Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اَجَل مُّسَمیّٰ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 527 - Saadi kay Qalam Say - Ajal Musamma

اَجَل مُّسَمیّٰ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 527)

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے ایک ’’وقت ‘‘ مقرر فرما دیا ہے… قرآن مجید اسے ’’اجل مسمیّٰ ‘‘ کہتا ہے… ایک مقرر شدہ وقت… جسے کوئی نہیں بدل سکتا… جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا…مثلاً ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے… وہ وقت آنے سے پہلے ساری دنیا مل کر بھی اسے نہیں مار سکتی…اور جب وہ وقت آ جاتا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اسے نہیں بچا سکتی… قرآن مجید نے ان افراد کے واقعات سنائے ہیں…جن کو مارنے کی ہر کوشش ہوئی مگر وہ ان کوششوں سے نہ مرے… آگ کے جلتے آلاؤ میں…مسلح فوجوں کے نرغے میں…تیز چھری کی دھار کے نیچے… وہ جیتے رہے اور اپنی ’’اجل مسمیّٰ‘‘ کی طرف بڑھتے رہے … پھر وہ ’’اجل مسمیّٰ‘‘ آ گئی تو وہ چلے گئے… قرآن مجید بار بار ’’اجل مسمیّٰ‘‘ کا مسئلہ سمجھاتا ہے…تاکہ بے صبروں کو صبر ملے کہ…محنت کا نتیجہ وقت پر ہی ظاہر ہو گا … تاکہ خوفزدہ لوگوں کو چین ملے کہ …وقت سے پہلے کوئی مصیبت نہیں آ سکتی…تاکہ بے ہمتوں کو حوصلہ ملے کہ… موت اللہ کے سوا کسی کے ہاتھ میں نہیں… جو کام تمہارے ذمہ لگایا گیا ہے تم وہ کرو… باقی جو کچھ ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہی ہو گا… وقت کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی برباد نہ کرو… اپنے عمل کو تباہ نہ کرو…کام کرو کام… اپنی ذمہ داری ادا کرو… اپنے فرائض پورے کرو… جو وقت تمہارے پاس ہے اسے قیمتی بناؤ…

 

گرفتاری دور، دور

ہمارے ایک استاذ محترم تھے…بہت عبادت گذار ، اللہ والے اور با اصول…لوگوں سے کم ملتے تھے اور بہت کم بولتے تھے…خود سچے تھے تو دوسروں کو بھی سچا سمجھتے تھے… ان کو کسی نے بتایا کہ جو لوگ عمرہ پر جاتے ہیں، جب ان کے ویزے کی تاریخ ختم ہو جائے اور وہ واپس نہ جائیں تو سعودی پولیس… یعنی شرطہ انہیں فوراً گرفتار کر لیتے ہیں…بات درست تھی مگر اس میں ’’فوری‘‘ کا لفظ غلط تھا…ان دنوں ویزے سے چند دن اوپر نیچے ہو جاتے تو حکومت برداشت کرتی تھی… مگر حضرت استاذ محترم نے فوری گرفتاری والی بات سچی مان لی… بندہ ان کے ساتھ مدینہ منورہ میں تھا… انہوں نے پوچھا تمہارا ویزہ کب ختم ہو گا؟ …بندہ نے تاریخ بتا دی…میرا ویزہ ان کے ویزے سے پہلے ختم ہو رہا تھا…وہ پریشان ہوئے مگر خاموش رہے…ماشاء اللہ قوت حافظہ اسّی سال کی عمر میں بھی بھرپور تھی… تاریخ انہوں نے یاد کر لی… معمول یہ تھا کہ میں ان کو وہیل چیئر پر مسجد نبوی لے جاتا تھا…اور ان کے قدموں کے پاس بیٹھ کر معمولات کرتا تھا… ایک دن مجھے تلاوت کرنی تھی تو قرآن مجید کے احترام میں ان سے کچھ فاصلے پر جا بیٹھا… ان کو یاد آیا کہ میرے ویزے کی تاریخ ختم ہو چکی ہے… دور سے ہی بلند آواز میں میرا نام پکار کر فرمایا…کیا تمہیں ابھی تک ’’شرطہ ‘‘ پکڑنے نہیں آئے؟… اردگرد کے سب لوگ متوجہ ہو گئے، میں گھبرا کر تیزی سے اٹھا اور ان کے پاس جا کر عرض کیا… حضرت آپ کی دعاء کی برکت سے خیر ہو گئی ہے…کچھ گنجائش ہے میں ان شاء اللہ آپ کے ساتھ واپس جاؤں گا… وہ مطمئن اور خوش ہو گئے… اس وقت میرے لئے قید اور گرفتاری کی ’’اجل مسمیّٰ‘‘ شروع نہیں ہوئی تھی… خیال تک نہ آتا تھا کہ کبھی ’’گرفتاری ‘‘ ہو گی… حالانکہ ایسے کئی مواقع آئے کہ گرفتاری یقینی تھی مگر… گرفتاری دور دور  بھاگتی رہی… کئی بار تو خود ہی ’’گرفتاری‘‘ پر حملہ کیا…مگر وہ صاف بچ کر نکل گئی… واقعات سناؤں تو بہت سے لوگ شاید یقین ہی نہ کریں… دنیا کے کئی ممالک گھوم لئے … ایسی ایسی جگہ جہاد کے بیانات کئے جہاں ایسے بیانات کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا … ایک عرب ملک میں پولیس نے گھیر بھی لیا اور پھر دعاء کا وعدہ لے کر چھوڑ دیا… کئی جگہ پکڑنے والے آئے مگر بغیر پکڑے چلے گئے… اس وقت واقعات کی ایک پوری لڑی میرے ذہن میں چل رہی ہے…کراچی میں کرفیو کی کئی بار خلاف ورزی کی…اور بہت کچھ… یوں لگتا تھا کہ میں گرفتاری کے پیچھے بھاگ رہا ہوں اور وہ مجھ سے اپنی جان بچا رہی ہے… یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ ابھی ’’وقت مقرر ‘‘ نہیں آیا تھا… اور گرفتاری اسی وقت مقرر کے انتظار میں اپنی چھریاں تیز کر رہی تھی…اور پھر وہ وقت آ گیا…اور ایسا آیا کہ مکمل طور پر چھا گیا…پہلے ایک طویل گرفتاری ہوئی… گویا کہ گرفتاری نے پچھلے عرصے کی اپنی ساری پیاس بجھا ڈالی… پھر اللہ تعالیٰ نے رہائی عطا فرمائی…مگر رہا ہوتے ہی گرفتاری مجھ پر اپنے دانت تیز کرنے لگی… رات کو سوتے تو یہی لگتا کہ کسی جیل میں ہوں گے… اور دن چڑھتا تو یہی لگتا کہ رات کسی کال کوٹھڑی میں گزرے گی… گرفتاری نے دو مہینے کی آنکھ مچولی کے بعد …پھر دبوچ لیا… چند ہفتے مسلط رہی…پھر ایسی رہائی ملی جو نیم رہائی تھی اور نیم گرفتاری… تین ماہ تک ایک ہی شہر میں رہنا تھا… ٹول پلازہ سے آگے جانے کی اجازت نہ تھی… پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، رہائی ملی مگر کچھ عرصہ بعد گرفتاری پھر تشریف لے آئی اور ایک سال تک قابض رہی… اور یہ سلسلہ چل نکلا… ایک وہ وقت تھا گرفتاری دور دور تھی…اور پھر وہ وقت آ گیا کہ…گرفتاری بہت قریب آ گئی… بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کے لئے ایک ’’اجل مسمیّٰ‘‘ یعنی وقت مقرر ہے…انسان جس حال میں بھی ہو… اللہ تعالیٰ سے جڑا رہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے…

گرفتاری ہی گرفتاری

گرفتاری جب دور دور تھی تو … باوجود کوشش کے بھی قریب نہ آتی تھی…تعلیم کے زمانے ہمارے جامعہ کے مہتمم …حضرت اقدس مفتی احمد الرحمن صاحبؒ اور کئی محبوب اساتذہ کرام گرفتار ہو گئے… اس وقت گرفتاری بہت مرغوب لگتی تھی کہ ان اساتذہ کرام کی خدمت کا موقع ملے… مگر نام نہ نکلا… میں اکثر جیل جاتا اور جالیوں کے پیچھے سے اپنے اساتذہ کرام کی زیارت کرتا… ایک اور بار استاذ محترم حضرت مفتی عبد السمیع صاحب شہیدؒ ایک مسجدکی آزادی کے لئے گرفتار ہوئے…میں نے بھی کوشش کی مگر گرفتاری نہ ملی… پھر جب ’’گرفتاری‘‘ کی ’’اجل مسمیّٰ‘‘ آ گئی تو میرے ساتھ ’’گرفتاری‘‘ نے وہ کیا جو شائد کسی کے ساتھ کم ہوا ہو… جو شخص بھی قید یا گرفتاری میں ہوتا ہے تو اسے یہی فکر رہتی ہے کہ… رہائی کب ملے گی؟ … جبکہ مجھے اپنی قید کے دوران کئی بار اس فکر سے گذرنا پڑا کہ…گرفتاری کے دوران مزید گرفتاری نہ آ جائے … کوٹ بھلوال جیل میں کچھ راحت ملی تو… حکومت نے ہمیں وہاں سے نکال کر ایک عقوبت خانے میں بھیجنے کی تدبیر کی…جیل میں اس بات پر لڑائی ہو گئی… اب حکومت ہمیں اپنی ہی جیل میں دوبارہ گرفتار کرنا چاہتی تھی…مگر کشمیری مجاہدین آہنی دیوار کی طرح رکاوٹ بن گئے… ایک ماہ سے زائد کا عرصہ اس طرح گذرا کہ جیل میں دن رات… مزید گرفتاری کا خطرہ مسلط رہا…حکومتی فورسز دوبار ناکام ہوئیں… تیسری بار انہوں نے سی آر پی ایف کی سات کمپنیوں کے ساتھ حملہ کیا … جیل میں شدید فائرنگ ہوئی… بھائی نوید انجم جام شہادت نوش فرما گئے… مزید ساتھیوں کے شہید ہونے کا اندیشہ تھا تو ہم نے گرفتاری دے دی… گرفتاری ہی گرفتاری…پھر یہ سلسلہ چل نکلا… جب بھی باہر کوئی بڑا واقعہ ہوتا … فوری طور یہ خبریں شروع ہو جاتیں کہ… اس واقعہ میں میرا ہاتھ ضرور ہو گا… چنانچہ پھر مزید گرفتاری ، تفتیش، تشدد اور منتقلی کی تلوار سر پر لٹکنے لگتی…

گرفتار آدمی ویسے ہی مظلوم اور بے بس ہوتا ہے… بڑی مشکل سے جیل میں سونے جاگنے کی ترتیب درست ہوتی ہے… ایسی حالت میں پھر اگر مزید گرفتاری اور تفتیش کا خطرہ آ جائے تو دل و دماغ پر کیا گذرتی ہو گی… اس کا تصور آسان نہیں ہے… دہلی کی تہاڑ جیل میں قیام کے دوران وہاں یو پی میں کچھ مجاہدین پکڑے گئے…فوراً میرا نام اخبارات میں آنے لگا…آس ہاس سے بھی اطلاعات ملیں کہ اب ’’یو پی‘‘ منتقل کیا جائے گا… دل پر پریشانی کا حملہ ہوا تو اسے دبانے کے لئے قرآن مجید لے کر بیٹھ گیا…مرنا ہے تو مرنے سے پہلے کچھ کام ہی کر لو… الحمدللہ سات دن رات محنت کر کے قرآن مجید کی آیات جہاد کو جمع کیا… ان کا ترجمہ اور مختصر تشریح لکھی… اور یوں تعلیم الجہاد کی چوتھی جلد تیار ہو گئی…امن کی حالت ہوتی تو شائد یہ کام مہینوں میں بھی نہ ہوسکتا…

یہود کی چالیس بیماریاں بھی اسی طرح کے ایک اور خطرے کے دوران لکھی گئی…جیل سے کچھ مجاہدین باحفاظت فرار ہو گئے…جن میں کمانڈر خالد شہیدؒ بھی تھے… اس کا الزام بھی مجھ پر لگا کہ ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار میں ہوں…دہلی سے سی بی آئی کی خصوصی ٹیم تفتیش کے لئے پہنچ گئی … پاکستان کی حکومت کا میں نے کچھ نہیں بگاڑا تھا …مگر غیروں کے دباؤ میں انہوں نے بھی مجھ پر گرفتاری مسلط کی… اور پھر گرفتاری میں بھی مزید گرفتاری کی کوشش جاری رہی… بہاولپور سینٹرل جیل میں تھا تو وہاں کی انتظامیہ پر خوف مسلط ہو گیا کہ…میرے رفقاء ان پر حملہ نہ کر دیں…چنانچہ وہ دن رات اسی کوشش میں رہے کہ کسی طرح دوبارہ گرفتار کر کے …ڈیرہ غازیخان منتقل کر دیں… ان کو بار بار سمجھایا کہ یہ میرا اپنا ملک ہے…یہاں ہم نے کسی کو کنکر تک نہیں مارا… مگر پھر بھی ان کا خوف کم نہ ہوا… اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی تو گھر کو سب جیل قرار دے کر وہاں بند کر دیا گیا… مجھے گرفتاری کی اس وفاداری پر حیرت ہوئی…کہ جب دور تھی تو افریقہ جیسے ملکوں میں بھی قریب نہ آئی…جہاں ایک قادیانی مبلغ نے بہت سے غنڈے جمع کر لئے تھے… اور جب قریب آئی تو اپنے گھر میں بھی مجھے آزاد نہ رہنے دیا… آٹھ ماہ تک یہ گرفتاری میرے ساتھ میرے گھر پر مقیم رہی … جہاں اپنے بوڑھے والدین کی زیارت بھی ہفتے میں دو بار نصیب ہو سکتی تھی… حالانکہ پورے پاکستان کے کسی تھانے میں مجھ پر کوئی ایک مقدمہ نہیں تھا… ملک میں کسی تخریب کاری کا کبھی سوچا تک نہیں تھا… بلکہ اس ملک پر آنے والے کئی طوفانوں کو اپنے سینے پر روکا… مگر ایک ہی جواب ملتا کہ کیا کریں …عالمی دباؤ ہے…

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے

جب گرفتاری دور تھی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اور جب گرفتاری قریب آئی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اللہ تعالیٰ نے گرفتاری کے دوران بہت فضل فرمایا… ہر گرفتاری میں کوئی نہ کوئی قیمتی نعمت عطاء فرمائی…گرفتاری کے دوران خدمت دین کی توفیق بھی بخشی اور رزق بھی عطاء فرمایا… اور الحمد للہ اپنے سوا کسی کا محتاج نہیں فرمایا…ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… وہ ہمارا مالک اور رب ہے… اس کی مرضی ہمیںآزاد رکھے یا قید رکھے … پرویز مشرف کو شوق تھا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ قیدمیں رکھے…پھر وہ بھی گرفتار ہوا ، قید ہوا اور اب تک نیم گرفتاری کی زندگی گزار رہا ہے… دین کی خاطر قید ہونا نعمت اور عبادت ہے… ہر مسلمان کو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ… حضرات انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام نے دین کی خاطر جیلیں اور قیدیں کاٹی ہیں…وہ جو دین کا کام کر رہے ہیں، جہاد کی محنت کر رہے ہیں اور وہ آزاد ہیں…وہ جیل اور قید کے ڈر سے اپنا کام نہ روکیں…اگر ان کی قسمت میں جیل اور قید لکھی ہے تو وہ دینی کام کے بغیر بھی آ جائے گی… آپ کسی بھی جیل جا کر دیکھیں … ہزاروں افراد وہاں قید ہوں گے…کیا یہ سب جہاد کا کام کر رہے تھے؟… زرداری نے آٹھ سال جیل کاٹی… وہ دین یا جہاد کا مبلغ تو نہیں تھا… بس قسمت میں جو قید لکھی ہو وہ کاٹنی پڑتی ہے… یہ قید اگر دین کی نسبت سے مل جائے تو انسان کے لئے بڑی سعادت ہے… قید کی طرح رہائی کا وقت بھی مقرر ہے…وہ وقت جب آ جائے تو کوئی نہیں روک سکتا…ایک مومن کو قید اور رہائی کے بارے میں زیادہ سوچنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ …وہ دنیا میں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے؟ … اس سے قبر میں کیا سوالات ہونے ہیں… اور اس نے عالم برزخ کے قید خانے ’’سجین‘‘ اور آخرت کے قید خانے ’’جہنم‘‘ سے کس طرح بچنا ہے…

یہ باتیں کیوں یاد آئیں

یہ ساری باتیں آج اس لئے یاد آئیں کہ … بھارت سے ہمارے بارے میں ایک ہی شور آ رہا ہے… پکڑو، مارو ، پکڑو، مارو… اور یہاں اپنے ملک کے حکمرانوں کو یہ صدمہ ہے کہ… شاید ہم نے ان کی یاری میں خلل ڈالا ہے… یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ مودی اور واجپائی کے یاروں، دوستوں میں اٹھائے جائیں… ہمیں اپنے مرنے یا پکڑے جانے کی الحمد للہ کوئی فکر نہیں… ہمارے مرنے سے ہمارے دوستوں کو کوئی کمی محسوس ہو گی اور نہ ہمارے دشمنوں کو… الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کچھ تھوڑا سا لکھا ہے اور جو تھوڑا سا بولا اور بنایا ہے وہ ان شاء اللہ دوستوں کو فائدہ پہنچاتا رہے گا… اور دشمنوں کے لئے الحمد للہ ایک ایسا لشکر تیار ہے جو موت سے عشق رکھتا ہے…اور اس لشکر کی جڑوں تک پہنچنا کسی دشمن کے بس میں نہیں ہے… ان شاء اللہ یہ لشکر دشمنوں کو زیادہ دن خوشی نہیں منانے دے گا… اور کمی تو بالکل محسوس نہیں ہونے دے گا… الحمد للہ دنیا کے بارے میں کوئی تمنا نہیں کہ…مرنے پر اس کی حسرت رہ جائے…

باقی رہے گھر والے اور بچے… تو ان کو آج بھی اللہ تعالیٰ پال رہے ہیں…اور کل بھی اللہ تعالیٰ ہی پالنے والے ’’رب العالمین ‘‘ ہیں… ہم نے پاکستان کے لئے ہمیشہ امن اور خیر خواہی کی سوچ رکھی ہے…اپنی جان اور چمڑی بچانے کے لئے نہیں… بلکہ امت مسلمہ اور جہاد کے مفاد میں …افسوس کہ یہاں کے حکمرانوں نے اس کی قدر نہیں کی… یہ غیروں کے اشاروں پر چلتے رہے …اور اپنے ہی ملک کو… آگ اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرتے گئے… ان میں سے ہر ایک آتا ہے ملک میں آگ لگاتا ہے…اور پھر باہر بھاگ جاتا ہے… ہم نے بہت پہلے ’’کالی آندھی‘‘ کے نام سے ایک مفصل مضمون لکھ کر …حکومت اور عوام دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی… مگر سمجھتا تو وہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہو… مودی کو کیا ہمت تھی کہ وہ ان کو بہتّر گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتا … کوئی غیرتمند انسان کس طرح سے یہ لہجہ برداشت کر سکتا ہے… حکمران جس راستے پر جا رہے ہیں وہ…اس ملک کے لئے سخت خطرناک ہے…ترقی تو دور کی بات ہے… مساجد، مدارس اور شرعی جہاد کے خلاف ان کے اقدامات…ملک کی سا لمیت کے لئے بھی خطرہ ہیں… الحمد للہ اسلام کا ماضی بھی تابناک ہے اور مستقبل بھی روشن…

مومن کی دنیا بھی کامیاب ہے…اور قبر اور آخرت بھی… موجودہ شور شرابے سے اہل دل ہرگز خوفزدہ نہ ہوں…بلکہ اپنی فرض اور مثبت محنت کو اور زیادہ بڑھا دیں …ایمان پر رہیں… ایمان پر جئیں اور ایمان پر مریں…رب کعبہ کی قسم کامیابی آپ کے لئے ہے…میں نہیں کہہ رہا … بلکہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ اعلان فرما رہا ہے… وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor