Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ھادیا وَّ نصیراً (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 517 - Saadi kay Qalam Say - Haadiya wa Naseera

ھادیا وَّ نصیراً

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 517)

اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے راستہ دکھلانے والا…اللہ تعالیٰ ’’نصیر‘‘ ہے مدد فرمانے والا…

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

آپ کسی ماہر سائنسدان اور انجینئر کو بٹھا دیں… اُس کے سامنے نقشہ، تصویریں اور ویڈیو رکھ دیں… اور پوچھیں کہ…اتنی فوج، اتنی سیکورٹی اور اتنی رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے کیا مجاہدین…آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوسکتے ہیں؟ وہ چیخ پڑے گا کہ بالکل نہیں، ہرگز نہیں…

مگر اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے مجاہدین کو راستے دکھاتا ہے…اُن کے لیے راستے بناتا ہے اور وہ ’’نصیر‘‘ ہے ان کی مدد فرماتا ہے…چنانچہ وہ چھ سات لاکھ آرمی کی موجودگی کے باوجود کشمیر میں داخل ہوجاتے ہیں…سری نگر تک بھی پہنچ جاتے ہیں…ابھی حال ہی میں ’’اہلِ کشمیر‘‘ نے عقیدت اور جذبات کے ساتھ دو شہداء کرام کے جنازے اٹھائے…ان پر آنسو اور پھول نچھاور کئے…اور انہیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا…ان میں سے ایک مجاہد… عباس پور کا عدیل شہید تھا…اور دوسرا کراچی کا عبدالرحیم برمی شہید…یہ دونوں نہ اُڑ کر کشمیر پہنچے اور نہ زمین پھاڑ کر…پہلے ایک طرف رکاوٹ تھی اب دونوں طرف پہرے ہیں…مگر قرآن مجید نے دو لفظوں میں کفر کی ہر طاقت کا توڑ سمجھا دیا…ھادی  اور نصیر … اللہ تعالیٰ ’’ھادی‘‘ ہے…اس لیے اہل حق اور اہل ہمت کے لیے دنیا کی کوئی طاقت راستے بند نہیں کرسکتی…اور اللہ تعالیٰ ’’نصیر‘‘ ہے…بہت بڑی نصرت فرمانے والا…جیل میں ایک بار خواب دیکھا تھا کہ ایک گاڑی میں چند طالبعلم جا رہے ہیں…اچانک غیر ملکی شکل کے دشمنوں نے انہیں گھیر لیا اور گاڑی پر شدید فائرنگ شروع کردی …وہ گاڑی کے چاروں طرف کھڑے تھے اور گاڑی پر موسلا دھار فائرنگ کررہے تھے…گمان بلکہ یقین ہوا کہ کوئی طالبعلم نہیں بچا ہوگا، بلکہ سب ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گئے ہوں گے…دشمن چلے گئے تو میں گاڑی کے پاس گیا…سارے طالبعلم صحیح سلامت تھے…خواب کی تعبیر پر ہر پہلو سے غور کیا…مگر کچھ مطلب سمجھ نہ آیا…علامات ساری سچے خواب کی تھیں اس لیے وہ دل ودماغ میں رہا…پھر رہائی ہوئی، افغانستان پر عالمی کفر کا حملہ ہوا…بے انتہا شدید بمباری ہوئی…مگر طالبان اس بمباری کی گرد سے مسکراتے ہوئے اُٹھے اور آہستہ آہستہ پورے افغانستان پر پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ چھا گئے تو خواب کی تعبیر سمجھ آگئی…

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

آپ کو معلوم ہے کہ…یہ آیت مبارکہ کس موقع پر نازل ہوئی؟…مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ نے حضور اقدسﷺکی ہر طرح سے ناکہ بندی کر دی… آپﷺ قرآن مجید سناتے تو مشرکین شور مچاتے، تالیاں پیٹتے، مذاق اُڑاتے…اور نعوذباللہ ہر طرف یہی کہتے کہ یہ بے ہودہ بکواس نہ سنو… پھر وہ اس سے بڑھ کر تشدد پر بھی اُتر آئے…

آپﷺجب قرآن مجید کی دعوت دیتے تو وہ پتھر مارتے…گریبان پکڑتے، گالیاں بکتے …آپ کے رفقاء پر شدید تشدد کرتے…ایک بار تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اتنا مارا کہ… آپ بے ہوش ہوگئے اور آپ کا چہرہ اس قدر سوج گیا کہ قریبی لوگ بھی آپ کو نہیں پہچان سکتے تھے …مشرکین کی ٹولیاں ہر وقت حضور اقدسﷺکے چاروں طرف موجود رہتیں جو مسلمان آپﷺکے پاس آنا چاہتا اس کو پکڑلیتے…اور جو شخص آپﷺکی دعوت سننے کے لیے آتا اس کو روک دیتے…مشرکین کی یہ ناکہ بندی بہت سخت تھی …پرویز مشرف کی مجاہدین کے خلاف ناکہ بندی سے زیادہ سخت…نواز شریف اور شہباز شریف کی ناکہ بندی سے بھی بہت زیادہ سخت…

اس ناکہ بندی کے دوران کئی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا…تقریباً سارے مسلمان تشدد کا نشانہ بنے…کئی مسلمان گرفتار کرلئے گئے… تمام مسلمانوں کا معاشی اور سماجی مقاطعہ یعنی بائیکاٹ کیا گیا…اس موقع پر زمین نے وہ خوفناک، دردناک اور ہیبت ناک منظر بھی دیکھا جب… ابوجہل ملعون نے ننھی معصومہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کو تھپڑ مارا…مکہ مکرمہ کے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا …مسلمانوں کو ذلیل بناکر معاشرے سے الگ تھلگ پھینک دیا گیا…ان مسلمانوں پر ایسے حالات آئے جو کسی بھی پہاڑ کا حوصلہ توڑنے کے لیے کافی تھے…ایسے وقت میں عرش سے ایک آیت مبارکہ مسکراتی ہوئی تشریف لائی:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوَّامِّنَ الْمُجْرِمِینَ

اے نبی!…ﷺ… یہ کوئی نئی بات نہیں ہے…جو نبی بھی تشریف لاتے ہیں تو مجرم لوگ اُن کے ساتھ اس طرح دشمنی کرتے ہیں…سبحان اللہ! عجیب بات سمجھائی کہ دشمن نہ ہوں تو زندگی کا کیا مزا؟…دشمن نہ ہوں تو دعوت کا کیا مزا؟…مجرم نہ ہوں تو رھبر کی کیا ضرورت؟ مخالف نہ ہوں تو ترقی کیسے ملے؟… اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو قوت کیسے بنے؟…اگر سختیاں نہ ہوں تو عزیمت کہاں پلے؟ …اے نبی! دشمن تو آپ کے ضرور ہوں گے… ہر مجرم، ہر ظالم، ہر مشرک، ہر کافر، ہر منافق… آپ کا دشمن ہوگا… یااللہ! جب اتنے دشمن ہوں گے تو کام کیسے چلے گا؟ وہ تو تمام راستے بند کردیں گے تو قافلہ کیسے آگے بڑھے گا؟ ارشاد فرمایا!

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

اے نبی! آپ کے لیے آپ کا رب کافی ہوگا اور وہ ’’ھادی‘‘ ہے، راستے دکھانے، راستے بنانے اور راستے پر چلانے والا…اور ’’نصیر‘‘ ہے، بہت شاندار نصرت فرمانے والا…

یہ آیت اس وقت اُتری جب نہ راستے نظر آرہے تھے…اور نہ مدد کا دور دور تک نشان تھا … مدد سے مُراد وہ نصرت جو دشمنوں پر غالب کردے …خدشہ تھا کہ جو چالیس پچاس افراد مسلمان ہوئے ہیں، یہ بھی کہیں اتنے خوفناک تشدد کے سامنے…جان یا حوصلہ نہ ہار دیں…مگر پھر راستے عجیب طرح کھلتے گئے…مدینہ والوں کو آپﷺتک پہنچنے کا راستہ ملا…مکہ کے مسلمانوں کو حبشہ کا راستہ ملا…پھر مدینہ کا راستہ کھلا …اور پھر ہر طرف ’’ھادی‘‘ رب کی طرف سے راستے ہی راستے… اور ساتھ ساتھ نصرت…اور نصرت بھی ایسی کہ کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے مظلوم …بدر کے فاتح تھے… اور ظالم اور مجرم ایک کنویں میںبغیر کسی پروٹوکول کے ایک دوسرے پر اوندھے پڑے تھے…

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

آپ نے کبھی غور کیا کہ… تاجکستان کے کئی مسلمان کس طرح سے شام اور عراق تک پہنچ گئے؟ … درمیان میں کتنے ملک پڑتے ہیں… ہر ملک کی سرحد پر سخت پہرے ہیں… چلیں مان لیا کہ وہ تاجکستان سے افغانستان … افغانستان سے ایران… اور ایران سے عراق میں پہنچ گئے… یہ بھی آسان نہیں مگر جو بوسنیا میں تھے… وہ کیسے شام جا پہنچے… درمیان میں پورا یورپ پڑتا ہے … خلا میں سیارچوں کا اور زمین پر کمپیوٹروں کا زمانہ ہے… وہ دوردراز آسڑیلیا اور برفوں میں دبے سائبیریا کے لوگ کس طرح ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے ہر محاذ تک پہنچے؟… بے شک اللہ تعالیٰ ہادی ہے ہادی… عالم کفر سرحدیں بنا کر… باڑیں لگا کر، ظالمانہ قوانین اور حدبندیاں بنا کر مطمئن ہو گیا تھا کہ… جناب رسول اللہﷺ کی امت اب الگ الگ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے… اب ان میں سے کوئی دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا … اب ان کو ایک ایک کر کے ختم کرتے جاؤ… مگر ’’رب ہادی‘‘ اور ’’رب نصیر‘‘ نے ان کے تمام اندازے غلط ثابت فرمادئیے… اور ان کی تمام تدبیروں کو توڑدیا… سب سے پہلے مجاہدین کا عالمی اجتماع…افغانستان میں ہوا…پھر کچھ عرصہ تاجکستان نے بہت خوبصورت مناظر دیکھے…اور پھر بوسنیا پر جہادی ابابیلوں کی یلغار ہوئی… اس کے بعد چیچنیا نے ہجرت، نصرت، اور جہاد کے روحانی نقشے دیکھے… اور اب انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کی سرزمین عراق و شام میں… دنیا بھر کے مجاہدین کا اجتماع جاری ہے… خود مقبوضہ کشمیر کے مقبرہ شہداء میں کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے مجاہدین آسودئہ خاک ہیں…یہ دوردراز علاقوں کے مجاہدین کس طرح سے سرحدیں روند کر… کیمروں ،سیاروں اور خفیہ ایجنسیوں کو دھول چٹا کر … اپنے اپنے محاذوں تک پہنچ جاتے ہیں؟… جواب بس ایک ہی ہے

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

ہمارے ملک میں اس وقت دینی اور جہادی طبقے پر جو مشکل حالات آئے ہوئے ہیں… انہیں اسی مبارک آیت کے دونوں حصوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے… پہلاحصہ یہ کہ … اگر آپ اپنے نبی ﷺ کے طریقے پر ہیں تو… زمانے کے مجرم ضرور آپ کے دشمن ہوں گے… اس لئے جو حق کے راستے پر رہناچاہتا ہے… وہ ان مجرموں کی دشمنی جھیلنے کے لئے تیار رہے… یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ قرآن مجید کو پوراکا پورا بیان کریں اور مجرم آپ کے دشمن نہ بنیں… ابھی چند دن پہلے ایک قومی اخبار کے کالم نویس نے نہایت غم اور حیرت کے ساتھ لکھا کہ… ملتان کے ایک کالج میں جہادی حلیے والے چند افراد بلاروک ٹوک داخل ہوئے … انہوں نے وہاں کالج کے چند طلبہ کو جمع کیا… اور انہیں قرآن مجید کی آیات جہاد سنائیں…یہ کالم نویس حکومت سے شکوہ کرتا ہے کہ… جب ہمارے کالج بھی ایسے لوگوں سے محفوظ نہیں تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا؟…یعنی کالج ان کے باپ انگریز کی جاگیر ہیں اور وہاں قرآن مجید کی آیات جہاد سنا نا جرم ہے… بندہ نے اس اخباری کالم کے بارے میں چند باتیں وضاحت کے ساتھ ماہنامہ المرابطون میں لکھ دی ہیں… جو چاہے وہاں ملاحظہ فرما لے…یہاں صرف یہ عرض کرنا مقصودہے کہ… جب آپ قرآن مجید کے تمام احکام بیان کریں گے تو… زمانے کے ’’مجرمین‘‘ ضرور آپ کے دشمن بنیں گے… چنانچہ آپ کو اس صورتحال کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے … یہ دشمن آپ کے راستے بند کرنا… اور آپ کو اور آپ کے کام کو ختم کرنا چاہیں گے تب…

وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ھَادِیَا وَّنَصِیْراً

اللہ تعالیٰ موجود ہے… اور وہ ’’ہادی‘‘ بھی ہے… اور نصیر بھی…

اَللّٰھُمَّ یَاہَادِیُٔ اِھْدِنَا

اَللّٰھُمَّ یَانَصِیْرُاُ نْصُرْنَا

لاالہ الااللّٰہ، لاالہ الاا للّٰہ، لا الہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor