Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک مثبت اقدام (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 507 - Saadi kay Qalam Say - Aik Musbat Iqdam

ایک مثبت اقدام

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 507)

اللہ تعالیٰ ہی ہمارے ’’ربّ‘‘ ہیں…اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کو ’’ربّ‘‘ نہیں مانتے…کوئی فرعون آئے یا دجّال…کوئی سائنسی طاقت آئے یا عسکری… اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں مانتے… نہ موت کے ڈر سے، نہ مال کی لالچ میں … ہم زندہ رہیں یا مر جائیں…مالدار ہوں یا بھوکے مریں… تخت پر بیٹھیں یا تختے پر لٹکیں… خوشحال ہوں یا تنگدست… لوگ ہماری عزت کریں یا ہمیں ستائیں… ہر حال میں ہمارا معبود،ہمارا مالک، ہمارا ’’ربّ‘‘ اللہ تعالیٰ ہے…

ہم اپنے اس عقیدے پر خوش ہیں، راضی ہیں، سعادتمند ہیں…اور بے حد،بے حد شکرگزار ہیں…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبّاً، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبّاً ، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبّاً

اسلام ہمارا دین ہے… اور کسی دین کو ہم نہیں مانتے… خواہ وہ کتنی چمک دکھائے، کتنے شعبدے اٹھائے… لالچ اور حرص کے جتنے جال بچھائے…اسلام، اسلام اور صرف اسلام

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً

حضرت محمد ﷺ ہمارے نبی ہیں، رسول ہیں ، قائد ہیں، رہنما ہیں… کامیابی صرف ان کی اتباع میں ہے… اور ان کی تشریف آوری کے بعد… ان کے سوا کسی کے دامن سے وابستہ ہونے میں کامیابی نہیں… ہم ان کی رسالت،نبوت اور ختم نبوت پر ایمان لانا… اپنے لئے فرض، لازم اور بے حد لازم سمجھتے ہیں… اور اپنے اس عقیدے پر راضی ہیں…اور اس پر اللہ تعالیٰ کے بے حد شکر گزار ہیں…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا

یا اللہ! ہمیں اسی عقیدے پر زندہ رکھ… اسی پر موت دے… اسی پر ہمیں ایسا راضی فرما کہ اس رضا کے بدلے میں آپ کی رضا ملے…اور اس عقیدے پر ہر حال میں اور ہر لمحے ہمیں استقامت عطاء فرما…

یہ مبارک دعاء…جو ہمارے لازمی عقیدے پر مشتمل ہے… یہ جنت میں جانے کا ٹکٹ ہے …فرمایا: جو اس عقیدے پر دل سے راضی ہو گا… اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم فرمایا ہے کہ اسے قیامت کے دن راضی فرما دیں گے… اور جو صبح شام تین تین بار یقین سے یہ دعاء پڑھے گا… حضرت آقا مدنی ﷺ  اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جائیں گے…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا

ایک تابعی بزرگ کا فرمان ہے کہ… جو یہ دعاء پڑھے ظالم حکمران اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا وَّ بِالْقُرْآنِ حَکَماً وَّ اِمَاماً

آج بڑی سخت محنت جاری ہے…یہ جو ہر وقت گندے منہ اٹھا کر…اور ناپاک قلم چلا کر کافروں کی ترقی کے قصیدے پڑھتے ہیں … صرف اس لئے کہ …ہمارا دل اسلام پر راضی نہ رہے… ہم احساس کمتری کا شکار ہو جائیں… اور دنیا کی سب سے بڑی دولت پا کر بھی خود کو محروم، فرسودہ، غیر ترقی یافتہ، ذلیل اور رسوا سمجھیں… استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ

ارے بھائیو! جس کو یہ مبارک عقیدہ نصیب ہو گیا… اور اس کا دل اس پر راضی ہو گیا تو دنیا کے تمام ارب پتی کافر اس کے جوتے پر لگی ہوئی گندگی کے برابر بھی نہیں…

باقی رہے دنیا کے دکھ، سکھ… یہاں کے مسائل اور پریشانیاں… یہاں کے غم اور محرومیاں تو یاد رکھیں اور یقین کریں کہ…ان سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہے… دنیا میں سب سے زیادہ خود کشی دنیا کے سب سے مالدار ملک جاپان کے لوگ کرتے ہیں… یا اللہ! کس طرح آپ کا شکر ادا کریں کہ ایسی عظیم، ایسی شاندار اور ایسی قیمتی ترین نعمت عطاء فرمائی…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَبِیًّا

ایک معذرت

گذشتہ سے پیوستہ کالم میں عرض کیا تھا کہ … اگلے ’’رنگ و نور‘‘ میں جماعت کے لئے اجتماعات کی ایک جامع ترتیب پیش کی جائے گی…مگر سانحہ ہوگیا…وہ بھی معمولی نہیں…حضرت امیر المومنین قدس سرہ کا سانحہ… امید نہیں تھی کہ ہاتھ دوبارہ قلم اٹھانے کی طاقت پائیں گے…مگر اللہ تعالیٰ کے مبارک نام اور اس دعاء نے عجیب کام کیا…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِیًّا

الحمد للہ! ہوش واپس آیا…حضرت اقدس امیر المومنین قدس سرہ کے بارے میں کالم لکھنے کی توفیق ملی…خود کو اور رفقاء کو تسلی دینے کا بھی سامان ہوا… راضی ہونے کا معنی ہوتا ہے… ایسا کافی ہونا کہ کوئی کمی محسوس نہ ہو… راضی ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ… اس کے ہوتے ہوئے اور کچھ بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَبِیًّا

تب ارادہ ہوا کہ…یہ دعاء تو الحمد للہ ہم پہلے بھی پابندی سے پڑھتے تھے… مگر ایسے مواقع پر اس کی اتنی زبردست تاثیر ہو گی… یہ اب انکشاف ہوا…تو آپ سب کو اس کی یاد دہانی کرا دی جائے … انسان کی زندگی میں…ہوش و حواس اڑانے والے، عزائم کی عمارت گرانے والے…مایوسیوں کے گڑھوں میں گرانے والے…اور ایمان کو کمزور کرنے والے حوادث، واقعات اور گناہ آتے رہتے ہیں… تب انسان اصل نعمت کی حفاظت میں لگ جائے تو وہ بچ جاتا ہے…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَبِیًّا

اور اللّٰہ، اللّٰہ کا ورد… یا اللّٰہ ، یا اللّٰہ…

بے شک ذکر اللہ سے دلوں کو سکون ملتا ہے … مگر ذکر بہت کثیر ہو…بہت زیادہ … یہ جو ہمارے ہاں دورہ تربیہ میں…روزانہ پندرہ ہزار بار ’’ اللہ اللہ‘‘ کا ورد ہے… اس کی بہت عجیب تاثیر ہے… دل والے جانتے ہیں… ایمان والے سمجھتے ہیں کہ…اس میں روحانی عمل کا ایک خاص ’’چلہ‘‘ پورا ہو جاتا ہے … اس عمل کے دینی، روحانی اور اخروی فوائد اپنی جگہ… دنیا میں بھی بڑے بڑے فوائد ہیں… ان کے فوائد کا تذکرہ اور مذاکرہ اس لئے نہیں کیا جاتا کہ…نیت میں کمزوری نہ آئے… ورنہ جو شخص دورہ تربیہ میں …اہتمام سے پندرہ ہزار کا یہ ورد روزانہ پورا کرے…وہ اگر بعد میں روزانہ تین سو یا ایک سو بار ’’یا اللہ ‘‘ کا ورد کر لیا کرے تو اسے… پوری زندگی مال اور رزق کی تنگی نہیں آتی… اس کی دعاء قبول ہوتی ہے…وہ کسی کو دم کرے تواس میں تاثیر ہوتی ہے…

کیونکہ اللہ ہی آسمان و زمین کا نور ہے

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ

جب نور آ جائے تو پھر اندھیروں کا کیا کام؟ …روشنی کسے کہتے ہیں؟ اور اندھیرے کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ یہ جانتے ہوں تو … آپ وہ نکتہ سمجھ گئے ہوں گے جو ابھی عرض کیا ہے…آج بھی ارادہ تھا کہ ’’اجتماعات‘‘ کی ترتیب آ جائے… مگر ’’قربانی‘‘ کا ضروری معاملہ سامنے آ گیا ہے … اس لئے معذرت کے ساتھ آج وہ عرض کیا جاتا ہے…’’اجتماعات‘‘ ان شاء اللہ اگلے ہفتے…

ایک اہم نکتہ

بعض گناہ جو دیکھنے میں زیادہ بڑے نہیں لگتے مگر ان میں… ایسی نحوست ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ… ان گناہوں کی موجودگی میں انسان کے بڑ ے بڑے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے… ایسے گناہ کئی ہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب سے بچائے… مثال کے طور پر صرف ایک گناہ دیکھ لیں …وہ ہے ’’خیانت‘‘ خصوصاً اجتماعی اموال میں ’’خیانت‘‘… یہ ایسا ظالم گناہ ہے جو انسان کے فرائض ،نیکیوں اور محنتوں کو…بری طرح سے کھا جاتا ہے… قرآن و حدیث میں اس پر محکم دلائل موجود ہیں…اسی طرح بعض نیکیاں ایسی ہیں …جو بظاہر زیادہ بڑی نہیں لگتیں مگر ان میں ایسی برکت اور تاثیر ہے کہ…وہ بڑے بڑے خطرناک گناہوں کو مٹا دیتی ہیں… ایسی نیکیاں کئی ہیں … اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب کی توفیق عطاء فرمائے… مثال کے طور پر ایک نیکی دیکھ لیں…وہ ہے ’’کھانا کھلانا‘‘… یہ ایسی بابرکت نیکی ہے…جو گناہوں کے زہر کو مٹاتی ہے…اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے… شرط یہ کہ کھانا حلال مال سے کھلایا جائے…پھر اس نیکی کے درجے ہیں… کس کو کھانا کھلانے کا اجروثواب کتنا ہے؟… بہت وسیع مطالعہ کے بعد ترتیب سے فہرست بنائی جا سکتی ہے…یاد رکھیں ’’کھانے‘‘ کے لفظ میں کھانا اور پینا دونوں شامل ہیں… گلی کے کتے سے لے کر… چرند، پرند حیوانات تک اس میں شامل ہیں… ایک پیاسے اور بے بس کتے کو پانی پلانے پر ایک فاحشہ عورت بخشی گئی…والدین کو کھانا کھلانا کبیرہ گناہوں کے برے اثرات کو بھی دھو دیتا ہے… حضرات مجاہدین کو اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو کھلانے کا اجر کیا ہو گا؟… بہت مفصل موضوع ہے…بس اشارہ عرض کر دیا…

واجب قربانی نہیں لیں گے

صاحب استطاعت مسلمانوں پر عید الاضحی کی قربانی واجب ہے…کئی سال سے یہ ترتیب تھی کہ ہم یہ قربانیاں جمع کرتے تھے…اور سخت محنت کر کے ان کو ادا کرتے اور بہت اچھی جگہوں پر تقسیم کرتے تھے…

اس مہم کے ان گنت فوائد تھے…حضرات شہداء کرام کے اہل خانہ سے لیکر محاذوں تک… مدارس سے لے کر مراکز تک… قربانی کا گوشت پہنچایا جاتا…مسلمانوں کو قربانی کے اجر کے ساتھ ساتھ دعوت مجاہدین اور دعوت صلحاء و ابرار کا بھی اجر ملتا… مگر اس سال استخارہ اور طویل مشاورت کے بعد یہ طے کیا ہے کہ… واجب قربانی جمع نہیں کی جائے گی…وجہ یہ ہے کہ…یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے…قربانی کا وقت محدود ہوتا ہے… پاکستان اور افغانستان میں چاند کا جھگڑا رہتا ہے …تمام ساتھی جماعت کی فرض محنت میں مشغول ہوتے ہیں…ان حالات میں ان تمام واجب قربانیوں کو ادا کرنا…ان کی ادائیگی کی نگرانی کرنا …اور ہر قربانی کو وقت کے اندر ذبح کرنا…بہت مشکل کام ہے… بالفرض ہم سات ہزار قربانیاں جمع کرتے ہیں…اور تمام قربانیاں بروقت ادا کرتے ہیں…مگر درمیان کے کسی فرد کی غفلت کی وجہ سے… کوئی دوچار قربانیاں رہ جاتی ہیں تو… اس کا وبال بڑا خطرناک ہے… ہم نے ایک مسلمان کے واجب کو ضائع کر دیا…چونکہ سب قربانیاں اپنے سامنے نہیں کی جا سکتیں… محاذوں وغیرہ کی طرف کچھ افراد کو وکیل بنا کر رقم دی جاتی ہے… ان افراد سے بھی کوتاہی کا امکان رہتا ہے …بہرحال ایسا کام جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر لازم نہ فرمایا ہو…اور اہم اسے تطوعاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خود کرتے ہوں…ایسے کام میں اگر گناہ کا خطرہ ہو تو اسے فورا چھوڑ دینا چاہیے… ان تمام وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے…اس سال جماعتی نظام کے تحت ایک بھی واجب قربانی جمع نہیں کی جائے گی…جماعت کے اہل شوریٰ نے اللہ تعالیٰ کی رضا… اور اللہ تعالیٰ کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے…اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…

اگر انتظام ہو گیا

عید الاضحی کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ…یہ فیصلہ ایک سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے…

اگر کچا گوشت محفوظ کرنے کا پلانٹ اور… ایک بڑا مذبح خانہ مرکز کے قریب بن جائے…اور تمام قربانیاں حضرات علماء کرام کی نگرانی میں… ایک ہی جگہ ذبح ہوں…اور پھر گوشت کو محفوظ کر کے فوراً پورے ملک اور محاذوں تک پہنچانے کا انتظام …اللہ تعالیٰ کی طرف سے میسر آ گیا تو ان شاء اللہ…یہ بابرکت سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے…لیکن اگر ایسا انتظام نہ ہو سکا تو واجب قربانی جمع نہ کرنے کی ترتیب برقرار رہے گی ان شاء اللہ

نفل قربانی ، قرب کا ذریعہ

الحمد للہ بہت سے مسلمان عید کے موقع پر واجب قربانی کے علاوہ ’’ نفل قربانی‘‘ بھی کرتے ہیں… کراچی کے بعض اہل ثروت کو ہر سال پانچ سو سے ایک ہزار تک قربانی کی توفیق ملتی ہے … بعض غریب مسلمانوں کو بھی دیکھا کہ…قربانی کی بڑی فضیلت اور قربانی کے مبارک ایام میں نیکی کمانے کے شوق میں…پورا سال اپنا خرچہ بچا کر …عید کے دن کئی کئی قربانیاں کرتے ہیں… دراصل ذوالحجہ کے پہلے دس دن …اور عید کے ایام یہ دنیا کے سب سے افضل دن ہوتے ہیں… یعنی انسانی عمر کے سب سے قیمتی دن…اور ان دنوں کے نیک اعمال کی قیمت عام دنوں کے اعمال سے بہت زیادہ ہے، بہت ہی زیادہ… اور ان نیک اعمال میں بھی سب سے افضل عمل قربانی ذبح کرنا ہے… اب جن مسلمانوں کو اس نکتے کا ادراک ہو جاتا ہے تو وہ… خوب بڑھ بڑھ کر قربانی کرتے ہیں…اس لئے جماعت بھی اس سال مسلمانوں سے ’’نفل قربانی‘‘ جمع کرے گی… اعلان یہ ہو گا کہ واجب قربانی آپ خود کریں جبکہ نفل قربانی ہمیں دے دیں ہم ان شاء اللہ مکمل محنت اور دیانتداری سے آپ کی یہ دعوت… امت کے بڑے مسلمانوں تک پہنچائیں گے…حضرات شہداء و اسیران کے اہل خانہ…مجاہدین ، مہاجرین اور فی سبیل اللہ جہاد، علم اور دینی کاموں میں مشغول مسلمان…

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے اور امید بھی کہ… اس مہم میں برکت ہو گی… مسلمان ان شاء اللہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں گے… نفل قربانی کی یہ مہم اگر جماعتی ضروریات کے لئے کافی ہو گئی تو بہت اچھا… اگر کافی نہ ہوئی تو جماعت اپنے بیت المال سے…اللہ تعالیٰ کی دعوت اپنے زیر کفالت خاندانوں اور افراد تک پہنچائے گی ان شاء اللہ … آپ سب سے دعاء اور تعاون کی درخواست ہے…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا  وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَبِیًّا

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor