Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایمانی جھونکے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 504 - Saadi kay Qalam Say - Emani Jhonkay

ایمانی جھونکے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 504)

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

رمضان المبارک جا رہا ہے…بس چار پانچ دن رہ گئے…اور عید کا دن آ رہا ہے تاکہ…اہل ایمان خوشیاں منائیں…اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اسلام اور ہدایت کی نعمت عطاء فرمائی … اُن کو ایمان اور جنت کے لئے چن لیا…اور اُن کو اپنے فضل سے کامیابی عطا ء فرمائی…

لِتُکَبِّرُوْاللّٰہَ عَلیٰ مَا ھَدٰکُمْ

تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت بیان کرو …اس نعمت کے شکرانے میں کہ اُس نے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی…

 

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

دو باتیں دل میں بٹھانی ہیں…پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے…اور دوسری یہ کہ ہدایت کی نعمت…یعنی اسلام کی توفیق ملنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے…

جس کے دل میںیہ دونوں باتیں بیٹھ چکی ہیں …وہ شکر ادا کرے…لمبے لمبے سجدے کرے…

اورجس کے دل میں ابھی کچھ کھوٹ ہے…وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑا کہتا تو ہے مگر دل میں اور بہت سے افراد کی…اور بہت سی چیزوں کی بڑائی بٹھا رکھی ہے…اور جو اسلام کو سب سے بڑی نعمت کہتا تو ہے مگر سمجھتا نہیں…تھوڑی سی مالی تنگی، تھوڑی سی جسمانی آزمائش اور چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر گھبرا کر…اسلام کی نعمت کو بھول جاتا ہے… اس نعمت پر شکر ادا کرنا بھول جاتا ہے…وہ توبہ کرے،استغفار کرے،آنسو بہائے اور اپنے دل کا علاج کرے…ارے دنیا بھر کی ساری نعمتیں اسلام کے مقابلے میں خاک کے ایک ذرے برابر بھی نہیں…اور دنیا بھر کی ساری طاقتیں اللہ تعالیٰ کے سامنے مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں…

دل سے پڑھیں:

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

شیطان نے دنیا کی چیزوں کو…لوگوں کی نظر میں مزین، معزز اور خوشنما کر دیا ہے…طرح طرح کے گھر اور بنگلے…طرح طرح کی گاڑیاں اور سواریاں…طرح طرح کے لباس اور ملبوسات …طرح طرح کے رنگ برنگے لائف اسٹائل… لوگ انہی پر مر رہے ہیں…انہی پر جی رہے ہیں … اور پھر موت کا جھٹکا آتا ہے تو…اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے…وہ جن کے پاس ’’اسلام‘‘ کی روشنی نہیں ہے…وہ مرتے ہی خوفناک اندھیروں میںڈوب جاتے ہیں…فرشتے اُن کی ارواح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے …اُن کی ارواح کو وہاں سے دھکا دے کر گرا دیتے ہیں…اللہ، اللہ…اتنی اونچائی سے گرنے والوں کا حال کیا ہو گا؟… وہ گرتے گرتے زمین پر آتے ہیں تو زمین بھی ان کو نیچے دھکا دے دیتی ہے…کیونکہ زمین ان کے وجود سے تنگ ہوتی ہے…وہ بڑے حکمران ہوں یا بڑے بڑے سائنسدان… وہ اربوں پتی سرمایہ دار ہوں یا سونے چاندی میں کھیلنے والے سیٹھ… وہ بڑے نامور فنکار ہوں یا مشہور کھلاڑی یا اداکار… اسلام کی نعمت سے محروم مرے تو اب عذاب ہی عذاب ہے…

اور ایک ہی آواز ہے:

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَاباً

یہ عذاب بھگتو اور یاد رکھو! اب ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے…اب اس عذاب سے خلاصی کی کوئی صورت نہیں … گاڑیاں، بنگلے ، نوکر،ملازم اور سیلوٹ کرنے والے اب تمہارے کسی کام کے نہیں…اور جو چیز کام کی تھی وہ تمہارے پاس موجود نہیں…پھر اُن کی ارواح کو مقام ’’سِجِّیْن‘‘ پر لے جا کر قید کر دیا جائے گا…یہ ایک بڑا پتھر ہے…جس سے ہر وقت دھواں نکلتا رہتا ہے…اور اس کے اردگرد گرمی ہے،آگ ہے اور عذاب ہے… یا اللہ! آپ کی پناہ…یا اللہ! اسلام کی نعمت پر اربوں بار شکر…دل کی گہرائی سے شکر…بے شمار شکر…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

اللہ تعالیٰ نے زمین پر رزق اُتارا ہے… کسی کو زیادہ دیا اور کسی کو تھوڑا… جن کو اسلام اور ایمان کی نعمت ملی…ان کو اگر رزق کم بھی ملا تو انہوں نے فکر نہیں کی…لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے …اور کافروں کے سفارتخانوں پر لائن لگانے کی بجائے… انہوں نے اپنے ضروریات کو محدود کر لیا … وہ اپنے اسلام پر راضی رہے… تب ان کے فقر و فاقے میں ایسا سکون رکھ دیا گیا جو بادشاہوں کو …خوابوں میں بھی نہیں ملتا…

آپ ﷺ نے ایک انصاری صحابی کو دیکھا کہ … فقرو فاقے اور بیماری کی وجہ سے بہت سخت حالت میں ہیں…نہ مال تھا نہ صحت… آپﷺ نے ان کی ایسی خستہ حالت دیکھی تو ایک وظیفہ ارشاد فرمایا کہ… یہ پڑھو گے تو حالت سدھر جائے گی… اُن انصاری کا ایمان بہت بلند تھا … فرمانے لگے میں ان دو چیزوں یعنی فقروفاقے اور بیماری کے بدلے بڑی سے بڑی نعمت لینے کوبھی تیار نہیں…حضرت آقا مدنی ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی کہ…جو اپنی ایسی حالت پر اللہ تعالیٰ سے راضی ہو اس کا مقام بڑے بڑے اعمال کرنے والوں سے بھی بہت اونچا ہے…

آج جس کے پاس عید کا نیا جوڑا نہ ہو وہ آہیں بھرتا ہے…جس کے پاس عید کا نیا جوتا نہ ہو وہ آنسو بہاتا ہے…جس کے بچوں کو عید پر زیادہ عیش نہ ملے وہ شکوے برساتا ہے…یہ نہیں سوچتا کہ… اصل نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہر غریب اور ہر امیر کو وافر عطاء فرمائی ہیں…اسلام کی نعمت، ایمان کی نعمت، قرآن کی نعمت،رمضان کی نعمت… روزوں اور تراویح کی نعمت… جہاد کی نعمت… ان نعمتوں کو ہر غریب سے غریب آدمی بھی حاصل کر کے… آخرت کا بادشاہ بن سکتا ہے…

پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

بھائیو! اور بہنو! عید کا دن آ رہا ہے…خوشی اور مسکراہٹ کا دن…

اس دن ایمان والوں کو دیکھ کر زمین بھی مسکراتی ہے…آسمان بھی مسکراتا ہے…فضائیں اور ہوائیں بھی مسکراتی ہیں… ارے زمین سے لے کر عرش تک جشن کا سماں ہوتا ہے کہ…ایمان والوں کو پورے ایک مہینہ کے روزے نصیب ہوئے …ایک مہینہ کی تراویح نصیب ہوئی…ایک مہینہ کی مقبول عبادت نصیب ہوئی… اور آج ان سب کو ’’انعام‘‘ ملنے والا ہے… سبحان اللہ! سب سے بڑا انعام…جی ہاں! مغفرت کا انعام…اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو گی… تقریب انعامات کا دن…اس سے بڑا جشن کیا ہو گا… اپنے محبوب رب کی رضا کا دن…اس سے بڑی فرحت اور کیا ہو گی کہ اپنے رب کی تکبیر اٹھانے اور اپنے رب کا شکر ادا کرنے کا دن…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

عید کے دن پہلا کام یہ کہ… دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور زبان پر اس کی ’’تکبیر ‘‘ ہو…دنیا کی ہر طاقت کا رعب دل سے نکال دینا ہے… ارے سائنس نے ایسی کوئی ترقی نہیں کر لی کہ ہم نعوذباللہ اسے سجدے کرتے رہیں…جب بجلی نہیں تھی تو لوگوں کے پاس روشنی کا انتظام آج کے زمانہ سے زیادہ اچھا تھا…کوئی اندھیرے میں نہیں مرتا تھا…لوگ سفر کرتے تھے…اور بہت صحت مند تھے… وہ آج کے لوگوں کی طرح پلاسٹک کی بوتلیں اور گیس کے سلنڈر نہیں تھے… منوں وزنی تلواریں ہاتھ کے پنکھے کی طرح گھماتے تھے…اور بھاری کمانوں سے تیروں کی بوچھاڑ کرتے تھے… سائنس ہر زمانے میں موجود رہی ہے…کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کا زمین پر خلیفہ ہے… اور اپنی ضرورت کے مطابق سمندروں، پہاڑوں،ہواؤں اور عناصر کو اپنے کام میں لاتا رہتا ہے…آج کی سائنس تو دہشت گردی ہے اور غلاظت …پورے خطہ زمین کو زہریلی گیسوں سے بھر دیا …اور انسان کو ایک بے وزن کھلونا بنا دیا … افسوس کہ مسلمانوں نے عمومی طور پر جہاد کو چھوڑ رکھا ہے… اگر زمین پر جہاد ہوتا تو زمین کی حکومت عقلمند انسانوں کے ہاتھ ہوتی جو…سائنس کو انسان کا غلام بناتے نہ کہ…انسان کو سائنس کا غلام…

اور اب تو نعوذباللہ کئی بد عقل لوگ… دین اور قرآن کو بھی سائنس کا غلام بنانے پر تلے ہیں …اپنے دل سے ان سب بے حیا اور بد کار کافروں کی عظمت نکالنی ہے…امریکہ اور یورپ کی عظمت دل سے ختم کرنی ہے…یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے اڑتا ہوا غبار بھی نہیں… اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور اللہ ایک ہے…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

عید کا دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ… اپنے دل کو … حقیقی نعمت یعنی اسلام کی یاد دلا کر خوش کرنا ہے … عید کا دن رونے پیٹنے اور دنیا کے غموں کو اپنے اوپر مسلط کرنے کا دن نہیں… یہ شکر اور خوشی کا دن ہے… اور شکر اور خوشی ان نعمتوں پر جو اصل اور قیمتی نعمتیں ہیں… الحمد للہ ہمارے پاس کلمہ طیبہ ہے …الحمد للہ ہمیں رمضان المبارک ملا…الحمد للہ ہمیں روزوں کی توفیق ملی… الحمد للہ ہمیں رمضان المبارک میں جہاد میں نکلنے یا جہاد کی خدمت کی توفیق ملی… ہمیں زیادہ تلاوت،زیادہ صدقے اور زیادہ عبادت کی توفیق ملی… ہمیں حضرت آقا مدنیﷺ جیسے نبی ،قائد اور رہبر ملے…اللہ اکبر یہ کتنی بڑی نعمت ہے؟… دنیا بھر کے کافر ہزار دولت کے باوجود …حضرت آقا مدنی ﷺ سے محروم ہیں… آپ بتائیے اس سے بڑی محرومی اور کیا ہو سکتی ہے؟…حضرات صحابہ کرام کو جب حضور پاک ﷺ مل گئے تو انہوں نے کیسی عظیم قربانیاں دے کر…اس نعمت کی قدر کی…

آج کوئی نظم پڑھ رہا تھا کہ …سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے جب آپ ﷺ کو کفن مبارک میں دیکھا ہو گا تو…ان پر کیا گزری ہو گی؟… یہ الفاظ سن کر دل تڑپنے لگا اور آنکھیں رونے لگیں… بلال نے تو بڑی قربانیاں اٹھا کر حضرت آقا مدنیﷺ کو پایا تھا… ہم نے کیا قربانی دی؟ … حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد مدینہ طیبہ بھی نہ رہ سکے… محاذوں پر چلے گئے کہ کب شہادت ملے اور حضرت آقا مدنی ﷺ سے ملاقات ہو… اور جدائی کا یہ بھاری زمانہ ختم ہو … ہم جب چاہیں آپ ﷺ پر درود و سلام بھیج سکتے ہیں …اور وہاں سے جواب بھی آتا ہے…یہ کتنی بڑی نعمت ہے…

عید کے دن ان بڑی بڑی عظیم نعمتوں کو یاد کر کے… اپنے دل کو خوشی پر اور اپنے ہونٹوں کو مسکراہٹ پر لانا ہے…ہم لاکھ گناہگار سہی…مگر الحمد للہ مسلمان تو ہیں…حضرت آقا مدنی ﷺ کے امتی تو ہیں…یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

رمضان المبارک آیا…اور اب جا رہا ہے … مگر رمضان المبارک کا اختتام عید کی خوشی پر ہو گا…بس اسی سے یہ سبق سیکھیں کہ…ہم بھی دنیا میں آئے اور ایک دن ضرور یہاں سے چلے جائیں گے… کیا ہمارا اختتام بھی عید جیسی خوشی پر ہو گا؟ … جی ہاں! اگر ہم اپنی پوری زندگی رمضان المبارک کی ترتیب پر گزاریں… خوشی خوشی شریعت کی پابندی برداشت کریں…اور ان پابندیوں کو اپنے لئے نعمت سمجھیں… کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا… کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا… ہر وقت نفس کی خواہشات پوری نہیں کرنی… ہروقت لذتوں کی فکر میں نہیں رہنا… پس جو اس طرح پابندی والی زندگی گزارے گا…اس کی موت کا دن،رمضان المبارک کے بعد والے دن کی طرح ہو گا… یعنی عید کا دن… خوشی کا دن… پابندیاں اٹھ جانے اور عیش و عشرت ملنے کا دن… تب اس کی روح اس دن خوشیاں مناتی ہوئی… تکبیر پڑھتی ہوئی مقام ’’عِلِّیِّیْن‘‘ کی طرف لے جائی جائے گی…یہ مقام آسمانوں کے اوپر ہے …وہاں ایک کتاب رکھی ہوئی ہے…ہر مومن کی روح کو وہاں لے جا کر…اس کتاب میں اس کا نام لکھ دیا جائے گا… اور پھر قیامت تک اس کے درجے کے مطابق…کسی اچھی جگہ قیام کی ترتیب بن جائے گی…یا اللہ! ہمیں بھی ان میں شامل فرما لیجئے…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

رمضان المبارک کی رات ہے…اس لئے اپنی آج کی مجلس بھی مختصر کرتے ہیں… بس آج کی آخری بات یہ ہے کہ…تھوڑا سا سوچیں! رمضان المبارک تو سب پر آیا… کافروں پر بھی آیا اور مسلمانوں پر بھی… اہل تقویٰ پر بھی آیا اور فاسقوں فاجروں پر بھی…مگر یہ رمضان المبارک کس کے لئے…رحمت اور خوشی کا ذریعہ بنا؟… یقیناً مسلمانوں کے لئے اور مسلمانوں میں سے بھی ان کے لئے جنہوں نے …رمضان المبارک کی قدر کی…اور اس میں قربانی دی…روزہ کی حالت میں بھوک پیاس کی قربانی…راتوں کو جاگ کر نیند کی قربانی… عبادت میں لگ کر راحت کی قربانی… صدقہ خیرات دے کر مال کی قربانی… جہاد میں نکل کراور جہادی محنت میں لگ کر…جان و دل کی قربانی… جنہوں نے قربانی دی رمضان ان کا ہو گیا…اور ان کے نامہ اعمال کی روشنی بن گیا… اور ان کے لئے آخرت میںمحفوظ ہو گیا …مگر جنہوں نے نہ رمضان المبارک کو مانا…نہ اُس میں روزہ اور عبادت کی قربانی دی… ان کے لئے رمضان جیسی نعمت بھی…کسی کام نہ آئی… بس اسی طرح ہم میں سے ہر ایک کے پاس زندگی کی نعمت موجود ہے…جو اس میں قربانی دے گا وہ اس زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پا لے گا… اور جو اس زندگی کی نعمت کو…فضول خواہشات میں ضائع کر دے گا…وہ مرتے ہی زندگی سے اور ہر طرح کے آرام سے محروم ہو جائے گا…

الحمد للہ ہماری جماعت کے پاس…زندگی کو زندگی بنانے کا بہترین نصاب موجود ہے…

کلمہ طیبہ…اقامت صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کی محنت…

یہ ایک جامع نصاب ہے… یہ کامیابی والا عقیدہ،کامیابی والا ماحول…اور کامیابی والا راستہ دیتا ہے…آئیے! اس عظیم محنت میں شامل ہو جائیے…تاکہ…زندگی کی انمول نعمت… ہمارے لئے واقعی ہمیشہ کی نعمت بن جائے…

اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

لاالہ الااللّٰہ ،لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor