Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

موت فتنے سے بہتر (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے

Rangonoor 536 - Saadi kay Qalam Say -Muhabbat ka zamana aa gia

موت فتنے سے بہتر

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 536)

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ’’فتنے‘‘ سے بچائے

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ

خوش نصیب ہے وہ جو فتنوں سے بچا لیا جائے … حضرت آقا مدنی ﷺ نے تین بار فرمایا

خوش نصیب ہے وہ جو فتنوں سے بچا لیا جائے …اور آخر میں فرمایا…واہ ، واہ اس کے لئے جس پر فتنہ آئے مگر وہ صبر کرے…یعنی ثابت قدم رہے …وہ پرُ نور ’’بابا جی‘‘ یاد آ رہے ہیں …نام بھی ’’محمد حیات ‘‘ اور کام بھی حیات…اور اب ان شاء اللہ ان کے لئے حیات ہی حیات… انہوں نے اپنے وصیت نامے میں تحریر فرمایا کہ … مجھے جماعت سے ہٹانے کی بہت کوشش کی گئی…تفرقہ بازی بھی ایک بڑا فتنہ ہے…فتنہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو امتحان اور’’ آزمائش‘‘ میں ڈال دیتا ہے …اس کی عقل اور دل پر حملہ آور ہوتا ہے…جو اسے اپنی کشش کی طرف کھینچتا ہے… جو ہوتا باطل ہے مگر دعویٰ حق ہونے کا کرتا ہے… اسی لئے تو اسے ’’فتنہ‘‘ کہتے ہیں کہ انسان اس کی وجہ سے ڈگمگانے لگتا ہے کہ میں کدھر جاؤں؟…حضرت آقا مدنی ﷺ نے اپنی امت کو فتنوں سے متنبہ فرمایا …بہت سے فتنوں کی نشاندہی فرمائی…کالی اندھیری رات جیسے فتنے … خوفناک اندھے فتنے …

یا اللہ حفاظت … ایک نظر ’’ماوراء النہر ‘‘ کے علاقے پر ڈالیں…بخارا، سمر قند، تاشقند…ترمذ اور فرغانہ… آج وہاں کفر ہی کفر…گناہ ہی گناہ اور ظلم ہی ظلم ہے… یہ وہ علاقے تھے جہاں ایمان تھا، علم تھا ، نور تھا…اور روشنی ہی روشنی تھی… وہاں سے فقہ کے امام اٹھے اور اسلامی دنیا پر چھا گئے … وہاں سے حدیث کے ائمہ اٹھے اور ساری دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے…وہاں سے تصوف کے امام اٹھے اور مشرق و مغرب کو روشن کر گئے…مگر پھر’’ فتنہ‘‘ آیا …اور سب کچھ کھا گیا سب کچھ مٹا گیا … فتنہ کبھی ظلم کی صورت میں آتا ہے …اور کبھی عیش کی صورت میں…

فتنہ کبھی دشمن کی شکل میں آتا ہے…تو کبھی مقدس روپ دھار کے…بس ہر وہ چیز جو حق سے ہٹانے…اور گمراہ کرنے کی طاقت رکھتی ہو…وہ فتنہ کہلاتی ہے… حیات بابا جی جماعت کے ساتھ جڑے رہے…اللہ تعالیٰ نے انہیں لالچ والے فتنے سے بھی بچایا…اور مقدس شکل دھار کر گمراہ کرنے والے فتنے سے بھی بچایا… بالآخر وہ جام شہادت نوش فرما گئے…

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہ وَارْحَمْہُ وَتَقَبَّلَہُ شَہِیْدا

حضور اقدس ﷺ کے لئے کسی فتنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا…مگر آپ اپنی ہر نماز میں فتنوں سے پناہ مانگتے تھے…زندگی کے فتنوں سے بھی اور موت کے فتنوں سے بھی…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِک مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیاَ وَالْمَمَاتِ

زندگی کے فتنے بھی بہت خطرناک…کیسے کیسے لوگ کھڑے کھڑے گمراہ ہو جاتے ہیں اور دین سے ہٹ جاتے ہیں اور موت کے فتنے اس سے بھی زیادہ خطرناک… فتنے کی ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ…اس میں مبتلا ہونے والا شخص خود کو ‘‘غلط‘‘ نہیں سمجھتا… اسی لئے فتنہ… گناہ سے زیادہ خطرناک ہے…گناہگار آدمی خود کو گناہ گار اور مجرم سمجھ کر نادم ہوتا ہے، شرمندہ ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے… مگر جو فتنے میں پھنس جائے وہ تو خود کو حق پر سمجھتا ہے…اب کہاں ندامت اور کہاں توبہ؟

اسی لئے حضرت آقا مدنی ﷺ نے اپنی امت کو فتنوں سے حفاظت کے نسخے سکھائے… اور فتنوں سے حفاظت کی دعائیں یاد کرائیں…اور بہت سے فتنوں کی شکلیں اور رنگ تک بتا دئیے… مسیح دجال کا فتنہ…یہ طاقت،قوت اور ٹیکنالوجی کے زور پر دین سے گمراہ کرنے کا فتنہ ہے۔دجال کذابوں کا فتنہ … یہ روحانیت ،نبوت اور عملیات کے زور پر لوگوں کو دین سے ہٹانے کا فتنہ ہے … حُبِّ مال کا فتنہ… یہ اس امت کا سب سے خوفناک اور خطرناک فتنہ ہے…عورتوں کا فتنہ … یہ مسلمان مردوں اور عورتوں دونوں کو بے ایمان، بے عزت اور ذلیل کرنے کا فتنہ ہے… ایسی ذلت جو دین سے ہٹا دیتی ہے …حبّ جاہ کا فتنہ…یہ  امت میں فساد، قتل و غارت اور بربادی لانے والا فتنہ ہے… حدثان کا فتنہ… یہ کم علم اور کم عقل متشدد لوگوں کا فتنہ ہے جس نے خوارج کی شکل اختیار کر لی تھی… الحاد کا فتنہ… بدعات کا فتنہ…اولاد کا فتنہ…کفار کی شان و شوکت اور روشنی کا فتنہ… کفار کے غلبے اور ترقی کا فتنہ… نفاق اور منافقین کا فتنہ… یا اللہ! رحم…فتنے ہی فتنے …بس وہی بچ سکتا ہے جسے آپ بچا لیں … اور وہی نکل سکتا ہے جس کو آپ نکال دیں…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ

فتنوں سے حفاظت کیسے ہو…پہلا نسخہ فتنوں سے حفاظت کی مستقل دعاء …دن رات دعاء … ہر نماز میں دعائ…اس بارے میں یہاں تک دعاء سکھائی گئی کہ یا اللہ جب قوم پر آپ فتنہ لانے کا فیصلہ فرمائیں تو مجھے فتنے سے پہلے ہی موت دیدیں … یعنی فتنہ ایسا کڑوا ہے کہ…اس کے مقابلے میں موت بھی میٹھی ہے…خود حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:

وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَۃِ

یعنی مومن کے لئے موت، فتنہ سے بہتر ہے…

یہ دراصل ایک حدیث پاک کا ٹکڑا ہے … اس حدیث میں حضور اقدس ﷺ نے سمجھایا کہ انسان موت کو برا سمجھتا ہے حالانکہ اس کے لئے موت ، فتنے میں مبتلا ہونے سے بہت بہتر ہے اور انسان مال کی کمی کو برا سمجھتا ہے حالانکہ مال کم ہو گا تو آخرت میں حساب بھی کم ہو گا…( مسند احمد)

دعاء کے الفاظ یہ ہیں:

وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ

فتنوں سے حفاظت کا دوسرا نسخہ… اللہ تعالیٰ سے دین پر ثابت قدمی کی دعاء مانگنا ہے:

(۱) رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّابُ

(۲) اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ

۳) ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِی أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ

ہر مسلمان اللہ تعالیٰ سے ثابت قلبی اور ثابت قدمی مانگتا رہے…کیونکہ ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے… وہ چاہے تو ثابت رکھے اور چاہے تو پھیر دے…

فتنوں سے حفاظت کا تیسرا نسخہ…اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ہے…

شکر کے معنی ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا… اور اس نعمت کی دل سے قدر کرنا … ایمان کی نعمت…فرائض کی نعمت…جہاد کی نعمت ،جماعت کی نعمت… پاکدامنی کی نعمت… وضو اور طہارت کی نعمت …رزق، مال، اہل اور اولاد کی نعمت… عزت اور پردہ پوشی کی نعمت…جو بھی ان نعمتوں کو اپنا کمال نہیں سمجھتا… بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہے وہ فتنوں سے بچا رہتا ہے… کیونکہ نعمتیں ہی دراصل فتنے بن جاتے ہیں…جب انسان کی بد نصیبی جاگتی ہے… جب اس کے اندر بُرائی، فخر اور تکبر پیدا ہوتا ہے… جب وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر نعمتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے …یا اللہ آپ کی پناہ

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ

فتنوں سے حفاظت کا ایک اہم ترین نسخہ … قرآن مجید ہے…قرآن مجید سیکھنا پڑھنا اور اس پر عمل کرنا… یہ نسخہ آپ ﷺ نے اپنے رازدار صحابی حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سکھایا… اور بے شک یہ سب سے اہم ترین نسخہ ہے…ہمارے زمانے میں ’’انکار جہاد‘‘ کا جو فتنہ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکے ڈال رہا ہے…اس فتنے کا علاج …قرآن مجید کی آیات جہاد میں ہے… ہمارے لئے بے حد شکر کا مقام ہے کہ…اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو محض اپنے فضل سے …یہ نعمت عطاء فرمائی ہے…جماعت کے زیر انتظام ’’ آیات جہاد‘‘ کے تفسیری دورے پورے ملک میں …اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیگر ممالک میں بھی پڑھائے جاتے ہیں…یہ الحمد للہ بہت با برکت سلسلہ ہے…مرکز بہاولپور میں پورا سال یہ دورہ ہر ماہ پڑھایا جاتا ہے…اور سال بھر اس مبارک دورے کی ترتیب ملک کے کئی اضلاع میں جاری رہتی ہے… جبکہ رجب و شعبان میں سالانہ دورے پورے ملک میں رکھے جاتے ہیں…اس سال الحمد للہ دین کے دیوانوں نے زیادہ محنت کی ہے …اور تقریباً پچاس کے قریب ’’دورات تفسیر‘‘ کا اہتمام کیا ہے… اللہ تعالیٰ نصرت فرمائے … اللہ تعالیٰ قبول فرمائے…

…لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online