Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اپنا بنا لے (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 521 - Saadi kay Qalam Say - Apna Bana Le

اپنا بنا لے

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 521)

اللہ تعالیٰ ہر دن نئے افراد پیدا فرماتا ہے… پرانے لوگوں کی جگہ نئے افراد لاتا ہے…پس کوئی خود کو لازوال نہ سمجھے…کوئی اپنے عہدے، منصب اور مال کو مستقل نہ سمجھے… جو کل عزت مند تھے آج ذلیل پھرتے ہیں…جو کل مالدار تھے آج ان کا بھیک پر گذارہ ہے…وہ جو کل زمین پر اکڑ کر چلتے تھے وہ آج دو قدم اٹھانے سے معذور ہیں…وہ جو کل آپس میں محبت کرتے تھے آج ایک دوسرے کے دشمن ہیں…اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے…

یحدث اشخاصاویجدداحوالا…وہ روز نئے افراد لاتا ہے اور ہر گھڑی نئے احوال بناتا ہے…

 

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

آنکھوں دیکھا واقعہ

مدرسہ سے تعلیمی فراغت کے بعد جب جہاد میں قدم رکھا تو بیانات کا سلسلہ شروع ہوا…ایک بار پنجاب کے ایک شہر سے دعوت آئی…میرا قیام کراچی میں تھا…جلسہ میں پہنچا تو ایک بڑے خطیب صاحب بھی مدعو تھے اور آخری بیان ان کا تھا…وہ بڑی شان سے تشریف لائے…پورے مجمع کو کھڑا کیا گیا…بہت شور شرابا ہوا، جس کا بیان ہو رہا تھا …اسے بیان کافی دیر تک روکنا پڑا… چند سال بعد پھر ایک جلسہ تھا وہ خطیب صاحب اپنی پارٹی چھوڑ چکے تھے…مسکینوں کی طرح اسٹیج پرآ بیٹھے… نہ کوئی نعرہ گونجا نہ شور… پھر تھوڑی دیر بعد ان کے نام کا اعلان ہوا کہ وہ تقریر کے لئے تشریف لائیں مگر وقت کم ہے اس لئے پانچ منٹ میں اپنی بات ختم کریں…وہ بیان کے لئے اُٹھے تب بھی کسی نے توجہ نہ کی…انہوں نے خطاب شروع ہی کیا تھا کہ انہیں پرچی بھیج دی گئی کہ بس کریں…وہ خاموشی سے اُتر آئے اور بیٹھ گئے … صرف چند سال میں اتنا بڑا نام … بے نام ہو گیا…یہی ہر جگہ ہوتا ہے…صرف ان لوگوں کی شان اللہ تعالیٰ سلامت رکھتے ہیں جو…شان کے زمانے  اللہ تعالیٰ سے جڑے رہتے ہیں…اور اپنی شان کو اپنا کمال نہیں سمجھتے…اور اپنی شان کا ناجائز استعمال نہیں کرتے… اللہ تعالیٰ شان والا ہے… وہ جس کو چاہتا ہے شان دیتا ہے…اور جس سے چاہتا ہے شان چھین لیتا ہے… پس آج جو صحتمند ہیں وہ اپنی صحت کا دینی، اخروی فائدہ اٹھا لیں … وہ جو عزت مند ہیں اپنی عزت کے ذریعہ اپنی آخرت بنا لیں…وہ جو مالدار ہیں اپنے مال کے ذریعے آگے کا سامان خرید لیں…کیا معلوم کس لمحہ اللہ تعالیٰ کی کونسی شان ظاہر ہو جائے…کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ  …مفسرین فرماتے ہیں کہ دن سے مراد ہر گھڑی، ہر لمحہ اور ہر وقت ہے… اللہ تعالیٰ نے آگ کو جلانے کی طاقت دی… اب یہ نہیں کہ آگ اپنی مرضی سے جلائے گی… بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تب وہ جلائے گی… اور جس کو جلانے کا حکم دے گا اسی کو جلائے گی…دنیا کی ہر آگ، ہر لمحہ جلانے میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کی محتاج ہے…یہی حال پانی کا ہے…اور یہی حال دواء کا ہے… اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ،ہر وقت، ہر گھڑی فیصلے فرماتے ہیں…آگ کو فرماتے ہیں جلا دے تو جلا دیتی ہے… فرماتے ہیں ’’ نہ جلا‘‘ تو وہ نہیں جلاتی… پانی کو فرماتے ہیں کہ پیاس بجھا تو وہ بجھاتا ہے…جب یہ حکم نہیں ہوتا تو بعض افراد گھڑے پی جاتے ہیں مگر پیاس نہیں بجھتی… اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی مخلوق کی طرف تین سو ساٹھ بار نظر فرماتے ہیں… خاص نظر… کیونکہ ویسے تو وہ ہر وقت ہر کسی کو دیکھتے ہیں…اس خاص نظر میں وہ اپنی مخلوق کو نئی نئی نعمتیں عطا فرماتے ہیں…بعض افراد کو ان کی چھنی ہوئی نعمتیں واپس دیتے ہیں… اور بعض لوگوں کو نعمتوں سے محروم فرماتے ہیں… مقصد یہ کہ… کامیاب وہی بندہ ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے جڑا رہے… اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے … اللہ تعالیٰ سے امیدوار رہے…اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے… اور یقین رکھے کہ…اللہ تعالیٰ حالات بدلنے پر قادر ہیں…اور وہ نئے حالات لاتے ہیں…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

اجتماعات کی ترتیب

جماعتی اجتماعات کی ترتیب الحمد للہ منظم ہوتی جا رہی ہے… ان اجتماعات کا نصاب کیا ہو؟…کئی ہفتوں سے اس پر لکھنے کا ارداہ ہے…مگر آیت مبارکہ’ ’کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ‘‘ کے انوارات اپنی طرف بلاتے ہیں تو سعادت سمجھ کر انہیں کو لکھنے بیٹھ جاتا ہوں… کئی اہل دل مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’’شأن‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ’’تجلیات ‘‘ ہیں… جو ہر لمحہ نئے نئے انداز سے اس کے بندوں کے دل پر اترتی ہیں… سبحان اللہ! کبھی نعمتیں یاد دلا کر دل پر شکر کی تجلی فرما دی… اب دل خوش ہے، جھوم رہا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے بے قرار ہے… کبھی گناہ یاد دلا کر توبہ کی تجلی دل پر برسائی تو اب دل رو رہا ہے، بلک رہا ہے، معافیاں مانگ رہا ہے… ڈر رہا ہے ، شرما اور پچھتا رہا ہے…

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دل کو بڑی طاقت عطاء فرمائی ہے…یہ دل جیسا ہو گا اللہ تعالیٰ کا نور اسی کے مطابق اس دل پر برسے گا… معافی مانگنے والے دل کو رحمت ملتی ہے… اور تکبر میں اکڑے دل پر اللہ تعالیٰ کا غضب برستا ہے… ویسے آج اس آیت مبارکہ پر یہ آخری کالم ہے … کوشش ہو گی کہ آج اس موضوع کو کسی حد تک سمیٹ لیا جائے… اللہ تعالیٰ کے کلام کی مکمل تفسیر کوئی نہیںکر سکتا… جس طرح اللہ تعالیٰ کی ہر وقت نئی شان ہے…اس کے کلام کی بھی ہر دور اور ہر زمانے میں نئی شان ہے…قرآن مجید کا ہر لفظ ہر زمانے میں سمجھا جا سکتا ہے… اور قرآن مجید ہر زمانے کے مطابق ہر انسان کی رہنمائی فرماتا ہے… سوچا تھا کہ اس آیت مبارکہ پر تین مضامین ہو جائیں گے تو پھر اجتماعات کے نصاب پر بات ہو گی…اب بھی ان شاء اللہ یہی ارادہ ہے… مگر اتنی سی بات یاد کر لیں کہ مقبول اجتماعات میں تین چیزیں ضروری ہیں… جن اجتماعات میں یہ تین چیزیں ہوتی ہیں… ان میں شرکت کرنے والوں کو… مغفرت بھی ملتی ہے اور رحمت بھی… اور ان اجتماعات کا اثر زمین و آسمان میں دور دور تک پھیل جاتاہے… اور ایسے اجتماعات میں وقت آنے کے ساتھ ترقی اور برکت ہوتی چلی جاتی ہے… وہ تین چیزیں یہ ہیں…

(۱) ذکر اللہ ( ۲) دعوت الی اللہ (۳ ) التوبۃ الی اللہ

بس یہ ہے مقبول اور کامیاب اجتماعات کا نصاب… اس کی تفصیل ایک پورے مضمون کی طلبگار ہے… خلاصہ یہ کہ…ان اجتماعات میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو… یعنی تلاوت، کلمہ طیبہ ،استغفار ،درودشریف وغیرہ… کوئی اخلاص کے ساتھ تلاوت کرے…مجمع سے بھی کچھ تلاوت کرائے… اور کچھ وقت ذکر کی مجلس توجہ کے ساتھ ہو… ایسی مجالس کی فضیلت قرآن و حدیث میں بہت ہے… دوسرا کام دعوت الی اللہ…اس میں بیانات آتے ہیں…اور ہمارا نصاب موجود ہے… کلمہ طیبہ، اقامت صلوۃ اور جہاد فی سبیل اللہ…تیسرا اور ضروری کام یہ ہے کہ… اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ، اللہ تعالیٰ کی طرف فرار، اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت… اور اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ… یعنی اپنے ماحول سے نکل کر ایسے ماحول کی طرف جانا جہاں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا پانا آسان ہو…اس تیسرے کام کے لئے ایک ساتھی کھڑا ہو اور لوگوں کو دعوت دے کر … ان کے ارادے لکھ لے…محاذ، تربیت ،دورہ تربیہ، دورہ اساسیہ کے لئے نقد پکے ارادے… یہ آخری کام بھی اسی طرح جم کر کیا جائے جس طرح بیانات جم کر ہوتے ہیں… آخر میں دعاء ہو جائے یا صرف استغفار… اور پھر منتظمین بیٹھ کر جائزہ لیں کہ اجتماع میں کیا ٹھیک رہا اور کیا غلط… اور جن مسلمانوں نے ’’التوبۃ الی اللہ‘‘ میں نام لکھوائے ان کو الگ بٹھا کر ان کے ارادوں پر عمل کی ترتیب بن جائے…ابتداء میں ممکن ہے یہ سب کچھ اجنبی لگے مگر کامیابی کا نصاب بہرحال یہی ہے جو اہل ہمت کو اپنانا ہو گا…ان تین چیزوں کے بغیر بھی جلسے ہو جاتے ہیں… چند دن خوب زور شور بھی رہتا ہے مگر پھر سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے… جبکہ ان تین چیزوں کے التزام سے ان اجتماعات میں مستقل ترقی ہوتی چلی جاتی ہے… اللہ تعالیٰ کی ہر دن نئی شان ہے… فرمایا کہ اگر تم جہاد نہیں کرو گے تو ہم اور لوگ لے آئیں گے او روہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے… ہر دن نئے افراد ، نئے کردار اور نئے اہل عمل لانا اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے…کیونکہ ہر لمحہ وہ کام میں مصروف ہے، ہر لمحہ وہ فیصلے فرماتا ہے اور ہر لمحہ اس کی نئی شان کے مناظر ظاہر ہوتے ہیں…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

بڑی شاندار دعاء

سورۃ’’ الرحمن‘‘ کی جس آیت پر ہم بات کر رہے ہیں…وہ اس سورۃ کی انتیسویں آیت ہے…تھوڑا سا غور فرمائیں… اس سے پچھلی آیت میں فرمایا گیا کہ جو بھی زمین پر ہیں وہ سب فنا ہو جائیں گے… صرف اللہ تعالیٰ باقی رہے گا جو ’’ذوالجلال والاکرام ‘‘ ہے… پھر اس آیت میں فرمایا کہ…زمین و آسمان کی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ سے مانگتی ہے…اور اللہ تعالیٰ ہر لمحہ نئے کام میں ہے…اللہ تعالیٰ جلال اور اکرام کا مالک ہے… تم سب فانی ہو…اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی شان میںہے… اور تم اس کی شان اور فیصلوں کے محتاج ہو…اب ان دونوں آیتوں کو جوڑ کر… حضرت آقا مدنی ﷺ نے ایک دعاء مانگی… سبحان اللہ…عجیب شان والی دعاء ہے… اور انسان کی شان کو درست کرانے والی دعا ہے…

اس دعاء میں اللہ تعالیٰ کو ان کے اسم ’’ذوالجلال والاکرام‘‘ کا واسطہ دیا گیا …اور اپنی محتاجی بیان کی گئی…دعاء یہ ہے:

یَا حَیُّی یَا قَیُّومُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ، بِرَحْمَتِکَ نَسْتَغِیْثُ، اَصْلِحْ لَنَا شَأنَنَا کُلَّہُ… وَلَا تَکِلْنَا اِلٰی اَنْفُسِنَا طَرْفَۃَ عَیْن ، وَلَا اِلٰی اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکْ…

ترجمہ: یا اللہ ! اے ہمیشہ زندہ ، اے تھامنے والے… اے زمین و آسمان کے موجد…اے جلال و اکرام والے … آپ کے سوا کوئی معبود نہیں…ہم آپ کی رحمت سے فریاد کرتے ہیں… ہمارے سارے حالات درست فرما دیجئے اور ہمیں ایک لمحہ بھی ہمارے نفس کے سپرد نہ کیجئے اور نہ ہمیں اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد کیجئے…

پردے والی شان

یہ بڑی عمر کے لوگ جنہیں ہم ’’بابا ‘‘ کہتے ہیں…ان میں سے بعض بڑے کام کے ہوتے ہیں… ان کے پاس سالہا سال کے تجربہ کا نچوڑ  کامیابی کے  نسخے ہوتے ہیں… ایسے چند معمر افراد سے بعض چیزیں سیکھنے کی سعادت ملی ہے… کسی زمانے ایک معمر بزرگ سے سلام دعاء رہی… وہ عالم نہیں تھے نہ ہی پیریا مرشد…ہاں نماز کے بہت پابند وہ پہلی بار ملے تو سلام کے فوراً بعد دعاء دی…اللہ تعالیٰ پردہ رکھے اور کبھی بے پردہ نہ فرمائے… میں دعاء سن کر سوچ میں پڑ گیا… ایسی دعاء کافی اجنبی لگی پہلے کبھی کسی نے نہ دی تھی… بعد میں ان سے ملنا جلنا ہوا تو وہ ہمیشہ یہی دعا ء دیتے…اور جس سے بھی ملتے اسے بھی یہی دعاء دیتے… ایک دن مسجد ہی میں غور و فکر کا موقع ملا تو میں ’’بزرگ‘‘ کی فراست کا قائل ہوا کہ… اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ شان مانگنے کا معمول بنا رکھا ہے جس شان کا ہر انسان ہر لمحہ محتاج ہے… وہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان ستّاری…

ہمارے ہاں اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ پر دہ رکھے تو اس سے… بس ایک دو بے حیائی والے کام ذہن میں آتے ہیں…حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پردے کے بغیر ہم ایک لمحہ بھی عزت مند نہیں رہ سکتے… ہر انسان عیب، گندگی ،گناہ اور آلائشوں سے بھرا ہوا ہے… جب کسی کو فالج ہوتا ہے تو کس طرح اس کے پردے ہٹتے ہیں…اب پیشاب استنجا بھی دوسرے لوگ کراتے ہیں وہ جو ساری زندگی ستر میں رہے…اب ایک ایک کے سامنے ان کا ستر کھلا پڑا ہے…

اور بہت سی مثالیں دیکھ لیں… اللہ تعالیٰ جب تک پردہ رکھتا ہے انسان کی عزت و آبرو رہتی ہے… لیکن جیسے ہی وہ اپنا پردہ کھینچ لے تو انسان کس قدر بے ناموس ہو جاتا ہے… انسان کے پیشاب کا نظام اس کی خلوتوں کا نظام…اس کے جسم کی گندگیوں کا نظام، اس کے دل کے وساوس و خیالات کا نظام… اس کی بری نیتوں اور ارادوں کا نظام… اس کے جھوٹ اور خیانت کا نظام… اس کی کمزوریاں،اس کے عیب…

اللہ تعالیٰ جب پردے والی شان فرماتے ہیں تو یہ سب کچھ چھپا رہتا ہے… اسی لئے فرمایا گیا کہ…اللہ تعالیٰ کے پردے کی قدر کرو، جو اس کی ناقدری کرتا ہے… اور اپنی عزت کو اپنا کمال سمجھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ ہٹا لیتے ہیں… جب پردہ ہٹا تو اب گند ہی گند ہے،کمزوری ہی کمزوری اور عیب ہی عیب… دعاء سکھا دی کہ… اللہ تعالیٰ سے اس کی پردے والی شان مانگا کرو…

اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا

یا اللہ! ہمارے عیبوں پر پردہ فرما اور ہمیں خوف سے امن نصیب فرما

اَللّٰھُمَّ اسْتُرْنِیْ بِالْعَافِیَۃِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ

 یا اللہ! مجھے اپنی عافیت کا پردہ دنیا اور آخرت میں عطاء فرما…

اسی لئے ہمیں حکم دیا گیا کہ… اپنے گناہ دوسروں کو نہ بتاؤ… اور دوسروں کے پردے چاک نہ کرو… جو دوسروں کے پردے اتارے گا اللہ تعالیٰ اس کو گھر بیٹھے رسوا فرما دیں گے…انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے رزق کا، اللہ تعالیٰ کے پردے کا، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہے…اور اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر وقت اپنی مخلوق کی حاجتیں پوری فرماتا ہے…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

پوری آیت کا ترجمہ اور تفسیر

مجلس کے آخر میں یہ پوری آیت اور اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر پڑھ لیتے ہیں…

یَسْئَلْہُ مَنْ فِی السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ ، کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَأن ( الرحمن ۲۹)

ترجمہ: سب آسمان و زمین والے اسی ( اللہ تعالیٰ) سے مانگتے ہیں… ہر دن اس کے نئے نئے کام ہیں…

یعنی آسمان و زمین  کی ساری مخلوقات … اللہ تعالیٰ کی محتاج ہیں…اور یہ سب اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں… اتنے سارے مانگنے والوں کی کثرت…پھر ہر ایک کی الگ الگ حاجتیں … الگ الگ ضرورتیں… مگر اللہ تعالیٰ ہر وقت، ہر کسی کی سنتا ہے… اور اپنی حکمت کے مطابق ان کی حاجت پوری کرتا ہے… انسان کو سانس لینے کے لئے ضروری ہے کہ … اسے ہوا ملے…اور مچھلی کو سانس لینے کے لئے ضروری ہے کہ اسے پانی ملے… اللہ تعالیٰ ایک ہی لمحے میں انسان کو الگ نعمت اور مچھلی کو الگ نعمت ان کی ضرورت کے مطابق دیتا ہے… فرشتے بھی اس سے مانگ رہے ہیں… اور انسان بھی… جنات بھی اس سے مانگ رہے ہیں اور پرندے اور نباتات بھی… کوئی مغفرت مانگ رہا ہے، کوئی رزق…کوئی صحت مانگ رہا ہے، کوئی عافیت… کوئی رشتہ مانگ رہا ہے اور کوئی اولاد… کوئی مال مانگ رہا ہے کوئی گھر… کوئی نیک اعمال کی توفیق مانگ رہا ہے… اور کوئی نورانی تجلیات اور برکات …کوئی فتح مانگ رہا ہے کوئی شہادت… کوئی آزادی مانگ رہا ہے تو کوئی حفاظت… وہ ہر لمحہ ہر کسی کی براہ راست سنتا ہے اور ہر دعاء پر اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے…کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

ایک قول

بعض اسلاف جیسا کہ حضرت سفیان بن عیینہؒ کے نزدیک… کائنات میں کل دو دن ہیں…ایک دن دنیا…اور ایک دن قیامت…اب ہر دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ہے…یعنی دنیا میں اس کی شان الگ ہے… یہاں وہ اپنے منکروں اور دشمنوں کو بھی دیتا ہے …بلکہ زیادہ دیتا ہے… مگر آخرت میں اس کی الگ شان ہو گی کہ… صرف اپنے ماننے والوں کو نوازے گا اور منکروں کو درد ناک عذاب میں ڈالے گا…دنیا میں اس کی شان یہ ہے کہ حکم دیتا ہے اور منع فرماتا ہے… آخرت میں صرف وہ فیصلہ فرمائے گا…دنیا میں وہ اپنوں کو آزماتا ہے، امتحانات میں ڈالتا ہے… مگر آخرت میں وہ ان کو اعزازات دے گا اور اپنے دشمنوں کو سخت سزائیں… اس لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی شأن دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ مالدار کافر کامیاب ہیں… یہ دنیا ختم ہو جائے گی… اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نئی شان ظاہر ہو گی جس میں کفار کو ہمیشہ کی سزا اور ناکامی میں ڈال دیا جائے گا…

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ

مگر ابو یزید

اللہ تعالیٰ سے ہر کوئی مانگتا ہے… مگر ہر ایک کا مانگنا اس کی ہمت اور مقام کے اعتبار سے ہوتا ہے… اسی لئے کوئی کام کی چیزیں مانگتے ہیںاور کوئی بے کار…کوئی ہمیشہ کام آنے والی نعمتیںمانگتے ہیں اور کوئی عارضی اور فانی نعمتیں… کوئی دعائیں مانگتے ہیںاور کوئی بد دعائیں… کوئی نیکی مانگتے ہیں اور کوئی گناہ… اللہ تعالیٰ سے مانگنے والے بنو، اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہو… اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا سلیقہ سیکھو…اللہ تعالیٰ سے وہ مانگو جو ہمیشہ کام آئے… مانگنے سے نہ تھکو… اور مانگنے میں غلطی نہ کرو… غلط دعائیں بہت نقصان پہنچاتی ہیں…اللہ تعالیٰ کی معلوم نہیںکب کو نسی شان ظاہر ہو اور دعاء قبول ہو جائے… سوچ کر مانگو، سمجھ کر مانگو، عاجزی اور ادب سے مانگو…جھلا کر، اکتا کر،سٹپٹا کر شکوے والے انداز میں نہ مانگو…بد دعائیں صرف اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے مانگو… سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت مانگو… اور اگر سچا عشق نصیب ہو جائے تو سب کچھ چھوڑو، اللہ تعالیٰ سے خود اسے مانگو… اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو… یا اللہ میں تجھ سے تجھی کو مانگتا ہوں، تو میرا بن جا اور مجھے اپنا بنا لے…تفسیر روح البیان میں لکھا ہے:

خواجہ احمد بن ابی الجواریؒ نے خواب میں اللہ جلّ شانہ کی زیارت کی…ان سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یا احمد کل الناس یطلبون منی الا ابا یزید فانہ یطلبنی

اے احمد! سب لوگ مجھ سے مانگتے ہیں مگر ابو یزید وہ مجھے مانگتا ہے…

(مراد حضرت ابو یزید بسطامیؒ ہیں جو صاحب علم و معرفت بزرگ گذرے ہیں)

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor