Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

آسان طریقہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 503 - Saadi kay Qalam Say - Aasan Tariqa

آسان طریقہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 503)

اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعاء وہی مسلمان کرتے ہیں…جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں…

یا اللہ ! ہمیں مقبول ایمان بالغیب عطاء فرما

دور والی بہت قریب

جنت ویسے تو ہم سے بہت دور ہے… کیونکہ جنت سات آسمانوں کے اوپر ہے… مگر بعض حالات ایسے آ جاتے ہیں کہ… جنت کسی انسان کے بالکل قریب ہو جاتی ہے…

مثلاً ایک غریب آدمی ہے…مہینہ میں مشکل سے پانچ دس ہزار روپے کماتا ہے… تو شہر کی مہنگی کوٹھیاں اس کی پہنچ سے کتنی دور ہیں؟… وہ اگر دس کروڑ کی ایک کوٹھی خریدنا چاہے تو اس کے لئے اس کی سو سال کی تنخواہ بھی کافی نہیں… اسی طرح شہر کے شورومز میں موجود مہنگی گاڑیاں اس سے کتنی دور ہیں؟… یقیناً بہت دور… وہ اگر دس سال بھی بچت کر کے پیسہ جمع کرے تو اچھی گاڑی نہیں خرید سکتا… مگر ایک دن اچانک اسے بہت سی رقم مل گئی…نوٹوں سے بھرا ایک بڑا صندوق… کم از کم پچاس ساٹھ کروڑ کی نقد رقم… اب اس لمحے وہ بہت سی چیزیں جو اس سے سالہا سال دور تھیں ایک دم قریب آ گئیں… اب وہ ایک گھنٹے میں ایک نئی گاڑی خرید سکتا ہے…

جنت واقعی بہت دور ہے… لیکن جب ’’بندہ مومن‘‘ ایمان اور اخلاص کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں نکلتا ہے تو…یہ کروڑوں اربوں سال کی دوری والی جنت…بالکل اُس کے قریب، اُس کے سر پر آ جاتی ہے… اور اس میں اور جنت میں بس اتنا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ…وہ مجاہد شہید ہواور فوراً جنت میں داخل ہو جائے… یعنی دو قدم کی مسافت… پہلا قدم شہادت اور دوسرا قدم جنت… یہ بات اپنی طرف سے نہیں لکھی… اس پر بڑے مضبوط دلائل موجود ہیں…بس یہاں صرف’’شہید بدر‘‘ حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ کے مبارک الفاظ کافی ہیں:

’’ بخ بخ فما بینی وبین ان ادخل الجنۃ الا ان یقتلنی ھٰولاء‘‘

ترجمہ: واہ، واہ میرے اور جنت کے درمیان فاصلہ ہی کیا رہ گیا ہے،بس صرف اتنا کہ یہ مشرکین مجھے قتل کر ڈالیں…

وہ اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے، یہ الفاظ فرما کر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار لے کر لڑنا شروع کیا، یہاں تک کہ شہید ہو گئے…

یہ اسلام کا پہلا بڑا معرکہ ’’غزوہ بدر‘‘ تھا… غزوہ بدر کے ہر منظر سے جہاد کی دلکش دعوت ملتی ہے …اور جہاد کے فضائل،معارف،حکمتیں اور قوانین معلوم ہوتے ہیں… اسی لئے غزوہ بدر کو یاد رکھنا چاہیے… اس کو بار بار پڑھنا چاہیے… اور اسے آپس میں سنتے سناتے رہنا چاہیے… کیونکہ یہ جہاد اور ’’علم جہاد‘‘ کا ایسا انمول خزانہ ہے…جو ہر ملاقات اور ہر مطالعہ پر نئے راز ،نئے اسباق اور نئی حکمتیں سکھاتا ہے…

پس وہ مسلمان جو جنت کے بہت زیادہ قریب ہونا چاہتا ہے…وہ جہاد میں نکلے… جہاد میں نکلتے ہی جنت اس کے قریب آ جائے گی… پھر وہ جس طرح بھی مرے…اس کی موت کا کوئی نتیجہ ظاہر ہو یا نہ ہو…ہر حال میں اس کے لئے جنت لازم ہے… علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ… اللہ تعالیٰ بعض ’’جہاد‘‘اس لئے قائم فرماتا ہے تاکہ… اپنے بندوں میں سے کچھ کو شہادت عطاء فرمائے…یعنی اس جہاد کا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا… اور نہ اس کا کوئی اور اثر زمین پر ظاہر ہوتا ہے… وہ جہاد بس اس لئے ہوتا ہے کہ… بعض خوش نصیب مسلمان ’’شہادت ‘‘ کا بلند مقام …شہادت کی مزیدار اور پائیدار زندگی… اور شہادت کا دائمی انعام پا لیں… اور یہ کوئی چھوٹا انعام یا مقصد نہیں ہے…ایک مسلمان کو مرتے ہی شاندار زندگی… ہمیشہ ہمیشہ کا عیش و آرام …اور ہمیشہ کی کامیابی مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے…یہ تو ایسی نعمت ہے کہ… اگر اس کی خاطر سب کچھ ابھی قربان کرنا پڑے تو سودا بہت سستا اور بہت نفع والا ہے…

طاقتور بہت کمزور

مکہ کے مشرکین کس قدر طاقتور تھے؟…وہ تلواروں کے سائے میں پلتے تھے، گھوڑوں کی پیٹھ پر جوان ہوتے تھے اور بہادری اور شجاعت میں ساری دنیا پر فائق تھے…ان کی جنگ بازی،خونریزی اور بہادری کے واقعات جب ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں تو بہت حیرانی ہوتی ہے…

غزوہ بدر کے دن پورے قریش کی طاقت کا ’’مکھن‘‘ …میدان بدر میں موجود تھا…صرف ابو جہل کی جنگی اور طبعی طاقت کا حال  لکھا جائے تو آج کا کالم اسی میں لگ جائے… فرعون سے بڑھ کر ضدی ابو جہل کی طاقت کا یہ حال تھا کہ…اس نے کئی مرتبہ عذاب کے فرشتے اور عذاب کی جھلکیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں… مگر یہ نہ تو بے ہوش ہوا اور نہ قائل ہوا… آج دنیا کے بڑے سے بڑے بہادر کو کسی پر حملہ کرتے وقت …اگر وہ مناظر نظر آ جائیں …جو ابو جہل نے حضور نبی کریم ﷺ پر حملہ کرتے وقت دیکھے تھے تو…وہ فوراً خوف سے مر جائے…

ابو جہل ظالم کہتا تھا کہ…جب حضور نبی کریم ﷺ سجدہ میں ہوں تو مجھے بتانا میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر …(نعوذ باللہ) گردن توڑ دوں گا…

ایک بار اسی ناپاک سے ارادے سے آگے بڑھا…مگر پھر اپنے دونوں ہاتھ منہ ہر رکھ کر ایک دم پیچھے ہٹا… اسی طرح دو تین بار آگے بڑھا اور پھر پیچھے ہٹا… لوگوں نے حیران ہو کر وجہ  پوچھی تو کہنے لگا آگے ایک خندق آگ کی بھری ہوئی سامنے آ گئی اور ایک بڑا اژدھا میری طرف لپکا…اگر میں پیچھے نہ ہٹتا تو یا آگ میں جل مرتا یا وہ اژدھا مجھے نگل لیتا…

اندازہ لگائیں…ایسا منظر دیکھنے کے باوجود وہ نہ دہشت سے مرا…نہ بے ہوش ہو کر گرا… نہ وہاں سے بھاگا… بلکہ بار بار آگے بڑھ کر اپنے ناپاک ارادے کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہا… غزوہ بدر کے میدان میں ابو جہل موجود تھا اور اسی جیسے اور چوبیس نامور سردار موجود تھے…ان میں ہر ایک کی مستقل جنگی اور عسکری داستان تھی…دوسری طرف مقابلے میں بے سروسامان مسلمان تھے…تعداد بھی کم اور سامان حرب بھی قلیل …مگر یہ جہاد کا میدان تھا…اور جہاد کے میدان کے لیئے اللہ تعالیٰ کے قوانین نرالے ہیں…یہاں دور کی چیزیں قریب اور قریب کی چیزیں دور ہو جاتی ہیں…یہاں بہت سے بارعب…اپنا رعب کھو دیتے ہیں…اور بہت سے مسکین بہت بارعب ہو جاتے ہیں…یہاں بہت سے طاقتور شہباز ’’چڑیا‘‘ بن جاتے ہیں…اور بہت سی ’’ابابیلیں‘‘ ہاتھیوں سے طاقتور…غزوہ بدر میں مقابلہ ہوا…کمزور اور قلیل مسلمان غالب آئے… ابو جہل اور اس کے ہم پلہ چوبیس سردار بالوں سے گھسیٹ کر ایک ناپاک کنویں میں ڈال دئیے گئے… یہ سارا قصہ اکثر مسلمانوں کو معلوم ہے… آج جو بات عرض کرنی ہے …وہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا لشکر غزوہ بدر فتح کر کے…مدینہ واپس آ رہا تھا… راستہ میں ’’مقام روحاء‘‘ پر کچھ مسلمانوں نے لشکر کا استقبال کیا اور آپ ﷺ  اور آپ کے صحابہ کرام کو فتح مبین کی مبارک باد دی… اس پر حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کس بات کی مبارک باد دیتے ہو…اللہ تعالیٰ کی قسم بوڑھی عورتوں سے پالا پڑا اور ہم نے ان کو رسی میں بندھے ہوئے اونٹوں کی طرح ذبح کر کے پھینک دیا…

غور فرمائیں…ابو جہل، عتبہ، شیبہ جیسے جنگ آزما ،سورما… جن کے خوف اور دہشت سے وادیاں کانپتی تھیں… ان کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ…بوڑھی عورتیں تھیں…اور رسیوں میں بندھے ہوئے جانور…

دراصل جہاد میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ…وہ کافروں اور ان کی طاقت کو ’’بہت چھوٹا‘‘ کر دیتا ہے… آج بھی ہمارے صاحب اقتدار مسلمان… کافروں سے بہت ڈرتے ہیں…اور ان کے رعب سے کانپتے ہیں… اور ان کے خوف اور دباؤ میں آ کر غلط کام کرتے ہیں… لیکن جہاد میں مشغول مسلمان… اپنے دل میں کافروں کے لئے کوئی خوف،کوئی رعب… یا کوئی بڑائی نہیں پاتے… ان کے نزدیک… سارے اوبامے، مودی اور یہودی… بوڑھی عورتیں اور رسی میں بندھے جانور ہیں…یاد رکھیں! ہر انسان نے اپنے وقت پر مرنا ہے…جو لوگ کافروں کے رعب میں رہتے ہیں وہ بھی اپنے وقت پر مرتے ہیں…اور جو کافروں کے رعب سے آزاد ہیں وہ بھی… اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتے… ہاں! یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ…کسی مسلمان کے دل میں کافروں کا رعب اور بڑائی نہ ہو…اور یہ نعمت جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے نصیب ہوتی ہے…

آسان طریقہ

اگر ہم چاہتے ہیں کہ… وہ جنت جو ہم سے بہت دور ہے…وہ ہمارے بہت قریب آ جائے …اگر ہم چاہتے ہیں کہ… دنیا بھر کے اسلام دشمن کافر ہماری نظروں میں چھوٹے اور حقیر ہو جائیں…اور ہمیں ان کی ذہنی غلامی سے نجات ملے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم جہاد فی سبیل اللہ کے راستہ کو اختیار کر لیں… جہاد میں کامیابی ہی کامیابی…اور رحمت ہی رحمت ہے…

الرحمت ٹرسٹ کے جانباز داعی… آج کل مسجد،مسجد اور گلی گلی جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دیتے پھرتے ہیں…یہ دیوانے اس امت کے محسن ہیں …ان کا ساتھ دیں…ان کی مہم کو کامیاب بنائیں…اور آپ بھی ان کے ساتھ ’’قافلہ جہاد‘‘ میں شامل ہو جائیں…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online