Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اجتماعات کا نصاب (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 523 - Saadi kay Qalam Say - Ijtemaat ka Nisaab

اجتماعات کا نصاب

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 523)

اللہ تعالیٰ کا ذکر ’’دل‘‘ کے لیے ایسا ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی…مچھلی بغیر پانی کے مرجاتی ہے …اسی طرح ’’دل‘‘ بھی ذکر کے بغیر مرجاتا ہے، سخت ہوجاتا ہے، اکڑ جاتا ہے…اور تباہ ہوجاتا ہے…مجاہدین کو دوباتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا گیا…ایک ثابت قدمی اور دوسرا کثرت ذکر… پھر کامیابی یقینی ہے…

فاَثْبُتُوا وَاذْکُرُواللّٰہَ کَثِیْرا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون

ہمارے اجتماعات کا پہلا اور ضروری کام… اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے…اللہ تعالیٰ کی یاد، اللہ تعالیٰ کا نام،…اجتماع چھوٹا ہو یا بڑا اول تا آخر…کہنے والے اور سننے والے سب اللہ تعالیٰ کی یاد میں ڈوبے رہیں…کیمرے بازی نہیں، ریاء کاری نہیں، غفلت نہیں، فخر نہیں…صرف اللہ ہی اللہ …ہم سب اللہ تعالیٰ کے ہیں، ہم سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، ہم سب نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے…ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو منانا ہے…ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو پانا ہے…ہمارا جینا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے… بس بھائیو! ہمارے اجتماعات ایسے ہوں کہ جو بھی ان میں شرکت کرکے جائے…اس کا دل ’’اللہ، اللہ‘‘ کررہا ہو…

اللہ تعالیٰ کے ذکر کے فضائل اور فوائد بے شمار ہیں…علامہ ابنِ قیمؒ نے ’’الوابل الصیب‘‘ میں سو سے زیادہ فضائل و فوائد قرآن و سنت سے جمع فرمائے ہیں اور ہمارے حضرت شیخ الحدیثؒ نے اپنے رسالہ ’’فضائل ذکر‘‘ میں ’’ابن قیم‘‘ کے ذکر کردہ اناسی(۷۹) ترتیب وار فوائد کو تہتر(۷۳) نمبرات میں بیان فرمایا ہے…میرا آپ سب کو مشورہ ہے کہ یہ پورا رسالہ ایک بار پڑھ لیں…اگر ہمت نہ ہوتو چار صفحات پر مشتمل یہی تہتر(۷۳) فوائد ہی پڑھ لیں…

ہاں بے شک ذکر اللہ کے بغیر نہ زندگی میں کچھ مزا ہے…اور نہ کوئی عبادت بغیر ذکر کے عبادت ہے…

پھر اگر چند مسلمان اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تو اس ذکر کی تاثیر اور شان مزید بڑھ جاتی ہے…حضرت امام غزالیؒ نے ’’اِحیاء العلوم‘‘ میں ایسی مجالس کی شان بیان فرمائی ہے جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے…

ان کی چند باتیں بطور خلاصہ ملاحظہ کریں…

(۱) جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کا ذکر اپنے پاس والے فرشتوں یعنی ملاء اعلیٰ میں فرماتے ہیں

(۲) جو لوگ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں…اور اس ذکر سے اُن کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی ہے تو اُن کو آسمان کا ایک منادی پکارتا ہے کہ اٹھو تمہاری مغفرت ہوگئی اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں

(۳) حضرت دائود علیہ السلام نے دعاء فرمائی …یاالٰہی! جب تو مجھ کو دیکھے کہ میں ذکر کرنے والوں کی مجلس سے غافلوں کی مجلس کی طرف بڑھا جاتا ہوں تو ان تک پہنچنے سے پہلے میری ٹانگ توڑ دے، یہ بھی تیرے احسانوں میں سے مجھ پر ایک احسان ہوگا

(۴) ایمان والے کے لیے نیک مجلس … اس کی بیس لاکھ بُری مجلسوں کا کفارہ ہوتی ہے

(۵) سفیان بن عیینہؒفرماتے ہیں…جب چند لوگ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو شیطان اور دنیا اُن سے الگ ہوجاتے ہیں…اور شیطان دنیا سے کہتا ہے کہ دیکھتی ہے یہ کیا کررہے ہیں؟ دنیا کہتی ہے کہ کرلینے دو…یہ جب اس مجلس سے جدا ہوں گے تو اُن کی گردنیں پکڑ کر تیری طرف لے آئوں گی

(۶) اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے ایسی مجلسوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے…جب انہیں ایسی مجلس ملتی ہے تو اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔ (خلاصہ از احیاء العلوم جلد اول)

اپنی مجالس میں ’’ذکراللہ‘‘ کے اِحیاء کو معمولی کام نہ سمجھیں…اور نہ ہی اس کو رسمی کام سمجھ کر نمٹائیں…ابتداء میں تھوڑی سی تلاوت ہوئی اور بس…

آج کل ہمارے دینی اجتماعات کو میڈیا، صحافیوں اور کیمروں نے ویران کردیا ہے…دینی اجتماع تو وہ ہوتا ہے جو دلوں کو پاک کردے…مگر بُری چیزوں نے ان اجتماعات کی روح فنا کردی ہے…پہلے مائیکل جیکسن ناچتا تھا اور مجمع والے اس پر کیمروں کے فلش مارتے تھے… اب موبائل فون کے کیمروں نے ہر دینی اجتماع کو اسی ’’نحوست ‘‘ میں ڈال دیا ہے…نہ ذکر اللہ ہوتا ہے اور نہ آنسو …خطیبوں کو فکر کہ ویڈیو اچھی بنے اور اُن کے چہرے تصویروں میں خوب چمکیں…اور سننے والوں کے دل غافل اور موبائل متحرک…جس طرف کیمرے کا رخ ہوتا ہے اس طرف ریاکاری ناچنے لگتی ہے…یہ درست ہے کہ دینی بیان بھی ذکر اللہ میں آتے ہیں…مگر مزید خالص ذکر بھی ہو … کچھ جاندار تلاوت، مجمع سے بھی، تلاوت کرائی جائے…کلمہ طیبہ ، استغفار اور درود شریف… ساتھ ذکر کے فضائل بھی بیان ہوتے جائیں… دل نرم ہوں گے تو دعوت جہاد اثر کرے گی… شیطان مجلس سے بھاگے گا تو دینی دعوت جمے گی …دل میں ’’اللہ‘‘ ہوگا تو اللہ کی بات دل میں اُترے گی…

اجتماعات میں دوسری اہم چیز…دعوت اِلیٰ اللہ ہے…اللہ تعالیٰ کی طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بلانا یہ بہت اونچا اور افضل عمل ہے…آپ قرآن مجید کو کھولیں…یہ عظیم کتاب بار بار دعوت اِلیٰ اللہ کے عمل کو جاری کرنے کا حکم فرماتی ہے… قرآن مجید بار بار بتاتا ہے کہ…دعوت الی اللہ معمولی کام نہیں، یہ تمام انبیاء اور رُسل کا کام ہے …تمام رسول اور نبی…اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا کام کرتے تھے… قرآن مجید ہمیں انبیاء علیہم السلام کے خطبات سناتا ہے…ایک خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید میں حضرات انبیاء علیہم السلام کے خطبات کو غور اور توجہ سے پڑھے…وہ حضرات روئے زمین کے سب سے بڑے اور سب سے مقبول خطبائِ کرام تھے…جو اپنی خطابت کو حضرات انبیاء علیہم السلام کی خطابت کے نقش قدم پر چلائے گا…وہی مقبول اور مؤثر خطیبِ اسلام ہوگا اور اُس کی خطابت دلوں کا رنگ بنے گی…اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم فرمایا…’’کو نوا انصاراللّٰہ‘‘  اے میرے بندو! تم میرے مددگار بن جائو…اللہ تعالیٰ کے مدد گار یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے مدد گار،پس جو جہاد میں جان ومال لگاتا ہے…وہ اللہ تعالیٰ کی اس پکار پر لبیک کہتا ہے… اور جودین کی دعوت دیتا ہے وہ بھی…اس پکارپر لبیک کہہ کر اللہ تعالیٰ کے دین کا مددگار بن جاتا ہے …ایسے لوگوں کی قیامت کے دن اور جنت میں بہت اونچی شان ہوگی…سب لوگ حساب دے رہے ہوں گے جب کہ یہ اپنی بے حساب نیکیوں کے اجر میں غوطے لگارہے ہوں گے…

حضرت سیدنا لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں…ان میں خاص طور پر فرمایا: اے بیٹے نماز قائم کرو، نیکیوں کا حکم کرو اور برائیوں سے روکو… اور جو مصیبت آئے اس پر صبرکرو… اس آیت مبارکہ سے حضرات اہل علم نے یہ نکتہ سمجھادیا ہے کہ… بہترین داعی اور خطیب وہ ہے جو دعوت کے راستے میں آنے والی تکلیفوں کو برداشت کرسکے… حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ جہاں جاتے تھے لوگوں کا ہجوم ان کی دعوت سننے کے لئے اُمڈ پڑتا تھا… ایک بڑے عالم دین نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا عمل کررکھا ہے؟… کوئی تسخیر کا عمل یا کوئی اور ڈھونگ؟؟کہ ہر طرف سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں… فرمایا! بھائی نہ کوئی تسخیر کا عمل کیا ہے اور نہ کوئی وظیفہ… بس جہاں بیان ہو اپنے خرچے سے جاتا ہوں… بیان پر کسی سے کچھ نہیں لیتا… اور نہ کسی اکرام و اعزاز کا تقاضا کرتا ہوں… ہاں بے شک جنہوں نے دعوت اور خطابت سے اللہ تعالیٰ کی رضا کمانی ہو… ان کو اس کی کیا فکر کہ جہاز پر جاتے ہیں یا کسی ادنیٰ سواری پر … نہ وہ کھانے کے معاملہ میں کسی پر بوچھ بنتے ہیں اور نہ آرام کے معاملہ میں… وہ دعوت الی اللہ کو اپنے اوپر اسی طرح فرض سمجھتے ہیں جس طرح نماز کو … نماز ادا کرنے کے کوئی کسی سے پیسے نہیں لیتا … اور نہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ میں تب نماز پڑھوں گا جب مجھے فلاں فلاں ڈشیں کھلاؤ گے…

دعوت الی اللہ نہ ہو تو…اپنا دین بھی کمزور ہوجاتاہے اور زمین کفر اورفساد سے بھر جاتی ہے …جہاد کی دعوت کمزور ہوئی تو دنیا میں ہر طرف کفر کے جالے تن گئے… اب اگر جہاد کی دعوت دینے والے بھی … مروّجہ نخروں اور ریاکاریوں میں پڑ جائیںتو …مسجد اقصیٰ سے لے کر بابری مسجد تک … اشک ہوں گے اور حسرتیں… اور کفار کی جیلوں میں عافیہ بہن سے لیکر کشمیر کی بیٹیوں تک… دلخراش داستانیں ہوں گی…اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے اجتماعات میں عمل کی دعوت ہو اور یہ اجتماعات مسلمانوں کو میدان عمل تک لانے کا ذریعہ بنیں… ان اجتماعات میں سیاسی جماعتوں کی نقل کرنے اور ان کی اصطلاحات اپنانے کی ضرورت نہیں… بلکہ ضرورت ہے بھرپور اور جاندار دعوت کی…اور ایسے خطباء کی جو خود باعمل ہوں… اور اپنے نظریات پر دل سے یقین رکھتے ہوں… ایسا نہ ہو کہ جہاد پر شعلہ بیانی کریں… مگر جب کوئی آزمائش آئے تو جہاد کے مخالف بن جائیں… یاکوئی دنیوی ترغیب آئے اور پھر جہاد کا نام ہی نہ لیں … ہمارے اجتماعات میں دعوت الی اللہ کا جامع نصاب وہی ہے جو ہماری جماعت کا سہ نکاتی نصاب ہے… کلمہ طیبہ، اقامت صلوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ …اس میں توحید بھی آجاتی ہے’’لا الہ الا اللہ‘‘ اور رسالت بھی’’محمد رسول اللہ‘‘…اس میں عقیدہ بھی آجاتا ہے اور عمل بھی… اس میں فکر بھی آجاتی ہے اور نظریہ بھی… اور اس میں راستہ بھی مل جاتا ہے اور میدان اور منزل بھی… جماعت کے سب خطباء خالص رضائِ الٰہی کے لئے … اس نصاب کو ہی اپنا بیان بنائیں…محنت کر کے مطالعہ کریں کلمہ سمجھیں ، نماز سمجھیں، جہاد سمجھیں… پھر ان تینوں کواپنے دل میں اتار کر… اپنی زبانوں پر لائیں اور اپنے لئے ہمیشہ ہمیشہ کا صدقہ جاریہ قائم کریں…

ہمارے اجتماعات کا تیسرا اہم کام … توبہ الی اللہ ہے… الحمدللہ اجتماعات میں شریک افراد کا ذہن خوب بن جاتا ہے… مگر ان افراد کو فوراً وصول نہ کرنے کی وجہ سے… اس مبارک کام میں اَفراد کی قلت رہتی ہے… ہمارے اِجتماعات ماشاء اللہ خوب جم کر چلتے ہیں مگر ان کا اختتام ہنگامہ خیز ہوتا ہے… دلوں کو نرم کر کے واپس دنیا کی ٹھنڈی ہوا میں بھیج دیا جاتا ہے… اجتماع کے آخر میں آپا دھاپی سے سارا ماحول بگڑجاتا ہے…

عجیب بات ہے کہ…وہ جماعت جس کے ہر مہینے اوسطاً تین ہزار بیانات ہوتے ہیں … وہ پورے مہینے میں تین سو افراد بھی وصول نہیں کر سکتی … آپ نے روایات میں پڑھا ہوگا کہ… بنی اسرائیل کا وہ قاتل جو سوافراد کو قتل کر چکا تھا… اس کو توبہ کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ ماحول بدل لے… اور اچھی صحبت کی طرف سفرکرے… اس نے سفر کیا راستے میں مر گیا مگر کامیاب ٹھہرا… آپ نے تاریخ میں پڑھا ہوگا کہ وہ حضرات صحابہ کرام جو فتح مکہ کے وقت یابعد میں مسلمان ہوئے… انہوں نے سابقین اولین مسلمانوں کے مقام تک پہنچنے کے لئے گھر چھوڑے اور محاذوں کا رُخ کیا… وہ سمجھ گئے تھے کہ ماضی کی کمی کوتاہی پوری کرنے کا بہترین راستہ یہی ہے… ایک مسلمان کو ہجرت کی ابتدائی شکل پر لانا ہوگا… کیونکہ ماحول کی تبدیلی بہت سے گنا ہوں سے جان چھڑا دیتی ہے…اور اچھا ماحول چند دن میں سالوں کا سفر طے کرادیتا ہے …جماعت کے پاس دورہ تربیہ کی نعمت ہے… خود اس شعبہ کے رفقاء بھی اگر محنت کریںاور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر …تربیہ میں آنے والے ہرفرد کو داعی بنا کر واپس بھیجا جائے تو چند ماہ کے اندر پورے ملک میں جگہ جگہ یہ مبارک سلسلہ شروع ہوجائے…اجتماعات میں دورہ تربیہ کے لئے نقد ارادے لئے جائیں…دورہ اساسیہ،ریاضت … اورمیدان عمل کے لئے لوگوں کو نقد نکالا جائے تو… ان اجتماعات کا اصلی مقصد پورا ہوجائے… بھائیو! اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے… کفر نے بہت طاقت بنا لی ہے …مسلمانوں کی زمینیں اور مقدسات کافروں کے قبضے میں ہیں… کروڑوں مسلمان غلامی اور لاکھوں مسلمان قید میں ہیں… ان حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ… بھرپور محنت کریں…بہت سنجیدہ محنت… بہت منظم محنت… وہ دیکھو! سچاوعدہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اگر پوری محنت کروگے تو ہم تمہارے راستے کھول دیں گے… لبیک اللھم لبیک … لبیک اللھم لبیک…

لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor