Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک پہلو (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 524 - Saadi kay Qalam Say - Aik Pehlu

ایک پہلو

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 524)

اللہ تعالیٰ اپنے بعض مخلص بندوں کو ان کی ’’موت‘‘ کے وقت ’’سلام ‘‘ فرماتے ہیں… اور جنت میں سب اہل جنت کو ’’سلام ‘‘فرمائیں گے…سلام یعنی سلامتی کی پکی ضمانت…

سَلَامٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ

یہ سورہ یٓس کی آیت مبارکہ ہے…بعض اہل تجربہ اسے ’’اسم اعظم ‘‘ قرار یتے ہیں…

سَلَامٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ

ہمارے مرشد حضرت سید احمد شہیدؒ…کئی افراد کو اس آیت مبارکہ کے ورد کی تلقین فرمایا کرتے تھے …

کسی کو ایک سو بار…اور کسی کو ایک ہزار بار… یا کم زیادہ کہ وہ روز پڑھا کرے…

سَلَامٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ

کئی لوگ روزی کی تنگی کا بتاتے…کئی بیماریوںکا، کئی غموں اور پریشانیوں کا…حضرت سید احمد شہیدؒ بڑے مضبوط پیر تھے…جوانی میں ہی نسبتوں میں رنگے گئے تھے…عملیات بھی بھرپور جانتے تھے…کیمیاگری کا نسخہ بھی ان کو حاصل تھا …مگر نہ خانقاہ چلائی، نہ عملیات میں لگے اور نہ سونا بنایا… سیدھے دوڑتے ہوئے ایمان اور اسلام کی سب سے اونچی چوٹی پر چڑھ گئے…اور اگلے چار سو سال کے وسیع جہاد کا اجر اپنے نام کر لیا… بے شک بڑی عقلمندی فرمائی اور بہت نفع کا سودا کمایا…

سات سال کی جہادی محنت…مگر صدیوں کا اجر اور ہمیشہ کا صدقہ جاریہ…

حضرت سید صاحب نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا مبارک راستہ پکڑا …برصغیر کی سب سے بڑی خانقاہ کو چھوڑا…لاکھوں عقیدتمندوں کو چھوڑا… اور چند سو مجاہدین کو ساتھ لے کر نکل پڑے… ملنے جلنے والے لوگ اپنے مسائل بتاتے تو حضرت سید صاحب …اپنے مجرب وظائف بتا دیا کرتے … جو وظیفہ آپ زیادہ بتایا کرتے تھے …وہ یہ آیت تھی

سَلَامٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ

ابھی چند دن سے اس آیت کے انوارات بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں تو ارادہ تھا کہ آج اس آیت کی تفسیر بھی ہو جائے…اور اس کے کچھ خواص اور مجربات بھی عرض کر دئے جائیں…

سَلَامٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ

مگر آج سیرت طیبہ کے موضوع پرکچھ عرض کرنے کا ارادہ ہے… توفیق ملی تو اس آیت مبارکہ پر کسی اور نشست میں بات چیت کریں گے ان شاء اللہ…

حضرت سید احمد شہیدؒ کا جہادی لشکر… بہت چھوٹا تھا مگر بے حد قیمتی اور معتبر… اس میں راسخ علم والے علماء بھی تھے محدثین بھی… صاحب نسبت اولیاء بھی تھے اور تارک الدنیا زاہدین بھی… ماشاء اللہ ایک مثالی لشکر تھا…چھوٹی سی جماعت مگر مکمل جماعت… اس تحریک کے فوری نتائج زیادہ ظاہر نہیں ہوئے مگر برصغیر میں ’’فریضہ جہاد‘‘ کا احیاء ہو گیا… وہ وقت ہے اور آج کا دن … اس خطے میں جہاد بھی روشن ہے اور مجاہدین بھی موجود ہیں…آج سیرت کے حوالے سے یہ بات عرض کرنی ہے… کہ ’’مجاہدین ‘‘ کی تربیت حضور اقدس ﷺ کی سیرت مبارکہ کی روشنی میں ہونی چاہیے…آپﷺنے جہاد فرمایا …بار بار جنگوں میں نکلے، اپنے صحابہ کرام کو ہر طرف جہاد کے لئے بھیجا… اس پورے جہاد میں …مجاہدین کے کھانے پینے کا نظام کیا تھا؟… آپ باریکی سے مطالعہ کر لیں…کہیں کوئی لوٹ مار، دھمکی، یا حرص کا ایک منظر بھی نظر نہیں آتا… سات غزوات تو ایسے تھے کہ پورا لشکر ٹڈیاں کھا کر چل رہا تھا… ایک غزوہ میں کھجور کی گٹھلیاں چوس کر گزارہ تھا … ایک غزوہ میں سب کے پیٹ پر پتھر بندھے تھے…

معلوم ہوا کہ اس پورے مبارک جہاد میں …کھانے کی لالچ، کھانے کی حرص، اچھا کھانا کھانے کی خواہش … زیادہ کھانے کا شوق… کچھ بھی نظر نہیں آتا… یعنی یہ جہاد ’’پیٹ کی شہوت‘‘ سے سے آزاد تھا…اسی لئے یہ آگے بڑھتا گیا اور تیس سال کے عرصے میں اس نے دنیا بھر کے کفر کو روند ڈالا… آپ غور کریں… حضور اقدس ﷺ کے اس مبارک جہاد میں… زیادہ کھانے اور اچھے کھانے کا آسانی سے انتظام ہو سکتا تھا…

عرب خانہ بدوش تھے…ہر راستے پر ان کے قافلے پڑے رہتے تھے…مدینہ منورہ میں غیر مسلم اقلیتیں موجود تھیں…مگر یہ جہاد فی سبیل اللہ تھا…داداگیری،بھتہ خوری اور فساد نہیں… ان سب سے کھانا وصول کیا جا سکتا تھا… مگر نہیں کیا گیا… کیونکہ کھانے کو مقصود بنانے والے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے… اچھا کھانا تو دور کی بات وہاں پورا کھانا بھی پسندیدہ نہیں تھا…انسان پیٹ سے آزاد ہوتا ہے تو اس کا ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے… اسی لئے نصاب یہ مقرر تھا کہ …اپنے پیٹ کے تین حصے کرو… ایک حصہ کھانے کا، ایک پینے کا…اور ایک سانس لینے کا… اور فرمایا مومن ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں سے… اور اپنا عمل یہ تھا کہ آپ ﷺ نے پوری زندگی کبھی مکمل پیٹ بھر کر کھانا تناول نہ فرمایا…

یہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کا وہ اہم پہلو تھا… جس نے جہاد کو بے انتہا ترقی عطاء فرمائی … کہتے ہیں کہ ایک مسلمان فاتح نے کافروں کے ایک شہر پر حملہ کیا… اہل شہر مقابلہ کی تاب نہ لا سکے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے… وہ فاتح شہر میں داخل ہوا تو اسی شہر کے قائدین نے اس کی پرتکلف دعوت کی…طرح طرح کے کھانے، ہر طرح کے کھانے… وہ دستر خوان پر بیٹھا تو اپنے خادم سے کہا… ہمارا کھانا لاؤ… اس نے چمڑے کا تھیلا پیش کر دیا… فاتح نے اسے دستر خوان پر الٹ دیا، اس میں خشک روٹیاں تھیں…وہ مزے لے لے کر کھانے لگا…

عمائدین نے عرض کیا…یہ سب کھانے ہم نے آپ کے لئے تیار کرائے ہیں… آپ یہ بھی تناول کریں…وہ کہنے لگا…اگر میں بھی تمہاری طرح ان کھانوں کا عادی ہو گیا تو پھر تمہاری طرح ذلیل ہو کر ہتھیار ڈالوں گا… حضرت سید احمد شہیدؒ نے اپنے لشکر کی یہی تربیت کی… یہ بڑے بڑے علمائ، خطباء ، مشائخ اور امیر زادے… طرح طرح کے مرغن کھانوں کو چھوڑ کر اس لشکر میں شامل ہوئے اور پھر انہوں نے سادہ کھانے کو ہی اپنا طریقہ بنا لیا…

مگر ہر جماعت میں ہر طرح کے لوگ گھس جاتے ہیں… سید صاحب کی جماعت میں بھی بعض ’’ پیٹو، معدہ پرست‘‘ دعوت خور شامل ہو گئے … اور حضرت کی تحریک کو جو سب سے بڑا اور پہلا نقصان پہنچا وہ انہی افراد کی وجہ سے پہنچا …

حضرت سید صاحبؒ کی خلافت اور حکومت کئی علاقوں میں تسلیم کر لی گئی تھی… وہاں کے مسلمان نہایت خوشی سے اپنی زکوٰۃ اور عشر وغیرہ… سید صاحب کو دیتے تھے… سب معاملات ٹھیک چل رہے تھے کہ…ان دعوت خور پیٹو مجاہدین نے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا…وہ جس علاقے میں جاتے وہاں طرح طرح کے اچھے کھانوں کی فرمائش کرتے… حالانکہ ان کا کام اتنا تھا کہ جاتے اور زکوۃ و عشر وصول کر کے واپس آ جاتے … مگر یہ پیٹ کے چکر میں پڑ گئے… پھر جو لوگ اچھا کھانا نہ کھلاتے یہ ان کو دھمکیاں دیتے اور تنگ کرتے… اور یوں بالآخر یہ بدنامی ایسی پھیلی کہ ان چند افراد کے پیٹ کی آگ نے …اتنی بڑی تحریک کو خون میں ڈبو دیا… یقینی بات ہے کہ … زکوٰۃ وصولی کے لئے جانے والے سب افراد ایسے نہ تھے… سید صاحب کا لشکر تو اولیاء اور زاہدین کا لشکر تھا…فتح پشاور کے موقع پر جب سید صاحبؒ نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کو …سلطان سے مذاکرات کے لئے بھیجا تو سلطان نے انہیں کھانا پیش کیا…شاہ اسماعیل شہیدؒ نے فرمایا : ہم اپنے امیر سے کھانے کی اجازت لے کر نہیں آئے اس لئے ہم نہیں کھا سکتے… حالانکہ وہ اور ان کے تمام رفقاء دن بھر کے بھوکے تھے… مگر کھانا نہ کھایا… سلطان نے وہ کھانا ساتھ باندھ کر دے دیا کہ واپس جا کر اگر اجازت مل جائے تو کھا لیں…واپس آئے تو رات کے دو بج چکے تھے تو حضرت سید صاحب کو نہ جگایا …صبح جب اجازت ملی تب وہ کھانا کھایا…

یعنی لشکر کے سب لوگ ایسے نہیں تھے…بس چند ایک اس بری عادت میں پڑے تو شیطان اور مخالفین نے بدنامی پھیلا دی…ہر طرف یہی بات چل پڑی کہ مجاہدین زکوۃ اور عشر لینے آتے ہیں تو لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں… زبردستی کھانے پکواتے ہیں اور نہ کھلانے والوں کو مارتے پیٹتے ہیں … یہ بدنامی اس قدر بڑھی کہ بغاوت کی بنیاد بن گئی… اور بھی کئی عوامل جمع ہوئے تو لوگوں نے ایک رات فساد برپا کر دیا اور سید صاحب کے مجاہدین کو سینکڑوں کی تعداد میں شہید کر دیا…

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہے…اس مہینہ میں حضرت آقا مدنی ﷺ کی مبارک سیرت بیان کی جاتی ہے… ضرورت اس بات کی ہے کہ …اس مبارک اور کامیاب سیرت کو ہم اپنی زندگیوں میں لائیں… ہر سال کم از کم اس سیرت مبارکہ کے مطب سے اپنی ایک بیماری کا علاج کروائیں … مثلاً اس سال ہم یہ عزم کر لیں کہ…کھانے پینے کے معاملہ میں ہم سیرت طیبہ سے مکمل روشنی لیں گے… پھر تحقیق کریں کہ حضرت آقا مدنی ﷺ کے کھانے پینے کے بارے میں کیا نظام تھا… اس بارے میں آپ ﷺ کی ہدایات کیا ہیں… اس بارے میں آپ ﷺ کا ذوق مبارک کیا تھا…پھر ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگ کر…اسی نظام کو حتی الوسع اپنانے کی کوشش کریں…کیونکہ کامیابی تو آپ ﷺ کی پیروی میں ہے… آج کل جو کفر کا فتنہ… اہل اسلام کے خلاف سرگرم ہے…اس کا ایک وار یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں زیادہ کھانے، جدید کھانے اور مہنگا کھانے کا شوق ابھارا جائے …جب یہ شوق پیدا ہو جائے گا تو اس شوق کو پورا کرنے کے لئے مال کی ضرورت ہو گی…اور جب یہ شوق پورا کر لیں گے تو کئی اور خواہشات بھڑک اٹھیںگی… اور یوں ہر مسلمان دنیا کی غلامی میں پڑ جائے گا… یا پھر جرائم کا راستہ اختیار کرے گا…وہ جو جدید کھانے کھائے بغیر زندہ نہ رہ سکے وہ کہاں جہاد کرنے جائے گا… زیادہ کھانے سے بزدلی بھی پیدا ہوتی ہے اور بیوقوفی بھی… جب تک کوئی انسان روزانہ کچھ وقت بھوکا نہ رہے وہ عقلمندی اور حکمت کو نہیں پا سکتا…

ذائقہ پرستی انسان کو حرام کی طرف لے جاتی ہے… پرسوں کی خبروں میں تھا کہ میکڈونلڈ کے ایک برگر سے چوہے کا سر برآمد ہوا ہے…

 بہرحال یہ ایک بہت اہم موضوع ہے… ہم سب کو ایمانداری کے ساتھ حضور اقدس ﷺ کی سیرت مبارکہ کے اس پہلو کا مطالعہ کرنا چاہیے… اور پھر اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر حتی الوسع اسے اپناناچاہیے… خصوصاً مجاہدین کے لئے یہ پہلو بہت زیادہ اہم ہے… آپ جب کہیںدورہ کرنے جائیں…بیان کرنے جائیں…  تو اپنے اصل کام کو مقدم رکھیں اور دعوت خوری کے فتنے میں نہ پڑیں… اجتماعی اموال میں سخت احتیاط کریں … یہ مال ایک دوسرے کی دعوتیں کرنے کے لئے نہیں … خصوصاً حساب کے لئے جانے والوں کو تو کبھی ان لوگوں کی دعوت نہیں کھانی چاہیے جن سے وہ حساب لے رہے ہیں…بھائیو! شریعت کے اصولوں میں خیر ہے، برکت ہے، عزت ہے اور راحت و کامیابی ہے…

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor