Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اجتماع اور جماعت (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 508 - Saadi kay Qalam Say - Ijtema aur Jamat

اجتماع اور جماعت

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 508)

اللہ تعالیٰ نے ’’جماعت‘‘ میں برکت رکھی ہے …اور جماعت وہی کامیاب چلتی ہے جس میں ’’اجتماعات‘‘ ہوتے ہیں…

اجتماع کا معنیٰ

چند افراد کے کسی ایک مقصد پر جمع ہونے کو ’’اجتماع‘‘ کہتے ہیں…افراد زیادہ ہوں یا تھوڑے ’’اجتماع‘‘ کا لفظ عام ہے…ہمارے ہاں یہ بات چل پڑی ہے کہ صرف بڑے مجمع کو ’’اجتماع‘‘ کہا جاتاہے…ایسا بعض جماعتوں نے اپنی ترتیبات کو منظم کرنے کے لئے کیا ہے… وہ چھوٹے مجمع کو ’’جوڑ‘‘ اور بڑے کو اجتماع کہتے ہیں…

بہرحال درست بات یہ کہ مجمع کم ہو یا زیادہ …جب کچھ افراد کسی ایک مقصد کے لئے جمع ہو جائیں تو وہ ’’اجتماع ‘‘ بن جاتا ہے…لوگوں کو جمع کرنے والی کئی چیزیں ہیں…مٹی،علاقہ، وطن، قبیلہ، قوم، زبان، خوشی کی تقریبات، گناہ کی کشش وغیرہ… مگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دین پر جمع ہوں…ان کا اجتماع ’’اللہ تعالیٰ‘‘ پر ہو … اللہ تعالیٰ کے لئے ہو…ایسے اجتماع میں ایمان والوں کے لئے مضبوطی ہے، رحمت ہے، تازگی ہے، زندگی ہے اور برکت و کامیابی ہے … اسی لئے حضرات صحابہ کرام کے بارے میں کسی نے کہا ہے:

وکان الصحابۃ حریصین علی المجالس الایمانیۃ

یعنی حضرات صحابہ کرام…ایمانی مجالس و اجتماعات کا حرص رکھتے تھے…

اور آپ ﷺ نے اپنے شاعر، خطیب اور بہادر صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

یرحم اللّٰہ ابن رواحۃ انہ یحب المجالس التی تتباھی بھا الملائکۃ

یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ابن رواحہ پر… وہ ایسی مجالس کو پسند کرتے ہیں جن مجالس پر فرشتے بھی خوشی اور فخر فرماتے ہیں…دراصل حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ دوسرے صحابہ کرام سے ملتے تو فرماتے …آئیں تھوڑی دیر ہم ایمان لے آئیں… یعنی ایمان کا مذاکرہ کریں، ایمان کو تازہ کریں، ایمان کی تجدید کریں…وہ جانتے تھے کہ دو یا زیادہ مسلمان جب ایمان کی فکر لے کر اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو تازگی، قوت اور قبولیت عطاء فرماتے ہیں…

ابو داؤد کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ…حضرات صحابہ کرام کو ایمان والی مجالس کا ایسا شوق اور حرص تھا کہ جب اس میں بیٹھتے تو آخر تک موجود رہتے…پھر یہ مجلس اور اجتماع جتنا بڑا ہو…یعنی اس میں جتنے زیادہ افراد ہوں… اسی قدر اس کی تاثیر اور خیر بڑھ جاتی ہے…

حضرت آقا مدنی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خیر المجالس اوسعھا ( ابو داؤد)

یعنی زیادہ اچھی مجلس وہ ہے جو زیادہ بڑی ہو…

اہل ایمان کے ’’اجتماع ‘‘ کی فضیلت کا اندازہ لگانا ہو تو …جماعت کی نماز کو دیکھ لیں…بالکل وہی نماز ہے نہ اس میں کوئی اضافہ نہ کمی… مگر اکیلا انسان ادا کرے تو ایک نماز اور اگر جماعت میں ادا کرے تو ستائیس نمازوں کے برابر… بعض اہل علم نے ضرب لگا کر جماعت کی نماز کو اکیلی نماز پر کروڑوں گنا زیادہ فضیلت والا قرار دیا ہے…مگر آپ صرف ستائیس کو ہی دیکھ لیں… کیا یہ معمولی اضافہ اور برکت ہے؟ … کسی رات عشاء کے چار فرض ستائیس بار ادا کرکے دیکھیں خود اندازہ ہو جائے گا…معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اجتماع پر اللہ تعالیٰ کی بہت رحمت اور بہت عنایت ہے… پس جو جماعت ’’دینی اجتماعات ‘‘ کا التزام کرتی ہے وہ عام جماعتوں سے کم از کم ستائیس گنا زیادہ تیز ترقی کرتی ہے…

فضائل ہی فضائل

اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع ہونا… اللہ تعالیٰ کے دین کی نسبت سے جمع ہونا…اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی یاد کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت اور تدریس و تعلیم کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ سے پانے کے لئے جمع ہونا… اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے لئے جمع ہونا… یہ وہ اجتماعات ہیں جو ہر مسلمان کی لازمی ضرورت ہیں… ایسے اجتماعات میں شامل ہونے کا حکم قرآن مجید میں بھی بار بار ہے… اور احادیث مبارکہ میں ایسے اجتماعات کے اتنے فضائل ہیں کہ …اگر ان کو جمع کیا جائے تو مکمل ایک کتاب بن سکتی ہے… اللہ تعالیٰ نے خاص ایسے سیّار فرشتے پیدا فرمائے ہیں …جو ایسے اجتماعات کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں … اور جب وہ ایسا اجتماع پا لیتے ہیں تو فوراً اس میں شامل ہو جاتے ہیں… یعنی ان اجتماعات میں فرشتوں کی صحبت کا ملنا ایک یقینی نعمت ہے… یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے ہاں جا کر گواہی دیتے ہیں… اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے اجتماعات میں شریک مسلمانوں کے لئے بڑے بڑے انعامات کا اعلان کیا جاتا ہے…

اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اپنے فرشتوں کے درمیان فخر کے ساتھ تذکرہ فرماتے ہیں…دراصل ان اجتماعات سے دین کو قوت ملتی ہے…اسلام کی عظمت اور شوکت کا اظہار ہوتا ہے… قومیت، وطنیت، لسانیت اور علاقیت کے بتوں کی نفی ہوتی ہے…اور اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا اظہار ہوتا ہے … اسی لئے یہی اجتماعات دنیا میں جنت کے باغات ہیں…ان اجتماعات میں شریک ہونے والے اہل سعادت ہیں… اور ان اجتماعات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینہ نازل ہوتا ہے… آج ہمارے دل روشنی اور خشوع سے خالی ہیں پوری مسجد میں ایک نمازی بھی خشوع سے نماز پڑھنے والا نہیں ہوتا… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مجالس الذکر محیاۃ للعلم وتحدث للقلوب خشوعا

اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مجالس علم کو زندہ کرتی ہیں اور دلوں میں خشوع پیدا کرنے والی ہیں…’’ذکر اللہ ‘‘کی مجالس میں وہ بھی شامل ہیں جن میں چند افراد بیٹھ کر ’’ اللہ، اللہ ‘‘ کرتے ہیں… شرط یہ ہے کہ دل سے کریں اور جس کا نام لے رہے ہیں اسی کی یاد میں ڈوبے رہیں… اور وہ مجالس اور اجتماعات بھی ’’ذکر اللہ ‘‘ میں شامل ہیں جن میں… دین بیان ہوتا ہے…علم دین سیکھا اور سکھایا جاتا ہے… دینی فرائض، دینی احکامات کی دعوت دی جاتی ہے… اور ایمان اور ایمانیات کا مذاکرہ ہوتا ہے… یاد رکھیں شیطان ہمیشہ اکیلے فرد کو آسانی سے شکار کر لیتا ہے…اس لئے اپنے دینی کام اوراپنی دینی جماعت میں… ’’اجتماع‘‘ کا ماحول بنانا ضروری ہے تاکہ… ہم شیطان کا شکار نہ بنیں …

پانچ اجتماعات

جماعت کے ہر فرد کے لئے پانچ اجتماعات کی ترتیب ہے:

(۱) روزانہ کا اجتماع

(۲) ہفتہ واری اجتماع

(۳) ماہانہ اجتماع

(۴) شش ماہی اجتماع

(۵) سالانہ اجتماع

اس میں ایک وضاحت ضروری ہے کہ… بعض افراد ’’ہفتے‘‘ کی ترتیب کو ’’غیر اسلامی‘‘ قرار دیتے ہیں… وہ کہتے ہیں کہ ہفتہ اور ’’ویک‘‘ کی ترتیب یہود و نصاریٰ کی ہے…وہ مختلف چیزوں کے ہفتے مناتے ہیں… مسلمانوں کو چاہیے کہ ’’عشرے‘‘ کی ترتیب بنایا کریں…

یہ بات درست نہیں… ہفتے کی ترتیب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے کہ… دن کل سات ہی بنائے… اور مسلمانوں کا سب سے مبارک اجتماع… یعنی جمعہ کا اجتماع بھی ہفتہ واری ہے…

باقی جہاں تک تعلق ہے کوئی خاص ہفتہ ’’ منانے‘‘ کا تو… اسلام میں اپنی طرف سے نہ دن منانا درست ہے، نہ ہفتہ منانا اور نہ ہی عشرہ منانا … ہمارا دین کامل اور مکمل ہے… جو دن منانے ہیں وہ بتا دئیے گئے ہیں…باقی دینی کاموں کی ترتیب کے لئے… ایک ہفتہ کی مہم چلانا یا کم زیادہ دنوں کی…اس میں کوئی حرج نہیں … اس میں نہ ہفتہ ضروری، نہ عشرہ ضروری …بس جتنے دن ’’اہل انتظام ‘‘ طے کر لیں…

روزانہ کا اجتماع بہت ضروری ہے… یہ اپنے گھر کے افراد کے ساتھ ہو یا مسجد والے ساتھیوں کے ساتھ… اس کا عید کے دن بھی ناغہ نہیں کرنا چاہیے… چند افراد کچھ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں اکھٹے بیٹھیں…ذکر کریں، دین کی بات کریں … یہ ترتیب ہماری زندگی کو ایمانی ترقی کی طرف لے جاتی ہے… اور جو اس ترتیب کو اہمیت نہیں دیتا وہ بہت سی غلطیوں، گناہوں اور گمراہیوں میں جا گرتا ہے… یا اللہ! آپ کی پناہ…

ہفتہ واری اجتماع: یہ ایک ’’عصابہ‘‘ یا ایک محلہ یا ایک گاؤں یا شہر کے ساتھی باقاعدگی سے کریں … یہ اجتماع جس قدر پابندی سے ہو…جماعت اسی قدر تیزی سے کامیابی اور ترقی کی طرف بڑھتی ہے…

ماہانہ اجتماع: یہ ایک تحصیل یا ایک ضلع کے ساتھی مستقل نظام کے تحت کریں…یہ اجتماع جماعت کے لئے ہر طرح کی نصرت اور وسائل و اَفراد کی فراوانی کا ذریعہ بنتا ہے…

شش ماہی اجتماع: یہ ایک ڈویژن کی سطح پر ہو… اور بہت پابندی اور تیاری سے ہو… اس اجتماع سے جماعت کا داخلی نظم اور اس کی دعوت کو بے حد مضبوطی ملتی ہے…

سالانہ اجتماع: یہ مرکز کی سطح پر ہو… اس اجتماع سے جماعت کو سب سے بڑی نعمت… یعنی ’’اجتماعیت‘‘ ملتی ہے… اور وہ فرقوں اور تفرقوں سے بچی رہتی ہے…

یہ ’’پانچ اجتماعات‘‘ کا اشاریہ ہے… جماعت کے ’’اہل بیعت‘‘ ساتھی مل بیٹھیں،فکر کریں اور ان تمام اجتماعات کی تاریخیں، ترتیبیں اور ان کے لئے نگران مقرر کریں… اور فوری طور پر اسے نافذ کریں… سالانہ مرکزی اجتماع کی ترتیب…ان شاء اللہ شوریٰ کے مشورہ سے مستقل طے کر دی جائے گی…

باقی چار اجتماعات کی ترتیب آپ اپنے شعبوں کے تحت طے کر لیں… ان اجتماعات میں کیا ہو گا؟…بہت سی باتیں تو سامنے آ گئیں اور بعض اہم باتیں باقی ہیں جو جلد کسی اور مجلس میںعرض کر دی جائیں گی، ان شاء اللہ

 لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor