Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بڑی زندگی (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 516 - Saadi kay Qalam Say - Badi Zindagi

بڑی زندگی

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 516)

اللہ تعالیٰ کا ’’سلام‘‘ اور بے شمار رحمتیں ہوں … حضرت سیدہ ’’فاطمہ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر…

حضرت آقا مدنی ﷺ کی سب سے پیاری اور لاڈلی لخت جگر… خواتین جنت کی سردار … کائنات کی کامل ترین اور مقدس ترین ہستیوں میں سے ایک…حضرت سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی امی جان… ہم سب کی محترم اور مکرم امی جان…حضرت سیدہ ،قدسیہ، منورہ، طاہرہ، طیبہ … برکتوں کا خزینہ ’’فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا‘‘…

تفسیر عزیزی میں لکھا ہے:

’’میدان حشر میں سب کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی آنکھیں بند کر لو تاکہ آپ ﷺ کی بیٹی حضرت بی بی فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا پل صراط پر سے تشریف لے جائیں…‘‘

اے مسلمان بہنو! اندازہ لگاؤ کہ حیاء کتنی عظیم نعمت ہے…اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے ’’حیاء‘‘ کی نعمت مانگا کرو…حیاء کی نعمت ملی تو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسبت پانے کا پہلا دروازہ کھلے گا…آج کی مجلس کا موضوع حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت مبارکہ کا بیان نہیں ہے …ان کا تذکرہ بطور برکت اور ایک واقعہ کی تمہید کے لئے ہوا ہے…حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بڑے صاحب زادے ہیں…وہ ایک جنگ میں اپنے والد گرامی حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے… جنگ گھمسان کی تھی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہ تو زرہ پہنی اور نہ سر پر آہنی ٹوپی…آپ نے عام سا کرتہ پہنا ہوا تھا اور اس کے باوجود اپنے گھوڑے کو جنگ کی صفوں کے درمیان کوداتے تھے …بیٹے کے دل میں فطری محبت جاگی… بے قرار ہو کر عرض کیا:

اے والد محترم! یہ لڑائی کا لباس نہیں جو آپ نے پہن رکھا ہے…

مقصد یہ تھا کہ…جب آپ نے اتنا اندر گھس کر ہی لڑنا ہے تو زرہ ، بکتر زیب تن فرما لیجئے … آپ کی جان ہم سب کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے بے حد قیمتی ہے…

مگر حضرت سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

یا بنی لا یبالی ابوک، علی الموت سقط ام سقط علیہ الموت

اے پیارے بیٹے! تیرا باپ اس کی پرواہ نہیں رکھتا کہ وہ موت پر گرے یا موت اس پر گرے…( تفسیر عزیزی)

کل جب پاکستان میں ایک اور زوردار ’’زلزلہ‘‘ آیا تو مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان یاد آ گیا…واقعی موت نے تو آنا ہے… اور جو موت سے دوستی اور یاری کر لے اسے اس کی فکر نہیں رہتی کہ وہ موت پر گرے یا موت اس پر گرے … کوئی اپنی روحانی محبوبہ کو گلے لگائے یا اس کی محبوبہ اسے گلے لگائے… بات تو ایک ہی ہے… زلزلوں اور حادثات کے موقع پر مسئلہ یہ نہیں کہ … کون مر گیا اور کون بچ گیا…ایک مومن کے لئے اصل فکر والی بات یہ ہے کہ…اسے جیسے بھی موت آئے وہ اسلام اور ایمان کی حالت میں ہو… ایمان کی حالت میں بظاہر بھیانک اور خوفناک نظر آنے والی موت بھی بہت میٹھی ہے…مثلاً زلزلے سے مرنا …جلتے تیل کی دیگ میں جل کر مرنا…شدید بمباری سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مرنا… یہ سب کچھ دیکھنے میں خوفناک نظر آتا ہے…حالانکہ ایمان و شہادت کی صورت میں یہ سب ’’موتیں‘‘ شہد سے زیادہ میٹھی ہیں…لیکن اگر موت ایمان کی حالت میں نہ ہو تو بظاہر وہ جتنی پُرسکون ہو اسی قدر زیادہ کڑوی ہے…جیسے لندن میں کسی بڑے عالیشان ہسپتال کے قیمتی بیڈ پر… ڈاکٹروں اور نرسوں کے جھرمٹ اور جدید مشینوں کی نگرانی میں مرنا وغیرہ…

زلزلہ کیا ہے؟ یہ کیوں آتا ہے؟ اور اس کے آنے پر ہمیں کیا کرنا چاہیے… یہ سب باتیں قابل غور ہیں…ویسے زلزلے میں جو لوگ مر جاتے ہیں انہیں تو غور کا موقع ملتا ہی نہیں…البتہ جو بچ جاتے ہیں وہ لمبی لمبی بحثیں اور باتیں کرتے ہیں …ہو سکتا ہے کہ آج یا کل یا کبھی پھرزلزلہ آئے اور ہم بھی مرنے والوں میں شامل ہوں…اس لئے ضروری ہے کہ ایمان کو ہر وقت ساتھ رکھیں … آئندہ کل کے لئے کسی گناہ یا ظلم کا ارادہ نہ رکھیں…اپنے کمپیوٹر اور موبائل میں گناہ جمع کر کے نہ رکھیں… جو گناہ ہو گئے ان پر ندامت اور استغفار… اور آگے کے لئے گناہوں کی نیت، ارادہ،تیاری یا عزم نہ ہو… ضروری نہیں کہ زلزلہ ہی ہمیں لینے آئے… چھت بھی گر سکتی ہے… یورپ کا ایک بڑا سائنسدان اس طرح مرا کہ اس کے سر پر چیل نے کوئی چیز پھینک دی…وہ زمین پر چل رہا تھا اوپر چیل اپنے منہ میں کوئی شکار لے کر جا رہی تھی وہ اس سے گر گیا…اور سائنسدان صاحب کی کھوپڑی ٹوٹ گئی… اسلام نے اسی لئے ہمیں ہر موقع پر ایمان ساتھ رکھنے کے طریقے سکھائے ہیں…آپ بیت الخلاء جا رہے ہیں…ظاہر ہے وہاں حالت اچھی نہیں ہوتی اور کوئی مسلمان اس حالت میں مرنا پسند نہیں کرتا… مگر بیت الخلاء جاتے وقت دعاء پڑھی لی… اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیا…سر ڈھانپ لیا…سنت کے مطابق داخل ہوئے…اب کوئی فکر نہیں…وہاں موت آتی ہے تو آ جائے…ویسے یہ الگ بات ہے کہ … اچھی جگہ اور اچھی حالت میں موت کی دعاء مانگتے رہنا چاہیے…

ایک آدمی اپنی بیوی سے مل رہا ہے…ظاہر ہے کہ یہ ایسی حالت نہیں جس میں مرنا اچھا نظر آتا ہو… بے ستری بھی ہے اور ناپاکی بھی…مگر جس نے لباس ہٹانے سے پہلے ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھ لی… اس کے لئے فکر کی کوئی بات نہیں…وہ اس حالت میں مر گیا تو ایمان پر مرے گا… تفسیر عزیزی میں حضرت شاہ صاحب ؒ لکھتے ہیں:

’’ جو شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھ لے تو فرشتے اس کے لئے غسل کرنے کے وقت تک مسلسل نیکیاں لکھتے رہتے ہیں‘‘ ( تفسیر عزیزی)

خلاصہ یہ کہ زلزلے سے مرنا…اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضی کی علامت نہیں…ہاں! گناہ کی حالت میں ،گناہ کے عزم میں اور بے ایمانی میں مرنا یہ بڑے نقصان اور عذاب کی بات ہے… اللہ تعالیٰ ایسی بری موت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے…باقی رہے وہ لوگ جو زلزلے سے بچ جاتے ہیں…انہیں چاہیے کہ زلزلے کے بارے میں زیادہ باتیں اور تبصرے نہ کریں…بلکہ خود بھی استغفار کریں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی استغفار کی طرف بلائیں… اور زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی حتی الوسع دلجوئی اور مدد کریں… بس ان دو کاموں کے علاوہ باقی سب کچھ یا تو بے کار ہے یا وبال… کئی لوگ ایسے مواقع پرگناہوں کی فہرستیں لکھنے لگتے ہیں کہ…فلاں فلاں گناہوں کی وجہ سے زلزلہ آیا ہے…اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہوں کے وبال سے زلزے اور آفتیں آتی ہیں…مگر زلزلے کے موقع پر طعنہ زنی اور لفاظی کی نہیں…توبہ استغفار کی ضرورت ہوتی ہے… ویسے بھی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہمارے معاشرے میں ہر گناہ پوری قوت اور نحوست کے ساتھ مسلط ہے… ہمیں ہر وقت ان گناہوں کے خلاف محنت کرتے رہنا چاہیے…کچھ لوگ زلزلے کے وقت یہ انکشاف ضرروی سمجھتے ہیں کہ…یہ زلزلہ ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے آیا ہے…اس میں شک نہیں کہ حکمرانوں کے برے اعمال سے اجتماعی آفات نازل ہوتی ہیں…مگر ہمارے حکمران تو خود ہی ہر زلزلے سے منحوس زلزلہ اور ہر آفت سے بڑی آفت ہیں… یہ نام کے مسلمان …کافروں کے سامنے سر جھکا کر جاتے ہیں اور وہاں ان سے اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے کے وعدے کر آتے ہیں…ان کے کس کس جرم اور گناہ کا تذکرہ کیا جائے…مگر زلزلے کے وقت ان حکمرانوں کے برے اعمال کی جامع فہرستیں شائع کرنا…کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا…

ان ظالم حکمرانوں کا تو ایک ایک عمل ایسا خطرناک ہے کہ…اگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ پوری زمین کو الٹ دے تو یہ بھی اس کا حق ہے… مگر اللہ تعالیٰ حلم اور عفو والے ہیں کہ… ہر عمل پر فوری پکڑ نہیں فرماتے…زلزلے میں زمین اندر تک ہلتی ہے تاکہ…ہم بھی اپنے اندر تک جھانکیں اور اپنے اندر جلد اچھی تبدیلیاں لائیں… ممکن ہے ایک شخص زلزلے کے موقع پر سب کے گناہ اور سب کے عیب گنوا رہا ہو… حالانکہ خود اس کے گناہ اس زلزلے کا اصل سبب ہوں… زلزلہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے… اور اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ…وہ کتنے ہیں  اور کتنی طاقت رکھتے ہیں…

زلزلے کے اس لشکر کے ذریعے …اللہ تعالیٰ کئی سرکشوں کی اکڑی گردنیں توڑتا ہے…کئی مجرموں کو سزا میں دھنساتا ہے…کئی غافلوں کو عبرت کا مقام بناتا ہے…

اس زلزلے کے لشکر کے ذریعہ …اللہ تعالیٰ اپنے کئی بھٹکے ہوئے بندوں کو توبہ کا راستہ دکھاتا ہے… کئی مجرموں کو معافی مانگنے کے لئے ایک اور موقع دیتا ہے… اور اپنے کئی مخلص بندوں کو حادثاتی موت کے ذریعہ شہادت کا مقام عطاء فرماتا ہے…زلزلے کا الٰہی لشکر… ہم سب مسلمانوں کو توبہ کی طرف بلاتا ہے…موت اور استغفار کی یاد دلاتا ہے… اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ… زمین پھٹنے کے انتظار میں گھر نہ پڑے رہو…بلکہ اٹھو ، نکلو، زمین کو کفر سے پاک کرو… اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی کے لئے موت کے پیچھے دوڑو… تب تمہیں زندگی ملے گی…بڑی زندگی…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor