Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اللہ تعالیٰ کی شان (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 519 - Saadi kay Qalam Say - Allah Tala Ki Shaan

اللہ تعالیٰ کی شان

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 519)

اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے… کسی کو  عزت دیتا ہے، کسی کو ذلت… کسی کو صحت دیتا ہے کسی کو بیماری…اس کی ہر دن نئی شان ظاہر ہوتی ہے…مالداروں کو بیٹھے بیٹھے فقیر بنا دیتا ہے… اور فقیروں کو بادشاہ…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ ( الرحمن ۲۹)

ہر روز وہ کام میں مصروف رہتا ہے…ہر دن وہ نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے…

سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم

ہماری آج کی مجلس بس اسی آیت مبارکہ کے اردگرد ہے… یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ آج ہمیں اپنے عظیم کلام کی ایک آیت مبارکہ کو سمجھنے، سمجھانے پر بٹھا دیا ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ایک منظر دیکھیں

افغانستان کی بستیوں پر فرانس کے میراج طیارے بھاری بم برسا رہے ہیں… آگ، بارود اور زہریلی گیس کے بم… گویا کہ اس ملک میں انسان نہیں بستے…وہ دیکھو! عراق کی آبادیوں اور  مساجد پر فرانس کی ائیر فورس شدید بمباری کر رہی ہے… عمارتیں ریزوں میں اور جسم لوتھڑوں میں اڑ رہے ہیں…عراق والوں نے فرانس کا کیا بگاڑا تھا؟…

اور وہ ملک شام، آہ وہ برکت والی سر زمین … اس پر فرانسیسی فضائیہ کے بمبار طیارے کلسٹر اور ڈیزی کٹر بموں سے حملے کر رہے ہیں…ہنستے مسکراتے جنگی پائلٹ…شراب کے آخری گھونٹ بھرتے، آپس میں گپیں ہانکتے خنزیر کے گوشت کے برگر منہ میں ٹھونستے… سگریٹ کے بدبودار بھبھکے اڑاتے… گناہوں سے لتھڑے ناپاک سفید بدن …برائلر مرغی کے چھلے ہوئے جسم جیسے چہرے … آنکھوں میں رعونت…جہازوں میں اڑتے، بم برساتے، قہقہے اڑاتے…مسلمانوں کے جسموں کا قیمہ جلاتے… ہر دن بمباری ، خوفناک بمباری … خود امن میں مگر دوسروں میں خوف بانٹتے… مگر پرسوں سب کچھ الٹ دیا…اس نے جو حالات کو الٹنے کی طاقت رکھتا ہے… پیرس خوف سے لرز رہا تھا… ہر شخص بدکے ہوئے گدھے کی طرح دوڑ رہا تھا… حکمرانوں کے سانس پھولے ہوئے تھے… سیکیورٹی والوں کی آنکھیں ابل رہی تھیں…بس خوف تھا اور دہشت… دھماکے تھے اور چیخیں… افراتفری تھی اور بھگدڑ… خون تھا اور لاشیں… خوف بانٹنے والوں پر خوف پلٹ آیا… موت تقسیم کرنے والوں پر موت ٹوٹ پڑی… حملہ رکا تو گھنٹوں بعد حواس بیدار ہوئے… اب رونا ہے اور ماتم… صدمہ ہے اور شکوے… فیس بک پر جھنڈے ہیں اور منافقوں کے تعزیتی انڈے … آخر کیوں؟…

جن پر تم سالہا سال سے بم برسا رہے ہو … کیا وہ انسان نہیں؟… وہ جن ماؤں کے بچے تم بے قصور مار رہے ہو…کیا ان ماؤں کے سینے میں دل نہیں؟… وہ ہنستی کھیلتی بستیاں جو تم نے جلا ڈالیں …وہ کیا پیرس سے کم تھیں؟… اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ تمہیں مہلت دی، چھوٹ دی…

 مظلوم انتظار میں تھے کہ… اللہ تعالیٰ کا دوسرا فیصلہ کب آتا ہے…وہ آ گیا اور تم لرز اٹھے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

حضرت عثمانی ؒ لکھتے ہیں:

ہر وقت اس کا الگ کام اور ہر روز اس کی نئی شان ہے، کسی کو مارنا، کسی کوجِلانا ( یعنی زندہ کرنا) …کسی کو بیمار کرنا، کسی کو تندرست کر دینا، کسی کو بڑھانا، کسی کو گھٹانا… ( تفسیر عثمانی)

تفسیر حقانی میں ہے:

عبد اللہ بن منیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ہم نے پوچھا۔ حضرت! شان سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ گناہ بخشتا ہے اور غم دور کرتا ہے اور کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے…یعنی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اور آئندہ ہو گا اور جو کچھ قیامت میں ہو گا وہ سب اس کی ایک ایک شان کا جلوہ ہے… وہ بے کار نہیں کہ دنیا کو پیدا کر کے آپ بے کار بن بیٹھا جیسا کہ بعض غلط مذاہب خصوصاً فرنگی فلسفیوں کا خیال ہے۔ ( مفہوم حقانی)

پس اے ظالمو! اکڑنے کی ضرورت نہیں… اے مظلومو! مایوس ہونے کا مقام نہیں… معلوم نہیں کس وقت مالک کی کونسی شان ظاہر ہو…وہ دیکھو! کل کا فرعون بش آج ذلیل ہے…کل کا نمرود ’’ٹونی‘‘ آج رسوا ہے… کل کا سرکش ’’پرویز مشرف‘‘ آج بے بس ہے…کیونکہ :

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہر دن اللہ تعالیٰ کا نیا کام ہے…نئی شان ہے…

کمینہ دشمن

آپ نے کبھی فرانس کی تاریخ دیکھی؟… آج ہمارے روشن خیال دانشور اسے ایک مظلوم بھیڑ بکری بنا کر پیش کر رہے ہیں …مسلمان فاتحین کو سلام… انہوں نے اسلامی حکومت کو ۱۰۲؁ہجری ہی میں فرانس تک پہنچا دیا تھا…صلیبی جنگوں میں …دو سو سال تک فرانسیسی فوجیں مسلمانوں کے خلاف سب سے آگے لڑتی رہیں…وہ کونسا ظلم ہے جو اہل فرانس نے مسلمانوں پر نہیں ڈھایا… مگر وہ ’’اسلام کے بیٹوں‘‘ کے سامنے بے بس تھے… پھر مسلمانوں نے جہاد چھوڑا… خلافت کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹا تو صلیبی قومیں پاگل کتوں کی طرح ان پر پل پڑیں… اور ہر ایک نے اپنے حصے بانٹ لئے… فرانس کے صلیبیوں نے براعظم افریقہ کا رخ کیا…مالی سے الجزائر تک مسلمانوں کے ممالک اپنے قبضے میں لے لئے… خلافت عثمانیہ کے خلاف فرانس سب سے آگے لڑا … عرب اسرائیل جنگ میں فرانس نے عرب مسلمانوں کی دھجیاں بکھیریں… اور پھر عہد حاضر میں تو اس کمینہ خصلت قوم کے مظالم مسلمانوں پر بے شمار ہیں…اور افسوس یہ کہ بے جواز ہیں… اس دور میں نہ فرانس پر مسلمانوں کا کوئی حملہ ہوا اور نہ فرانس کے کسی بدکار کتے کا کوئی دانت مسلمانوں نے توڑا… مگر ہر جنگ میں وہ سب سے بڑھ کر مسلمانوں پر بم برساتا رہا…اللہ تعالیٰ کے ہاں مہلت کا ایک وقت ہے… اور ظلم ضرور ظالم پر لوٹتا ہے… کوئی ہمیں بنیاد پرست کہے یا شدت پسند … مگر ہمیں افغانستان کی مٹی کے گھر پیرس کے شیشے والے محلات سے زیادہ عزیز ہیں…وہ جو پیرس کو خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہیں…اور وہاں جا کر اپنی راتیں رنگیں اور قبر تاریک کرتے ہیں…وہ کبھی افغانستان ،عراق اور شام جا کر بھی دو آنسو بہا آتے … ان مظلوم شہداء پر جن کو فرانسیسی طیارے نے ٹکڑوں میں بکھیر دیا…پھر رسول اکرم ﷺ کی گستاخی کا بدبودار طوفان اٹھا تو… فرانس اس میں سب سے آگے تھا…مسلمان خواتین پر حجاب کی پابندی کا فتنہ اٹھا تو قیادت فرانس کے ہاتھ میں تھی… کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ زمین کے مالک بن چکے؟… وہ جو کچھ کریں گے اس کا انجام ان تک نہ پہنچے گا؟…مگر اللہ تعالیٰ موجود ہے…وہ ’’حی قیوم‘‘ ہے… وہ ظالموں کی گردنیں توڑنے والا ہے…وہی زمین کا مالک ہے … اس کی ڈھیل کو اپنا کمال نہ سمجھو… چارلی ایبڈو پر حملے کے بعد…یہ تم پر دوسرا حملہ ہے…اور یہ آخری نہیں…کیونکہ…ظلم ظالم کی طرف لوٹ آتا ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ …

ہر دن اللہ تعالیٰ کا الگ کام ہے…

اب اس کے اگلے کام کا انتظار کرو… تمہارے ایٹم بم اور تمہاری سیکیورٹی اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتی…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

حضرت کاندھلوی ؒ لکھتے ہیں:

ہر روز اللہ تعالیٰ کی ایک شان ہے… کسی کو بڑھانا،کسی کو گھٹانا،کسی کو عزت دینا،کسی کو پست کرنا اور ذلیل کرنا…کسی کو انعام و اکرام سے نوازنا، کسی کو اس کے برے اعمال کی بدولت مصائب و آفات میں مبتلا کرنا…کسی کو نیکی اور رجوع الی اللہ کی توفیق دینا اور کسی کو اس کی بد نصیبی سے خیر اور نیک اعمال سے دور کر دینا… کبھی کسی کو تندرست رکھنا اور کبھی بیمار کر دینا… کسی کو مارنا، کسی کو زندگی عطا فرمانا… خلاصہ یہ کہ کبھی جمال والی شان اور کبھی جلال والی شان…مخلوق کے حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے…اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور رحمت ہے… ( مفہوم معارف القرآن)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے… وہ گناہ کو بخشتا ہے، مصیبت کو دور فرماتا ہے اور دعاء کو قبول کرتا ہے…( القرطبی)

یہ آیت مبارکہ ذہن میں ہو تو دعاء مانگنے والے کبھی نہ تھکیں… ہمیشہ مانگتے رہیں کہ کب قبولیت والی شان ظاہر ہو جائے…مصیبت زدہ مایوس نہ ہوں کہ کب حاجت روائی والی شان ظاہر ہو… اور استغفار کرنے والے اس لالچ اور سچی امید میں معافی مانگتے رہیں کہ کب معافی والی شان ظاہر ہو اور پہاڑوں جیسے گناہ ایک لمحے میں بالکل ختم ہو جائیں…

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ…اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے وہ کسی قوم کو اونچا کرتا ہے اور کسی کو گراتا ہے…

سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم

دہرے اجر والے

ہمارے پیارے ساتھی بھائی محمد اشفاق… اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے …کوہاٹ کے ڈویژن منتظم بن کر گئے تو مجھے مسلسل خطوط لکھتے تھے…جماعت کا رشتہ بھی تھا اور بیعت کا بھی… انہوں نے گرتے کام کو سنبھالا اور فتنے میں روشنی کے مینار بنے… بار بار شہادت کی تشکیل مانگتے تو عرض کیا جاتا کہ… وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے…اس کی شان کہ جیسے عطاء فرما دے… پھر وہ محاذ پر تشکیل کرانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے دس عزیز رفقاء کے ہمراہ…صلیبی ڈرون کا نشانہ بنے… وہ شہداء کس قدر خوش نصیب ہیں…جن کے لئے صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہونے کی وجہ سے دہرے اجر کی بشارت ہے… ان رفقاء میں باہمی محبت کیسی ہو گی؟ …وہ فتح کی خوشی میں سرشار کس طرح ذکر و شکر میں ڈوبے واپس جا رہے ہوں گے؟… اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی مہمانی اور اس کے قرب کی زندگی کیسی ہو گی؟… اللہ کی شان دیکھیں کہ کچھ لوگ زندہ ہیں مگر مر چکے ہیں… اور یہ شہداء مر چکے ہیں مگر زندہ ہیں… ان خوش بختوں کے والدین اور عزیز و اقارب کو قلبی مبارکباد… اور جدائی کا جو طبعی صدمہ پہنچا اس پر قلبی تعزیت ہے … اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے…ایک دن ہم میں سے ہر ایک کے لئے اس کی شان کا ظہور اس طرح ہو گا کہ…اس دن وہ ہمیں موت دے گا… ہاں! سب نے مرنا ہے…بس دعاء کریں کہ… اس دن محبوب کی جو شان ظاہر ہو وہ رحمت والی، مغفرت والی اور ستاری والی ہو… اے شہداء اسلام! شان والے رب کی طرف سے شاندار انجام مبارک ہو…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

آج کل کوشش ہوتی ہے کہ ’’رنگ و نور‘‘ مختصر لکھا جائے…مگر آج اس آیت مبارکہ کے جلوے قلم کو رکنے ہی نہیں دے رہے… اردگرد کئی عربی اور اردو تفسیریں بھی رکھی ہیں جو دعوت دے رہی ہیں کہ…ان کے موتی بھی اس ہار میں پرو دیے جائیں…پھر بھی اختصار کی کوشش کرتا ہوں… حضرت امام قرطبیؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں یہ قصہ لائے ہیں:

ایک مسلمان حاکم نے اپنے وزیر سے پوچھا …کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ…اس آیت مبارکہ کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ وزیر نہ سمجھا سکا اور اس نے بادشاہ سے ایک دن کی مہلت مانگی…مہلت ملنے پر وہ سخت غمزدہ حالت میں گھر لوٹا…اس کے ایک کالے حبشی غلام نے پوچھا… آپ اس قدر پریشانی کی حالت میں کیوں ہیں؟ اس نے وجہ بتائی تو غلام نے کہا…مجھے حاکم کے پاس لے چلیے میں اس آیت کی تفسیر ان کو سمجھا دوں گا…وزیر نے جا کر حاکم کو بتایا تو حاکم نے غلام کو بلوا لیا…غلام نے کہا…اے امیر محترم! اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے…اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے… زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور مردہ سے زندہ کو… وہ بیماروں کو شفاء دیتا ہے، اور تندرستوں کو بیماری… وہ عافیت میں پڑے لوگوں کو مصیبت میں مبتلا فرماتا ہے اور مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت عطاء فرماتا ہے…وہ ذلیل کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو ذلت… وہ محتاج کو غنی بناتا ہے اور غنی کو محتاج…بادشاہ نے یہ سن کر کہا…تم نے مجھے راحت دی ، اللہ تعالیٰ تمہیں راحت دے…پھر اس نے حکم دیا کہ ’’وزیر‘‘ کا وزارتی لباس اتار کر اسے معزول کر دیا جائے اور یہ لباس اس غلام کو پہنا کر اسے وزیر بنا دیا جائے… غلام نے وہ لباس پہنا اور کہا… اے میرے آقا یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان… ( القرطبی)

سبحان اللہ ! وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کی شان یقین سے بیان کر رہا تھا اور اس آیت کی تفسیر سنا رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسی لمحہ خود اسے اس آیت کی تفسیر بنا دیا… ہم اپنی زندگی میں غور کریں کہ بعض لمحوں میں زندگی کا رخ کیسا بدلا…وہ رمضان المبارک کی رات تھی میں نے جیل میں ایک کپ چائے سے سحری کی…اور میری زندگی ایک چار دیواری تک محدود تھی… مگر اسی روزے کی افطاری میں نے قندھار میں تازہ کھجور اور اچھے کھانے کے ساتھ آزادی کی حالت میں کی…پھر ایک رمضان تھا میں نے روزے کی افطاری اپنے والدین، اہل خانہ اور رفقاء کے ہمراہ کی…مگر یکایک ایسا کچھ ہوا کہ سحری کے وقت اکیلا تھا اور دربدر…زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی… اللہ تعالیٰ کی شان کا نظام ’’غیبی‘‘ ہے… جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں وہ کبھی مایوس اور بدیقین نہیں ہوتے… مثلاً زکوٰۃ، صدقے ،خیرات پر مال میں برکت کا وعدہ ہے… اب یہ نہیں ہو گا کہ آپ نے دس دئیے تو آپ کو بتا کر ستر واپس کیے جائیں… یہ ستر ضرور ملیں گے مگر کس طرح؟ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے…وہ آج دیں یا کل؟… نقد عطاء فرمائیں یا کسی چیز کی صورت میں …کوئی بیماری ٹال کر اسکے علاج کی رقم بچا دیں یا کوئی اور دور کی نعمت دے کر انسان کو مالا مال فرما دیں… بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کے سارے مال کو کھا جاتی ہیں…ایک بار ٹیکسی میں سفر کے دوران ڈرائیور نے بتایا کہ میرے والد بہت عرصہ بیرون ملک کماتے رہے…بڑی جائیداد بنائی…مگر پھر بیمار ہو کر آئے تو علاج میں سب کچھ بیچنا پڑا…اور جب وہ مرے تو ان کے بیس تیس سال کی ساری کمائی علاج پر لگ چکی تھی …بے شک اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے… ساری مخلوق اس کی محتاج ہے…اور اللہ تعالیٰ کی ہر دن ایک نئی شان ہے… کامیابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پُر امید رہو اور اللہ تعالیٰ سے جڑے رہو…اللہ تعالیٰ سے جڑے رہو…

اے شان والے رب! ہماری حالت دنیا اور آخرت میں بہتر فرما دے…

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ اَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا کُلَّہْ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor