھ جاتا ہے…اے دین کے دیوانو! اللہ تعالیٰ آپ کو بہت جزائے خیر عطاء فرمائے…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online