Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امَّا مِنَ الْاَرضِ فَلَا (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 526 - Saadi kay Qalam Say - Amma Min Al Araze Fala

امَّا مِنَ الْاَرضِ فَلَا

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 526)

اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی ’’کرامت‘‘ دکھا دی …ہمارے زمانے کے مجاہدین کی کرامت … ایمان کو قوت اور دلوں کو شفا دینے والی کرامت… حوصلہ،ہمت اور جذبہ بڑھانے والی کرامت… چار مجاہدین نے انڈیا کے پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر حملہ کیا… جمعہ شریف کے بعد والی رات تہجد کے وقت…جی ہاں! تین بجے کے آس پاس…وہ وقت جب زمین ، آسمان کے قریب ہو جاتی ہے…جب دعاؤں اور آہوں کے نالے عرش کو چھوتے ہیں… جب رحمت کا مالک آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے… جب معافی مانگنے والوں کو فوراً معافی دے دی جاتی ہے… جب رزق مانگنے والوں کے لئے خزانوں کے منہ کھول دئیے جاتے ہیں… جب نفس روندا جاتا ہے اور زبان سیدھی چلتی ہے… یہ اللہ والے مجاہدین …اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے، اللہ تعالیٰ کو اپنی جان بیچنے… مظلوموں کا بدلہ لینے… اور زمین کو فساد اور نجاست سے پاک کرنے کے لئے…انڈین فضائیہ کے مضبوط ترین اڈے میں گھس گئے… سبحان اللہ! کیا کیفیت ہو گی اور کیا منظر… کیا جذبے ہوں گے اور کیا نعرے… کیا کیفیت ہو گی اور کیا سرمستی… اللہ اکبر کبیرا… حملے کو اڑتالیس گھنٹے بیت چکے…مشرکین ابھی تک نہ ان مجاہدین کی درست تعداد سمجھ سکے اور نہ ان کے آنے کے راستے… ہاں! بے شک وہ فرشتے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے غزوہ بدر میں جہادی وردی پہنی تھی…وہ قیامت تک کے بر حق مجاہدین کے لئے اترتے رہتے ہیں…

خبریں سنتے ہوئے کون یقین کر رہا ہو گا کہ… اتنی سردی اور اتنے سخت موسم میں کوئی بغیر سوئے ، بغیر کھائے اڑتالیس گھنٹے لڑ سکتا ہے… آپ چوبیس گھنٹے مسلسل جاگ کر دیکھ لیں دماغ لرز جائے گا… آپ چوبیس گھنٹے بھوکے رہ کر دیکھ لیں چکر آ جائیں گے… مگر یہاں  ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کا سامنا تھا…مگر وہ ایمانی شان کے ساتھ تازہ دم لڑتے رہے اور دشمنوں ،قاتلوں کی لاشیں گراتے رہے…ان کے خلاف ہر اسلحہ ، ہر قوت اور ہر عسکری ٹیکنالوجی استعمال ہوئی مگر…ان کو آسمان سے مدد بھی آ رہی تھی… اور رزق بھی… حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بار ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ دشمنوں کے بہت بڑے لشکر کے سامنے ہوئے… دشمنوں نے کہا ہتھیار ڈال دو… مٹھی بھر افراد ہو ، ہمارے سامنے چند منٹ بھی نہ ٹھہر سکو گے…جواب میں فرمایا : تم اسلام قبول کر لو…یا ہتھیار ڈال کر جزیہ دو یا مرنے کو تیار ہو جاؤ… دشمنوں کے سالار نے حیرت سے پوچھا… کیا تمہارے لئے کوئی بڑی کمک اور مدد آنے والی ہے؟ فرمایا

اَمَا مِنَ الْاَرْضِ فَلا

زمین سے تو کسی مدد اور کمک کے پہنچنے کا امکان نہیں…مگر آسمان سے ضرور ہے…

اور پھر وہی ہوا جو ان کا گمان تھا…بالکل واضح اور سچا ارشاد ہے…

اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِیْ

میرا بندہ مجھ سے جو گمان رکھتا ہے…میں اس کے گمان کے مطابق اپنی شان دکھاتا ہوں

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَأن

ہر دن اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان ہے

چند دن پہلے انڈین فوجی… کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی لاشیں گرا رہے تھے… مگر دو جنوری سے وہ اپنے قابل فخر سورماؤں کی لاشیں گھسیٹ رہے ہیں… این ایس جی، بلیک کیٹ کمانڈو کا ماہر کرنل نرنجن…نشانہ بازی میں سونے کا تمغہ جیتنے والا عالمی شہرت یافتہ صوبیدار فتح سنگھ… اور معلوم نہیں کون کون… سب کھیت ہو گئے، بری طرح مارے گئے… پہلے اعلان کیا کہ مجاہدین چھ ہیں اور ہم نے سب مار دئیے ہیں…پھر اعلان ہوا کہ ایک اور بھی ہے وہ زندہ ہے اور لڑ رہا ہے… پھر بتایا گیا کہ نہیں! دو اور بھی زندہ ہیں…اور جنگ کر رہے ہیں…

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰی الَّذِیْنَ آمَنُوا

یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نصرت نہیں تو اور کیا ہے؟… یہ واضح کرامت نہیں تو اور کیا ہے؟… یہ جہاد اور مجاہدین کی حقانیت نہیں تو اور کیا ہے؟… یہ مظلوم اور مقرب محمد افضل گورو شہید کی روحانی اور جہادی سلطنت نہیں تو اور کیا ہے؟… اب اتنا بڑا ملک رو رہا ہے اور بزدلوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے… پاکستان کے حکمران انڈیا کے الزامات کے سامنے…معلوم نہیں کیوں جھکتے ہیں، کیوں شرماتے ہیں؟… انڈیا نے مشرقی پاکستان کاٹ ڈالا … انڈیا نے بلوچستان کو آگ کی بھٹی بنا دیا…انڈیا نے کراچی کو مسلمانوں کا مذبح خانہ بنا دیا … انڈیا نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف اڈے کھول لئے… انڈیا نے پیارے کشمیر کو لہو لہو کر دیا…انڈیا نے بابری مسجد سمیت بے شمار مساجد کو ویران کیا … انڈیا نے کبھی پاکستان کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کیا… پھر ایسے مکار دشمن کے دباؤ میں آنا کون سی عقلمندی ہے اور کونسی غیرت؟… یہ حکمرانوں کی بھول ہے کہ انڈیا سے یاری پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بنا دے گی…نیپال والوں سے جا کر پوچھو! انہیں انڈیا کی یاری اور غلامی نے کیا دیا… سری لنکا سے پوچھو اسے انڈیا نے کہاں کا چھوڑا… پاکستان کا تو وہ ہمیشہ سے دشمن ہے… وہ تمہیں ترقی کے نام پر نچوڑ لے گا…کاش تم مشرکین کے مزاج کو سمجھتے…اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے…

اِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ

کہ ہر مشرک سراسر نجاست ہے، گند ہے اور خرابی ہے…

پھر قرآن مجید نے بہت عجیب نکتہ سمجھایا … اے مسلمانو! معاشی ترقی کے دھوکے میں مشرکین سے یاری نہ کر بیٹھنا…

وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ

اللہ تعالیٰ تمہیں غنی فرما دے گا…تم ان مشرکوں کو اپنے حرم کے قریب نہ آنے دو…دل کے قریب لانے کا تو سوال ہی نہیں… کون کلمہ گو مسلمان اپنے دل کو نجاست سے آلودہ کر سکتا ہے؟ …تجارت، ترقی سب دھوکہ ہے… حکمرانو! اگر ہماری نہیں سنتے تو نہ سنو…اللہ تعالیٰ کے فرمان کو تو مانو… اللہ تعالیٰ کے فرمان کو تو سنو… نہیں سنو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے…ہاں! صرف اپنا… ایمان والوں کا اور مجاہدین کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے … وہ جن کی نصرت کے لئے فرشتے اترتے ہیں اور وہ جو رب تعالیٰ سے سودا کر چکے ہیں…ان کو ستا کر تم کہیں کے نہیں رہو گے…

جانباز سرفروش فدائیوں کی پاکیزہ ماؤں کو سلام …شہداء اسلام کی عظمت اور کرامت کو سلام…

ایک مومن پانچ شدائد

گذشتہ’’ رنگ و نور‘‘ میں عرض کیا تھا …ایک خالص اور سچے مومن کو پانچ مخالفین ، پانچ امتحانات اور پانچ شدائد کا سامنا ہوتا ہے… مسلمان اس سے حسد کرتے ہیں… منافق اس سے بغض رکھتے ہیں…کافر اس سے قتال کرتے ہیں… شیطان اس کو گمراہ کرتا ہے… اور نفس اس سے جھگڑے کرتا ہے…

ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ

٭ وہ ان پانچ سختیوں سے نہ گھبرائے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرے

’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ وہ ایمان کا اعلان کریں گے اور پھر انہیں آزمایا نہیں جائے گا‘‘( القرآن)

ان آزمائشوں سے ہی سچے مومن کی پہچان ہوتی ہے…جو ڈٹا رہتا ہے وہی مومن ہوتا ہے…

٭ ان پانچ امتحانات اور سختیوں کا مقابلہ یہ ہے کہ…مومن اپنے ایمان پر قائم رہے، ایمان کو مضبوط کرتا رہے…ایمان میں ترقی کرے … ایمان ہی کے ذریعے وہ ان تمام مخالفین پر غالب ہو سکتا ہے…

٭ ایمان کی بنیاد ہے کلمہ طیبہ

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اس کلمہ سے اپنا تعلق اور رشتہ مضبوط کیا جائے تو ایمان سلامت رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے…کلمہ طیبہ کا مفہوم سمجھیں، اسے دل میں اتاریں …کلمہ طیبہ کو سیکھیں اور سکھائیں… کلمہ طیبہ کے حقوق ادا کریں…کلمہ طیبہ کے لئے قربانی دیںاور کلمہ طیبہ کا کثرت سے وِرد کریں…

٭ دل میں اگر ایمان اچھی طرح اتر چکا ہو تو وہ خود سکھاتا ہے کہ…پانچ امتحانات اور پانچ سختیوں میں سے ہر ایک کا مقابلہ کس طرح کرنا  ہے… ایمان کا فیض ہر موقع پر خود حاضر ہو جاتا ہے اور …مومن کی رہنمائی کرتا ہے… جس طرح ڈرائیوری کا فن اگر کسی کے دل و دماغ میں اتر چکا ہو تو اب گاڑی چلاتے وقت یہ مہارت آٹو میٹک اس کے پاؤں، ہاتھوں اور دیگر اعضاء میں موقع کے مطابق حاضر ہو جاتی ہے… کب بریک لگانی ہے…کب ریس چھوڑنی ہے اور کب کیا کرنا ہے…

اس لئے اللہ تعالیٰ سے ’’ایمان کامل‘‘ اور ’’ ایمان مباشر بالقلب‘‘ مانگتے رہنا چاہیے

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا یُّبَاشِرُ قَلْبِی

یا اللہ آپ سے ایسے ایمان کا سوال ہے جو ایمان میرے دل میں اترا ہوا ہو…

ایمان کو سمجھیں، ایمان کو سیکھیں، ایمان کا مذاکرہ کریں ،ایمان کو مانگیں ، ایمان کی قدر کریں اور ایمان ہی کو اپنا سب سے اصل اور اہم سرمایہ سمجھیں…

٭ ایمان سکھاتا ہے کہ… حاسد مسلمانوں کا مقابلہ تحمل اور برداشت کے ذریعہ ہو سکتا ہے… حاسدین کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہیں…مسلمانوں میں سے جو آپ سے حسد کرے آپ اس کے پیچھے نہ پڑیں، بدلہ نہ لیں … تحمل کریں، معاف کریں…تب یہ حسد آپ کا نقصان نہیں کر سکے گا…یہ حسد واپس لوٹ جائے گا…آپ کا یہ طرز عمل بہت سے حاسدین کو آپ کا گہرا ہمدرد دوست بنا دے گا… اور آپ کی صلاحیتیں محفوظ رہیں گی… لیکن اگر آپ بدلہ چکانے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر اتر آئے تو …آپ اپنا ہی نقصان کریں گے… آپ بغض اور کینے کے بیمار بن جائیں گے… آپ کی صلاحیتیں ضائع ہو جائیں گی…اور آپ ایمان میں ترقی نہیں کر سکیں گے… دلائل قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اور احادیث و سیرت میں بھی… موضوع بہت طویل ہے اس لئے خلاصہ اور اشارہ عرض کر دیا…

٭ ایمان سکھاتا ہے کہ منافقین کے بغض اور شر سے حفاظت… ایمان والوں کی ’’جماعت ‘‘ کے ذریعہ ہو سکتی ہے…منافقین سے ہمیں دو بڑے خطرے ہیں…پہلا خطرہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بھی(نعوذ باللہ) منافق بنا ڈالیں…وہ حب دنیا کا بیج ہر وقت ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں… جان بچاؤ، مال بناؤ ، دنیا میں مستقبل سنوارو، عیش کرو، آرام کرو، امن سے رہو وغیرہ… یہ سب پُرکشش دعوتیں ’’منافقین ‘‘ کے ساتھ چلتی ہیں… انسان کمزور ہے دنیا میں اپنے تقاضوں اور خواہشات کی خاطر ان باتوں کا شکار ہو سکتا ہے… دوسرا خطرہ منافقین سے یہ ہے کہ وہ ہمیں جانی، مالی اور عزت کا نقصان پہنچائیں ہمیں کافروں کے سپرد کریں…کافروں کو ہم پر چڑھا لائیں…

قرآن مجید نے ’’فتنہ نفاق‘‘ کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے… اور اہل ایمان کو منافقین کے ان دونوں خطروں سے مکمل آگاہ کیا ہے… آپ قرآن مجید میں وہ آیات پڑھ لیں جن میں منافقین کا تذکرہ ہے… تو آپ ان دونوں خطرات کو اچھی طرح سمجھ لیں گے… اب علاج کیا ہے؟… سورہ توبہ میں علاج بیان فرما دیا… ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں… ایمان والی جماعت بن کر رہیں… خالص دینی جماعت… جہاد ، اقامت صلوۃ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، زکوٰۃ… اللہ و رسول کی اطاعت…والی جماعت… اس جماعت کی برکت سے وہ خود بھی ’’منافق‘‘ ہونے سے بچیں گے اور منافقین کے شر سے بھی محفوظ رہیں گے… شرط یہ کہ جماعت خالص دینی ہو… جماعت میں آنے اور رہنے کا مقصد بھی صرف دین ہو، دنیا نہ ہو… جماعت کے کاموں میں شرکت ہو …اور اطاعت امیر ہو…تب جماعت کی برکات حاصل ہوں گی…

٭ ایمان سکھاتا ہے کہ کفار کے قتال کا علاج …زوردار جہاد و قتال اور دعوت جہاد ہے … اسی لئے حضور اقدس ﷺ سے فرمایا گیا:

’’آپ خود بھی قتال کریں، آپ پر آپ کے نفس کی ذمہ داری ہے اور آپ ایمان والوں کو قتال پر ابھاریں‘‘… ( القرآن)

قتال اور دعوت قتال…ان دو کا نتیجہ کیا نکلے گا

عَسَی اللّٰہُ اَن یَّکُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا

اس کی برکت سے اللہ تعالی کافروں کی جنگ توڑ دے گا… ان کی آپ کے خلاف لڑائی کو روک دے گا… وہ کمزور پڑیں گے، پیچھے ہٹیں گے اور صلح کے لئے جھکیں گے…

یہ بھی کافی مفصل موضوع ہے… اس آیت مبارکہ سے اس کا پورا خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے…

٭ ایمان سکھاتا ہے کہ…شیطان کا مقابلہ ’’ذکر اللہ‘‘ کے ذریعہ سے کیا جا سکتا ہے… کلمہ طیبہ اور استغفار سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے… اور سچا ذکر شیطان کو کمزور اور مضمحل کر دیتا ہے…جس دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہو، اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اس دل پر شیطان اپنا قبضہ نہیں جما سکتا… اسی لئے ذکر اللہ ہر عبادت کی جان اور ہر عبادت کی قبولیت ہے… ذکر میں بہت محنت کرنی چاہیے تاکہ…شیطان ہمارے دل پر ڈاکہ نہ ڈال سکے…

٭ ایمان سکھاتا ہے کہ…نفس امارہ کے جھگڑوں اور شرارتوں کا مقابلہ… ’’مجاہدہ‘‘ یعنی نفس کی مخالفت کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے… انسان اپنے نفس کی تمام جائز خواہشات پوری کرے تو یہ فوراً ناجائز خواہشات کا مطالبہ کر دیتا ہے… اور نفس کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں… اس لئے اگر اس کو لگام دی جائے… اور اسے خواہشات سے روکا جائے تو یہ درست ہونے لگتا ہے اور بالآخر یہ بھی نفس لوّامہ اور نفس مطمئنہ بن جاتا ہے… جہاد کی مشقتیں ، روزے کی بھوک، عبادت کی تھکاوٹ …کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا… اچھی صحبت… یہ سب نفس کی اصلاح کے ذریعے ہیں…

معذرت

ایک مومن پانچ شدائد کا مضمون… بہت تفصیل مانگتا ہے…گذشتہ کالم میں یہ موضوع شروع کرنے کے بعد احساس ہوا کہ…بہت مفصل موضوع چھیڑ بیٹھا ہوں… اب اسے کس طرح سمیٹا جائے…اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگ کر یہ خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے…کمی ، کوتاہی اور اختصار پر معذرت… اللہ تعالیٰ اسے میرے لئے اور آپ سب کے لئے نافع بنائے… ہم سب کو ایمان کامل ، ایمان کی سلامتی اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے… آمین یا ارحم الراحمین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor