Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

وَأَصْلِحْ لِی شَأْ نِی کُلَّہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 520 - Saadi kay Qalam Say - Wa Asleh Li Shaani Kullah

وَأَصْلِحْ لِی شَأْ نِی کُلَّہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 520)

اللہ تعالیٰ سے سب اپنی ’’حاجتیں‘‘ مانگتے ہیں، آسمان والے بھی اور زمین والے بھی…سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں… وہ سب کی سنتا ہے… اور سب کی حاجتیں ان کی مصلحتوں کے مطابق پوری فرماتا ہے…ہر دن اس کی نئی شان ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

’’شأن‘‘ کا معنی سمجھ لیں

 

اس آیت مبارکہ کے جلوے آج بھی دل و دماغ پر حاوی ہیں

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

سب سے پہلے ’’شأن‘‘ کا معنی سمجھ لیں…

شأن کہتے ہیں…حالت، کام اور فکر کو … جب کسی سے پوچھیں…مأ شأنک؟ اس کا مطلب ہو گا… تیرا کیا حال ہے… الشأن بڑا کام ، معاملہ ،حالت… یا اللہ میری شأن ٹھیک فرما دے… یعنی میری حالت اچھی فرما دے، میرے کام درست فرما دے،میرے معاملات کی اصلاح فرما دے…أَصْلِـحْ لِی شَـأْنِـی…

اس کی جمع آتی ہے شئون آپ نے یہ لفظ سنا اور پڑھا ہو گا… شئون الحرمین حرمین شریفین کے کام کاج اور معاملات…وہاں عرب میں ایک پوری وزارت اس نام سے موجود ہے…

اسی طرح ’’شأن‘‘ کا لفظ اچھی حالت، اور قدر و منزلت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے … اور مصروفیت کے معنی میں بھی آتا ہے… اب ترجمہ آسان ہو گیا…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہر دن اللہ تعالیٰ کے نئے نئے کام ہیں، اور وہ نئے حالات ظاہر فرماتا ہے…قیدیوں کو رہائی دیتا ہے… اور آزاد لوگوں کو قید…وہ ہر دن تین بڑے لشکر روانہ فرماتا ہے…ایک لشکر ان افراد کا جن کو دنیا سے قبر کی طرف بھیج دیتا ہے… دوسرا لشکر ان افراد کا جن کو ماں کے پیٹ سے دنیا میں بھیجتا ہے… اور تیسرا لشکر ان افراد کا جن کو ماؤں کے رحم میں منتقل فرماتا ہے… مانگنے والے مانگ رہے ہیں اور وہ دے رہا ہے… کھانے والے کھا رہے ہیں اور وہ کھلا رہے ہیں…پینے والے پی رہے ہیں اور وہ پلا رہا ہے… مگر اس کے خزانوں میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی…اور نہ آئے گی…وہ جو دنیا میں قوت والے تھے آج قبروں میں بے بس پڑے ہیں…قوموں کی قومیں مٹ گئیں…اللہ تعالیٰ کا کام چلتا رہا، اللہ تعالیٰ کا نظام چلتا رہا اور چلتا رہے گا…یہ کام، یہ نظام کسی کا محتاج نہیں…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے

ہر دن نئی خیر

حضرت سلیمان دارانیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

ہر دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی خیر اس کے بندوں کو ملتی ہے…

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

اللہ تعالیٰ نے موتی سے ایک تختی بنائی… اس تختی کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے بنائے… اس کا قلم نوری ہے اور اس کی تحریر بھی نوری ہے … اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اس تختی پر نظر فرماتا ہے اور ہر نظر پر کسی کو زندگی دیتا ہے، کسی کو موت، رزق دیتا ہے، عزت عطا فرماتا ہے، ذلت میں ڈالتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے وہ کرتا ہے…’’کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ‘‘ کا یہی مطلب ہے… ( بغوی، ابن کثیر، مظہری)

حضرت حسین بن فضل ؒ فرماتے ہیں:

آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر لکھ دی ہے، روزانہ اس کو اپنے وقت پر نافذ فرماتے ہیں…(مظہری)

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے…اور وہ ہر وقت سنتا ہے، ہر وقت دیتا ہے اور ہر وقت ہر کام کی قدرت رکھتا ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ڈرانے والوں کے نام

آج کل پاکستانی حکومت بہت سرکشی اور تکبر کی حالت میں ہے…وہ پاکستان کو لبرل، سیکولر اور ہندو مملکت بنانے کے دعوے کر رہی ہے…مدارس کے خلاف شدید کریک ڈاؤن جاری ہے… سنا ہے کہ اب مساجد پر بھی چھاپوں اور قبضوں کی تیاری چل رہی ہے…ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ…جہاد کے ہر حمایتی کو ختم کر دیا جائے گا، مٹا دیا جائے گا… حکومت کے یہ تمام بیانات سن کر ذہن میں یہی آیت مبارکہ آتی ہے کہ:

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

اللہ تعالیٰ ہر دن نئے حالات ظاہر فرماتے ہیں

معلوم نہیں کل نواز شریف رہے گا یا نہیں؟ …معلوم نہیں شہباز شریف ہر دفعہ لندن سے علاج کرا کے واپس آ سکے گا یا نہیں… آج جن کے پاس طاقت ہے کل ان کی کوئی سنے گا بھی یا نہیں؟… یہودی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ چھ دن تو کام اور فیصلے فرماتے ہیں مگر ہفتہ کے دن کوئی کام یا فیصلہ نہیں فرماتے…

ان کو جواب دیا گیا کہ…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْن

ٍاللہ تعالیٰ ہر دن کام اور فیصلے فرماتے ہیں

آج جو وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں …کل اللہ تعالیٰ ایسے حالات لائیں گے کہ خود ان کے اپنے اعضاء بھی ان کا کہنا نہیں مانیں گے…اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت شیخ ابواللیث سمر قندی ؒ نے بہت ہمت افزاء قصہ تحریر فرمایا ہے …وہ لکھتے ہیں:

حجاج بن یوسف نے حضرت محمد ابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور اس میں انہیں دھمکیاں دیں کہ میں آپ کا برا حشر کروں گا وغیرہ… حضرت محمدابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ ( جو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے) نے جواب میں تحریر فرمایا:

اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ بار لوح محفوظ پر نظر فرماتے ہیں، اور ہر دن عزت دیتے ہیں اور ذلت، عطا فرماتے ہیں اور روکتے ہیں…پس میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی کوئی نظر عطاء فرمائیں گے اور تجھے مجھ پر قدرت نہیں دیں گے…

حجاج نے حضرت محمد ابن الحنفیہ رضی اللہ عنہ کا یہ خط عبد الملک بن مروان کو بھیج دیا… عبد الملک نے یہ خط اپنے پاس خزانے میں محفوظ رکھ لیا… کچھ عرصہ بعد روم کے بادشاہ نے عبد الملک بن مروان کو دھمکی آمیز خط بھیجا تو اس کے جواب میں عبد الملک نے… حضرت محمد بن حنفیہ کے الفاظ لکھ کر بھیج دئیے…اس پر رومی بادشاہ نے کہا…یہ الفاظ تو خاندان نبوت کا خزانہ معلوم ہوتے ہیں…( تفسیر السمرقندی ص ۳۶۲ ج ۲)

پاکستان کے اہل ایمان، اہل جہاد ، اہل مساجد…اور اہل مدارس … حکومت کی موجودہ دھمکیوں اور پھرتیوں سے نہ گھبرائیں…وفاق المدارس کے محترم اور مکرم منتظمین خود سپردگی اور پسپائی کا طرز عمل اختیار نہ کریں … اللہ تعالیٰ کسی کو قوت اور طاقت دے کر …خود ایک طرف نہیں ہو گئے… وہ جس طرح حکومت دینا جانتے ہیں اسی طرح حکومت چھیننا بھی جانتے ہیں…ہر دن ان کے نئے کام ہیں…وہ سرکشوں کی گردنیں توڑتے ہیں…جابروں کو خاک چٹاتے ہیں…متکبروں کو مٹی میں ملاتے ہیں…قوت والوں کو بے بسی میں گراتے ہیں …اور حکمرانوں کو ذلت چکھاتے ہیں…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہر دن وہ اپنی قدرت کے نئے نئے نمونے دکھاتے ہیں…اس لئے اے مسلمانو! آج کے حکمرانوں کی طاقت دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں گے…اور آج اپنی راحتوں کو دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ یہ راحتیں ہمیشہ رہیں گی…اپنی راحتوں کی خاطر مسجد قربان نہ کرو، مدرسہ کو غلام نہ بناؤ… جہاد سے محرومی نہ پاؤ… اگر کوئی اپنی راحت اور حفاظت کی خاطر اپنا دین قربان کرے گا تو ممکن ہے… دین سے بھی جائے اور راحت اور حفاظت بھی چھن جائے…اور جو اپنی راحت اور حفاظت خطرے میں ڈال کر اپنے دین کو بچائے گا تو … بہت ممکن ہے کہ دین بھی نصیب رہے اور راحت و حفاظت بھی سلامت رہے…اس لئے اپنے حق موقف پر ڈٹ جاؤ… اور اللہ تعالیٰ سے اچھے حالات اور اس کی نصرت مانگو… وہ ہر دن اپنے بندوں کی بہت عجیب طرح سے نصرت فرماتا ہے…

ہماری شأن

’’ہماری شأن‘‘… یعنی ہمارے کام، ہمارے حالات اور ہمارے معاملات پر جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہو تو…سب کچھ ٹھیک رہتا ہے…لیکن جب ہمارے کاموں اور ہمارے حالات پر ہمارے’’ نفس‘‘ کا سایہ ہو تو سب کچھ بگڑ جاتا ہے… انسان کا نفس اس کا سب سے بڑا دشمن ہے…وہ ہمارے ہر کام کو بگاڑتا ہے… اور ہمیں گناہوں ،برائیوں ، ذلتوں اور رسوائیوں میں ڈالتا ہے…اسی لئے ہمیں سکھایا گیا کہ…ہم اپنی ’’شأن‘‘ ٹھیک کرانے کے لئے …’’شان‘‘ والے رب سے فریاد کیا کریں…اور اس کی رحمت والی ’’شان‘‘ مانگا کریں…

لیجئے ’’شأن‘‘  ٹھیک کرانے کے لئے یہ اہم تحفہ… اور تحفہ بھی معمولی نہیں…بلکہ یہ وہ عظیم تحفہ ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ نے اپنی سب سے لاڈلی، پیاری اور چہیتی لخت جگر…حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو عطاء فرمایا… اور ان کے ذریعہ سے امت تک پہنچایا…

اپنی عزیز ترین اور افضل ترین بیٹی کو یہ تحفہ دیتے وقت حضرت آقا مدنی ﷺ نے تاکید کے جو الفاظ ارشاد فرمائے ان کو پڑھ کر دل وجد میں آ جاتا ہے کہ…اولاد کے ساتھ اصل خیر خواہی کسے کہتے ہیں…

ارشاد فرمایا: مایمنعک ان تسمعی ما اوصیک بہ

اے فاطمہ! میری وصیت غور سے سنو…کوئی چیز تمہیں یہ نصیحت سننے سے نہ روکے… تم صبح اور شام یہ الفاظ کہا کرو:

یَا حَـیُّ یا قَیُّـومُ بِـرَحْمَـتِکَ أَسْتَـغِـیْثُ ، أَصْلِـحْ لِی شَـأْنـی کُلَّـہ ، وَلا تَکِلْـنِی إِلٰی نَفْـسِی طَـرْفَۃَ عَـینْ ( نسائی، مسند احمد)

یا اللہ، اے زندہ ، اے تھامنے والے! میں آپ کی رحمت سے فریاد کرتا ہوں میرے سارے کام، میرے سارے حالات ٹھیک فرما دیجئے اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر…یعنی ایک لمحہ بھی میرے نفس کے سپرد نہ کیجئے…

اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:

مکروب کی دعاء یہ ہے:( مکروب کہتے ہیں شدید غم، پریشانی، تکلیف اور تنگی میں مبتلا شخص کو)

اللَّہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو فَلَا تَکِلْنِی إِلَی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَأَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ

یا اللہ! آپ ہی کی رحمت کا امیدوار ہوں … (کسی اور کی طرف نہیں دیکھتا) …مجھے ایک لمحہ بھی میرے نفس کے سپرد نہ کیجئے ، میرے سارے کاموں کو سیدھا فرما دیجئے ، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں… ( ابو داؤد، احمد)

یہ دونوں دعائیں بڑی قیمتی ہیں… ہماری ’’شأن‘‘ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ’’شان رحمت‘‘ کی محتاج ہے…جاگتے ہوئے بھی سوتے ہوئے بھی …دن میں بھی رات میں بھی…دنیا میں بھی اور قبر ،حشر میں بھی… رزق کے بارے میں بھی… اور عزت کے باب میں بھی… صحت کے بارے میں بھی… اور حفاظت کے لحاظ سے بھی… ہم اپنے حالات، اپنی ضروریات اور اپنے کاموں کے لئے اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا سہارا پکڑیں تو وہ ہمیں پورا نہیں پڑ سکتا… آخر اس نے بھی مرنا ہے، سونا ہے اور دوسرے کاموں میں لگتا ہے…مگر اللہ تعالیٰ ’’حیی‘‘ ہے ہمیشہ زندہ …قیوم ہے سنبھالنے والا، تھامنے والا… اور وہ ہر وقت سنتا ہے، قبول فرماتا ہے، عطا کرتا ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

آیت پر غور نہ کرنے کے نقصانات

یہ آیت مبارکہ

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ہمارے ایمان، عقیدے اور عزم کو مضبوط فرماتی ہے… وہ لوگ جنہوں نے اس آیت مبارکہ پر غور نہیں کیا اور اسے نہیں سمجھا وہ طرح طرح کی گمراہیوں اور غلطیوں میں جا ڈوبے…

یہ’’غامدی‘‘ یہ جدت پسند مفکر… انہوں نے امریکہ اور یورپ کی چمک دمک کو دیکھا تو دل ہار بیٹھے…انہوںنے سمجھا کہ بس اب یہ سب کچھ اسی طرح رہے گا…اس لئے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر یہ ان کے تلوے چاٹنے لگے… ان کی نظروں میں کلمہ طیبہ پھیکا پڑ گیا…ان کی نظروں میں مدینہ طیبہ اور حضرت آقا مدنی ﷺ کے حجرے چھوٹے پڑ گئے…انہوں نے سمجھا کہ بس اب حالات ہمیشہ اسی طرح رہیں گے تو ہمیں بھی عالمی برادری کا حصہ بن جانا چاہیے…انہوں نے نہ ماضی کو دیکھا نہ مستقبل کو سمجھا اور نہ اس آیت مبارکہ میں غور کیا

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر لحظہ اور ہر دن نئے نئے حالات لاتے ہیں… اور بڑی بڑی قوموں کو گراتے ہیں… اول تو دنیا کی چمک دمک… کوئی ترقی نہیں…لیکن اگر اسے ترقی مان لیا جائے تو بھی یہ جلد ختم ہو جائے گی…امریکہ اور یورپ تیزی سے تباہی کی طرف جا رہے ہیں…ان کے آلات، ان کی سائنس اور ان کی تہذیب… یہ تینوں چیزیں خود ان کے لئے موت اور ذلت کا پیغام بن جائیں گی…

تب یہ ’’جدید انڈے‘‘ پچھتائیں گے…مگر ایسے پچھتانے کا کیا فائدہ؟…

اسی طرح وہ مسلمان جو حرام کی کمائی میں پڑ گئے ہیں… ان کو توبہ کا خیال آتا ہے مگر سوچتے ہیں کہ کھائیں گے کہاں سے؟ … وہ اس آیت میں غور کریں تو… رب تعالیٰ کی رزق والی شأن کو پہچان جائیں کہ…وہ ہر دن اور ہرلحظہ ہمیں کن کن طریقوں اور راستوں سے رزق دیتا ہے اور دے سکتا ہے…تو پھر ہم حرام کو اپنی مجبوری کیوں بنائیں…

اسی طرح وہ پریشان حال مسلمان… جو بیماری، قرضے،تکلیف، رشتہ نہ ہونے وغیرہ کے مسائل سے دوچار ہیں…وہ اس آیت مبارکہ میں غور کریں تو مایوسی سے بچ جائیں…اور وہ سمجھ جائیں کہ ہم سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ…مصیبت کے وقت ہم نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور سہاروں کی طرف دیکھا…حالانکہ حالت بدلنے ، شأن بدلنے کا اختیار اور کام صرف اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے…اس لئے ہر مصیبت کا حل صرف یہی ہے کہ…صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیاجائے…اپنے ایمان کی تجدید کی جائے… عقیدہ توحید کی تجدید کی جائے اور بار بار اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے کہ… مالک آپ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا… آپ کے سوا کسی کی رحمت پر میری نظر نہیں …آپ کے سوا کسی کے پاس شأن بدلنے کی طاقت نہیں…

لَا إِلٰہَ إِلَّاأَنْتَ،لَا إِلٰہَ إِلَّاأَنْتَ، بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ،أَصْلِـحْ لِیْ شَـأْنِـی کُلَّـہ

 یَا حَـیُّ یا قَیُّـومُ بِـرَحْمَـتِکَ أَسْتَـغِـیْثُ ، أَصْلِـحْ لی شَـأْنِـی کُلَّـہ ، وَلا تَکِلْـنِی إِلٰی نَفْـسِی طَـرْفَۃَ عَـینْ

آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor