Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یٰسٓ،یٰسٓ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 528 - Saadi kay Qalam Say - Yaseen Yaseen

یٰسٓ،یٰسٓ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 528)

اللہ تعالیٰ نے ’’سورہ یٰسٓ کی نعمت عطاء فرمائی ہے … جن کو یہ نعمت نصیب ہے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں…

الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ رب العالمین

اگرسائنسدانوں نے کوئی ایسی مشین ایجاد کی ہوتی… جو دل کے ’’سکون‘‘ کو ناپ سکتی… پھر وہ دیکھتے کہ ایک مسلمان کو اخلاص کے ساتھ سورہ یٰسٓ شریف پڑھنے پر کیسا سکون ملتا ہے…

 

کوئی اُبامہ، کوئی مودی…کوئی بل گیٹس کوئی یہودی اس ’’سکون‘‘ کا تصور بھی نہیں کر سکتے…

اور نہ اپنی ساری طاقت اور دولت خرچ کر کے یہ ’’سکون‘‘ حاصل کر سکتے ہیں…

کاش مسلمان ایسی نعمتوں کی قدر کریں… اور ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں…

کچھ عرصہ پہلے دل پر وار ہوا …بس وہ ڈوبنے کو ہی تھا …جب خبر ملی کہ حضرت امیر المومنین چلے گئے … اس وقت…’’یا اللہ، یا اللہ ‘‘ کے ذکر…اور اس دعاء نے تھام لیا…

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیًّا

ذکر بڑھتا گیا اور یہ دعاء رنگ دکھاتی گئی تو الحمد للہ…دل بچ گیا…

یہ ذکر اور یہ دعاء بھی تو صرف مسلمانوں کے پاس ہی ہے…اور تو سب اس طرح کی حقیقی نعمتوں سے محروم ہیں… سائنس کبھی ایسا آلہ ایجاد نہیں کر سکتی جو موت کی سکرات کو آسان کر دے … آج کی سائنس انسان کو کمزور کر رہی ہے ،ذلیل کر رہی ہے اور مشقت میں دھکیل رہی ہے…یہ تاثیر سورہ ٰیسٓ میں ہے کہ وہ موت کی سکرات کو آسان بناتی ہے… اب جبکہ ’’پٹھان کوٹ ‘‘ کے واقعہ کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو اس موقع پر سورہ یسٓ شریف نے اپنا کمال دکھایا… بس روز پانچ ، سات بار پڑھ لی اور دل سے ہر کافر اور ہر منافق کا خوف نکل گیا… کسی زمانے ایک مسجد میں جانا ہوتا تھا وہاں ایک دیوانہ تھا…اسے مجھ سے اور مجھے اس سے خاص ’’انس‘‘ ہو گیا تھا … عقلمند لوگ عقلمندوں سے ’’انس ‘‘ رکھتے ہیں…اور دیوانے دیوانوںسے…وہ عجیب و غریب نماز پڑھتا تھا…قیام میں کھڑا ہوتا اور پھر فوراً سجدے میں گر جاتا اور پھر سجدے ہی سجدے، سجدے ہی سجدے… معلوم نہیں ایک رکعت میں کتنے سجدے کر لیتا تھا…مرفوع القلم تھا… ایسے لوگوں پر تو نماز فرض ہی نہیں…مگر وہ پابندی سے ادا کرتا تھا … اللہ تعالیٰ اسے اپنے اکرام کا اعلیٰ مقام عطاء فرمائے… ایک دن مسجد میں ہم دونوں اکیلے تھے …میں اپنے معمولات پورے کر رہا تھا اور وہ اپنے سجدے … اچانک اس پرکوئی حال طاری ہوا اور وہ بار بار پڑھنے لگا

یٰسٓ،یٰسٓ ،یٰسٓ ،یٰسٓ

بعض لوگوں کی آواز بھی عجیب ہوتی ہے … فوراً اپنی طرف ساری توجہ کھینچ لیتی ہے…

کتابوں میں لکھا ہے کہ… ملائکہ یعنی فرشتوں میں سے حضرت اسرافیل علیہ السلام کی آواز بہت دلکش اور پیاری ہے…وہ جب بلند آواز میں خوش الحانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں تو باقی فرشتے… اپنے اَذکار چھوڑ کر ان کی تسبیح سننے لگتے ہیں… میرے دیوانے دوست کی آواز بلند،پاٹ دار تھی… میں اپنے معمولات بھول کر اس کی تلاوت سننے لگ گیا … انتظار تھا کہ وہ کچھ آگے بھی پڑھے مگر وہ ایک ہی کلمہ پڑھ رہا تھا

یٰسٓ، یٰسٓ،یٰسٓ

اس کی یہ آواز میرے دل و دماغ میں اُتر گئی … اب جب بھی سورہ یٰسٓ کی تلاوت شروع کرتا ہوں تو ’’یٰسٓ‘‘ کا لفظ پڑھتے ہی دل چاہتا ہے کہ بس اسی کو پڑھتا رہوں…

یٰسٓ، یٰسٓ ،یٰسٓ

عجیب مٹھاس ہے اور عجیب تاثیر … یہ جو سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات ہیں… الٓمٓ ، حمٓ ، یٰسٓ وغیرہ… یہ علم، قوت ، تاثیر اور راز کے خزانے ہیں… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنے فضل سے جنت میں لے جائے تو وہاں معلوم ہو گا کہ ان مبارک الفاظ میں… کیا کیا خزانے رکھے ہیں…الحمد للہ یہ مبارک ’’الفاظ‘‘ بھی صرف مسلمانوں کے پاس ہیں…وہ اگرچہ نہیں جانتے کہ ان ’’الفاظ ‘‘ میں کیا کیا چھپا ہے مگر وہ اِن الفاظ کی تلاوت اور تکرار سے وہ تمام خزانے پالیتے ہیں… بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ بڑے مسلمان فاتحین جنگوں کے وقت ان حروف کو پڑھا کرتے تھے اور ان کی برکت سے قوت اور فتح پاتے تھے… حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے خاندان میں بھی ظالم حکمرانوں سے حفاظت کے لئے …حروف مقطعات کا عمل مجرب تھا… کھیعٓصٓ کُفِیْتُ… حمٓعٓسٓقٓ حُمِیْتُ…اس عمل کی تفصیل آپ مناجات صابری میں دیکھ سکتے ہیں…سورہ یٰسٓ کا آغاز ’’یٰسٓ ‘‘ کے وجد آفریں اور طاقتور کلمے سے ہوتا ہے…کئی مفسرین اس کے مختلف معانی بھی بیان کرتے ہیں… آج اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں…ابھی تو میرے ذمہ آپ سب کا قرضہ ’’ سلام قولامن رب رحیم ‘‘ کی تفسیر بھی ہے… پٹھان کوٹ کے واقعہ نے ایسا ہنگامہ برپا کیا ہے کہ … کسی کو پتا نہیں چل رہا کہ وہ کیا کرے اور کیا کہے… ایک طرف انڈیا ہے وہ زخمی کتے کی طرح کوک رہا ہے… اور زخمی سانپ کی طرح پھنکار رہا ہے… انڈیا میں چونکہ ’’فلموں ‘‘ کا راج ہے… اس لئے وہاں کے حکمران ، وہاں کے صحافی اور وہاں کے سیاستدان … سبھی ’’ایکٹر‘‘ بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں… حالانکہ جنگ الگ چیز ہے اور فنکاری الگ چیز… فلموں کے وہ ہیرو جو فلموں میں کئی کئی لوگوں سے بیک وقت لڑتے ہیں…وہ عام زندگی میںچوہے کو دیکھ کر بھی بیت الخلاء میں  بھاگ جاتے ہیں… جنگ میں تو یہ ہوا کہ چار مجاہدین کا مقابلہ ہزاروں فوجیوں نے مشکل سے کیا… کئی مارے گئے کئی زندگی بھر کے لئے معذور ہوئے اور کئی زخمی… جبکہ میڈیا پر انڈین شیر دھمکیاں دینے سے نہیں تھک رہے…ادھر ہمارے حکمرانوں نے انڈیا کے درد کو اپنا درد بنا کر ظالمانہ حرکتیں شروع کر دیں ہیں… اور ہمارا میڈیا بھی اس موقع پر نہایت اَفسوسناک کردار ادا کر رہا ہے…جہاد اور مجاہدین پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں …یہ حالات جہاد کے لوازمات میں سے ہیں…جو مسلمان بھی جہاد فی سبیل اللہ کے مبارک عمل کو اختیار کرتا ہے… وہ جانتا ہے کہ اس عمل میں شہادت بھی مل سکتی ہے اور زخم بھی… گرفتاری بھی ہو سکتی ہے اور معذوری بھی… پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور بدنامیاں بھی… اسے معلوم ہوتا ہے کہ ’’بدر ‘‘ والے حالات بھی آ سکتے ہیں اور ’’اُحد ‘‘والے بھی… غزوہ احزاب والی صورت بھی بن سکتی ہے اور غزوہ حدیبیہ والی بھی… تبوک بھی آ سکتا ہے اور موتہ بھی… جہاد کا تو مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ…قربانی دو تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین اور کلمہ بلند ہو…جان اور مال دو اور جنت لو… جہاد دنیا میں عیاشی اور ظاہری پُر امن زندگی کا نام تو ہے نہیں… یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری کمزوریوں پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں طرح طرح کی آسانیاں عطاء فرمائی ہیں…ورنہ جہاد میں تو بس قربانی ہوتی ہے اور مشقت… کٹنا ہوتا ہے اور مرنا…ہجرت ہوتی ہے اور زخم … اس لئے موجودہ حالات ہمارے لئے حیرانی یا صدمے کا باعث نہیں ہیں… بس ضرورت صرف ایک بات کی ہے …وہ یہ کہ دیکھا جائے کہ سخت حالات ہمارے جہاد کی وجہ سے آئے ہیں…یا ہمارے کسی گناہ یا نافرمانی کی وجہ سے …غزوہ احد میں مسلمانوں پر جو سخت صدمات اور تکلیفیں آئیں… ان کی وجہ بعض افراد کی ’’نافرمانی ‘‘ تھی… حضرت آقا مدنی ﷺ کے حکم کی نافرمانی ہوئی… اور پھر میدان الٹ گیا… صرف ایک نافرمانی نے فتح کی خوشی کو کراہتے زخموں میں… بڑھتے ہوئے طوفانی لشکر کو لاشوں میں… اور للکارتے جذبات کو غموں میں بدل دیا… پھر تو مسلمانوں کی ایسی حالت ہوئی کہ ہر کتا ان پر بھونک رہا تھا… اور ہر گیدڑ ان پر دھاڑ رہا تھا… شیطان کو بھی موقع ملا اور اس نے مسلمانوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا…اور منافقین بھی ڈیڑھ گز کی زبانیں چلانے لگے… جہاد کے معاملات میں امیر کی نافرمانی سے یہی ہوتا ہے… اور یہی ہوتا رہے گا …مامورین کی فرمانبرداری سے امیر کو کچھ نہیں ملتا…خود مامورین کا سر بھی سلامت رہتا ہے اور تاج بھی… لیکن جب امیر کے حکم کو پاؤں کی جوتی بنا دیا جائے تو…پھر مامورین خود بے وزن ہو جاتے ہیں…صرف فخر ہوتا ہے کہ ہم کسی کی نہیں مانتے، اندر طاقت ختم ہو جاتی ہے… ابھری ہوئی جھاگ کی طرح… اڑتے ہوئے غبار کی طرح … جماعت کے رفقاء کو بار بار روکا گیا کہ… تصویر بازی اور ویڈیو بازی سے دور رہیں… خصوصاً عسکری شعبوں میں یہ زہر قاتل ہے… ذمہ دار افراد دوسرے ذمہ داروں کی غیبت نہ کریں …کل وقتی وقف ساتھی خود کو دنیاوی کاروباروں میں نہ لگائیں اور اسی طرح کے دیگر جماعتی احکامات … ان سب باتوں پر کون کتنا عمل کر رہا ہے … اور کون نہیں… اور عمل نہ کرنے کہ وجہ سے کیا کیا نقصانات سامنے آ رہے ہیں…ان سب پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے… اور وہ جن سے غلطیاں ہو چکیں…استغفار اور سچی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اس میں داخل ہو کر اپنے جہاد کو عند اللہ مقبول بنا سکتے ہیں…

جہاد شریعت کا حکم ہے…اور شریعت کا حکم شریعت کے طریقے سے ہی ادا ہو تو مقبول ہوتا ہے …اس وقت کچھ مناظر احد والے ہیں اور کچھ مناظر احزاب والے… ان حالات اور مناظر میں مایوسی اور پسپائی جرم ہے… ایمان پر مضبوطی … جہاد پر ثابت قدمی …کثرت استغفار اور سچی توبہ … یہ چار ڈھالیں ہیں…ان کو تھام کر اس چومکھی حملے کو روکا جا سکتا ہے…اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح حاصل کی جا سکتی ہے… ان شاء اللہ

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor