Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آئینے جیسے دل (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 514 - Saadi kay Qalam Say - Ayene jese Dil

آئینے جیسے دل

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 514)

اللہ تعالیٰ ’’فلسطین‘‘ کے جانباز اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور حفاظت فرمائے…وہاں اس وقت معرکہ گرم ہے…ظالم یہودیوں کی پشت پر دنیا بھر کا ’’کفر‘‘ ہے…جبکہ فلسطینی مسلمان اکیلے ہیں…صرف ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے اور یہی سہارا سب سے مضبوط ہے…اسی لیے وہ نہتے ہوکر بھی فاتح ہیں…وہ پتھروں سے مسلح ہوکر ایک ایٹمی طاقت سے لڑرہے ہیں مگر پھر بھی سرفراز ہیں…

اَللّٰھُمَّ انْصُرْھُمْ، اَللّٰھُمَّ اَیِّدْھُمْ…

الیٰ مغفرۃ

آج کل ہماری جماعت میں ’’ترقی مہم‘‘ چل رہی ہے…اخبار کا یہ شمارہ آپ تک پہنچتے یہ مہم قریب الاختتام ہوگی…اس لیے مہم کے بارے زیادہ کچھ نہیں لکھا جارہا…الحمدللہ روزانہ مکتوبات کے ذریعہ آپ سے ملاقات رہتی ہے…بس اتنا عرض کرنا ہے کہ…’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب کو مہم میں شامل کرنے کی وجہ یہ بنی کہ…الحمدللہ مسلمانوں کو اس کتاب سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے…اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی مخلص اور مستغفر بندوں کو اس کتاب کی خدمت پر لگادیا ہے… ہمارے پروفیسر صاحب نے کراماتی رفتار کے ساتھ کتاب کا انگریزی میں ترجمہ…رمضان المبارک کی آخری راتوں میں مکمل کرلیا…اللہ تعالیٰ ان کو اپنی شایان شان جزائے خیر عطا فرمائے…اب انگریزی ترجمہ شائع ہونے کی تیاری میں ہے…بعض مخلص اور توّاب بندے زیادہ سے زیادہ افراد تک یہ کتاب پہنچانے کی مستقل محنت میں لگے ہوئے ہیں…کئی احباب نے القلم اور دیگر قومی اخبارات میں اس کتاب پر مخلصانہ کالم لکھے…اور کئی اَفراد سوشل میڈیا پر مستقل اس کتاب کو چلارہے ہیں، پھیلا رہے ہیں…

اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی مغفرت کاملہ اور جزائے خیر عطا فرمائے…الحمدللہ اس کتاب سے دعوت جہاد اور جہاد کے کام کو ایک نئی قوت اور تازگی ملی ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ  کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص فدائی مجاہدین اس پر بہت خوش ہیں…اللہ تعالیٰ کے یہ وفادار بندے جماعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محبت پر دیکھنا چاہتے ہیں…

انہیں جماعت میں کوئی دینی ترقی نظر آتی ہے تو بے حد خوش ہوتے ہیں…اور جب وہ جماعت کے افراد میں کوئی دینی کمزوری دیکھتے ہیں تو بے چینی سے تڑپ اٹھتے ہیں…یہ خوش نصیب جو اپنی جان بیچ چکے ہیں ان کو اپنے جماعتی ساتھیوں کا موبائل اور نیٹ سے مشغول ہونا…دنیا داری کے دھندوں میں پھنسنا…اور عبادات میں سستی کرنا، بہت تکلیف دیتا ہے…وہ حیران ہوتے ہیں کہ…ایک مجاہد کس طرح ان معاملات میں الجھ سکتا ہے…

جب بھی جماعت میں توبہ اور استغفار کی تازہ ہوا چلتی ہے تو …یہ فدائی دیوانے مسرت سے جھومنے لگتے ہیں…اور خوشی و مبارکباد کے پیغامات بھیجتے ہیں…’’الیٰ مغفرۃ‘‘ کتاب کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں مسلمانوں کو رحمت ، امید اور عزم کا پرنور راستہ عطا فرمایا ہے…جو رفقاء ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھ سکے وہ ہمت کرکے پڑھ لیں…اور پھر دوسروں تک بھی…اللہ تعالیٰ کا معافی، مغفرت اور رحمت والا پیغام پہنچاتے رہیں…

جزاکم اللہ خیرا

الحمدللہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جماعت کی تمام مہمات پر…اللہ تعالیٰ کا فضل رہا…نفل قربانی کی مہم کا یہ پہلا سال تھا…کسی کو توقع نہیں تھی کہ یہ مہم اس قدر کامیاب ہوگی…مگر مشورے میں روشنی، اجتماعیت میں قوت اور اخلاص ومحنت میں کامیابی رکھ دی گئی ہے…الحمدللہ یہ نصاب مکمل تھا…پہلے بہت جامع مشورہ ہوا تو روشنی آگئی…پھر اجتماعی ترتیب بنی تو ہمت وقوت آگئی…پھر اخلاص کے ساتھ دیوانوں نے محنت کی تو کامیابی آگئی…الحمدللہ تمام تقاضے پورے ہوئے اور اس مشق کی برکت سے آئندہ کے لیے بھی راستے کھل گئے…محنت کرنے والے رفقاء کرام کا شکریہ…اور نفل قربانی وقف کرنے والے مسلمانوں کا بھی شکریہ…

اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایمان کامل اور خوب جزائے خیر عطا فرمائے…عیدالاضحیٰ کی اہم ’’مہم‘‘ چرم قربانی کی ہوتی ہے…الحمدللہ نہ کھال مقصودہے، نہ مال مقصود…مقصد یہ ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھی دین اور جہاد کی خدمت میں لگیں…اور مسلمانوں کا مال دین اور جہاد کی خدمت پر لگ جائے…

اس میں لینے والوں کا بھی فائدہ…اور دینے والوں کا بھی فائدہ…انسان کا وہی وقت قیمتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں لگ جائے…اور انسان کا وہی مال قیمتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں خرچ ہوجائے…اس مہم کی برکت سے…جماعت کے ساتھیوں کا وقت قیمتی بنتا ہے…اور مسلمانوں کا مال ایک عظیم کام پر خرچ ہوتا ہے…جہاد سے محرومی کی سزا ’’ذلت‘‘ ہے…دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی…یہ بات قرآن وسنت میں بالکل واضح ہے…اور دنیا میںچاروں طرف ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آرہی ہے…پس جس کا وقت جہاد پر لگ جاتا ہے، وہ بھی خوش نصیب اور جس کا مال جہاد پر لگ جاتا ہے وہ بھی خوش نصیب…بدبختی، بدنصیبی اور ذلت سے بچنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نصیبی پانے کے لیے…یہ ’’مہمات‘‘ چلائی جاتی ہیں…

اس سال حالات کی وجہ سے بظاہر اندھیرا تھا…مگر الحمدللہ…اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نصاب پورا تھا…مشورہ اور اجتماعیت…اخلاص اور محنت…حکومت نے بہت کوشش کی کہ پاکستان میں امن ورحمت کے یہ چراغ بھی بجھ جائیں…مگر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل رہا اور چرم قربانی کی مہم بہت کامیاب رہی…اس مہم میں محنت اور تعاون کرنے والے…رفقاء اور اہل اسلام کا شکریہ…یغفراللہ لی ولکم وجزاکم اللہ خیرا…

آئینے جیسے دل

ایک عارف باللہ فقیر نے دلی کی تہاڑ جیل میں بیٹھ کر…ایک ’’آئینہ‘‘ تیار کیا اور ہمیں بھجوا دیا…پھر وہ خود ایک شفاف ’’آئینہ‘‘ بن کر…اونچی پروازوں پر چلا گیا…اس کا تیار کردہ ’’آئینہ‘‘…یہ ساحرانہ تاثیر رکھتا ہے کہ…سخت اور کالے دلوں کو بھی…روشن اور شفاف ’’آئینہ‘‘ بنادیتا ہے…آئینہ کتاب کی پہلی تقریب رونمائی دہلی کے پھانسی گھاٹ پر ہوئی…جہاں مسکراتے ہوئے افضل نے اپنی کتاب پر…سب سے پہلے عمل کرتے ہوئے…ایک عجیب روشن زندگی پالی…پھر دوسری تقریب…مظفرآباد کے ایک وسیع و عریض میدان میں…ہزاروں مجاہدین کے درمیان ہوئی…وہ دن ہے اور آج کل کا دن…یوں لگتا ہے کہ…ولی کامل مجاہد اسلام حضرت شیخ محمد افضل گورو قدس سرہ کی روحانی سلطنت…دہلی سے کوہالہ تک قائم ہوچکی ہے…

جہاد کشمیر کی تحریک نے اس آئینے سے روشنی لے کر…ایسی کروٹ لی کہ کفر کے ایوانوں میں بھونچال آگیا…اب الحمدللہ شہید افضل کی روحانی سلطنت کا دور ہے…اور مخلص مجاہدین تیزی سے جہاد کشمیر کی صفوں میں آرہے ہیں…گزشتہ دو سالوں میں کشمیر کے اس طبقے نے بندوق اٹھائی ہے… جس کے بارے میں…کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ…یہ طبقہ بھی جہاد پر آئے گا…ہاں بے شک شہید ولی کی سلطنت بہت وسیع ہوتی ہے…یوں لگتا ہے کہ جیسے دلی قیام کے دوران تہاڑ جیل کی تاریک راتوں میں…حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ…حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ…اور حضرت سلطان التمشؒ نے خوابوں میں آکر افضل شہید کے سر پر اپنی روحانی طاقت کے تاج رکھ دیئے ہیں…بے بسی، آہ و زاری اور آنسوئوں والی ان راتوں میں…افضل نے معلوم نہیں کون کون سے مقامات طے کر لیے…اسی لیے تو وہ ہر وقت مسکراتا نظر آتا تھا … لوگ چار دن اپنے ملک کی قید پر…چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں…مگر افضل تو ہر وقت مسرور تھا…کسی اندرونی نشے سے مخمور تھا…ہم سے اس کے بارے میں کئی کوتاہیاں ہوئیں…مگر اس نے کوئی شکوہ نہیں کیا…اس کو وہ سب کچھ مل چکا تھا…جو ایک مسلمان کی سب سے بڑی خواہش اور بڑی ضرورت ہے…ہاں! اللہ تعالیٰ کا قرب، اللہ تعالیٰ کی معرفت، اللہ تعالیٰ کی محبت …اور اللہ تعالیٰ کی رضاء الحمدللہ آئینہ کتاب دور دور تک پھیل چکی ہے…افضل کے دشمن افضل کی روشنی اور خوشبو کو پھیلنے سے نہیں روک سکے…اس کتاب کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں…مقبوضہ کشمیر کی گلی گلی میں یہ آئینہ چمک رہا ہے…جیش والو! اب تمہارا کام ہے کہ…ولی شہید کی سلطنت کا ثمر سمیٹو…زیادہ سے زیادہ افراد تک آئینہ پہنچائو…ہندوستان، پاکستان اور کشمیر سے زیادہ سے زیادہ مجاہدین اٹھا کر افضل کے زیرِکمان لشکر میں کھڑا کرو…اب تمہیں کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ حکومت افضل کی ہے … بہت اچھا موقع ہے کہ اپنے تمام شہداء کا بھر پور انتقام لو… اگلے، پچھلے سارے قرضے چکادو… اور غزوۂ ہند کو اس کی معراج تک لے جائو…

 ایک رسم کی اصلاح

 حضرت آقامدنیﷺ سے بڑھ کر… مخلوق میں کوئی ’’محبوب‘‘ نہیں… کوئی محترم نہیں…اور حضرات صحابہ کرام سے بڑھ کر…حضرت آقا مدنی ﷺ سے محبت کرنے والا … اور آپﷺ کا احترام کرنے والا … اور کوئی نہیں … حضرت آقا مدنیﷺ جب خطبہ ارشاد فرمانے مسجد میں تشریف لاتے تو… صحابہ کرام کو اجازت نہیں تھی کہ آپﷺ کے لئے کھڑے ہوجائیں…

 وہ احترام کے ساتھ بیٹھے رہتے… اور ایسی توجہ اور ادب سے خطبہ سنتے کہ جیسے سراپا گوش ہوں… آپﷺ کے بعد آپ کے جانشین خلفاء راشدین… اور پھر حضرات محدثین کا بھی یہی طرزعمل رہا ہے… ابھی کچھ عرصہ سے دینی جلسوں میں یہ رسم پڑگئی ہے کہ… خطباء کرام اور مہمانوں کے آنے پر مجمع کو زبردستی کھڑا کیا جاتا ہے…یہ غلطی ہماری جماعت کے جلسوں میں بھی…غیر شعوری طور پر داخل ہوگئی… اور اب اس کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے…

خطباء،علماء اور کمانڈروں کے لئے… مسلمانوں کو کھڑا کیا جاتا ہے… اگرچہ وہ خطباء علماء اور کمانڈر نہ بھی چاہتے ہوں… اس عمل میں کئی خرابیان ہیں… مثلاً

۱)اسیٹج پر اور جلسہ گاہ میں بزرگ حضرات، علما ء کرام اور اولیاء عظام بھی ہوتے ہیں… ایسے قابل احترام حضرات کو کسی کے لیے کھڑا کرنا … اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ذریعہ بن سکتا ہے …

۲) کسی کے احترام میں کھڑا ہونا جائز ہے… مگر اس وقت جب کھڑا ہونے والا اپنی مرضی اور خوشی سے کھڑا ہو… اجتماع یا جلسہ میں چونکہ اعلان کر کے اور حکم دے کر لوگوں کو کھڑا کیا جاتا ہے تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون اپنی خوشی سے کھڑا ہوا… اور کون اپنی عزت بچانے کے لئے…

 ۳)اس عمل کی وجہ سے اگر کسی کے دل میں یہ شوق پیدا ہوگیا کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوا کریں تو یہ بڑاخطرناک اور نقصان دہ شوق ہے… جو انسان کے بڑے بڑے اعمال کو اکارت کردیتا ہے…

 دینی جلسوں کا مقصد… اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی بیان کرنا … اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا … اسلامی احکامات اور جہاد کی دعوت دینا ہے…ان جلسوں اور اجتماعات کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکانا اور دین کی خدمت کے لئے کھڑا کرنا ہوتا ہے… اس لئے ان اجتماعات کو ایسی رسومات سے پاک رکھا جائے … جو ان اجتماعات کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہوں…

بندہ کا ارادہ تھا کہ … جب اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور خود کسی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا تو… جماعتی اجتمامات میں اس ’’بری رسم‘‘ کے خاتمے کا اعلان کروں گا… مگر انتظار طویل ہوگیا … یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھے موقع ملے گا یا نہیں … اور موت کا کچھ علم نہیں… اس لئے ماضی میں اس بارے ہم سے جو غلطی ہوئی اس پرتمام مسلمانوں سے معذرت کرتا ہوں… اور آج سے جماعتی اجتماعات اور جلسوں میں اس رسم پر پابندی کا اعلان کرتا ہوں… ہمارے جلسوں میں جو مسلمان تشریف لاتے ہیں ہم ان کا بے حد احترام کرتے ہیں… ہم ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں… اور اب ہم ان کو اپنے لئے یا کسی کے لئے کھڑا نہیں کریں گے… اسی طرح جماعتی خطباء حضرات سے بھی تاکیدی گذارش ہے کہ … وہ مسلمانوں کے مجمع کا احترام کریں… بار بار ان کے ہاتھ اٹھوانا، ان کو کھڑا کرنا ان کی ناقدری ہے یہ کام ہرگز نہ کریں… بار بار وعدے نہ لیں… بس آخری خطیب اگر کسی جہادی محاذ یا تحریک کے لئے تشکیل کا اعلان کرنا چاہتا ہو تو وہ… کہہ سکتا ہے کہ جو تیار ہو وہ ہاتھ اٹھائے یا کھڑا ہو کر نام لکھوائے… اسلام میں ’’خطیب‘‘ کا بہت اونچا مقام ہے… حضرات انبیاء علیہم السلام سارے کے سارے ’’خطباء‘‘ تھے… قرآن مجید نے اُن کے ’’خطبات‘‘ کا جابجا تذکرہ فرمایا ہے… جو ’’خطیب‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خطاب کرتا ہو اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہو تو… اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر بڑا ہے کہ… عام لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے… بس شرط ایک ہی ہے کہ… خطیب میں اخلاص ہو… اور وہ خود باعمل ہو… بندہ نے کچھ عرصہ قبل خطیب کے عظیم مقام اور خطابت کے شرعی آداب پر ایک مضمون لکھا تھا… وہ ابھی تک شائع نہیں ہوا… موقع ملا تو ان شاء اللہ رنگ ونور میں شائع کردیا جائے گا… خطبا ء کرام کو اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنا چاہئے… تواضع اختیار کرنی چاہئے… اور اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے خطاب سے پہلے… استغفار اور دعاء کا بہت اہتمام کرنا چاہئے…

لاالہ الااللّٰہ ، لا الہ الا اللّٰہ ، لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor