Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بلند مگر آسان (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 518 - Saadi kay Qalam Say - Bulanad Magar Asaan

بلند مگر آسان

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 518)

اللہ تعالیٰ ’’مغفرت کاملہ ‘‘ اور ’’درجات عالیہ‘‘ نصیب فرمائے… ہمارے زمانے کے ایک بڑے آدمی چلے گئے…

حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر سید شیر علی شاہ صاحب المدنی…

انا للّٰہ واناالیہ راجعون

وہ خاندان سادات سے تھے…یعنی ’’سید بادشاہ‘‘ تھے…اور اب تو ’’سید العلماء‘‘ بھی تھے … دور دور تک ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا… اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھیں کہ…اکوڑہ خٹک کے اس فقیر مزاج ’’سید بادشاہ‘‘ کو وفات کے لئے ’’سید الایام‘‘ یعنی جمعہ کا دن عطاء فرما دیا… جگر مرحوم نے بڑی عجیب بات کہی ہے:

یہ حسن ہے کیا، یہ عشق ہے کیا، کس کو ہے خبر؟ اس کی لیکن

بے جام ظہور بادہ نہیں،بے بادہ فروغ جام نہیں

یہ شعر بہت گہرا ہے…تفصیل مانگتا ہے اور تشریح بھی…بس ایک اشارہ کرتا ہوں… حسن ہو مگر اسے عشق اور عاشق نہ ملے تو ایسا حسن گھٹ مرتا ہے…مرجھا جاتا ہے… اور اگر عشق ہو مگر اسے حسن نہ ملے تو وہ جل مرتا ہے…اور ناکامی سے بکھر جاتا ہے… کتنے افراد ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس علم بہت ہوتا ہے مگر ان کے علم سے کام نہیں لیا جاتا…کئی با صلاحیت افراد…ساری زندگی اس میدان کوترستے ہیں…جہاںان کی صلاحیتو ں کا سورج چمکے…

یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے کہ…کسی کو ’’قدر ‘‘ بھی عطاء فرمائے اور ساتھ قدر دان بھی… قیمتی بھی بنائے اور ساتھ خریدار بھی عطاء فرمائے …حسن بھی بخشے اور حسن کے قدر دان بھی…

حضرت شاہ صاحبؒ …کی کامیاب اور محنت بھری زندگی پر غور کرنے کی ضرورت ہے…تاکہ بہت کچھ سیکھاجاسکے…یہ کامیاب اور محنتی حضرات بڑے کام کے ہوتے ہیں…زندگی میں بھی آپ کو بہت کچھ سکھاتے ہیں… اور مرنے کے بعد بھی بہت مفید اسباق سکھاتے رہتے ہیں… ایک صحافی نے حضرت شاہ صاحبؒ کا اکوڑہ خٹک میں جنازہ دیکھا تو بے اختیار بول اٹھا کہ…میڈیا کی طاقت کا شور مچانے والے جھوٹے ہیں…ہاں واقعی کسی اخبار میں اس جنازے کا اعلان نہیں چھپا …کسی ٹی وی چینل پر جنازے کے وقت اور مقام کی تشہیر نہیں ہوئی… اور تو اور حضرت کی وفات کی خبر میڈیا پر جنازے سے پہلے نہیں آئی… تو پھر یہ لاکھوں افراد کیسے آ گئے؟… انسانوں کا یہ سیل رواں کہاں سے امڈ آیا؟…

آج کل تو جو عالم میڈیا پر نہ آئے لوگ اسے عالم نہیں سمجھتے… جو مجاہد میڈیا پر نہ آئے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ یا تو مر گیا ہے…یا اس کا کام ختم ہو چکا ہے… میڈیا پر آنے کی دوڑ میں لوگ معلوم نہیں کیا کیا کرتے ہیں؟…بہت کچھ غیر شرعی اور بہت کچھ باعث ندامت… مگر حضرت ڈاکٹر صاحبؒ میڈیا سے دور ہو کر بھی لوگوں کے دلوں کے قریب تھے… انہوں نے جاتے جاتے یہ سبق مجاہدین کو بھی دیا اور علماء کو بھی کہ…میڈیا کے سحر سے نکلو… کام کرو کام… محنت کرو محنت… شہرت اور تشہیر کسی مومن کے کام نہیں آتی… نہ دنیا میں نہ آخرت میں…اخلاص کام آتا ہے اور محنت کام آتی ہے… اللہ تعالیٰ کا حضرت شاہ صاحبؒ پر بڑا فضل رہا…اور اس فضل کا سلسلہ موت کے دن پر بھی نظر آیا… ’’جمعہ ‘‘ کو وفات پانا…ایک مومن کے لئے ’’حسن خاتمہ‘‘ کی ایک علامت ہے … ترمذی کی روایت ہے، ارشاد فرمایا:

ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ او لیلۃ الجمعۃ الا وقاہ اللّٰہ فتنۃ القبر

جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات وفات پاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ قبر کے فتنے سے بچا لیتے ہیں… ( ترمذی)

 جمعۃ المبارک کے دن یا رات کی وفات پر اور بھی کئی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ:

(۱) جمعہ کے دن کی موت عذاب قبر سے بھی حفاظت ہے اور سوال قبر سے بھی

(۲) جمعہ کے دن مرنے کا فائدہ ایک مسلمان کو قیامت کے دن بھی ہو گا

(۳) جمعہ کے دن مرنے والے مسلمان قیامت کے دن ایک خاص علامت کے ساتھ آئیں گے

حکیم ترمذی ؒ فرماتے ہیں کہ… جو مسلمان جمعہ کے دن مرتا ہے تو اس سے وہ پردے ہٹا لیے جاتے ہیں جو اس کے اور اُن نعمتوں کے درمیان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار فرمائی ہیں … کیونکہ جمعہ کے دن جہنم کی آگ نہیں بھڑکائی جاتی… اس لئے آگ کی طاقت جمعہ کے دن وہ کام نہیں کر سکتی جو باقی دنوں میں کرتی ہے… اللہ تعالیٰ جب کسی مومن کی روح جمعہ کے دن قبض فرماتے ہیں تو یہ اس مومن کے لئے سعادت اور اچھے انجام کی علامت ہے…

یہ تمام احادیث اگرچہ سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں…مگر اہل تحقیق اور اہل علم نے انہیں قابل اعتبار اور قابل اعتماد قرار دیا ہے…جمعہ کے دن کی موت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں… مگر یہ کونسا ضروری ہے کہ… سعادت وہی ہوتی ہے جو اپنے اختیار سے حاصل کی جائے … اللہ تعالیٰ ’’شکور‘‘ ہے’’ قدر‘‘ فرمانے والا… وہ جب اپنے کسی بندے یا اس کے اعمال کی قدر فرماتا ہے تو …پھر اس کی جھولی ہر طرح کی سعادتوں سے بھر دیتا ہے… اختیاری بھی اور غیر اختیاری بھی…

حضرت ڈاکٹر شاہ صاحبؒ باوجود اس کے کہ ایک…محقق،مفسر، محدث، اور مصنف تھے اور آپ کا اصلی میدان تعلیم اور تدریس تھا…آپ جہاد اور شہادت کے عاشق زار تھے… چنانچہ ’’رب شکور جلّ شانہ‘‘ نے آپ کو اپنی ملاقات کے لئے ’’جمعہ‘‘ کا مبارک دن عطا فرمایا جو کہ خود ایک طرح کی’’ مقبول شہادت‘‘ ہے… حضرت شاہ صاحبؒ نے دو تفسیریں تحریر فرمائیں…دونوں عربی میں ہیں … ایک بار ’’سورۃ الکہف‘‘ پر ان کی تفسیر پڑھتے ہوئے ایسا وجد اور مزا آیا کہ…اس تفسیر کے اردو ترجمہ کا خیال آنے لگا… اللہ کرے مجھے توفیق مل جائے یا کسی کو بھی… زیادہ مشکل کام نہیں ہے … مگر علم،تذکیر اور تحقیق سے لبریز ہے…دوسری تفسیر حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کے تفسیری اقوال کی جامع ہے…یہ آدھی حضرت شاہ صاحبؒ نے جمع فرمائی ہے اور آدھی ان کے ایک عرب رفیق نے… حضرت حسن بصری کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھتے ہیں… اگرچہ وہ تابعی ہیں مگر پلے بڑھے حضرات صحابہ کرام کے ساتھ ہیں… اور علمی روحانی مقام بھی ان کا بہت اونچا ہے… وہ جہاد فی سبیل اللہ کے شیدائی تھے… حضرت ڈاکٹر شاہ صاحبؒ کی زندگی کے کئی قیمتی سال حضرت امام حسن بصریؒ کے احوال و اقوال کی معطر مجالس میں گذرے… اس صحبت کا اثر تھا کہ …جہاد فی سبیل اللہ کی محبت آپ کے رگ و پئے میں اتری ہوئی تھی… وہ ہمارے زمانے میں جہاد فی سبیل اللہ کی حقانیت اور دعوت کی بہت ثقہ دلیل تھے…انہیں جہاد اور مجاہد کے لفظ سے ہی اتنا پیار تھا کہ ہر مجاہد کی معاونت اور تائید کے لئے ہمیشہ تیار ہو جاتے… انہوں نے بڑے عظیم المرتبت مشائخ کی صحبت پائی تھی… قرآن مجید کی تفسیر حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ سے پڑھی… حضرت لاہوریؒ کے نزدیک قرآن مجید کا موضوع ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ تھا… وہ آیات جہاد کی بہت والہانہ تفسیر فرماتے اور اپنے طلباء کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی پاکیزہ محبت کا بیج بو دیتے تھے… حضرت لاہوریؒ کے ہاں تعلیم کے دوران حضرت شاہ صاحبؒ کی ملاقات حضرت اقدس مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ سے بھی ہوئی … ان کی صحبت، ان کے بعض اشعار اور ان کے جوتے اٹھانے کا واقعہ بہت مزے لے کر سنایا کرتے تھے…

حضرت ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نمایاں خوبیوں اور صفات سے نوازہ تھا … بندہ نے الحمد للہ ان کی خدمت میں کافی وقت گزارہ ہے…بہت لمبے اور طویل سفر ان کی باشفقت رفاقت میں نصیب ہوئے… ان کی سرپرستی میں جہاد کی محنت اور دعوت کی بھی بارہا توفیق ملی… ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا اور ان کی مہمانی کا بھی… اس لئے ان کی صفات اور خوبیوں پر مکمل تفصیل اور شرح صدر سے لکھ سکتا ہوں… مگر صرف ایک بات پر اکتفا کرتا ہوں … جو ہمارے لئے سبق آموز بھی ہے اور مفید بھی… وہ یہ کہ حضرت ڈاکٹر صاحب اتنے بلند مقام ہونے کے باوجود بہت ’’آسان ‘‘بزرگ تھے… اور دوسری بات یہ کہ …وہ سستی یعنی ’’کسل‘‘ سے بہت دور تھے…

آسان ہونا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور اس کا بڑا فضل ہے… ان کے ساتھ سفر بھی آسان تھا اور حضر بھی…ان کے ساتھ بولنا بھی آسان تھا اور بیٹھنا بھی… کسی کا قول ہے…ہر انسان ’’نوکدار ‘‘ ہوتا ہے کوشش کر کے خود کو دوسروں کے لئے آسان بناتے رہو اور اپنی ’’نوکیں‘‘ گول کرتے رہو…

 ایک بار تو بہت سخت محنت تھی،تقریباً دس دن تک … بندہ ان کا ہم سفر بھی تھا اور ڈرائیور بھی…نہ کھانے پینے کا کوئی باقاعدہ نظم اور نہ نیند کے لئے پورا وقت…مگر ان کی صحبت نے ہر معاملہ میں آسانی پیدا کی… وہ جب جاگتے جاگتے تھک جاتے تو نیچے سر جھکا کر آنکھوں میں سرمہ لگاتے…اس سرمے کے ساتھ ان کی آنکھوں سے چند بوندیں ٹپکتیں اور وہ اگلے کئی گھنٹوں کے لئے تروتازہ ہو جاتے…

الحمد للہ دس دن کی محنت کامیاب رہی…اور کراچی میں حضرت مولانا جلال الدین حقانی کا مفصل دورہ ہوا… اور جہاد کی دعوت اونچی فصیلوں تک جا پہنچی… اور رکاوٹوں کے کئی قلعے فتح ہو گئے… ’’محبت‘‘ بہت لذیذ چیز ہے مگر اس کی لذت تب دو آتشہ ہو جاتی ہے جب کسی مرحلے پر اس میں ’’تلخی‘‘ ’’ستم‘‘ اور کچھ ’’ناراضی‘‘ آ جائے… وہ ’’تلخی‘‘ جب دور ہو تی ہے تو …محبت ہمیشہ کے لئے پائیدار ہو جاتی ہے…

زندگی میں کبھی اس بات کا ’’وہم ‘‘ اور ’’وسوسہ ‘‘ بھی نہ گذرا تھا کہ…حضرت ڈاکٹر صاحبؒ سے کبھی ’’دوری‘‘ ہو گی…مگر محبت کو پائیدار ہونا منظور تھا…کراچی میں بندہ پر مظالم کا ایک سلسلہ شروع ہوا…بہت تکلیف دہ، مکروہ اور سخت مظالم…ان سب کو الحمد للہ سہہ لیا مگر… ایک ظلم بڑا بھیانک ہوا…وہ یہ کہ غلط فہمیوں کا ایک جال بچھا کر …حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اور ہمارے درمیان کچھ…دوری اور تلخی کا بندوبست کر لیا گیا… ہاں! وہ دن اور راتیں بہت اذیت ناک تھے… یہ اذیت نہ تو اس بدنامی کے خوف سے تھی… جس کو بہت محنت سے پھیلایا جا رہا تھا…اور نہ ہی اپنی حمایت اور جماعت کے کم اور کمزور ہونے کا خوف تھا… یہ خوف تب ہوتا جب لوگوں کو اپنی ذات کی طرف دعوت دی ہوتی… یا اپنی ذات کے لئے کوئی دعوٰی گھڑا جاتا… الحمد للہ… محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے …ہمیشہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا ہے… ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دی ہے… اور ہمیشہ دین کی طرف آنے کی آواز لگائی ہے… پریشانی اور رنج کی بات یہ تھی کہ… حضرت ڈاکٹر صاحبؒ تک اصل صورتحال نہ پہنچ سکی اور وہ خفا ہوئے… یہ میرے لئے بڑا صدمہ تھا بلکہ کراچی کے اس پورے سانحے کا واحد صدمہ اور واحد نقصان تھا… باقی جو کچھ ہو رہا تھا وہ سب برداشت تھا…اور جو لوگ الگ ہو رہے تھے ان کی علیحدگی میں ہمارے لئے دکھ، نقصان یا افسوس کی کوئی بات نہیں تھی… اس سانحہ کے کچھ عرصے بعد بندہ نے حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی خدمت میں ایک خط بھیجا… معافی نامہ، محبت نامہ اور وضاحت نامہ…

اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیں …اور حضرت شاہ صاحبؒ کی وسعت ظرفی دیکھیں کہ… عین اسی دن اس خط کا ایسا جواب آیا کہ…دل کے زخم دور ہو گئے اور محبت کی مٹھاس کو اس وقتی تلخی نے دو آتشہ بنا دیا… اس وقت بندہ نے حضرت کے اس خط کو نہ ہی شائع کیا اور نہ عام کیا…کیونکہ مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا نہیں…ایک ولی بزرگ کی ناراضی دور کرنا تھا…جو الحمد للہ دور ہو گئی…

پھر الحمد للہ باہمی محبت و سلام و پیام کا غائبانہ سلسلہ چلتا رہا…ایک بار انہوں نے فرطِ محبت میں ایک پرچی پر فارسی شعر بھی لکھ بھیجا…تلاش بسیار کے باوجود وہ معطر پرچی نہ مل سکی…مگر ان کا والا نامہ مل گیا ہے… آج کی مجلس کا اختتام حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے اسی نوازش نامے پر کرتے ہیں…

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بگرامی خدمت، مخدومی المکرم، صاحب المجد والہمم، بارک اللہ فی حیاتکم الغالیہ، وتقبل جہدکم الطیبۃ فی سبیل الاسلام والمجاہدین

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مکتوب گرامی باعث صد مسرت و ابتہاج ہوا۔ ذرہ نوازی کا تہہ دل سے سپاس گذار ہوں۔ مجھے خود ان ناگفتہ حالات کی وجہ سے حد درجہ قلق و اضطراب لاحق ہے۔ الحمد للہ آں محترم کے والانامہ سے تمام رنج و غم دور ہوا، زندگی کاپتہ نہیں،میری صحت بہت کمزور ہے، کمر میں شدید درد کی وجہ سے آپریشن کیا۔ اب تک درد باقی ہے، نماز کرسی پر پڑھتا ہوں، نیچے بیٹھنے سے قاصر ہوں۔

حاملین مکتوب سامی کے ذریعے آپ کی صحت و سلامتی کا علم ہوا۔ للہ الحمد ولہ المنۃ کہ آنجناب بخیر و عافیت ہیں اور آپ کے والدین کرام دامت برکاتہم اور اخوان کرام سلمہم اللہ تعالیٰ بخیر و عافیت ہیں۔ القلم کا موقر جریدہ موصول ہو رہا ہے، آں محترم سے بھی یہی استدعا ہے کہ صمیم قلب سے عفو و درگزر فرما کر اپنے مستجاب دعاؤں میں یاد فرمائی سے نوازا کریں۔ آپ کے والدین کرام ، اہل بیت اور اخوان وخلان کی خدمت میں طلب عفو و درگزر کا مضمون واحد ہے۔

زادکم اللّٰہ مجدا و شرفا ورزقکم سعادۃ الدارین وحفظکم من الآفات والعاھات

وایدکم بنصر من عندہ ویکلؤکم بعین حمایتہ

ولکم منی جزیل الشکر وفائق الاحترام

شیر علی شاہ

۲۲/۵/۱۴۲۷ھ

اللہ تعالیٰ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کو اپنے اکرام، ضیافت، مغفرت کاملہ اور علیین کا مقام عطاء فرمائے … آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor