Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اَلَمْ تَرَ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 529 - Saadi kay Qalam Say -Alam Tar

اَلَمْ تَرَ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 529)

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں…لا الہ الا اللہ…یہ ہو گیا سب سے افضل ذکر…

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

’’ذکر اللہ ‘‘کہتے ہیں …اللہ تعالیٰ کی یاد کو…اللہ تعالیٰ کی یاد کا سب سے بہترین اور افضل طریقہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہے…یہ سوچ کر پڑھیں تو دل نور سے بھر جاتا ہے…

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ

 

یاد کسے کہتے ہیں ؟ یاد کہتے ہیں ’’دل جوڑنے‘‘ کو… ہمارے دل پر جب کوئی چھا جائے …دل پر جب کوئی ٹک جائے …دل پر جب کوئی رُک جائے تو کہتے ہیں کہ فلاں مجھے بہت یاد آ رہا ہے …اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی سچی یاد چاہیے تو زبان کے ساتھ دل بھی پڑھے…

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

ذکر یعنی ’’یاد‘‘ ایک خفیہ چیز ہے… ایک آدمی آپ کے سامنے بیٹھا ہے وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، آپ سے بول رہا ہے…مگر اس کے دل پر کوئی اور سوار ہے…آپ دوربین لگا کر بھی نہیں دیکھ سکتے کہ وہ کس سے دل کوجوڑے بیٹھا ہے…اسی لئے تو ’’ذکر‘‘ سب سے افضل عبادت ہے کیونکہ اس میں رازداری ہے…یہ خفیہ تعلق ہے…یہ اندر کی دوستی اور یاری ہے… اس میں دکھاوا ہو ہی نہیں سکتا … یہ بڑا گہرا عمل ہے…کبھی دل و دماغ کو سب سے کاٹ کر ایک اللہ تعالیٰ سے جوڑ کر تو دیکھیں پھر تو کوئی اور نظر ہی نہیں آئے گا…صرف اللہ، صرف اللہ، صرف اللہ

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ

آپ جس کو پوری توجہ سے یاد کریں گے … اس کا اثر آپ پر آ جائے گا…تجربہ کر کے دیکھ لیں…اچھے لذیذ کھانوں کی یاد سے بھوک چمکتی ہے… منہ میں پانی آتا ہے…حرص بڑھ جاتی ہے… کوئی گندی غلیظ اور بدبودار چیز کو یاد کریں تو دل متلانے لگتا ہے…کبھی الٹی آنے لگتی ہے اور طبیعت پر گھن چھا جاتی ہے… شہوت والی چیزوں کو یاد کریں تو طبیعت اُکھڑنے لگتی ہے…گیتوں، نغموں اور گانوں کو یاد کریں تو طبیعت بہکنے لگتی ہے…

’’یاد ‘‘ کا مطلب ’’یاد ‘‘ رہے کہ… دل کی مکمل توجہ…دل پر مکمل چھا جانا…

اب اندازہ لگائیں کہ…اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے سے انسان پر کیسے اثرات پڑتے ہوں گے؟

نہ ان جیسا کوئی حسین …نہ ان جیسا کوئی عظیم، نہ ان جیسا کوئی سخی، نہ ان جیسا کوئی محسن … نہ ان جیسا کوئی محبوب… اسی لئے تو ’’ذکر اللہ‘‘ کرنے والے بھی حسن میں رچائے جاتے ہیں، عظمتوں میں بسائے جاتے ہیں…سخاوتوں میں نہلائے جاتے ہیں، احسان میں چمکائے جاتے ہیں …اور محبتوں میں مہکائے جاتے ہیں…یہ ان کا اپنا کمال نہیں ہوتا… یہ ذکر اللہ جو ان کے دل میں اُترتا ہے…وہ یہ سارے رنگ جما دیتا ہے…

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

انسان کوئی معمولی چیز نہیں ہے… یہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار مخلوقات میں سب سے افضل اور سب سے اشرف ہے… اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کتنی ہیں؟ یہ کوئی نہیں جانتا…اور نہ کوئی جان سکتا ہے …اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوقات جو نظر آ رہی ہیں… اور وہ مخلوقات جو ہم سے پوشیدہ ہیں… ان سب میں بڑے رتبے والا… ’’انسان ‘‘ ہے… ساری دنیا مل کر بھی ایک ’’انسان‘‘ نہیںبنا سکتی… سائنسدان بہت زور لگا رہے ہیں… طرح طرح کے روبوٹ بنا رہے ہیں… جو کچھ نہیں بنا سکتے ان پر فلمیں بنا کر دل کو تسلی دے رہے ہیں… مگر یہ ایک عام سا انسان نہیں بنا سکتے… انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خفیہ اور بہت سی ظاہری طاقتیں عطا فرمائی ہیں … انسان کی ایک بڑی طاقت … ’’انکار‘‘ کی طاقت ہے…

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا … انسان جس چیز کی دل سے نفی کر دے وہ چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی… کوئی انسان شیر کے سامنے کھڑے ہو کر اگر شیر کی نفی کر دے…یعنی دل میں اس کا خوف نہ آنے دے تو شیر بھی اس کے پاؤں چاٹنے لگتا ہے… ایسا تاریخ میں کئی بار ہو چکا ہے…جو لوگ سانپ کا خوف دل سے نکال  دیتے ہیں…سانپ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے… کتنے لوگ ستاروں سے ڈرتے ہیں… کوئی سورج سے ڈرتا ہے اور کوئی چاند سے… یہ ہر وقت طرح طرح کے حساب اور زائچے بنا کر خوف سے کانپتے رہتے ہیں… مگر جو ان چیزوں سے نہیں ڈرتے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا… انسان کی یہ ’’قوت انکار‘‘ جس قدر بڑھتی جاتی ہے وہ اُسی قدر طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے… ذکر اللہ… اللہ تعالیٰ کو سب کچھ مان کر اس کی یاد میں ڈوب جانا… یہ انسان کی قوت اور طاقت کا اصل راز ہے …

حضرات صحابہ کرام کو دیکھ لیں… دریاؤں اور سمندروں میں گھوڑے ڈال دئیے…ہواؤں کے رخ پھیر دئیے… آگ کو متّبع بنا ڈالا… ان کی طاقت کیا تھی؟… یہی انکار کی طاقت… اور اس طاقت کو پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے…

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ

’’لا الہ‘‘ہم نہیں مانتے کسی بھی معبود کو…کسی بھی طاقت کو ’’الا اللہ‘‘ سوائے ایک اللہ کے … ’’غار حرا‘‘ سے یہ کلمہ اترا تو بالکل ’’اکیلا ‘‘تھا… ہر طرف اس کلمے کے دشمن تھے…اگر حکم یہ ہوتا کہ آپ یہ کلمہ پڑھتے رہیں تو مشکل کام نہ تھا…روح محمد ﷺ تو ہمیشہ سے یہی کلمہ پڑھ رہی تھی… مگر حکم تھا اب اس کلمہ کا ’’اعلان ‘‘ کرنا ہے…اور یہ کلمہ مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلانا ہے، چلانا ہے … یہ بہت بھاری ذمہ داری تھی… اگر کسی اور پر ڈالی جاتی تو وہ سنتے ہی بوجھ سے مر جاتا… اور اس کا سینہ پھٹ جاتا مگر یہ سینہ حضرت آقا مدنی ﷺ کا تھا… پسینے میں تو ڈوب گیا مگر مرجھایا نہیں… مشرکین کے لئے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ایک ایسی گالی تھی جسے وہ ہرگز برداشت نہ کر سکتے تھے… ان کے نزدیک ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا موت سے کم کوئی نہ تھی… مگر مشرک کیا کرتے؟ … جو شخص کلمہ پڑھ رہا تھا… کلمہ اس کے دل میں اُترا ہوا تھا… اور جس دل میں کلمہ اُترا ہوا ہو… اس دل کو شکست نہیں دی جا سکتی… اللہ تعالیٰ کے حکم سے ’’کلمہ‘‘ کا اعلان شروع ہوا…ہر طرف اندھیرا تھا…مگر کلمہ ہر اندھیرے کی نفی کرتا ہے… جب نفی ہوئی تو اندھیرے بھاگ گئے…ہر طرف مایوسی تھی… مگر کلمہ ہر مایوسی کی نفی کرتا ہے… جب نفی ہوئی تو مایوسی بھاگ گئی…شیطان کی حکومت کا زمانہ ختم ہو رہا تھا… ’’لا الہ الا اللہ‘‘ میدان میں اُتر آیا تھا…اور اب وہ ہمیشہ کے لئے مکمل ہو چکا تھا …اس کے ساتھ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو لازمی طور پر جوڑ دیا گیا تھا… تاکہ اگر کوئی پوچھے کہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ تک ہم کیسے پہنچیں گے تو فرمایا گیا ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ کے ذریعے… اللہ تعالیٰ کو پانے کا بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ’’لا الہ الا اللہ‘‘… اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو پانے کا بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے’’ محمد رسول اللہ‘‘…

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

یہ مبارک کلمہ …خود ایک طاقت ہے…اسی لئے ’’ابو جہل ‘‘ کی شرکیہ حکومت اس کو نہ روک سکی …کلمہ بڑھتا گیا…کچھ عرصہ صبر کے ساتھ، تحمل کے ساتھ یہ اپنا راستہ بناتا گیا… اور پھر جب ’’کلمہ والے ‘‘ گھروں کو چھوڑ کر وفا کے امتحان میں کامیاب ہو گئے تو… کلمہ طیبہ… جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا… حضرت آقا مدنی ﷺ نے اعلان فرمایا:

امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللّٰہ

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ… لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو قبول کر لیں…اب کلمہ تھا اور جہاد… سبحان اللہ! زمین کا رنگ بدلنے لگا… کلمہ چار سو گونجنے لگا… بدر، اُحد سے لے کر تبوک اور موتہ تک… اب کلمہ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوا… اور آج تک وہ وہاں فاتح ہے…

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

مسلمان جس قدر اس کلمہ کے قریب آتا ہے …اسی قدر بلندی پاتا ہے… عزت و مرتبہ پاتا ہے… فتح و سعادت پاتا ہے… اور جس قدر اس کلمہ سے دور ہوتا ہے اسی قدر ذلتوںمیں گرتا ہے … قرآن مجید نے ہمیں کلمہ طیبہ کے ذریعے قوت انکار سکھائی… فرعون کا تذکرہ کیوں فرمایا؟… قارون کا انجام کسی لئے بیان فرمایا؟ … مشرکین مکہ کا نقشہ کس لئے کھینچا؟… اسی لئے تاکہ ہم ہر فرعون کا انکار کریں…فرعون کوئی بھی نام رکھ کر آ جائے… وہ کوئی بھی کھال اوڑھ کر آ جائے… ظلم کے جو بھی تیشے اُٹھا کر آ جائے… فرعون روئے زمین کی ایک کفریہ ایٹمی طاقت کا نام تھا… قرآن مجید میں جھانک کر دیکھ لیجئے… مگر ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ہم فرعون کو مان لیا کریں… فرعون کے اتحادی بن جایا کریں… فرعون کی بندگی کیا کریں … قارون روئے زمین کی کفریہ اقتصادی اور معاشی طاقت کا نام تھا… حکم دیا گیا کہ نہ اس جیسا بنو اور نہ اسے کامیاب سمجھو… ہر قارون اپنی دولت سمیت اسی طرح تاریخ کے غار میں دفن ہو گیا … جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا قارون ہوا…

’’لا الہ الا اللہ‘‘ والے کل بھی کامیاب رہے … اور ہمیشہ کامیاب رہیں گے…

’’لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ،لا الہ الا اللہ‘‘

کلمہ سکھانے اور سمجھانے کے لئے قرآن مجید نازل ہوا… انسان کی آنکھیں کمزور ہیں… ظاہری مناظر دیکھ کر وہ دھوکے میں پڑ جاتا ہے… تب قرآن پاک آتا ہے اور آنکھوں سے دھوکے کی پٹی نوچ کر پھینک دیتا ہے…مکہ کے طاقتور مشرک سازش کر رہے تھے کہ…حضرت محمد ﷺ اور آپ کے رفقاء کو ختم کر دیں… چالیس، پچاس افراد ہیں … عربوں کے اصول کے مطابق زیادہ سے زیادہ خون بہا یعنی دیت ہی دینی پڑے گی… یہ مشورے روز ہوتے… روز تلواریں اور دانت تیز کئے جاتے… روز خوفزدہ کرنے والی خبریں اُڑائی جاتیں… روز راستوں میں رکاوٹیں اور کانٹے بچھائے جاتے… ظاہری آنکھیں یہ دیکھ رہیں تھی کہ … اسلام اور مسلمان دونوں کا بچنا بالکل بالکل ناممکن ہے… بس پانچ دس منٹ کی تلوار بازی ہو گی اور پھر کلمہ پڑھنے والا ایک بھی نہ بچے گا… ہر تجزیہ نگار یہی تجزیہ پیش کر رہا تھا اور کچھ لوگ مسلمانوں کو ڈرانے میں مشغول تھے کہ… اسلام چھوڑو تو جان بچے گی ورنہ مارے جاؤ گے…تب آسمان سے وحی کڑکی

اَلَم تَرَ…اَلَم تَرَ…اَلَم تَرَ…

کیا تم نے نہیں دیکھا…کیا تم نے نہیں دیکھا …کیا تم نے نہیں دیکھا…

سبحان اللہ! عجیب الفاظ ہیں… آنکھوں کی چربی پگھلانے والے…آنکھوں کا دھوکہ دھونے والے… آنکھوں کا رخ حقیقت کی طرف پھیرنے والے… ارے تم ابھی ابو جہل کی طاقت دیکھ رہے ہو… تم صرف مکہ والوں کی عسکری قوت ناپ رہے ہو…تم ابھی قریش کے جنگی جنون کو دیکھ رہے ہو…تم ابھی مسلمانوں کی قلت اور کمزوری دیکھ رہے ہو…چھوڑو ان سب چیزوں کو …

آؤ دیکھو! آؤ دیکھو! آؤ دیکھو

کَیفَ فَعَلَ رَبُکَّ بِاَصحَابِ الفِیل

تمہارے رب نے ہاتھی والے لشکر کے ساتھ کیا کیا تھا…

سبحان اللہ! آنکھوں کا رخ زمین سے آسمان کی طرف ہو گیا… دھوکے سے حقیقت کی طرف ہو گیا…اندھیرے سے روشنی کی طرف ہو گیا… مایوسی سے امید کی طرف ہو گیا… اب ہاتھی نہیں بلکہ ابابیل طاقتور نظر آ رہے ہیں…

اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر طاقت کی نفی دل میں اُتر رہی ہے

لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

آج کچھ اور لکھنے کا ارادہ تھا…محبوب مالک کا شکر کہ ’’افضل الذکر‘‘ کی شان لکھنے میں لگا دیا … اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ کلمہ نصیب فرمائے…اور اسی پر موت دے اور آپ سب کو بھی یہ کلمہ ہمیشہ کے لئے نصیب فرما دے…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor