Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الکوثر (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 512 - Saadi kay Qalam Say - Al-Kauthar

الکوثر

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 512)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’الکوثر‘‘ … میں سے حصہ عطا فرمائے…

الکوثر کیا ہے

یہ بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن مجید میں ایک سورہ مبارکہ کا نام ’’سورۃ الکوثر‘‘ ہے… حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں: یہ سورۃ مکی ہے اور اس میں تین آیتیں، بارہ کلمے اور بیالیس حرف ہیں …اس سورۃ کے نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے دو صاحبزادے تھے…قاسم اور عبد اللہ… لقب ان کا طیب اور طاہر تھا… یہ دونوں صاحبزادے بچپن میں وفات پا گئے… تب کفار نے طعنہ دیا کہ یہ پیغمبر ’’ابتر‘‘ ہے یعنی اس کی نسل ختم ہو گئی… ان کے بعد ان کے دین کو قائم اور برپا رکھنے والا کوئی نہیں ہو گا… اور ان کا دین اور نام مٹ جائے گا۔ ( تفسیر عزیزی)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ نازل فرمائی…اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ … اے نبی! ہم نے آپ کو اتنی زیادہ، اتنی وسیع اور اتنی بڑی خیریں عطا فرما دی ہیں…جو خیریں کبھی ختم نہ ہوں گی… اور یہ تمام خیریں آپ کے دین اور آپ کے نام کے ساتھ جڑی رہیں گی… اگر نرینہ اولاد نہیں تو کیا ہوا؟ … کبھی اولاد بہت ہوتی ہے مگر وہ نہ تو انسان کے نام کو زندہ رکھتی ہے اور نہ اس کے کام کو… اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹوں کی نسل نہیں دی…مگر آپ کو ’’الکوثر ‘‘ دی ہے… الکوثر کے معنی بہت زیادہ خیر … خیر کثیر… اور’’ الکوثر‘‘ کا معنی وہ حوض کوثر جس کے قیامت کے دن سب نبی اور سب امتی محتاج ہوں گے…اس حوض کا پانی دودھ سے سفید، شہد سے میٹھا اور برف سے ٹھنڈا ہو گا… اور آپ ﷺ اس حوض کے مالک و مختار ہوں گے…اور الکوثر کا معنی بہت علم… اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور آپ کی امت کو وہ علوم عطا فرمائے جو پہلے کسی کو نہیں دئیے گئے …اور الکوثر کا معنیٰ قرآن مجید اور اس کا علم… قرآن مجید آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو عطا ہوا اور اس کا علم بھی… یہ ایسی بڑی خیر ہے کہ جو اگر کسی کو مل جائے تو اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی… اور’’ الکوثر‘‘ کا معنیٰ …پانچ وقت کی نماز… سبحان اللہ! نماز میں جو نور مومن کے دل پر اُترتا ہے… وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے…اور نماز میں مومن کو اللہ تعالیٰ سے مناجات کی جو لذت ملتی ہے وہ شہد سے میٹھی ہے… اور نماز میں ایمان والوں کو جو سکون ملتا ہے وہ برف سے زیادہ تسکین آور اور ٹھنڈا ہے… اور الکوثر کا معنیٰ …کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ … یہ بہت عظیم اور سب سے بڑی خیر ہے… جس کے پاس یہ خیر ہے وہ کامیاب ہے، وہی برقرار ہے…اور جو اس خیر سے محروم ہے وہ ابتر ہے،بدتر ہے ، محروم ہے، بے نسل ہے اور ناکام ہے…

اور الکوثر کا معنیٰ …بہت زیادہ اولاد… حقیقی اولاد بھی اور مجازی اولاد بھی… دو بیٹے وفات پا گئے مگر بیٹی سے اللہ تعالیٰ نے ایسی پاکیزہ اولاد کو کھڑاکر دیا جو… لاکھوں کی تعداد میں پھیل گئی…اور روحانی اور مجازی اولاد تو… ماشاء اللہ اتنی کثیر کہ… نہ کسی اورکو ملی اور نہ کسی اور کو مل سکتی ہے…

اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا ﷺ کو ’’الکوثر‘‘ یعنی بہت بڑی خیر عطا فرمائی… آپ ﷺ کا دین مبارک آپ کے بعد زندہ رہا اور زندہ ہے…اور آپ ﷺ کا نام مبارک بھی… اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد سب سے محبوب، مقبول اور اونچا نام ہے …حضرت شاہ صاحب ؒ لکھتے ہیں:

اس آیت میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ…آپ ﷺ کی نسل ظاہری اور باطنی قیامت تک رہے گی… آپ ﷺ کی امت کے لوگ ممبروں اور مناروں پر چڑھ کر آپ ﷺ کا نام، اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ پکارا کریں گے اور پانچوں وقت کی نماز میں…اور اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجا کریں گے اور آپ ﷺ کی محبت میں جانبازیاں کریں گے… اور ہزاروں عاشق آپ ﷺ پر درود پڑھتے ہوئے ہر سال آپ کے روضہ مبارک کی زیارت کو دوڑیں گے… پس ذکر خیر آپ کا جاری رہے گا اور آپ کا دشمن ایسا گمنام ہو گا کہ…کوئی نام بھی اس کا نہ لے گا مگر لعنت اور پھٹکار کے ساتھ ( مفہوم تفسیر عزیزی)

خلاصہ یاد کر لیں…الکوثر کا مطلب

(۱) حوض کوثر،نہر کوثر (۲) کلمہ طیبہ: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (۳) قرآن مجید اور اس کا علم (۴) پانچ وقت کی نماز (۵)کثرت علم (۶) کثرت اولاد … حقیقی اور مجازی …

ہم نے آج کی مجلس کا آغاز اسی دعاء سے کیا کہ… اللہ تعالیٰ ہمیں ’’الکوثر‘‘ میں سے حصہ عطاء فرمائے دنیا میں بھی… اور آخرت میں بھی… آمین یا ارحم الراحمین

ویسے حضرت امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں ’’الکوثر‘‘ کے سولہ معانی لکھے ہیں…یعنی اس کے معنیٰ اور مطلب میں مفسرین کے سولہ اَقوال ہیں …اہل ذوق تفسیر قرطبی میں ملاحظہ فرما لیں…

تین اَسباق

قرآن مجید کی ہر آیت اور سورت کا ایک خاص نور ہوتا ہے… جب کوئی بندہ اس آیت کو اخلاص سے تلاوت کرتا ہے تو وہ روشنی اور نور اس کے دل پر اُترتا ہے… آپ آیۃ الکرسی کا ترجمہ سمجھ لیں…پھر توجہ سے آیۃ الکرسی کی تلاوت کرتے جائیں …ہرجملے کے ساتھ دل پر ایک الگ روشنی ،قوت، کیفیت اُترتی چلی جائے گی…

اس سورہ مبارکہ میں فرمایا…اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ … معلوم ہوا کہ بڑی خیر اور اصل خیر حضور اقدس ﷺ کو عطاء فرمائی گئی ہے… آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد …اب اصلی خیر ، حقیقی خیر اور بڑی خیر… صرف اسی کو مل سکتی ہے جو آپ ﷺ سے وابستہ ہو گا… پس جو لوگ آپ ﷺ سے کٹے ہوئے ہیں…وہ بڑی خیر سے محروم ہیں…خواہ دنیا بھر کے حکمران بن جائیں ، یا اَرب پتی سرمایہ دار یا بڑے سائنسدان …یہ سب ناکام ہیں، محروم ہیں، ذلیل ہیں، نامراد ہیں،خاسر ہیں… مسلمانوں کو کبھی بھی ان سے ہرگز متاثر نہیں ہونا چاہیے…دنیا کی عارضی چمک دمک ایک وقتی تماشا ہے…

دوسرا سبق یہ کہ …خیر کی چیزوں میں کثرت اچھی بات ہے… جبکہ دنیا کے معاملات میں کثرت کی خواہش بری ہے… ایک طرف فرمایا: ’’اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ‘‘ تمہیں کثرت کی خواہش نے غفلت اور ہلاکت میں ڈال دیا… جبکہ یہاں فرمایا: اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ ہم نے آپ کو کثرت عطاء فرمائی…یعنی خیر کی کثرت… ’’خیر کثیر‘‘کی تمام چیزیں حضور اقدسﷺکو عطاء ہوئیں… حوض کوثر بھی، کلمہ طیبہ بھی، قرآن مجید بھی، علم بھی، نماز بھی… اب اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ آپ ﷺ سے اپنا تعلق مضبوط بنا کر ان خیروں میں سے زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ حاصل کر لیں… اور اپنے دل میں ان خیروں کو زیادہ سے زیادہ کثرت کے ساتھ پانے کی تمنا اور خواہش بھی رکھیں…

تیسرا سبق یہ کہ… حضور اقدس ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ…ہم نے آپ کو بہت خیر عطاء فرما دی ہے…اس خوشخبری کے فوراً بعد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ

پس آپ اپنے رب کے لئے نماز ادا کریں اور قربانی کریں…

یعنی بڑی خیر پانے کے شکرانے میں… آپ نماز اور قربانی کا بہت اہتمام فرمائیں…اس میں امت کے لئے یہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ…بڑی خیر میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ پانے کا طریقہ نماز اور قربانی میں زیادہ محنت ہے… پس جو مسلمان نماز میں سے زیادہ حصہ پائے گا…اور جو قربانی میں زیادہ اخلاص دکھائے گا…وہ بڑی خیر میں سے بھی ان شاء اللہ زیادہ حصہ پائے گا…وہ بڑی خیر… جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو عطاء فرمائی ہے…

الحمد للہ عید الاضحی آ رہی ہے… قربانی کے ذریعہ مسلمان اللہ تعالیٰ کا قرب اور خیر کثیر میں سے حصہ پا سکتے ہیں… اور ان لوگوں کے مقام کا تو پوچھنا ہی کیا جو اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ میں پیش کرتے ہیں…یہ لوگ تو ایسے قیمتی ہیں کہ… اللہ تعالیٰ ان کا خریدار ہے… فَطُوبیٰ لَھُم…

حوض کوثر

قیامت کے دن سب پیاس سے بے حال و بے تاب ہو رہے ہوں گے… اور وہاں صرف ایک حوض ہو گا…حوض کوثر… یہ حضور اقدس ﷺ کا حوض مبارک ہے… جسے آپ ﷺ پلائیں گے وہی اس سے پی سکے گا… اور پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا… حوض کوثر کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان کو مد نظر رکھ کر حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحبؒ لکھتے ہیں:

حاصل سب روایات کا یہ ہے کہ اس حوض کی مسافت سینکڑوں میل ہے، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے بہتر اس کی خوشبو ہے، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں،جو اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا، سب سے پہلے اس پر مہاجر فقراء آئیں گے کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کا حال بتا دیجئے…ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں (دنیا میں) جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے ( بھوک اور محنت کے باعث) بدلے ہوتے تھے ان کے لئے (بادشاہوں اور حاکموں) کے دروازے نہیں کھولے جاتے تھے… اور عمدہ عورتیں ان کے نکاح میں نہیں دی جاتی تھیں اور ان کے ذمہ جو (کسی کا) حق ہوتا تھا وہ پورا ادا کرتے تھے اور ان کا حق جو (کسی پر) ہوتا تھا تو پورا نہ لیتے تھے( بلکہ تھوڑا بہت) چھوڑ دیتے تھے ( الترغیب والترہیب)

یعنی وہ اہل ایمان جو دنیا میں خستہ حال اور نظر انداز تھے آخرت میں ان کا اعزاز یہ ہو گا کہ حوض کوثر پر سب سے پہلے پہنچیں گے…

عید کی سنتیں

گذشتہ کالم میں عید کی سنتوں کا تذکرہ تھا… یہ سنتیں پہلے کئی بار بیان کی جا چکی ہیں… مگر تقاضا آیا کہ انہیں پھر شائع کیا جائے…عید کے دن تیرہ چیزیں سنت ہیں:

(۱) شرع کے موافق اپنی آرائش کرنا (۲) غسل کرنا (۳) مسواک کرنا (۴) حسب طاقت عمدہ کپڑے پہننا (۵) خوشبو لگانا (۶) صبح کو بہت جلد اٹھنا (۷) عید گاہ میں بہت جلد جانا ( ۸) عید الفطر میں صبح صادق کے بعد عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا اور عید الاضحیٰ میں نماز عید کے بعد اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھانا مستحب ہے (۹) عید الفطر میں عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا (۱۰) عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنا، بغیر عذر شہر کی مسجد میں نہ پڑھنا (۱۱) ایک راستے سے عید گاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا (۱۲) عید گاہ جاتے ہوئے راستہ میں اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد عید الفطر میں آہستہ آہستہ کہتے ہوئے جانا اور عید الاضحی میں بلند آواز سے کہنا (۱۳) سواری کے بغیر پیدل عید گاہ جانا (نور الایضاح …بارہ مہینوں کے فضائل و احکام)

رنگ ونور کے تمام قارئین کو بندہ کی طرف سے قلبی ’’عید مبارک‘‘

تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor