Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اَسْلِمْ تَسْلَمْ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 515 - Saadi kay Qalam Say - Aslim Taslam

اَسْلِمْ تَسْلَمْ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 515)

اللہ تعالیٰ معاف فرمائے… آج کا کالم ’’خیال جی‘‘ کی ’’خیالیات‘‘ پر مشتمل ہے…

میری دکان

بے روزگاری سے تنگ آکر سوچا کہ… روزی اور کمائی کا کوئی ذریعہ کیا جائے… آپ تو جانتے ہیں کہ میں یعنی مسمیٰ ’’خیال جی‘‘ نہ سیاستدان ہوں نہ سائنسدان… نہ ڈاکٹر نہ انجینئر…اب کہاں سے کمائوں اور کہاں سے کھائوں…بالآخر اپنے استاد ’’درویش جی‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوا …انہوں نے سمجھایا کہ کیوں فکر کرتے ہو… مشوروں، تعویذوں اور عملیات کی دکان کھول لو … چند ہی دنوں میں مالا مال ہوجائو گے…اور سنو! آج کل دنیا بھر کے حکمران انتہاپسندی، شدت پسندی اور جہاد سے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں… تم اسی موضوع کے دانشور، عامل اور ڈاکٹر بن کر بیٹھ جائو… اور پھر ملالہ یوسف زئی کے باپ کی طرح صبح شام نوٹ ہی نوٹ گنتے رہو…درویش جی کا مشورہ معقول تھا، سیدھا میرے معدے کو لگا…

عرض کیا یامرشد! کچھ قرضہ عنایت ہوتاکہ دکان کرائے پر پکڑ سکوں…انہوں نے تین روپے عطا کئے اور فرمایا! ایک روپیہ دکان کا کرایہ…ایک روپیہ بورڈ کی لکھائی…اور ایک روپے سے چھوٹا موٹا جہاز خرید لو…میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بڑے بڑے سفر درپیش ہوںگے…تین روپے بریف کیس میں بھر کر میں درویش کی جھگی سے نکلا … جاتے ہی مارکیٹ میں ایک دکان پکڑی…ایک خوبصورت بورڈ لکھوایا…جس کا عنوان تھا…انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ، شدت پسندی کا تیر بہدف علاج اور مجاہدین سے بچنے کے نادر طریقے… حضرت حکیم، ڈاکٹر، عامل کامل، دانشور، تھنک ٹینک خیال جی…فون نمبر…

کالوں کا تانتا

اگلے دن خان جی کے ہوٹل سے اُدھار کی چائے پی کر میں اپنی دکان کو جانے لگا تو…خان جی نے پیسے مانگے…میں نے فخر سے مسکرا کر کہا …اب فکر نہ کرو سارے قرضے جلد چکا دوں گا… دکان جاکر بیٹھا ہی تھا کہ فون پر کالوں کا تانتا بندھ گیا…میں پریشان کہ سب سے پہلے کس کی کال سنوں؟ پھر فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے ایک کالے کی کال سنتا ہوں…بٹن دباکر فون کان سے جوڑا تو چرسیوں جیسی اُکھڑی ہوئی، اُبھری ہوئی آواز آئی …آئی ایم ابامہ…آریو خیال جی؟…میں نے کہا ہاں بولو!…کہنے لگا! خیال جی ہم مر گئے … کئی ٹریلین ڈالر خرچ کردئیے…مگر مجاہدین ختم ہوئے نہ جہاد رُکا…مسلمانوں کے ہر ملک میں ہم نے اپنے زرخرید ایجنٹ حکمران بٹھا دئیے…مگر جہاد ہر طرف پھیلتا جارہا ہے…اب تو ہماری اپنی سلامتی خطرے میں ہے…خیال جی! کوئی مشورہ دو، کچھ سمجھائو…کوئی تعویذ دو…افغانستان، عراق، شام سے لے کر افریقہ کے آخری کونے تک جہاد ہی جہاد ہے، مجاہدین ہی مجاہدین ہیں…یہ کہہ کر ابامہ ہچکیاں لے کر رونے لگا…میں نے کہا! ابامہ تمہیں میری فیس معلوم ہے؟ کہنے لگا نہیں تم بتادو…میں ایک دو دن گانجا اور چرس نہیں پیئوں گا…تمہاری فیس ادا کردوں گا…میں نے کہا …ساڑھے پانچ روپے…ابامہ گڑ گڑانے لگا کہ کچھ رعایت کرو…ہمارا ملک معاشی خسارے میں جارہا ہے…خود امریکہ میں بغاوتیں پھوٹ رہی ہیں…اُدھر روس بھی دوبارہ پَر پرزے نکال رہا ہے…چین اور شمالی کوریا بھی ہاتھ نہیں آرہے … اور یہ مجاہدین اُف توبہ…روز بوریاں بھر کر ڈالر خرچ کرنے کے باوجود…اور اتنی بمباری کے باوجود کسی بھی طرح کم نہیں ہورہے…معلوم نہیں زمین سے اُگ رہے ہیں یا آسمانوں سے برس رہے ہیں…خیال جی! کچھ رعایت! کافی بات چیت کے بعد پانچ روپے میں سودا طے ہوگیا … اور میں نے ابامہ سے امریکہ کے دورے کا وعدہ کرلیا کہ…جلد واشنگٹن کا چکر لگاتا ہوں اور تمہیں مشورے سے نوازتا ہوں…تھینک یو تھینک یو کی گردان کے ساتھ یہ کال ختم ہوئی تو فون پھر بجنے لگا…گھنٹی کی آواز سے لگ رہا تھا کہ کال قریب کی ہے…بٹن دبا کر سنا تو کانوں میں ڈھول کی آواز آئی…میں حیران ہونے ہی والا تھا کہ آواز آئی …میں نریندر مودی بول رہی ہوں…ارے خیال جی! تمہاری پڑوسن مودی…میں نے کہا! ہاں مودی سنائو کیسی ہو…کہنے لگا…بس ابھی درزی کے پاس سے آرہی ہوں…وہ جو اس نے یوم آجادی پر میرا سوٹ بنایا تھا…ارے نیلے رنگ کا چھمک چھلو…اس کی شلوار پر بھی موئے نے آگے پیچھے ہر طرف لکھ دیا تھا…مودی، مودی … ہائے بے سرم کہیں کا…

وہ سوٹ تو میں نے بیچ ڈالا…اب آٹھ جوڑوں کا آرڈر دے آئی ہوں…موئے کو تاکید کری ہے کہ کپڑوں میں گھنگھرو ضرور لگایا کرے …پھر راستے میں پھوٹو گرافر کے پاس گئی…کچھ نئے پھوٹو بنوائے…بہت مصروف ہوں…ابھی کئی ملکوں کا دورہ کرنا ہے…ہر جگہ نئے کپڑے پہن کر پھوٹو بنوانے ہوتے ہیں…میں تو ہر راشٹر پتی کے گلے میں بانہیں ڈال کر …اپنے دیش کے لیے ساری باتیں منوالیتی ہوں…مودی کی باتوں سے تنگ آکر میں نے کہا…چھوڑو ان باتوں کو…مجھے کیوں فون کیا؟ کہنے لگا…

وہ ہمارے دیش میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے…کشمیر کی طرف پھر مجاہدین اکٹھے ہورہے ہیں…اور افغانستان سے بھی کافی کھترا لگ رہا ہے…ہائے میں تو بہت ڈر رہی ہوں، دل دھک دھک کررہا ہے…امریکہ والے بھی بتار ہے ہیں کہ انڈیا بہت کھترے میں ہے…ہمیں مسورہ دو، کوئی تعویج منتر بتائو…مودی سے چار روپے میں فیس طے ہوئی اور میں نے دورے کا وعدہ کر لیا … مگر یہ کیا فون پھر بجنے لگا…اب روسی صدر ’’پوٹن‘‘ کی کال تھی…وہ بھی بہت چیخ رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو سائبیریا سے تاجکستان تک…اور قفقاز سے آمو تک مجاہدین ہی مجاہدین نظر آرہے ہیں… روس اور وسطی ایشیاء کے چودہ ہزار افراد بھاگ کر شام اور عراق چل گئے ہیں…اور وہ مجاہدین بن گئے ہیں…ان میں تاجکستان کے خفیہ ادارے کا سربراہ بھی شامل ہے…ہم پہلے ہی افغانستان میں مار کھا چکے ہیں…یہ کہہ کر پوٹن رونے لگا اور بولا …میں ان مجاہدین کی تصویریں دیکھتا ہوں تو خوف سے میری پوٹی نکلنے لگتی ہے…اب ہم شام میں بمباری کررہے ہیں مگر خود اپنی زمین ہمارے نیچے سے سرک رہی ہے…آخر یہ جہاد ہے کیا؟ … ہماری سلامتی خطرے میں ہے…خیال جی کچھ بتائو، کچھ سمجھائو، پوٹن سے ساڑھے تین روپے میں بات طے ہوئی اور میں نے ماسکو کا چکر لگانے کا وعدہ کرلیا…

 کل کی بات تھی کہ میں بے روزگار تھا مگر آج میرے پاس تین ملکوں کے آرڈر تھے …اور میں خیالات ہی خیالات میں… ضیاء الدین یوسفزئی کی طرح… نوٹ ہی نوٹ گن رہا تھا…

 سفرکی تیاری

میرے فون پر مزید کالیں بھی آرہی تھیں… ایک کال ایران سے تھی… فون بہت دھوکے سے بج رہا تھا میں نے کال کاٹ دی… ایک اور کال برطانیہ سے تھی… یہ کال بھی کاٹ دی… اکیلا آدمی کس کس کی کال وصول کرے؟ … سوچا پچھلے تین آرڈر نمٹالوں پھر… باقی لوگوں سے بات کر لوں گا… قریب ہی ایک کھوکھے سے جا کر نیا جہاز خریدا… چاچا رحیم بخش کی دکان سے اس کے ٹائروں میں ہوا بھروائی…اور امریکہ ،انڈیا اور روس کے دورے کے لئے تیار ہو گیا… مگر فون تھاکہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا ایک کال بار بار آرہی تھی… غصے اور بے دلی کے ساتھ ریسیو کی تو… دوسری طرف نبیامین نیتن یا ہو تھا… اس نے تڑپ کر کہا خیال جی ،خیال جی… اور پھر ہچکیاں لے کر رونے لگا… وہ اس طرح رورہا تھا جیسے رات میں اندھیرے میں بلی روتی ہے… میں نے بڑی مشکل سے چپ کرایا… وہ کہنے لگا! یہ فلسطینی مجاہدین، یہ حماس والے… یہ کہہ کر پھر دھاڑیں مارنے لگا… ہم نے ہر اسلحہ استعمال کرلیا… مگر وہ چاقو اور چھری لے کر ہمارا مقابلہ کررہے ہیں… خیال جی! خوف ہی خوف ہے اور بہت پریشانی… جتنا تشدد اور اسلحہ ہم نے فلسطینیوں پر چلا یا… اتنا اگر کسی اور قوم پر چلاتے تو وہ کبھی کی مٹ گئی ہوتی … مگر یہ تو بڑھتے ہی جارہے ہیں… ہر دن جنگ کا نیا طریقہ… اور ہر دن الجہاد الجہاد کے نئے نعرے…ہائے قوم یہود ماری گئی… تباہ ہوگئی … نہ امریکہ کی یاری سے کچھ کام بن رہا ہے اور نہ عربوں کی فلسطین سے غفلت کا ہمیں کوئی فائدہ مل رہا ہے… ہمیں مصر میں ’’محمد مرسی‘‘ سے خطرہ تھا ہم نے اسے ہٹوا کر اپنا ’’سیسی‘‘ بٹھا دیا مگر وہ توہمارے لئے پیشاب کی’’شیشی‘‘ نکلا… ہائے ہماری سلامتی، ہائے ہماری سلامتی… خیال جی کچھ بتائو، کچھ سمجھائو…میں نے کہا… دیکھونیتن! میں بہت مصروف ہوں…ابھی امریکہ جانا ہے، پھر روس اور انڈیا کا چکر ہے… ایسا ہے کہ تم مجھے پھر کال کرلینا… یہ سن کر وہ باقاعدہ گڑگڑانے لگا… خیال جی! میں تمہارے پائوں پڑتا ہوں… اس بار بڑا خطرناک انتفاضہ ہے … ہمارے لئے بھی وقت نکالو… اس کے رونے دھونے پر ترس کھا کر میں نے تل ابیب کے دورے کا وعدہ بھی کرلیا… اور ڈھائی روپے فیس بھی پکی طے کرلی…

جہاز حادثے سے بال بال بچا

 گھروالوں اور دوستوں سے رخصت ہو کر میں اپنے جہاز پر آبیٹھا… جہاز کی بریکیں،پیڈل اور ہینڈل چیک کر کے میں نے اپنا جہازروس کی طرف اُڑادیا… ارادہ تھا کہ پہلے ماسکو جاؤں گا … پھر واپس انڈیا… وہاں سے اسرائیل اور آخر میں امریکہ… وجہ یہ تھی کہ امریکہ سے غذائی قلت کی خبریں آرہی تھیں… انڈیا کا وزیر اعظم پھر ڈھول لے کر پڑوسی ملکوں کی شادیوں میں چلا گیا تھا … اور اسرائیل میں میرے جہاز کے لئے رن وے کی تعمیر کا کام جاری تھا… چنانچہ روس کی طرف پہلے جانا طے پایا… میرا جہاز فضا میں بلند ہوا… ابھی تھوڑا سا سفر طے ہوا تھا کہ ایک بڑا ساجہاز لڑ کھڑاتا ہوا،ہانپتا ہوا میرے جہاز کے قریب آنے لگا… میں نے دوربین لگا کر دیکھا تو اس جہاز کی چھت پر بڑی بڑی دیگیں رکھی تھیں… اور ان کے بوجھ کی وجہ سے وہ ٹھیک طریقے سے اڑنہیں پاتا تھا… میں نے غور سے دیکھا تو… دیگوں پر کھانوں کے نام درج تھے… قورمہ، سری پائے، بریانی، مچھلی کڑی،نہاری وغیرہ وغیرہ… وہ جہاز جس طرح سے ڈگمگا رہا تھا خطرہ تھا کہ میرے جہاز سے اس کی ٹکر ہوجائے … میں نے فوراً کنڑول ٹاور کے ذریعہ اس جہاز کے پائلٹ سے رابطہ کیا… پوچھا یہ کس کا جہاز ہے ؟ جواب آیا وزیراعظم پاکستان کا جہاز ہے وہ اس میں خود سوار ہیں اور امریکہ کے دورے پر جارہے ہیں… پوچھا کہ یہ اتنی بھاری دیگیں کیوں لاد رکھی ہیں؟

کہنے لگا امریکہ والوں نے وزیراعظم صاحب کو چھ دن کے لئے بلایا تھا… پھر جب ان کے کھانے کا مینیو معلوم ہوا تو ڈر کے مارے یہ دورہ تین دن کا کردیا… مگر ہمارے وزیر اعظم صاحب کو خطرہ تھا کہ… امریکی بڑے کنجوس ہیں وہ ان تین دنوں میں …روزانہ صرف تین وقت کا کھانا دیں گے… تو باقی روزانہ تین وقت کا کھانا وہ اپنے ساتھ لے جارہے ہیں… ملک اور قوم کے مفاد میں… انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے… ایسی قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں… قربانی کی دیگوں کے وزن سے جہاز ڈگمگا رہا ہے … تم اگر حادثے سے بچناچاہتے ہو تو اپنا جہاز ایک طرف کرلو… میں نے فوراً اپنا جہاز ایک طرف دور کر کے کھڑا کردیا کہ… پہلے دیگوں والا جہاز گزرجائے… اب میرا جہاز ایک سائیڈمیں کھڑا تھا… مجھے خیال آیا کہ… میں اپنے مرشد سے کچھ مشورہ کرلوں…

اَسْلِمْ تَسْلَم

میں نے جہاز کے ہینڈل کے ساتھ لٹکا ہوا اپنا تھیلا اُتارا… اور فون نکال کر درویش جی کا نمبر ملالیا… دوسری طرف میٹھی سی آواز آئی…ہاں خیال جی! عرض کیا…

حضرت! آپ کی دعائوں سے جہاز کی گدی پر بیٹھا ہوں…پوٹیوں والے صدر پوٹن کے پاس جا رہا ہوں …بس ایک بات سمجھادیں… یہ بڑے بڑے ملک،جن کے پاس ایٹم بموں کے کارخانے اور زمین کے خزانے ہیں… یہ سب’’ سلامتی‘‘ کو کیوں ترس رہے ہیں؟ اور دوسری بات یہ کہ جہاد کے خلاف کھربوں ڈالر،ٹنوں اسلحہ، منوں بارود، دھاروں فوجیں استعمال ہو رہی ہیں… مگر جہاد کیوں ختم نہیں ہو رہا؟… درویش جی نے فرمایا … خیال جی! درود شریف پڑھو… میں درود شریف پڑھنے لگا… فرمایا! درودشریف میں کتنے نام آئے… میں نے عرض کیا… دو نام آئے… فرمایا کونسے؟ عرض کیا… اللہ اور محمد… فرمانے لگے ان دونوں سے کوئی بڑا ہے؟ عرض کیا نہیں… فرمایا ان دونوں سے زیادہ کوئی سچا ہے؟ عرض کیا نہیں… فرمایا… ان دونوں کا ارشاد ہے…یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور حضرت محمدﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ مخلوق کو سنایا ہے کہ… سلامتی صرف اسلام میں ہے… اور جہاد اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے … اور اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی مٹا نہیں سکتا… سنو خیال جی سنو… حضرت آقا محمدمدنیﷺ نے چودہ صدیاں پہلے چند خطوط لکھوائے اور ساری دنیا کے حکمرانوں کو بھجوائے… ان خطوط میں یہ جملہ مبارکہ بھی تھا…

اَسْلِمْ تَسْلَمْ… تم اسلام لے آئو تمہیں سلامتی مل جائے گی… بس فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کے بغیر سلامتی کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں… نہ دل کی سلامتی، نہ روح کی سلامتی، نہ ظاہر کی سلامتی، نہ باطن کی سلامتی،نہ دنیا کی سلامتی، نہ آخرت کی سلامتی…اسلام سے محروم کافر… بظاہر جس امن اور سلامتی میں نظر آتے ہیں وہ بھی حقیقت میں کوئی سلامتی نہیں تم ان کے دلوں کو جاکر دیکھو ! تو تمہیں ترس آئے گا کہ وہ کس قدر ذلت ، خوف، لالچ اور بے یقینی کے زخموں سے چور چور ہیں… اور اب تو وہ مجاہدین کی برکت سے ظاہری سلامتی سے بھی محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں… اور باقی رہا جہاد تو سرور کونین کا اٹل فرمان ہے… اور ان کے فرمان کا یقینی ہونا سورج سے بھی زیادہ روشن ہے کہ… جہاد کو کوئی نہیں روک سکتا: لایبطلہ جورجائر ولا عدل عادل…

جہاد پہلے بھی تھا مگر کم تھاکیونکہ… دعوت میں کمزوری تھی اور میدان تنگ تھے… اب ماشاء اللہ دعوت کی برسات ہے اور میدان وسیع ہیں… اس لئے اب جہاد طوفانوں کی طرح بجلی کی رفتار سے بڑھ رہا ہے… درویش جی نے سلام کر کے فون بند کردیا…میں نے دور بین آنکھوں سے لگائی تو دیگوں والا جہاز کافی دور جا چکا تھا… مگر فضا میں اب بھی نہاری، بریانی اور قورمے کی خوشبو آرہی تھی … اس خوشبو کو سونگھ کر میری بھوک چمک اٹھی… میں نے موبائل تھیلے میں ڈالا اور اسی تھیلے سے بھنے ہوئے چنوں کا شاپر نکال لیا… چنوں کی پوری ایک مٹھی بھر کر میں نے منہ میں ڈالی…کِک مار کر جہاز کو اسٹارٹ کیا… اور یہ جا وہ جا…

استغفر اللّٰہ… استغفر اللّٰہ… استغفر اللّٰہ

اللھم صل علی سیدنا محمد و علیٰ آلہ وصحبہ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

 لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor