Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مَنْ عَرَفَ نَفْسَہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 505 - Saadi kay Qalam Say - Man Arafa Nafsah

مَنْ عَرَفَ نَفْسَہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 505)

اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں…اللہ اکبر کبیرا…زمین سے بڑا آسمان ہے…اور سات آسمانوں میں ہر دوسرا آسمان پہلے آسمان سے بڑا ہے…پھر ’’کرسی‘‘ ان سات آسمانوں سے بڑی ہے…

وَسِعَ کُرْسِیِّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض

اور پھر اللہ تعالیٰ کا عرش…کرسی سے بھی بڑا ہے…اس کی صفت ’’عظیم ‘‘ ہے…العرش العظیم اور اللہ تعالیٰ عرش سے بھی بڑا ہے،سب سے عظیم ،اعظم ،الکبیر،العلی،العظیم …اور عظمت سے بھی بڑا مقام ’’جلال ‘‘ کا ہے…اور اللہ تعالیٰ جلال والا ہے ذوالجلال والاکرام…

آئیے ہم پکارتے ہیں…

یَا عَلِیُّ،یَا عَظِیْمُ ، یَا کَبِیْرُ، یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامْ…اِغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا

انسان بہت چھوٹا ہے…بہت کمزور،بہت ضعیف،بہت عاجز

خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفا

 انسان جہالت کے اندھیرے اور ظلم کی تاریکی میں پڑا ہے…اور ظلم بھی سب سے زیادہ اپنی جان پر کرتا ہے…

اِنَّہُ کَانَ ظَلُومًا جَہُولًا

انسان گناہوں میں لتھڑا ہوا…غلاظت سے بھرا ہوا…اور فناء سے لرزتا ہوا اپنی زندگی گزارتا ہے

مگر تعجب ہے ،پھر بھی فخر کرتا ہے،اکڑتا ہے ، اتراتا ہے اور میں میں کرتا ہے

ضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّنَسِیَ خَلْقَہ

کاغذ صاف اور خالی ہو تو اس پر ’’قرآن مجید‘‘ بھی لکھا جا سکتا ہے…برتن جتنا سستا کیوں نہ ہو لیکن خالی ہو اور پاک ہو تو اس میں زمزم بھی بھرا جا سکتا ہے…اور شہد بھی…

پس جو انسان خود کو کمزور سمجھے،عاجز سمجھے،بے کمال سمجھے،فانی سمجھے،جاہل سمجھے…وہی اللہ تعالیٰ سے سب کچھ پاتا ہے…اسی کو روشنی ملتی ہے،قوت ملتی ہے،کمال ملتا ہے،بقاء ملتی ہے،علم ملتا ہے … کیونکہ اس نے اپنے نفس اور دل کو…اپنے مالک کے لئے خالی کیا…مالک نے سب کچھ بھر دیا ، سب کچھ عطاء فرما دیا…مگر جو ہر وقت اپنی خوبیاں سوچے،اپنے آپ کو باکمال سمجھے ،اپنی طاقت پر نظر کرے…اپنے حسن اور عقل پر نظر کرے…اپنی صلاحیتوں پرفخر کرے کہ میں ایسا ہوں…میں ویسا ہوں…میں فلاں سے اچھا ہوں… میں عقل والا سمجھدار ہوں …میں بہت مقبول ہوں…میں بہت ذہین اور باصلاحیت ہوں…میں نیک ہوں ، متقی ہوں… تو ایسے آدمی کو…کچھ بھی نہیں ملتا …کچھ بھی نہیں… اس نے اپنے دل میں اپنی ذات کو بھر رکھا ہے…اس نے اپنے نفس میں …اپنی بڑائی کو بھر رکھا ہے… ایسے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں آتی… اللہ تعالیٰ ایک ہے … وہ شرک اور شرکت کو گوارہ نہیں فرماتا…اس لئے ایسے افراد کو نہ روشنی ملتی ہے،نہ نور ملتا ہے،نہ نفع والا علم ملتا ہے… اور نہ وہ عزت…جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت ہے… اس لئے بہت عجیب بات فرمائی…

مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ

جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا…اس نے اپنے رب کو پہچان لیا…

یہ جملہ ’’حدیث ‘‘ ہے یا نہیں؟…علماء نے بڑی بحث فرمائی ہے… اکثر اہل علم کے نزدیک اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں…

مگر سب کا ایک بات پر اتفاق ہے کہ…یہ حدیث ہے یا اسلاف میں سے کسی کا قول…مگر یہ ہے بڑے پتے کی بات،بڑے راز کی بات…اور بہت حکمت والی بات…

جس نے خود کو پہچان لیا کہ…میں کچھ بھی نہیں…وہی اپنے رب کو پہچانے گا کہ وہ سب کچھ ہے…انسان سجدے میں جا کر بھی…یہ سوچے کہ میں ایسا ہوں،میرے اندر یہ کمال ہے…میرا یہ مقام ہے…تو ایسے سجدے سے اس نے کیا پایا؟…

ایک طرف حضرات صحابہ کرام تھے… جہاد جیسے عظیم عمل میں مصروف…ایک سخت جنگ میں مشغول…اور حضرت آقا مدنی ﷺ کی قیادت سے محظوظ… اتنے سارے فضائل جمع ہوں تو کچھ نہ کچھ نظر اپنی ذات پر چلی جاتی ہے… مگر وہ حضرات صحابہ کرام تھے…خندق کھودتے وقت اشعار پڑھ رہے تھے کہ…یا اللہ! اگر آپ کا فضل نہ ہوتا تو نہ ہم ہدایت پاتے…نہ نماز پڑھتے نہ سجدے کر سکتے… آپ کا ہی خالص احسان ہے کہ … ہمیں ہدایت دی…ہمیں نماز کی توفیق دی … ہمیں جہاد میں لگایا… ہمیں سجدے کا شرف بخشا… ہمیں حضرت آقا مدنی ﷺ عطاء فرمائے … یعنی ہمارا کوئی کمال نہیں… ہم میں جو خوبی بھی ہے یہ سب آپ نے عطاء فرمائی ہے… دیکھئے! یہ ہے اپنے نفس کی پہچان اور اس کے ذریعہ اپنے رب کی پہچان…حضرت ہجویریؒ نے سمجھایا کہ… اپنے نفس کو کالا اندھیرا سمجھو…اور اس میں جو خیر ہے اسے اپنے رب کا نور سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کالی سلیٹ پر…اپنے نور اور روشنی سے فلاں فلاں خیر لکھ دی ہے…جو اپنے نفس کو پہچان لے کہ میں بہت کمزور ہوں…صرف پیشاب رک جائے تو میری ساری فوں فاں اور شان ختم ہو کر …نیم ذبح شدہ جانور کی طرح تڑپنے لگتی ہے… وہی آدمی پہچان سکتا ہے کہ… اللہ تعالیٰ کتنا طاقت والا ہے … ہم تو تیز ہوا میں اپنے سر کی ٹوپی نہیں تھام سکتے …جبکہ اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے تھام رکھا ہے… پس جو اپنے آپ کو ناقص سمجھے، کمزور سمجھے،عاجز سمجھے،خالی سمجھے… وہی اللہ تعالیٰ کی صفات اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو پہچان سکتا ہے…شیطان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ…ہم اپنی ذات کو نہ پہچانیں…یعنی مٹی، گارے اور حقیر نطفے سے بنا ہوا انسان…تکبر میں مبتلا ہو جائے…کسی انسان کا تکبر میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ…اس بے وقوف انسان نے خود کو نہیں پہچانا…کیونکہ تکبر کا معنی ہے بڑائی … اور انسان میں ’’بڑائی‘‘ والی کوئی چیز ہے ہی نہیں…کس قدر دھوکے میں ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے … چند افراد کو کھانا کھلا کر خود کو نعوذ باللہ رازق اور سخی سمجھنے لگے …جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے چند الفاظ سیکھ کر خود کو عالم و علامہ سمجھنے لگے…جو اللہ تعالیٰ کی دی  ہوئی تھوڑی سی شان کو دیکھ کر…خود کو عزت اور عبادت کے لائق سمجھنے لگے…اسی لئے فرمایا…

جہنم کی آگ کو سب سے پہلے…ریاکار عالم ،ریاکار شہید اور ریاکار سخی کے ذریعے بھڑکایا جائے گا…ان لوگوں نے اپنے نفس کو نہ پہچانا اور اپنی خوبیوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر…اس کے بدلے لوگوں سے اکرام چاہا تو…باوجود اتنے بڑے اعمال کے برباد ہو گئے…اور فرمایا کہ

جو چاہے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ ابھی سے جہنم میں اپنا ٹھکانا پکڑ لے…

ہاں بے شک… جو شخص اپنی ذات کو پہچانتا ہو…وہ کبھی بھی خود کو اس لائق نہیں سمجھے گا کہ لوگ اس کی تعظیم میں کھڑے ہوں…بلکہ وہ چاہے گا کہ وہ خود بھی اور دوسرے لوگ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے ہوں…کیونکہ وہی تعظیم اور بندگی کا حقدار ہے…ہم میں جو کچھ اچھا نظر آ رہا ہے سب اسی کا عطاء فرمودہ ہے… وہ جب چاہے چھین لے اور جب چاہے اس اچھائی کو بڑھا دے…

آپ نے کبھی غور کیا کہ… انسان میں نا شکری کیوں پیدا ہوتی ہے؟ وجہ بالکل سیدھی ہے کہ وہ جب خود کو نہیں پہچانتا کہ… میں تو بندہ ہوں ، غلام ہوں، فانی ہوں… تو وہ خود کو…طرح طرح کی چیزوں کا حقدار سمجھنے لگتا ہے کہ… مجھے یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے …پھر جب اس کے نفس کی یہ خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو وہ…شکوے کرتا ہے،ناشکری کرتا ہے،ناقدری کرتا ہے…اور نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے جھگڑے کرتا ہے…

یہ اگر خود کو پہچان لے کہ…میں کچھ بھی نہیں ، کسی چیز کا مستحق نہیں تو یہ فوراً اللہ تعالیٰ کو پہچان لے گا کہ… وہی حاجت روا ہے،فضل والا ہے،کرم والا ہے کہ اب تک مجھے اتنا کچھ دیا… میرے اتنے گناہوں کے باوجود مجھے کھلایا، پلایا اور چھپایا… تب اسے شکر نصیب ہو گا…اور شکر نعمتوں کی چابی اور نعمتوں کا محافظ ہے…آپ نے کبھی غور کیا کہ …انسان میں حرص کیوں پیدا ہوتی ہے؟ …وجہ صاف ہے کہ انسان اپنی ذات کو نہیں پہچانتا کہ میں ایک فانی زندگی کے چند سانسوں کے لئے دنیا میں آیا ہوں…اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں جو نعمتیں عطاء فرمائی ہیں وہ آخرت کی تیاری کے لئے ہیں… اس کی بجائے وہ یہ سوچتا ہے کہ …میرے اندر بڑے کمالات ہیں،بڑی عقل ہے… میری زندگی بہت لمبی ہے… میری بڑی اونچی قسمت ہے کہ میرے پاس یہ یہ چیز آ گئی ہے…اب مجھے اور آگے بڑھنا ہے…اور زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو حاصل کرنا ہے… تب وہ مزید کی حرص میں مبتلا ہو کر ایسا جہنمی مزاج انسان بن جاتا ہے کہ…مزید کی خواہش اس میں بڑھتی ہی چلی جاتی ہے… آپ آج دنیا کے کسی ارب پتی کے پاس جا بیٹھیں …وہ کوئی نئی چیز بنانے یا خریدنے کی فکر میں اتنا پریشان ہو گا …جتنا کوئی غریب آدمی اپنی اکلوتی جھونپڑی کے لئے بھی نہیں ہوتا… کیونکہ حرص جب آ جائے تو پھر قبر کی مٹی ہی اسے ختم کر سکتی ہے …حکایت لکھی ہے کہ…ایک آدمی کے کھیت میں ایک جنگلی مرغی اڑ کر آ گئی…اس نے پکڑ لی اور گھر لے آیا… وہ مرغی روزانہ سونے کا ایک انڈہ دیتی تھی… وہ اگر اپنے آپ کو پہچانتا تو اسی انڈے کو…اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھ کر شکر کرتا…مگر اس میں حرص جاگ اٹھی … مجھے اور زیادہ مالدار ہونا چاہیے… اب روزانہ ایک انڈے پر صبر اس پر بھاری پڑا… اور اس نے زیادہ انڈوں کی لالچ میں مرغی ذبح کر دی…تب اس کے پیٹ سے ایک انڈہ بھی نہ نکلا…اور اس طرح وہ روزانہ کے رزق سے بھی محروم ہو گیا…مشہور مسلمان بادشاہ …اور عالم اسلام کے قابل فخر ماہر فلکیات ’’الغ بیگ‘‘ نے اپنے بیٹے کو بڑا مال اور اختیارات دے رکھے تھے …بیٹا نالائق نکلا… اپنی ذات کو نہ پہچاننے والا …اس میں ’’مزید‘‘ کی حرص پیدا ہو گئی…اور باپ کا وجود اسے بھاری لگنے لگا…حالانکہ اس کے پاس جو کچھ تھا اس کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس کے باپ کو بنایا تھا…ایمان والوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ’’ذرائع‘‘ اور راستوں کی قدر کرتے ہیں… جس طرح ہمیں پانی اگرچہ زمین سے آتاہے… مگر پائپ ،ٹوٹیاں وغیرہ اس پانی کو ہم تک پہچانے کا ذریعہ ہیں تو ہم …ان کی قدر اور حفاظت کرتے ہیں…اور یہ کہہ کر انہیں نہیں پھینک اور توڑ دیتے کہ…تم کونسا ہمیں پانی دیتی ہو؟… پانی تو ہمیں زمین سے آتا ہے… شیطان کی ایک بڑی صفت جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہے …وہ اپنے ماننے والوں میں ہر وقت خوف پھیلاتا ہے…اللہ تعالیٰ کا نہیں مخلوق کا خوف …اور پھر اس خوف کے ذریعہ وہ ان سے بڑے بڑے گناہ کرواتا ہے… وہ حریص آدمی میں یہ خوف ڈالتا ہے کہ …دیکھو! جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں وہ تم سے چھن نہ جائیں… اور فلاں فلاں آدمی تم سے تمہاری نعمتیں چھین سکتا ہے… پس ان افراد کو ختم کر دو، ہٹا دو، ٹھکانے لگا دو تاکہ تمہاری نعمتیں سدا بہار ہو جائیں… حضرت آقا مدنی ﷺ نے سمجھایا کہ حرص سے بچو، اسی کی وجہ سے پہلے لوگوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور حرمتوں کو پامال کیا …الغ بیگ کے بیٹے کے دل میں یہ خوف آیا کہ …آج تو ٹھیک ہے لیکن اگر کل میرے باپ نے مجھے معزول کر دیا …تو میرا کیا بنے گا… اسی خوف میں اس نے اپنے محسن باپ کو قتل کر دیا… امت مسلمہ کو ایک قابل فخر رہنما سے محروم کر دیا…اور خود حکمران بن بیٹھا… مگر چھ ماہ میں مارا گیا…دنیا بھی گئی اور آخرت بھی برباد…

اس نے خود کو نہ پہچانا…اپنے رب کو نہ پہچانا …اپنی عقل کو اپنا رہنما بنایا اور اپنا اور مسلمانوں کا اتنا بڑا خسارہ کر بیٹھا… اگر وہ معزولی کے خوف کی بجائے دل میں یہ خوف لاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے موت دے سکتے ہیں تو کبھی بھی یہ گناہ نہ کرتا…

 اس لئے ضروری ہے کہ …ہم اپنے نفس کی کمزوری ،عاجزی،تاریکی، فنا اور بے سمجھی پر…غور کریں…ہم اپنی خوبیوں کو…اپنی محنت اور اپنی کمائی نہ سمجھیں… ہم اس بات کا یقین دل میں بٹھائیں کہ…ہم نے جلد مر جانا ہے… ہم اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں غور کریں کہ…کیسی کامل مکمل اور عظیم ذات ہے…پھر اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں غور کریں اور اپنے اندر کی ایک ایک تاریکی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھیک مانگیں…

دل کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُوراً

بدن کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی بَدَنِی نُوْراً

آنکھوں کے لئے… اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی بَصَرِی نُوْراً

اسی طرح مانگتے جائیں… اور پاتے جائیں … اور جب بھی شیطان بھٹکانے لگے… اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی اور کلمہ طیبہ کے قلعہ میں آ جایا کریں کہ…ظالم تو جو کچھ مجھے سمجھا رہا ہے وہ غلط ہے…سچ یہ ہے کہ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ

اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ ہے…میں کچھ بھی نہیں… اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے… اور کوئی نہیں … اللہ تعالیٰ ہی قادر  اور باقی ہے… باقی سب کچھ فانی ہے…

الحمد للہ…رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر بہت کرم فرمایا… اتنے گرم اور مشکل حالات میں ایسی دستگیری فرمائی کہ…تمام ساتھی دل و جان سے مہم میں لگے رہے…اس سے امید ہوئی کہ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور  رحمت ’’جماعت‘‘ کو نصیب ہے…اب ہم نے اس نعمت کی کس طرح قدر اور حفاظت کرنی ہے… اس کے لئے ’’رنگ و نور‘‘ میں چند اسباق کا یہ سلسلہ شروع کیا جارہا ہے…آج کا پہلا سبق ’’معرفت نفس‘‘ آپ نے پڑھ لیا…اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے… اگلا سبق اس بارے میں ہے کہ …کام کی مضبوطی اور ترقی کے لئے اب انفرادی ملاقاتوں …اور اجتماعات کی ضرورت ہے… ہماری دعوتی ملاقات کیسی ہو؟ … ہمارے دعوتی اجتماعات کیسے ہوں؟…اس کا بیان اگلے ہفتے ان شاء اللہ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor