Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 506 - Saadi kay Qalam Say - Inna Lillahe wa Inna Ilaehi Rajioon

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 506)

اللہ تعالیٰ انہیں ’’مغفرت کاملہ‘‘ اور اپنے قرب خاص کا مقام عطاء فرمائے

آہ! حضرت امیر المومنین بھی چلے گئے

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون 

غم اور مشکل کا اندھیرا

حضرت امیر المومنین جیسے افراد جب دنیا سے اٹھتے ہیں تو آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی… اور ساری اچھی مخلوقات بھی… ہم تو انسان ہیں، بہت کمزور … پھر ان کے مامور ہیں… اور ایک اللہ کی خاطر ان سے محبت کرنے والے…

وہ ہمارے خواب بھی تھے اور خوابوں کی تعبیر بھی… وہ ہمارے رہنما بھی تھے اور محبوب بھی… آج کا مضمون میرے لئے بہت مشکل ہے… بہت ہی مشکل کیونکہ!!

٭ ان سے الحمدللہ سچی محبت تھی… اللہ تعالیٰ ہی اس محبت کا حال جانتا ہے… ایسے محبوب کے بارے میں بار بار ماضی کا صیغہ استعمال کرنا کہ وہ ایسے تھے، اس طرح تھے… یہ بڑا مشکل کام ہے…

٭ خود کو کبھی اس بارے میں ذہنی طور پر تیار ہی نہیں کیا کہ… وہ ہم سے پہلے چلے جائیں گے… حالانکہ وہ مستقل موت کے قریب تھے مگر دل کی خواہش تھی کہ… ہم ان سے پہلے ’’ان کی زندگی میں چلے جائیں‘‘ ان تک خبر پہنچے اور وہ ہماری مغفرت کے لئے دعاء فرما دیں… مگر وہ پہلے چلے گئے… دل پر جو گذر رہی ہے وہ بتانا آسان نہیں

٭ وہ ماشاء اللہ بہت اونچے اور باصفات انسان تھے… بلا مبالغہ ایک مثالی یعنی آئیڈیل شخصیت… اور ہم بے کار اور بے صفت انسان… ہم میں اور ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے… اب زمین کس طرح سے آسمان کی بلندی بیان کرے… واقعی مشکل کام ہے… اپنے زمانے کے بڑے انسانوں کو سمجھنا اور ان کے بارے میں دوسروں کو سمجھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے…

٭ ان کے بارے میں ہمیشہ یہ ذہن رہا کہ وہ حکم دیں اور ہم اطاعت کریں… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان کی اطاعت اور محبت میں نہ تو جان بوجھ کر کبھی کوتاہی کی… اور نہ اس بارے میں کبھی کسی کی پرواہ کی… یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے یا لکھنے کا جوکھم بھی اٹھانا ہو گا… کسی وفادار مامور کا مبصر بن جانا آسان کام نہیں ہے…

بہرحال غم ہے، صدمہ ہے، ذمہ داری ہے… اور لکھنا بھی ضروری ہے… وہ اس کے محتاج نہیں مگر ہم تو محتاج ہیں… اب اس مشکل میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد کا سوال ہے…

٭ ان کے کارنامے بے شمار ہیں… ان کی کرامات ماشاء اللہ کثیر ہیں… ان کی حصولیابیاں اور کامیابیاں ایک شان رکھتی ہیں… ان کی صفات میں بہت روشنی ہے… ان سب باتوں کا خلاصہ بھی ایک کتاب کی جگہ مانگتا ہے… ایک چھوٹے سے مضمون میں کیا لکھا جائے اور کیا چھوڑا جائے؟… یہ انتخاب بھی مشکل کام ہے…

یا اللہ ! صبر اور ہمت کا ایک جام پلا دیجئے… تاکہ یہ ساری مشکلات آسان ہو جائیں…

الا یا ایھا الساقی ادر کاسا ونا ولھا

کہ عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلھا

شب تاریک و بیم موج و گرداب چنیں ھائل

دل افگندیم بسم اللہ مجرھا ومرسھا

محبت اپنی جگہ مگر!!

ہماری محبت اپنی جگہ مگر … اللہ تعالیٰ کے وہ مخلص بندے جو اللہ تعالیٰ کے لئے سخت محنت اور مزدوری کرتے ہیں…آخر ان کا بھی حق ہے کہ… وہ اپنے محبوب رب سے اجر اور اجرت پانے جائیں… جی ہاں! ان کا حق ہے کہ ان کی مشکل زندگی… آرام دہ عیش وعشرت میں تبدیل ہو… جہاد والی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے… روپوشی بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے… اتنے مشکل حالات میں اتنے بڑے لشکر کی کمان اور قیادت کرنا بھی بڑا مشکل کام ہے… جو شخص مسلسل تیرہ سال سے یہ ساری مشکلات جھیل رہا ہو… اس کا حق ہے کہ وہ راحت و آرام کے پر سکون جزیرے پر اکرام کے لئے بلایا جائے… حضرت شاہ عبد العزیزؒ لکھتے ہیں:

جب حضرات انبیاء علیہم السلام سے وہ کام لے لیا جاتا ہے… جو ان کے دنیا میں تشریف لانے پر موقوف ہوتا ہے تو انہیں اس فانی،دکھ درد بھری، ناقص دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے… کیونکہ یہ فانی دنیا ارواح مقدسہ کے رہنے کی جگہ نہیں ہے… یہ مقدس روحیں تو اس ناقص گھر میں بعض ضروری کاموں کی تدبیر کے لئے بھیجی جاتی ہیں… پس جیسے ہی وہ کام پورا ہوتا ہے ان ارواح کو بڑے آرام دہ گھر کی طرف بلا لیا جاتا ہے۔ (مفہوم تفسیر عزیزی)

یہی حال اللہ تعالیٰ کے اولیاء صدیقین اور مقربین کا ہے… حضرت امیر المومنین بھی جس کام کے لئے اس دنیا میں آئے تھے وہ جب پورا ہو چکا تو وہ چلے گئے…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

امید کی روشنی

حضرت الامیر کی جدائی کا غم بڑا ہے… بڑا درخت گرتا ہے تو زمین دور دور تک اکھڑ جاتی ہے، لرز جاتی ہے مگر اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور آخری دین ہے… اس دین کی گود کبھی بانجھ نہیں ہوتی… ایک مخلص فرزند جاتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے… جہاد عزت و عظمت کا کارخانہ ہے… یہ کارخانہ اپنے کاریگر اور کارکن بنانے میں خود کفیل ہے، اور ماشاء اللہ آج تو جہاد اس قدر پھیل چکا ہے کہ… اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں رہا… حضرت امیر المومنین کی محنت، تدبیر اور قربانی کی برکت سے… جہاد پورے عالم اسلام میں پہنچ چکا ہے… عالم کفر نے حضرت امیر المومنین کی وفات پر زیادہ خوشی نہیں منائی… اس کی دو بڑی وجوہات ہیں… پہلی تو یہ کہ عالم کفر اپنی ہوشربا عسکری طاقت اور سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کر کے بھی حضرت امیر المومنین کو نہیں ڈھونڈ سکا… بڑے بڑے انعامات کے اعلان اور منافقوں کی بھرتی کے باوجود وہ حضرت امیر المومنین کی ہوا تک نہ پا سکا… یہ اس کے لئے ایک ایسی عبرتناک ذلت، رسوائی اور شرمندگی ہے جو ہمیشہ اس کے دل کا زخم بنی رہے گی… اور دوسری وجہ یہ کہ حضرت امیر المومنین آج سے دو سال دو ماہ قبل وفات پا گئے مگر پورے افغانستان میں جہاد مکمل آب و تاب سے جاری رہا… جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت امیر المومنین مستقبل پر نظر رکھنے والے ایک مدبر اور صاحب بصیرت قائد اور امیر تھے… انہوں نے جہاد کو اپنی ذات کے ساتھ ایسا نہیں باندھا کہ ان کے جانے سے جہاد بھی مٹی میں دفن ہو جائے… بلکہ انہوں نے خود کو کھپا کر، مٹا کر جہاد کی تحریک کو منظم اور خود کار بنایا… انہوں نے جہادی دستوں کی ایسی ترتیب بنائی کہ ان کی شہادت سے یہ کام رکنے کی بجائے اور زیادہ تیز ہو جائے… انہوں نے مجاہدین کے لئے مستحکم نظام وضع فرمایا… اصل توجہ محاذوں پر رکھی اور محاذوں کی آبادی اور آبیاری کے لئے تعلیمی، نشریاتی، تبلیغی، اعلامی، مالی، طبی اور سیاسی شعبوں کا جال بچھا دیا… انہوں نے جہاد اور مجاہدین کو مال کا محتاج بنانے کی بجائے… مال سے دوری اور مال میں احتیاط کا عادی بنایا… انہوں نے جماعت کو شوری اور احتساب کے نظام میں باندھ دیا… اور ہر شخص کو اس کی اہلیت کے کام پر لگا کر اسے کسی کی نگرانی میں دے دیا… یوں وہ اپنا سب کچھ کام میں لگا کر اپنی ذات کو ایک طرف کرتے چلے گئے… یہ سب کچھ صرف وہی انسان کر سکتا ہے جس کا ایمان بھی کامل ہو اور اخلاص بھی مکمل ہو… خلاصہ یہ کہ وہ اپنی زندگی میں ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھ گئے ہیں کہ جس پر بہت وسیع اور عالی شان عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے… اللہ کرے ان کی جماعت ان کی ڈالی ہوئی بنیادپر قائم رہے اور ان کے طریقہ کار اور نظریات پر کاربند رہے… تب ان شاء اللہ کوئی خطرہ نہیں، کوئی اندیشہ نہیں…

ہاں کمی تو محسوس ہو گی کیونکہ ایسا بے غرض، بے لوث، مدبر اور مخلص رہبر چلا گیا…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

بڑی نسبتوں کے امین

اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر المومنین کو سابقین اولین کی کئی نسبتیں عطاء فرمائیں… اہل علم اگر انصاف سے غور کریں گے تو ضرور حضرت امیر المومنین کو پندرھویں صدی ہجری کا’’ مجدد‘‘ مانیں گے… شہید اسلام حضرت اقدس مولنا محمد یوسف لدھیانوی قدس سرہ نے جب افغانستان کا سفر فرمایا تو ان پر عجیب والہانہ کیفیات طاری رہیں… ایک بار فرمایا قندھار سے کابل تک ایک آدمی بھی بغیر داڑھی کے نظر نہیں آیا… کوئی ایک عورت بھی بے پردہ نہیں… یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟… ہم ساری زندگی محنت کر کے ایک گلی یا ایک محلے میں یہ ماحول قائم نہیں کر سکتے… جو یہاں ہزاروں میل تک قائم ہو چکا ہے… یہ سب باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں چمک اور آنسو ایک ساتھ جمع ہو جاتے اور وہ بے خودی کے عالم میں حضرت امیر المومنین کی تعریف کرتے رہتے… حالانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ کس قدر اونچے معیار کے عالم، بزرگ اور ولی تھے… اور مبالغہ آرائی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی تھی… حضرت اقدس مولنا محمد موسی روحانی قدس سرہ نے فرمایا کہ… امیر المومنین نے سو فیصد حضرات خلفاء راشدین کا دور زندہ فرما دیا ہے… بات نسبت کی چل رہی تھی … حضرت امیر المومنین کو اصل نسبت تو حضرت آقا مدنیﷺکی نصیب ہوئی… اس نسبت کی تفصیل جاننی ہو تو حضرت شاہ اسماعیل  شہیدؒ کی وہ تحریر پڑھ لیجئے جو انہوں نے حضرت سید احمد شہیدؒ کی نسبت کے بارے میں لکھی ہے… دنیا میں جب کچھ پتھروں کو جوڑ کر کوئی بت بنا لیا جاتا ہے تو یہ بت بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پتھر وغیرہ سے بنتا ہے… اس لئے وہ انتظار کرتا ہے کہ کوئی بت شکن آئے اور اسے توڑ ڈالے تاکہ… اللہ کے سوا اس کی پوجا نہ کی جا سکے…  بامیان کے بتوں کو دو ہزار سالوں سے اپنے بت شکن کا انتظار تھا… اور ان بتوں کے محافظ اس زمانے میں بہت مالدار اور طاقتور تھے… حضرت امیر المومنین کو اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم سعادت عطاء فرمائی کہ… وہ بت شکن بنے جو کہ ان کی نسبت ابراہیمی کا ثبوت ہے… زمانے کا فرعون خود کو ناقابل تسخیر سمجھ کر سپر پاور ہونے کے دعوے کر رہا تھا… نیو ورلڈ آرڈر اس کا اعلان تھا… انا ربکم الاعلیٰ… ھل لکم من الہ غیری… حضرت امیر المومنین نے اس فرعون کو شکست دے کر بے آبروئی کے سمندر میں گرا دیا… جو آپ کی نسبت موسوی کی طرف واضح اشارہ ہے…

حضرت امیر المومنین کا وصال اپریل ۲۰۱۳؁ء میں ہوا… مگر وہ اس کے بعد بھی دو سال دو ماہ تک اپنے دشمنوں اور دوستوں کو زندہ نظر آتے رہے… دوستوں کا لشکر ان کے نام، تعلق اور محبت سے چلتا رہا… جبکہ ان کے دشمن ان کے رعب اور خوف کے ’’عذاب مھین‘‘ میں مبتلا رہے… یہ حضرت کی سلیمانی نسبت کا اثر تھا…

آپکی صدیقی نسبت بہت گہری تھی… صدیق کسے کہتے ہیں اور  اس کی علامات کیا ہیں… یہ ہم ان شاء اللہ تھوڑا آگے چل کر عرض کریں گے… حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:

اینقص الدین وانا حیی

میری زندگی میں دین کا حکم ختم ہو… یہ ممکن نہیں ہے… حضرت امیر المومنین نے بھی دین کے ہر حکم کے احیاء کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں… حضرت امیر المومنین کی خاص نسبت فاروقی تھی… نام سے لے کر کام تک… مزاج سے لے کر جلال تک آپ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شاندار نسبت سے مالا مال تھے…

یاد رکھیں… اس امت میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام کی نسبتیں قیامت تک چلتی رہیں گی…وقلیل من الاخرین

آہ! اس زمانے میں اتنی بڑی نسبتوں کا امین شخص چلا گیا، چلا گیا

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

سیاسی بصیرت کا عروج

اخبارات میں ایک جملہ پڑھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ… نعوذ باللہ حضرت امیر المومنین سیاسی بصیرت نہیں رکھتے تھے… ایک اور ظالمانہ جملہ بھی چل رہا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت امیر المومنین پاکستان کے خفیہ اداروں کے مہرے تھے… اس ظالمانہ، فاسقانہ جملے کا جواب دینا بھی جائز نہیں… جو بھی ایسا کہہ رہے ہیں وہ بدترین غیبت اور بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں… مگر پہلے جملے کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے… کیونکہ وہ جملہ ایسے افراد لکھ رہے ہیں جو حضرت امیر المومنین کے اخلاص، شجاعت اور دیگر کئی صفات کے بظاہر معترف ہیں… وہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین کی دیگر تمام صفات بجا مگر ان میں سیاسی بصیرت نہیں تھی… اس لئے وہ بڑے اہم مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے… وہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے خود بھی مشکلات کا شکار رہے… اور اپنے رفقاء کو بھی مسلسل مشکلات میں ڈالتے رہے… حضرت امیر المومنین کے بارے میں یہ تجزیہ انتہائی غلط… بلکہ ظالمانہ ہے… اندازہ لگائیں…

٭ بیس سال تک دنیا کی سب سے بڑی جہادی جماعت کی مدبرانہ قیادت… کبھی آپ کی امارت پر اختلاف نہ ہوا…

٭ چھ سال تک افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر ایک عادلانہ، منصفانہ حکومت چلانا… آج جو وزیر اعظم اپنے پانچ سال کسی طرح کاٹ لے اس کی سیاسی بصیرت کے گن گائے جاتے ہیں… اسلامی حکومت کو تو آج کل کا قابض استعمار چھ ہفتے بھی نہیں چلنے دیتا…

اپنے ایک حکم کے ذریعے افغانستان جیسے معاشرے میں امن قائم کرنا، پوست کی کاشت روکنا اور منصفانہ عدالتی نظام قائم کرنا سیاسی بصیرت نہیں تو اور کیا ہے؟… اعتراض کرنے والے اپنا گھر اور اپنے چار ملازمین کو اس طرح چلا کر دکھا دیں…

٭ دنیا کے سب سے بڑے، طاقتور اور متحدہ لشکر کا تیرہ سال تک مقابلہ کرنا اور بالاخر اس کو شکست سے دوچار کرنا… کیا یہ سیاسی بصیرت کے بغیر ممکن ہے؟…

٭ دنیا کا سب سے مطلوب شخص ہونے کے باوجود اپنے محاذ پر ڈٹے رہنا اور دشمن سے پوشیدہ رہ کر اتنے طویل عرصے تک اپنے لشکروں کی کمان کرنا… اس سے بڑھ کر کسی بصیرت کا تصور بھی ممکن ہے؟…

٭ کسی بھی ملک اور ادارے کی امداد کے بغیر ایک بڑی جنگ لڑنا اور اس میں با آبرو رہنا… ایسا شاید دنیا بھر کے تمام دماغ مل کر بھی نہ کر سکیں…

ہم مانتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین انسان تھے، بشر تھے… وہ فرشتہ، پیغمبر، صحابی یا تابعی نہیں تھے… ان میں بھی کمزوری ہو گی مگر سیاسی بصیرت نہ ہونے کا دعویٰ بہت فضول اور بے کار ہے…

جس سیاسی  بصیرت… اور مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کا رونا آپ رو رہے ہیں… یہ بصیرت قذافی نے اختیار کی اور اسی کے نتیجے میں ذلت کی موت مارا گیا… یہی بصیرت صدام حسین نے اپنائی تو پکڑا گیا او پھانسی پر شہید ہوا… عالمی سامراج کی سیاست یہی ہے کہ جو مسلمان حکمران ان کی غلامی میں نہیں چلتا اور اپنے موقف پر آگے بڑھتا ہے تو وہ اس کے گرد جعلی دوستوں اور خیر خواہی کا جال بچھاتے ہیں… یہ دوست اس حکمران کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر … اور اچھی طرح ڈرا کر ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں… پھر جیسے ہی وہ قدم پیچھے ہٹاتا ہے تو اسے ذلت کی موت مار دیتے ہیں… قذافی بہت دھاڑتا تھا، اسے مقبولیت کے سبز باغ دکھا کر پیچھے ہٹایا گیا… پیچھے ہٹتے ہی وہ اپنے جذباتی حامیوں سے محروم ہوا تو اسے ذلت کی موت مار دیا گیا… یہی صدام کے ساتھ ہوا… ان دونوں نے بظاہر سیاسی بصیرت کے تحت عالم کفر کے بہت سے مطالبات مانے اگر خدانخواستہ حضرت امیر المومنین اپنی حکومت بچانے کے لئے ایسا کرتے… بامیان کے بت نہ گراتے، شیخ اسامہ کو پکڑ کر حوالے کر دیتے… انڈین طیارے کو نہ اترنے دیتے… این جی اوز کو بے لگام چھوڑ دیتے… تب بھی ان کو نہ چھوڑا جاتا… ڈو مور، ڈومور بھونکتے ہوئے وحشی کتے پھر کسی بہانے ان پر حملہ آور ہوتے کیونکہ ان کے لئے مسلمانوں کی خود مختار حکومت کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے… حضرت امیر المومنین بھی اگر ایک قدم پیچھے ہٹا لیتے تو ان کو ذلیل کر کے مارا جاتا… حضرت تو قابل رشک سیاسی بصیرت رکھتے تھے… وہ آگے بڑھتے رہے… تب قدرت نے ان کی جھولی عزت، اکرام اور فتوحات سے بھر دی… ان کی بصیرت اور استقامت کی برکت سے یہ تصور ختم ہوا کہ ہر مسلمان حکمران کو جھکایا اور دبایا جا سکتا ہے… الحمد للہ ان کے اس عمل کی برکت سے ساری دنیا میں اسلام کو عزت ملی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے… اور دنیا کے کئی خطوں میں مجاہدین کے لشکر وجود میں آئے… اور یہ تاثر ختم ہوا کہ امریکہ اور یورپ کو شکست نہیں دی جا سکتی…

ہم کیوں اپنی طرز فکر چھوڑیںہم اپنی کیوں وضع خاص بدلیں

کہ انقلابات نو بہ نو تو ہوا کیے ہیں ہوا کریں گے

ہاں! اگر سیاسی بصیرت کا مطلب پسپائی، غلامی، مفاد پرستی اور جھوٹ ہے تو واقعی حضرت امیر المومنین اس نام نہاد بصیرت سے پاک تھے…

سبحان اللہ! ہمارے حضرت الامیر! دنیا سے اس حال میں گئے کہ ان کے چہرے پر ذلت، ہزیمت، خود سپردگی، شکست، حسرت اور پشیمانی کا ایک داغ بھی نہیں تھا… ماشاء اللہ وہ کامل بصیرت رکھنے والے پورے اور سالم مسلمان تھے… اور وہ اپنا ایمان سالم لے کر اس دنیا سے چلے گئے…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

سالوں میں صدیوں کا سفر

کیا آپ کو معلوم ہے کہ… حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کی عمر کتنی تھی؟… انہیں پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے… عالم اسلام کے کامیاب ترین حکمرانوں میں ان کا نام پہلے دس افراد میں آتا ہے… اہل علم ہوں یا اہل جہاد… اہل تاریخ ہوں یا اہل تصوف سب ان کے آج تک قصیدے پڑھتے ہیں… ان کا انتقال چالیس سال کی عمر میں ہوا… کہا جاتا ہے کہ ان کو زہر دیا گیا تھا… اکثرصدیقین کی شہادت اسی طرح ہوتی ہے… اور یہ شہادت عام شہادت سے زیادہ بلند ہوتی ہے… وہ   ۶۱؁ھ میں پیدا ہوئے اور  ۱۰۱؁ھ میں وفات پا گئے… خلافت کا کل زمانہ دو سال پانچ ماہ چار دن بنتا ہے… مگر یہ دو سال … برکت، اجر اور عمل میں صدیوں پر بھاری ہیں…

محمد بن قاسم جو فاتح سندھ اور مغربی پنجاب تھے… انہوں نے تیئس (۲۳) سال کی عمر پائی… ۷۲؁ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۵؁ھ میں وفات پا گئے… آج تک کسی مصنف یا خطیب کا جہادی بیان ان کے تذکرہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا… اسے کہتے ہیں صدیوں کی کمائی…

فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ … آج تک امت مسلمہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں… انہوں نے کل چون یا پچپن سال کی عمر پائی… مگر ان کا نام، کام، کارخانہ اور برکتیں آج تک جاری ہیں… اسے کہتے ہیں صدیوں کو فتح کرنا… ویسے پچاس سے پچپن سال کی عمر کے دوران وفات پانے والے اہل کمال بہت زیادہ ہیں…

حضرت امام شافعیؒ کو دیکھ لیجئے… پورے ایک مسلک اور اربوں مسلمانوں کے امام…  ۱۵۰؁ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۰۴؁ھ وفات پا گئے… زمانے کے ذہین ترین بابے بھی ان کی تقلید پر فخر کرتے ہیں… حضرت امام غزالیؒ نے بھی تقریباً یہی عمر پائی مگر اور کاموں کے ساتھ اتنی کتابیں لکھ گئے کہ… اگر کوئی ان کو نقل کرنے بیٹھے تو اس کی عمر بیت جائے…

سالوں میں صدیوں کو فتح کرنے والے ان افراد میں ایک نیا نام شامل ہو گیا اور وہ ہیں… ہمارے حضرت امیر المومنین … سبحان اللہ ! اتنا کام، اتنے کارنامے، اتنا وسیع کارخانہ اور اتنی برکت… اور عمر ہجری حساب سے یہی چون پچپن سال… حضرت سید احمد شہیدؒ سے آٹھ نو سال بڑے اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ہم عمر… ملا محمد عمر مجاہد اخوند… چلے گئے

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

حضور اقدسﷺکا معجزہ

ایک بات ’’مکتوب خادم‘‘ میں لکھ دی تھی… ممکن ہے وہ کسی کو مبالغہ لگی ہو… اس لئے قدرے وضاحت کے ساتھ عرض ہے… حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ نے اپنے والد محترم مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ… وہ رسول کریمﷺکے معجزات میں سے ایک معجزہ تھے… بندہ نے عرض کیا تھا کہ ہمارے حضرت امیر المومنین بھی حضور اقدس ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھے … چاند زمین سے کافی فاصلے پرہے… حضرت آقا مدنیﷺکی انگلی مبارک کے اشارے نے اس پر اثرا ڈالا اور وہ دوٹکڑے ہو گیا… یہ معجزہ تھا… اور آپﷺکی دعوت اور رہنمائی آپﷺسے چودہ سو سال دور ایک انسان کے دل کو ایسا کر دے کہ… وہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں جیسا ہو جائے… یہ بھی معجزہ ہے… آج کئی لوگ کہتے ہیں کہ… ہم نے آپﷺکا زمانہ نہیں پایا… ہم آپﷺکے زمانہ مبارک سے چودہ  سوسال دور ہیں اس لئے ہم دین میں اس قدر پختہ نہیں ہو سکتے… مگر ایک انسان کے دل میں آج بھی آپﷺکی دعوت اپنی مکمل رعنائی کے ساتھ اتر جاتی ہے اور اس کو مسلمانوں کا برحق امام اور قائد بنا دیتی ہے تو یہ یقیناً آپﷺکا معجزہ ہے…

ویسے بھی اس امت کے تمام ’’صدیقین‘‘ حضور اقدسﷺکا معجزہ ہیں …کہ آپﷺکی روحانی تربیت ان کو مقام’’ صدیق‘‘ تک پہنچاتی ہے… صدیقین کون ہوتے ہیں؟ تفصیل کا مقام نہیں بس ان کی چار علامات عرض ہیں:

(۱) صدیق وہ ہوتا ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہو

(۲) صدیق وہ ہوتا ہے جو اپنے عزم اور ارادے میں ہرگز تردد نہیں کرتا، یعنی جس نیک کام کا عزم و ارادہ باندھ دے پھر اسے نہیں چھوڑتا

(۳) دین کے کاموں میں خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کوشش کرتا ہے… اپنی خواہشات نفس کو بالکل دخل نہیں دیتا

(۴) اپنی عمر کے ابتداء سے جھوٹ … اور دو رنگی بات کہنے سے دور رہتا ہے۔ (مفہوم تفسیر عزیزی)

آپ حضرت امیر المومنینؒ کے حالات کا بغور مشاہدہ کریں … ماشاء اللہ ان میں یہ سب علامات موجود تھیں…

ہماری خوش نصیبی ہے کہ آقا مدنیﷺکا یہ معجزہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا… اس سے فیض پایا… اس کی قیادت میں کام کیا… حضرت امیر المومنین کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اخلاص اور عشق نصیب تھا… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمت نصیب فرمائے…جگر مرحوم کے دو شعر جو حضرت امیر المومنین کے عشق کی تصویر کھینچتے ہیں… قدرے ترمیم کے ساتھ پیش ہیں:

جنہیں کہیے عشق کی وسعتیں، جو ہیں خاص حسن کی عظمتیں

یہ اسی کے قلب سے پوچھئے جسے فخر ہو غم یار پر

میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہیے کیا ’’عمر‘‘

غم یار ہے میرا شیفتہ، میں فریفتہ غم یار پر

آہ زمانے کا وہ صدیق چلا گیا

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

ہر سعادت پر قبضہ

اکثر لوگ اپنی آئندہ کل کے مفادات سوچ سوچ کر… اپنے آج کو ویران کرتے رہتے ہیں… مصلحت، مصلحت، مصلحت کی رٹ لگا کر ہر سعادت سے محروم رہتے ہیں… مگر عقلمند لوگ اپنے ’’آج ‘‘ کو قیمتی بناتے ہیں… اور جو سعادت اور نیکی سامنے آئے اس کو فوراً حاصل کر لیتے ہیں… اور کل کے خوف، خطرے اور اندیشے میں اپنے آج کا نقصان نہیں کرتے…

امیر المومنین کے دور حکومت میں جب نائن الیون کا واقعہ ہو چکا تھا… اور افغانستان پر غیر ملکی حملہ قریب تھا… پاکستان کے ایک قومی سیاستدان سے ملاقات ہوئی… انہوں نے بطور شکوہ بتایا کہ میں نے طالبان کے لئے حمایت حاصل کرنے کی کافی محنت کی… مگر انہوں نے چیچنیا کی حکومت کو تسلیم کر کے اور کابل کا روسی سفارتخانہ چیچن مجاہدین کو دے کر… اور سنکیانک کے کچھ مسلمانوں کو پناہ دیکر سب کو ناراض کر دیا ہے… اور میری ساری محنت رائیگاں گئی ہے… ان کی یہ تنقید سن کر مجھے حضرت امیر المومنین کے ایمان پر رشک آیا کہ واقعی وہ ایسے سچے مسلمان ہیں… جنکی زندگی کا ایجنڈا کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں سے باہر نہیں جاتا…

وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اپنا ہر ذاتی نقصان خوشی سے قبول کرتے ہیں… اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے لئے جیتے ہیں… آسمان، زمین اور تمام مسلمان صدیوں سے ایسے مسلمان حکمران کے لئے ترس رہے تھے… جو اسلام اور مسلمانوں کا خادم ہو… اور انہیں سب سے زیادہ فوقیت دیتا ہو… امیر المومنین کا زمانہ حکومت اتنا ہی تھا جتنا ان کو نصیب ہوا… اور ان کی زندگی اتنی ہی تھی جتنی انہوں نے گذار لی… وہ اگر چیچن مسلمانوں کو ذبح کر کے، اور سنکیانک کے مظلوموں کو حوالے کر کے روس اور چین کو اپنا دوست بنا بھی لیتے تو ان کی… حکومت اور عمر کے دنوں میں اضافہ نہ ہوتا… روس نے صدام کو کونسا بچا لیا؟… چین نے قذافی کی کیا مدد کی؟… اگر امیر المومنین ان کی دوستی کی خاطر مسلمانوں کے مفادات ذبح کرتے تو ان کی حکومت اسلام کے کیا کام آتی؟… تاریخ میں کیا تبدیلی ہوتی ؟ زمین پر کون سے بیج بوتی؟ ایسے مسلمان حکمران تو ہزاروں آئے اور مر گئے… مگر عمر تو عمر تھے… انہوں نے اپنی ہر چیز اسلام اور مسلمانوں کے لئے قربان کی… وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت بنے… تب روس بھی ان کے قدموں پر جھکا… چین نے بھی بارہا ان کو امداد کی خفیہ پیشکشیں کیں… اور وہ بڑی امتیازی شان کے ساتھ جئے اور بڑی امتیازی شان کے ساتھ چلے گئے…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

ایک خاص طبقہ

انسان عمومی طور پر کمزور پیدا ہوا ہے… جو خود کو مضبوط سمجھتے ہیں ان کی مضبوطی بھی… کئی مقامات اور کئی حالات میں بالآخر کمزور پڑ جاتی ہے… خوف، بیماری، اولاد، موت، آنسو، معاشی مجبوری… اور بہت کچھ مضبوط انسانوں کے عزم کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں… مگر کچھ لوگ واقعی بے حد مضبوط ہوتے ہیں… ان پر جیسے بھی حالات آ جائیں وہ اپنے عزم اور ہٹ سے پیچھے نہیں ہٹتے… کبھی بھی نہیں، کسی بھی حال میں نہیں… ایسے لوگ کروڑوں اربوں میں ایک آدھ ہوتے ہیں…

مثال لیجئے… مکہ مکرمہ میں اس خاص مزاج کے دو افراد تھے… حضور اقدسﷺنے پہچان لیا… جمعہ کی رات، اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ ان دو میں سے ایک مجھے عنایت ہو… تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے عزت کا ذریعہ ہو…

دعاء حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ہوئی… وہ اسلام اور مسلمانوں کی عزت کا ناقابل شکست ستون بن گئے… جبکہ دوسرا ضدی محروم رہا موت کے وقت تک اور موت کے دوران بھی اپنی بات پر ڈٹا رہا… وہ تھا عمرو بن ہشام یعنی ابو جہل… بعد کے زمانے میں بھی ایسے افراد آتے رہے… اچھے بھی اور ُبرے بھی… تفصیل لکھوں تو آپ حیران رہ جائیں گے… مضمون کی جگہ کم ہے… ہمارے حضرت امیر المومنینؒ اسی خاص مزاج کے انسان تھے… سردی ہو یا گرمی، غربت ہو یا امیری، زندگی ملے یا موت، تخت ہو یا تختہ، کوئی راضی ہو یا ناراض، فائدہ نظر آئے یا نقصان، بس جس حق نظریہ پر ڈٹ گئے… اس سے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… ایسے افراد فطرت کے مخدوم ہوتے ہیں… فرشتوں سے لے کر ہواؤں اور پہاڑوں تک سب ان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں… ایسے افراد اپنے نظریے اور اپنی قوم کے لئے عزت کا سامان ہوتے ہیں… ہمارے امیر المومنین بھی اس زمانے میں اسلام، جہاد اور دینی غیرت کی عزت و آبرو بنے رہے اور اسی عزت و آبرو کی سلامتی کے ساتھ چلے گئے…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون 

ایک ملاقات کا حال

گرفتاری کا پہلا سانس ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ میں لیا تھا… اللہ تعالیٰ کشمیر کو آزادی عطاء فرمائے… مگر اس طویل گرفتاری کے بعد آزادی کا پہلا سانس…  حضرت امیر المومنین کے سایہ شفقت ’’قندھار‘‘ میں لیا… ہم بالکل ان کے پڑوس میں، ان کی میزبانی اور شفقت کے مزے لوٹ رہے تھے… مگر زیارت سے محروم، شوق سے تڑپتے ہوئے…

اللہ رے تیغ عشق کی برھم نوازیاں

میرے ہی خون شوق نے نہلا دیا مجھے

ان کے عالی مقام اور حالات کی نزاکت کے باعث عزم تھا کہ… محبت کو ضبط کریں گے…ملاقات کا اصرار نہ کریں گے… مگر ان کی دلنوازیاں… اللہ، اللہ…  ایک بار پہننے کے لئے غریب مسافروں کو کپڑے بھیج دئیے… کبھی ان کا چھوٹا بھائی آنکھوں میں پیغام محبت بھرے سامنے آ بیٹھتا اور ہم اس کے چہرے میں… اپنے محبوب کے نقوش تلاش کرتے… ایک بار تو حد ہو گئی… پیغام آیا کہ یہاں رہنا چاہو تو میرا ملک، میرا شہر حاضر ہے… جانا چاہو تو دعاؤں کے ساتھ اجازت ہے…

دعوی کیا تھا ضبط محبت کا اے جگر

ظالم نے بات بات پر تڑپا دیا مجھے

بالآخر اسی تڑپ کو دل میں دبائے، پاکستان آ گئے… مگر دل وہیں چھوڑ آئے تھے… اس نے خوب سفارتکاری کی یہانتک کہ ملاقات کا بلاوا آ گیا…

کام آخر جذبہ بے اختیار آ ہی گیا

دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا

ہمارا قافلہ ایک بار پھر قندھار روانہ ہو گیا…

اول اول ہر قدم پر تھیں ہزاروں منزلیں

آخر آخر اک مقام بے مقام آ ہی گیا

التفات چشم ساقی کی سبک تابی نہ پوچھ

میں یہ سمجھا جیسے مجھ تک دور جام آ ہی گیا

عشق کو تھا کب سے اپنی خشک دامانی کا رنج

ناگہاں آنکھوں سے اشکوں کا سلام آ ہی گیا

جگر مرحوم سے معذرت کے ساتھ:

بے ’’عمر‘‘ سونا پڑا تھا مدتوں سے مے کدہ

پھر وہ دریا نوش، رندتشنہ کام آ ہی گیا

ملاقات کا منظر عجیب تھا… رعب اور اپنائیت، خوف اور محبت… احتیاط اور شوق… کیا کہیں گے؟… کیا کہہ سکیں گے؟… نہیں نہیں صرف سنیں گے… ہاں مگر آنکھوں سے جام بھریں گے… مگر دیکھیں گے کیسے؟…  نظریں کہاں ملا سکیں گے؟… چلو قدم مبارک پر نظر جما لیں گے… مگر ملاقات ہوتے ہی سب دوریاں، قربتوں میں بدل گئیں

نظر سے ان کی پہلی نظر یوں مل گئی اپنی

حقیقت میں تھی جیسے مدتوں سے دوستی اپنی

اور

حسن کی سحرکاریاں عشق کے دل سے پوچھیے

وصل کبھی ہے ہجر سا، ہجر کبھی وصال سا

گم شدگان عشق کی شان بھی کیا عجیب ہے

آنکھ میں اک سرور سا چہرے پہ ایک جلال سا

مصافحہ، معانقہ، بہت مختصر حال احوال اور پھر خاموشی:

دل بن گیا نگاہ، نگہ بن گئی زباں

آج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا

جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا

وہ کر سکے بیاں، نہ ہمیں سے کہا گیا

ویسے جگر کی اس غزل کا ایک شعر تو حضرت امیر المومنین پر خوب جچتا ہے:

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

ان دنوں ہم جہاں جاتے… بہت طویل باتیں سنتے… مشورے، احکامات، امیدیں،تنبیہات… یہاں سراپا گوش بنے بیٹھے تھے… مگر دلنواز خاموشی… نہ کوئی حکم  نہ کوئی مشورہ… نہ احسانات کی فہرست نہ کوئی مطالبہ… ہاں! وہ بہت کم بولتے تھے، مگر جب بولتے تو موتی جھڑتے… تب مجبوراً ادب کے ساتھ زبان کھولی… کچھ حال سنایا، اپنے عہد و پیمان کو جو جیل میں باندھا تھا تازہ کیا… کچھ رہنمائی لی… تب جچے تلے جوابات ملنا شروع ہوئے… اور ایک حسین خواب کی طرح پہلی ملاقات ختم ہو گئی… کچھ عرصے بعد دوسری ملاقات ہوئی… اس دن ایک حسّاس موضوع تھا تو خوب بولے… دل میں آرزو تھی کہ یہ لمحات زندگی میں بار بار آئیں… ان کی روپوشی کے دوران کئی بار سوچا کہ اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو انہی کے قدموں میں جا بسوں گا…

ان سے ان کے دفتر میں جھاڑو کی خدمت مانگوں گا… نہ عہدہ، نہ منصب… نہ تقریریں نہ تحریریں…محبوب رب کی بارگاہ میں مقبول ایک انسان کی نوکری، چاکری… اور اس کی زیارت… اپنے دل سے کئی بار سچ سچ پوچھا… اسے یہ نوکری اور چاکری دنیا بھر کی بادشاہت سے زیادہ عزیز تھی… انہیں خیالوں اور خوابوں میں چل رہے تھے کہ پتا چلا کہ… وہ تو چلے گئے

رفت ساقی بسوئے ساقی دست تہی میخانہ شد

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

حافظ شیراز ؒ کی باتیں

حافظ شیرازؒ سے پرانی یاری ہے… وہ اپنے دیوان میں تشریف فرما آتے ہیں… کبھی رُلاتے ہیں، کبھی رقصاتے ہیں اور کبھی زخموں پر مرہم رکھتے ہیں… اس عظیم صدمے کے موقع پر بھی آ گئے… شاید دل غمزدہ کو پرسا دینے، تعزیت فرمانے…

کپکپاتے ہاتھوں سے دیوان کھولی تو حافظ کہنے لگے:

حال ماو فرقت جاناں وابرام رقیب

جملہ میداند خدائے حال گرداں غم مخور

ہمارا حال اور محبوب کی جدائی اور دشمنوں کا ستانا… یہ سب کچھ اس اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے جو حال کا بدلنے والا ہے، اس لئے غم مت کھاؤ…

گرچہ منزل بس خطرناک ست و مقصد ناپدید

ہیچ راہے نیست کو را نیست پایاں غم مخور

اگرچہ منزل بہت خطرناک ہے اور مقصود بھی حاصل نہیں۔ مگر کوئی راستہ ایسا نہیں جو ختم نہ ہونے والا ہو اس لئے غم مت کھاؤ

دور گردوں گردو روزے بر مراد مانگشت

دائما یکساں نماند کار دوراں غم مخور

آسمان کی گردش اگر ایک روز ہماری مراد کے موافق نہیں ہوئی… مگر زمانے کا کام کبھی ایک جیسا نہیں رہتا، غم مت کھاؤ

حافظا در کنج فقرو خلوت شبہائے تار

تابود وِردت دعا ودرسِ قرآں غم مخور

حافظؒ سے عرض کیا کہ… حضرت امیر المومنین ؒ کے حسب حال کچھ ارشاد ہو… فرمایا: ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق، وفاداری… اور ان کی وسیع روحانی سلطنت پر عرض ہے:

عشقت نہ سرسری ست کہ از سر بدرشود

مہرت نہ عارضی ست کہ جائے دگرشود

تیرا عشق ایسا سرسری نہیں کہ میرے سر سے نکل جائے… تیری محبت عارضی نہیں کہ کسی اور کے ساتھ جڑ جائے…

عشق تو در وجودم و مہر تو دردلم

باشیردر دروں شد وباجاں بدرشود

تیرا عشق میرے وجود میں اور تیری محبت میرے دل میں اتر چکی ہے۔ یہ ماں کے دودھ کے ساتھ اندر گئی ہے اور جان کے ساتھ نکلے گی…

دردیست درد عشق کہ اندر علاج او

ہر چند سعی بیش نمائی بتر شود

عشق کا درد ایسا درد ہے کہ اس کے علاج میں۔جس قدر کوشش کرو گے یہ بڑھتا ہی جائے گا…

اول منم یکے کہ دریں شہر ہر شبے

فریاد من بگنبد افلاک بر شود

اس شہر میں جس کی فریاد ہر رات سب سے پہلے آسمانوں کے اوپر جاتی ہے وہ میں ہی ہوں…

اگلا شعر بہت ہی عجیب ہے… توجہ سے ملاحظہ فرمائیں:

ور زانکہ من سرشک فشانم بزندہ رود

کِشت عراق جملہ بیکبار ترشود

اس وجہ سے کہ جب میں ’’زندہ رود‘‘  پر آنسو گراتا ہوں تو عراق کے کھیت سب ایکبارگی تروتازہ ہو جاتے ہیں۔

’’زندہ رود‘‘ اصفہاں کا دریا ہے یعنی جب میں اپنے شہر میں آنسو گراتا ہوں تو ان آنسوؤں سے دریاؤں میں ایسا زوردار سیلاب آتا ہے کہ… دور دور تک کے خشک کھیت سیراب ہو جاتے ہیں… خاص طور سے عراق کے کھیت… حضرت امیر المومنین کی آہوں اور آنسوؤں سے جہاد کا ایسا سیلابی ریلا اٹھا کہ… عراق میں بھی تحریک کھڑی ہوئی… اور دجلہ اور فرات کے دریا… دشمنان اسلام کی لاشوں سے بھر گئے… اور ایمان و جہاد کے خشک کھیت سرسبز ہو کر لہلہانے لگے… آج جو عراق و شام کے اتنے بڑے لشکر نظر آتے ہیں … ان سب کے پیچھے ملا محمد عمر مجاہدؒ کی آہیں، آنسو، محنت، استقامت اور فکر ہے… آہ! وہ فاتح عالم چلا گیا…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون

مسک الختام

ہمارے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم اپنی آج کی مجلس کا اختتام اپنے ’’میر مجلس‘‘  حضرت امیر المومنین کے ایک فرمان پر کر رہے ہیں… یہ فرمان آپ نے افغانستان پر امریکہ اور نیٹو کے حملے کے فوری بعد جاری فرمایا… اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی بات کو سچا فرما دیا… ہم اس بیان کی روشنی میں  حضرت امیر المومنین کی شخصیت کے کئی پہلو سمجھ سکتے ہیں… حضرت امیر المومنین نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ کے لئے امریکا اور چیونٹی دونوں ایک برابر ہیں… امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ’’امارت اسلامیہ‘‘ ایسا نظام نہیں کہ اس کا امیر ’’ظاہر شاہ‘‘ کی طرح روم چلا جائے گا اور فوج تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے گی… بلکہ یہ جہاد کا منظم محاذ ہے۔ اگر تم شہروں اور دارالحکومت پر قابض ہو بھی جاؤ، اسلامی حکومت گرا بھی دو، تو ہمارے مجاہدین دیہاتوں اور پہاڑوں میں چلے جائیں گے تب پھر تم کیا کرو گے؟… تم پھر کیمیونسٹوں کی طرح ہر جگہ مارے جاؤ گے… تم جان لو کہ بد انتظامی اور جنگ بھڑکانا آسان ہے، مگر اس بد انتظامی اور جنگ کا خاتمہ کرنا اور ایک نظام قائم کرنامشکل ہے، موت برحق ہے، اور سب کو آئے گی… امریکا کی حمایت میں بے ایمانی اور بے غیرتی کی حالت میں موت آئے یہ اچھا ہو گا؟ یا اسلام میں،ایمان کے ساتھ اور غیرت کی حالت میں موت کا آنا زیادہ بہتر ہو گا۔ (خادم الاسلام ملا محمد عمر مجاہد)

آہ! وہ اللہ کی تلوار، اسلام کا شیر اور دینی غیرت کا ستون چلا گیا…

انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون، انا للہ وانا الیہ راجعون 

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor