Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بابا! پیسے سے نہیں، شوق سے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 509 - Saadi kay Qalam Say - Baba Paise se nahi Shoq Se

بابا! پیسے سے نہیں، شوق سے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 509)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج بیت اللہ کا سچا شوق … اور ’’حج مقبول‘‘ نصیب فرمائے…

آہ شوق! آہ دل ! محبوب کا گھر، مالک کا گھر …میرے رب کا گھر، میرے رب کا گھر…

یا اللہ! کب بلائیں گے؟ کب دکھائیں گے؟ کب بے تاب آنکھوں کو نور کا شربت پلائیں گے؟

سچا قصہ لکھا ہے کہ ایک قافلہ حج کے لئے پہنچا…اس میں ایک سچی عاشقہ تھی… ہاں سچی عاشقہ! گندی عاشقہ نہیں… مکہ مکرمہ پہنچ کر بار بار بے تابی سے پوچھتی تھی… این بیت ربی؟ این بیت ربی؟ ارونی بیت ربی؟

کہاں ہے میرے رب کا گھر؟ کہاں ہے؟ دکھادو مجھے میرے محبوب کا گھر…قافلے والوں نے کہا بس تھوڑی دیر میں دیکھ لو گی… وہ اللہ والی معلوم نہیں کب سے دل میں پیاس بھرے جی رہی تھی…لوگوں نے کہا وہ دیکھو! سامنے کعبہ شریف ہے… اللہ تعالیٰ کا گھر…وہ یوں دوڑی جس طرح ماں اپنے بچھڑے ہوئے بچے کی طرف بھی نہ دوڑ سکے…جا کر کعبہ شریف سے لپٹ گئی…پھر لپٹی رہی… کافی وقت گزرا تو قافلے کی دوسری عورتوں نے جا کر دیکھا…وہ تو پہنچ چکی تھی… کعبہ سے لپٹ کر کعبہ کے رب کے پاس جا چکی تھی … ہاں وہ عشق میں جان دے کر سچے عاشقوں کے اونچے مقام پر جا چکی تھی…

بھائیو! اور بہنو! ہم روز نماز کے آغاز میں کہتے ہیں…منہ قبلہ شریف کی طرف…رخ کعبہ شریف کی طرف… جس کی روح زندہ ہو…وہ تڑپتی ہے کہ…کب تک دور دور سے رخ کرتے رہیں گے… ٹھیک ہے ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے …مگر اس کا احسان کہ اس کے گھر کو تو دیکھ سکتے ہیں…اس گھر میں لگا ہوا ’’حجر اسود‘‘ اللہ تعالیٰ کے دائیں ہاتھ کے قائم مقام ہے… ارے اسے تو جا کر چوم سکتے ہیں…چلو چل پڑتے ہیں…راستہ دور ہے تو کیا ہوا؟…پاؤں پھٹ گئے تو کیا ہوا؟ … بس چلتے رہیں گے، چلتے رہیں گے…ایک نہ ایک دن تو پہنچ ہی جائیں گے…نہ پہنچ سکے تو راستے میں جان دے کر …جسم کو دفن کروا دیں گے … اور روح اسی طرح کعبہ شریف کی طرف بڑھتی جائے گی…بالآخر پہنچ ہی جائے گی… ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک شخص کو دیکھا کہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہے…اور زمین پر گھسٹ گھسٹ کر تیزی سے آگے جا رہا ہے… اس کی آنکھوں میں شوق کی چمک اور چہرے پر عشق کا جذبہ تھا…بزرگ نے پوچھا: جناب! کہاں اتنا تیز جا رہے ہیں؟… بغیر رکے کہنے لگے… اپنے رب کے گھر جا رہا ہوں… بزرگ نے حیرت سے کہا… اس طرح؟ وہ تو بہت دور ہے کیسے پہنچو گے…فرمایا! دس سال سے اسی طرح گھسٹ گھسٹ کر جا رہا ہوں … کبھی تو پہنچ ہی جاؤں گا…

آہ افسوس… ہم مسلمانوں کے دلوں سے حج کا شوق… اور کعبہ کا اشتیاق جاتا رہا… حج بیت اللہ اسلام کا محکم اور قطعی فریضہ…ان فرائض میں سے ایک جن پر اسلام کی بنیاد ہے… حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا…

میں سوچتا ہوں کہ تمام شہروں میں کچھ افراد بھیج دوں…وہ جا کر دیکھیں کہ …جن لوگوں کے پاس حج کی استطاعت ہے اور انہوں نے فرض حج ادا نہیں کیا تو…ان پر جزیہ مقرر کر دیں کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں …وہ مسلمان نہیں ہیں…

حج اور جہاد

منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے…ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکہ مکرمہ میں تھے…وہاں کے مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے مجاہدین اور علماء کرام کی دعوت کی…دعوت سے پہلے جلسہ تھا … عرب میں رواج ہے کہ اہم بیانات پہلے ہوتے ہیں …سب سے پہلا بیان مہمان خصوصی کا ہوتا ہے …ہمیں بھی کسی کے طفیل اس مبارک جلسہ میں شرکت مل گئی…چوتھا اہم بیان حضرت شیخ مولوی جلال الدین حقانی کا تھا…افغان لہجے میں جاندار عربی بیان… فرمایا حج اور جہاد میں بہت مناسبت ہے…دلیل یہ کہ قرآن مجید میں حج کے فوراً بعد جہاد و قتال کا حکم موجود ہے…بعد میں شاہ ولی اللہ قدس سرہ کی حجۃ اللہ البالغہ میں دیکھا…انہوںنے حج اور جہاد کے درمیان بہت سی مناسبات ذکر فرمائی ہیں…

ویسے کوئی بھی غور کرے تو…دونوں فریضوں کے درمیان کئی رشتے ڈھونڈ سکتا ہے…

دونوںمیں سفر ہے، ہجرت ہے…مشقت اور تکلیف ہے…خون ہے، مار دھاڑ ہے… عشق ہے،جدائی ہے،قربانی ہے… میل کچیل ،تھکاوٹ اور پراگندہ حالی ہے… پسینہ ہے، بھاگ دوڑ ہے …جذبہ ہے، شوق ہے، والہانہ پن ہے…مار دھاڑ کا لفظ کئی افراد کو کھٹکے گا… اللہ تعالیٰ ان کو روشنی دے تاکہ نہ کھٹکے… عبادت وہ نہیں جسے ہم عبادت سمجھیں… عبادت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا حکم اور آقا مدنی ﷺکا طریقہ ہو …ایک آدمی صاف سفید پاک کپڑے پہنے…مصلیٰ پر سجدہ ریز ہے…اسے سب عبادت سمجھتے ہیں… دوسرا آدمی مٹی سے اٹا ہوا …بھاگ بھاگ کر پتھر پھینک رہا ہے… جانور ذبح کر رہا ہے… یہ بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم … اس لئے یہ بڑی عبادت ہے… دشمنوں کے ناپاک خون سے کپڑے لت پت سر سے لے کر پاؤں تک خون ہی خون…یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم…اس لئے بہت عظیم عبادت ہے…

ہمارے شیخ…حضرت سید احمد شہیدؒجب جہاد کی طرف متوجہ ہوئے تو…دل کے شوق نے آواز دی… اپنے جہادی قافلے کو سمندر کے راستے حرمین شریفین لے چلے… دو حج کئے…پھر وہاں سے جہاد کا رخ کیا… اور رب البیت کے پاس سرخرو چلے گئے… ہمارے مرشد حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ ایک سال جہاد کی طرف دوڑتے تو دوسرے سال حج کی طرف لپکتے…روح کا عشق ان دو حسین چیزوں کی طرف ہمیشہ بے قرار لپکتا ہے… جہاد کا محاذ…اور حرمین شریفین…

کتنے خوش نصیب ہیں وہ مسلمان… جن کو دونوں طرف سفر کی سہولت میسر ہے… حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑا اہم نکتہ سمجھایا…وہ نکتہ پڑھ کر روح نے غم کی ہچکی لی…اور آنکھیں پانی میں ڈوبنے لگیں…فرمایا:

’’ اللہ کے گھر کا زیادہ سے زیادہ طواف کر لو …اس سے پہلے کہ تمہارے اور اس کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں‘‘…

ہاں سچ فرمایا! بہت اونچی بات فرمائی … رکاوٹیں آ جاتی ہیں…پہاڑوں سے بھی زیادہ بڑی اور رات سے بھی زیادہ تاریک…پھر آدمی نہیں جا سکتا…نہیں جا سکتا…

جو خوش نصیب وہاں پہنچ چکے ہیں…وہ اس نکتے کی قدر کریں…بازاروں، خریداریوں، ملاقاتوں اور فضولیات میں وقت ضائع نہ کریں… اپنے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنائیں…حرم شریف کی ایک نماز …کسی انسان کے چوّن سال کی نمازوں کے برابر ہے… وہاں کا ایک ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ایک لاکھ ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کے برابر… اور ایک بار کا سبحان اللہ ایک لاکھ بار سبحان اللہ پڑھنے کے برابر ہے…

بابا! پیسے سے نہیں، شوق سے

ایک اور منظر بے تابی سے دستک دے رہا ہے …ہمارا ’’جلالین‘‘ کا سبق تھا…یہ تفسیر کی مشہور کتاب ہے…خوش نصیبی کہ حضرت کشمیری ؒ کے شاگرد رشید…حضرت مولانا محمد ادریس صاحب میرٹھی رحمہ اللہ ہمیں یہ کتاب پڑھا رہے تھے … پیرانہ سالی کی وجہ سے نظر کمزور تھی، ان کی تشریف آوری سے پہلے ان کی تپائی پر کتاب کھول کر رکھ دی جاتی اور ساتھ برقی لیمپ جلا دیا جاتا…اس لیمپ کا ان کو فائدہ تھا یا نہیں…انہیں تو پوری کتاب زبانی یاد تھی مگر ہمیں فائدہ تھا کہ…ان کے چہرہ مبارک کو مزید چمکتا دمکتا دیکھ لیتے… اس دن حج کا موضوع تھا اور وہ حج بیت اللہ کے شیدائی… اور حرم شریف کے بے تاب عاشق تھے…ہر سال دو بار جانے کا معمول تھا…حج کا موضوع آیا تو لیمپ کی روشنی میں ان کے چہرے پر آنسوؤں کی آبشار جاری ہو گئی …بار بار فرماتے: بابا! حج پیسے سے نہیں ہوتا شوق سے ہوتا ہے…آہ! ہم آپ طلبہ کے دلوں میں حج کا اور حرمین شریفین کا شوق نہیں دیکھ رہے… بس یہ چند آنسو اور دو جملے دل کی دنیا ہی بدل گئے… روح کا کبوتر بے قرار ہو کر حرمین شریفین کی طرف اڑنے لگا…ارے یہ کیا! اب تک روز زبانی تو ہم یہ کہتے کہ منہ قبلہ شریف کی طرف… تو دل قبلہ شریف کو کیوں نہیں مچلتا؟… سبق کے بعد دروازے پر حضرت استاذ سے عرض کیا: حضرت شوق پیدا ہو گیا ہے آپ دعاء فرما دیں…بہت جلال سے فرمایا: جب شوق پیدا ہو گیا تو ضرور جاؤ گے… طالبعلمی کا زمانہ تھا…عمر ابھی اتنی نہیں تھی کہ پاسپورٹ بن سکے…جیب میں رقم اتنی نہیں تھی کہ اس وقت کے پاسپورٹ کی فیس دو سو دس روپے ادا ہو سکے… مگر یقین تھا کہ بس اب جانا ہے … ایک دن عصر کے بعد تسبیحات میں تھے کہ ایک دوست نے آ کر سلام کیا…اور فوراً کہا کہ عمرے کی تیاری کیجئے… ٹکٹ خرچہ ہمارے ذمہ… نہ کبھی ان کو اشارہ کیا تھا اور نہ کسی اور کو…بس اسی سال اللہ تعالیٰ نے اپنا عظیم گھر دکھا دیا…پھر یہ نسخہ بانٹنے کی کئی سال تک عادت رہی…بابا حج پیسے سے نہیں شوق سے ہوتا ہے…جس کے دل میں اتر گیا وہ فوراً پہنچ گیا…اب یہ نسخہ آپ سب کو دے رہا ہوں… شوق وہ ہوتا ہے جو دل اور دماغ پر حاوی ہو جائے…اور انسان کی طبعی طور پر پہلی ترجیح بن جائے… اور اس شوق کی خاطر کسی بھی چیز کو قربان کرنا…بوجھ نہ لگے ، بلکہ اچھا لگے…

ارے وہ گھر جو ہمارے رب کا ہے…جہاں ہمیشہ ہدایت برستی ہے…جہاں ہر نبی تشریف لے گئے…جہاں جبرئیل امین بار بار اترے… جہاں ہمارے آقا ﷺ کا بچپن گزرا،جوانی گزری …جہاں آپ ﷺ کو نبوت ملی…جہاں آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود رکھا… جہاں ہمارے آقا ﷺ نے بے شمار سجدے کئے … اور ان سجدوں میں آپ ﷺ کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا… وہ گھر جو انسانیت کی ترقی ہے…جو اسلام کا مرکز ہے…وہاں کبھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے…کبھی حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اس کی مزدوری فرمائی… جہاں سے اسماعیل علیہ السلام ذبح ہونے کو روانہ ہوئے… جہاں ابو بکر نے ماریں کھائیں…جہاں عمر کی شجاعت نے تالے کھولے… جہاں عثمان کی وفاؤں نے ڈیرہ ڈالا… جہاں علی نے بت گرائے … ارے وہاں کے کس کس مقام کو بیان کروں …وہاں کی کس کس فضیلت اور تاریخ کو عرض کروں… زمین پر تو کیا آسمانوں پر بھی کعبہ اور زمزم جیسی بلند نعمتیں موجود نہیں ہیں… جلدی کرو بھائیو جلدی کرو… جلدی کرو بہنو جلدی کرو… مکان پھر بن جائے گا…نہ بنا تو کیا ہوا… شادیوں کے خرچے پھر آ جائیں گے نہ آئے تو کیا ہوا … حج کا فریضہ ادا کر لو… حج کا فریضہ ادا کر لو … حج کا فریضہ ادا کر لو…

دیکھو! ہمارے آقا ﷺ کیا فرما رہے ہیں:

تعجلوا الی الحج فان احدکم لا یدری ما یعرض لہ ( احمد، ابوداؤد)

حج کے لئے جلدی کرو، کیونکہ تم میں کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا حالت پیش آ جائے

دوسری روایت میں فرمایا:

جو حج کرنا چاہے وہ جلدی کرے کیونکہ کبھی بیماری آ جاتی ہے، مال گم ہو جاتا ہے یا کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے ( احمد، ابن ماجہ)

ذہن درست کریں

ہر مسلمان جانتا ہے کہ… حج بیت اللہ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ایک فریضہ ہے…اور فرائض ادا کرنے کے لئے ہی ہمیں پیدا کیا گیا ہے …اللہ تعالیٰ ہمیں جو قوت اور مال عطاء فرماتے ہیں …وہ ہماری لازمی ضروریات کے بعد اس لئے ہوتا ہے تاکہ ہم فرائض ادا کریں… فرائض ہی جنت کی ضمانت ہیں…اور یہ ہر انسان کی کامیابی کے لئے لازم ہیں… اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادت کا محتاج نہیں ہے…جو چیزیں ہم پر فرض کی گئی ہیں وہ ہمارے ہی فائدہ اوربقاء کے لئے ضروری ہیں … آگے ہم نے ہمیشہ کی زندگی گزارنی ہے… جب حج فرض ہے تو ضروری ہے کہ…مسلمانوں کو اس کا شوق ہو، اس کی قدر ہو… مگر ہمارا عمومی رویہ کیا ہے؟… جب مال آ جائے گا تو حج کا سوچیں گے …جب شادی کر لیں گے تو حج کا سوچیں گے… جب کاروبار سیٹ ہوجائے گاتو حج کا سوچیں گے … کوئی اور ہمیں بھیج دے گا تو ہم حج کر لیں گے…

یہ فکر کیوں نہیں کرتے کہ… ہم نے یہ فرض بھی اپنے نامہ اعمال میں ڈالنا ہے…ہم نے یہ عظیم کام ضرور کرنا ہے… جب یہ سوچ ہو گی تو دعاء بھی کریں گے…مال آتے ہی حج کے لئے لپکیں گے… مگر یہ سوچ نہیں ہے…اس لئے مال آتا ہے اور اڑ جاتا ہے… یا کہیں جم جاتا ہے…

آہ! آج کتنے مسلمان حج سے محروم ہیں … حالانکہ ہمارے معاشرے میں حج آ جائے تو ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو…اور ہم حرمین شریفین کا نور اپنے ساتھ لئے چلتے پھریں…

حج کے لئے کسی سے سوال نہ کریں…حج کے لئے کسی سے توقع نہ رکھیں کہ وہ مجھے لے جائے گا…بس خود اپنے اندر اس کا شوق اور اہمیت لائیں …اور ’’ بیت‘‘ تک جانے کے لئے ’’رب البیت‘‘ سے ہی فریاد کریں…دیکھیں کہ ان شاء اللہ راستے کس طرح سے کھلتے ہیں…

معذرت

آج دل میں باتیں بہت ہیں…ارادہ بھی بہت مفصل لکھنے کا تھا…ابھی تومحبت کی سرزمین مدینہ منورہ کا تذکرہ باقی ہے…حج کے فضائل کی بہت سی روایات بھی سامنے ہیں… اور حج کے شوق کے قصے اور مناظر بھی دل میں مچل رہے ہیں … مگر مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں رہی…وجہ شاید آپ سمجھ گئے ہوں گے… مگر ایک بات بڑی تسلی والی ’’اہل دل‘‘ نے لکھی ہے…وہ فرماتے ہیں: ایک حج دل اور روح کا بھی ہوتا ہے…دل کعبہ شریف کا طواف کرتا ہے،روح احرام باندھتی ہے … دونوں مل کر روضہ اقدس پر جاتے ہیں…یہ ان لوگوں کا حج ہے جن کا شوق کامل، جذبہ سچا … اور تیاری ایسی کہ موقع ملے تو اپنا سب کچھ قربان کر کے اور بیچ باچ کے نکل پڑیں… مگر ان کو روک لیا جاتا ہے… ہاں! وہ نہیں جا سکتے… ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ …فاصلے سمیٹ دیتے ہیں… اسلاف میں سے کئی افراد کے قصے مذکور ہیں… ان کا شوق کامل تھا مگر عذر بہت سخت تھا…نہ جا سکے…حاجی واپس آئے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے…ہم نے آپ کو طواف کرتے دیکھا …کوئی کہتا ہم نے آپ کو عرفات میں دیکھا… کوئی کہتا روضہ اطہر پر آپ کو پایا… ایسے افراد کے لئے فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو ان کی طرف سے وہاں حاضری دیتے ہیں… یہ ایک مستقل موضوع ہے … مقصد یہ کہ کعبہ شریف ہر مومن کے دل کی بڑی اُمنگ ہے… اللہ کرے ہر ایمان والے کو یہ ایمانی اور پاکیزہ شوق نصیب ہو جائے… آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor