Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اللّٰہ اکبر،اللّٰہ اکبر لاالہ الا اللّٰہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 559 - Saadi kay Qalam Say - Allahuakbar Allahuakbar La Ilaha Ilallah

اللّٰہ اکبر،اللّٰہ اکبر لاالہ الا اللّٰہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 559)

اللہ تعالیٰ کے بندو! اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو…یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے…

اللّٰہ اکبر،اللّٰہ اکبرلا الہ الا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبروللّٰہ الحمد

یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے سے …تمہیں ہی بے شمار فوائد ملیں گے…ایسے فوائد جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے باقی خود اللہ تعالیٰ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اُس کی بڑائی بیان کرے…

 

اللّٰہ اکبرکبیرا،والحمد للّٰہ کثیراوسبحان اللّٰہ بکرۃ واصیلا

اللہ تعالیٰ کے بندو! ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کو سب سے بڑا مانو…اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی پکارو…خصوصاً ان دنوں میں…جو آج کل ہمیں نصیب ہو رہے ہیں…یعنی ’’ذو الحجہ‘‘ کے ایام …

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے… ہر چیز سے بڑا، ہر حال سے بڑا… ہر طاقت سے بڑا…اتنا بڑا کہ ہم اس کی بڑائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کتنا عظیم ہے… کتنا بڑا ہے… ہمارا تصوربھی محدود ، ہمارا خیال بھی محدود اور ہماری سوچ بھی محدود… جبکہ اللہ تعالیٰ لا محدود… اے غم کے مارو! اللہ تعالیٰ ہمارے غموں سے بھی بڑا ہے وہ رحمت کی نظر فرما دے تو سارے غم مٹ جائیں… اے مسائل سے دو چار انسانو!… اللہ تعالیٰ ہمارے مسائل سے بہت بڑا ہے… اُسی کے سامنے جھولی پھیلاؤ… اور کسی کے آگے نہیں… اے گناہگارو! اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے ہمارے گناہ اُس کی مغفرت کے سامنے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں…پس اُسی سے مغفرت مانگو…اور ہاں… اپنے دل کو سمجھاؤ کہ…بس اللہ تعالیٰ ہی کو بڑا مانے… کتنا بڑا؟… ہاں سب سے بڑا، سب سے بڑا… ہم اس کی بڑائی کو سوچ نہیں سکتے، سمجھ نہیں سکتے مگر یہ اُسی کا شکر کہ ہم اُس کی بڑائی بیان کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں…

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

عجیب صورتحال

ذوالحجہ کا مبارک عشرہ آ گیا … مگر ہمارے ہاں کچھ بھی نہ بدلا…افسوس ہائے افسوس…

نہ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد بڑھی … اور نہ رمضان المبارک کی طرح فجر کی نماز میں جوتوں تک صفیں بنیں… کیوں ؟ معلوم نہیں کیوں؟… نہ بازاروں کی صورتحال تبدیل ہوئی … نہ جگہ جگہ نیکیوں کے بازار سجے … حالانکہ …ذوالحجہ کے پہلے دس دن…انسانی زندگی اور دنیا کے افضل ترین دن ہیں…اوراہل علم کے نزدیک یہ دن …رمضان المبارک کے دنوں سے زیادہ افضل ہیں… ان دنوں کے اعمال کے بارے میں احادیث مبارکہ میں کئی الفاظ آئے ہیں …ہر لفظ دوسرے لفظ سے زیادہ بھاری، وزنی اور دلنشین ہے… کہیں ’’احب‘‘ کا لفظ آیا کہ…ان دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں …کہیں ’’افضل‘‘ کا لفظ آیا کہ ان دنوں کے اعمال سب سے زیادہ افضل ہیں…کہیں ’’ازکی‘‘ کا لفظ آیا کہ …ان دنوں کے اعمال باقی سب دنوں کے اعمال سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ پاک کرنے والے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کہیں ’’ تقرب‘‘ کا لفظ آیا کہ…ان دنوں کے اعمال سے انسان اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل کر سکتا ہے…ایک مومن کو اور کیا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کے ’’قرب ‘‘ سے بڑھ کر کیا چیز ہے… لوگ بادشاہوں ، حکمرانوں اور افسروں کے قرب پر فخر کرتے ہیں…جبکہ ایک مومن کی اصل منزل اللہ تعالیٰ کا قرب ہے…اور ان دنوں کے اعمال سے یہ قرب بہت آسانی سے نصیب ہوتا ہے… مگر افسوس کہ یہ دن آ جاتے ہیں…اور چلے جاتے ہیں… اور ہم کچھ بھی نہیں بناتے، کچھ بھی نہیں کماتے…

یا اللہ ! تکبیر کی برکت سے ہم پر رحم فرما…

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

دل کانپتا ہے

قرآن مجید نے ایک عجیب نکتہ سمجھایا ہے … بعض لوگ ایسے محروم اور بد نصیب ہوتے ہیں کہ …اللہ تعالیٰ ان کو نیکی پر لانا پسند ہی نہیں فرماتے …یا اللہ معافی، یا اللہ رحم …یا اللہ معافی، یا اللہ رحم …

دیکھئے منافقین کے بارے میں فرمایا:

وَلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ

اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا کہ وہ جہاد پر نکلیں

کیونکہ اُن کے دلوں میں نفاق تھا…اُن کے دلوں میں کھوٹ تھی…ایسے نجس اورناپاک دل کسی پاک جگہ پر کیسے بٹھائے جا سکتے ہیں…یہ اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں…بلکہ اللہ تعالیٰ کا انصاف ہے…

تھوڑا سا سوچیں کہ …ہم جب کہتے ہیں کہ آج کل نماز میں سستی ہو رہی ہے… آج کل تلاوت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی … آج کل معمولات کا وقت نہیں بنتا… سوچیں کہ خدانخواستہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ناپسند فرما رہے ہیں… اور وہ ہم سے ناراض ہیں … اس لئے ہمیں نیک اعمال کی توفیق نہیں دے رہے …اوپر والی آیت پر غور کریں اور پھر ہم اپنی حالت دیکھیں تو خوف سے دل کانپتا ہے… آئیے دل سے تکبیر پڑھیں تاکہ… ہمارے دل سے نفاق اور سستی کے جالے صاف ہو جائیں…

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

کچھ تو خوف کرو

ایک صاحب علم فرما رہے تھے…ذوالحجہ کا عشرہ آتے ہی اپنے موبائل کو الوداع کہہ دینی چاہیے … نہ فضول میسج، نہ ای میل ، نہ چیٹنگ ، نہ پوسٹیں اور نہ تبصرے…اس سے ہمارا بہت سا وقت بچ جائے گا اور ہم اس وقت کو’’ اعمال صالحہ ‘‘ میں لگا سکیں گے …کیونکہ’’ عشرہ ذی الحجہ‘‘ کے نفل اعمال بھی … اللہ تعالیٰ کے ہاںفرض اعمال سے زیادہ محبوب اور زیادہ مقرب ہیں…جبکہ ان دنوں کے فرض اعمال کی تو شان ہی الگ ہے… ان دنوں کی فرض نمازیں سارے سال کی فرض نمازوں سے زیادہ افضل ہیں…ان دنوں کی تکبیر تحریمہ سارے سال کی تکبیر تحریمہ سے زیادہ افضل ہے …ان دنوں کا جہاد سارے سال کے جہاد سے زیادہ محبوب ہے …اور ان دنوں کے روزے، صدقات، خیرات ، ذکر اور تلاوت باقی سارے سال کے ان اعمال سے افضل ہے… ان دنوں تو کسی مسلمان کی تہجد تک نہیں چھوٹنی چاہیے… اور نہ اسے کسی ایک نماز میں سستی کرنی چاہیے… ان دنوں دین کے لئے مال لگانے کی بڑی شان ہے … اس لئے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے…ایسا نہ ہو کہ یہ دن گزر جائیں اور مال فضول پڑا رہے اور ہم اسے چھوڑ کر مر جائیں… خلاصہ یہ کہ … موبائل سے جان چھڑا کر یہی وقت اعمال صالحہ پر لگایا جائے… مگر ظلم کی انتہا دیکھیں کہ…ان مبارک ایام میں بھی کئی ظالم افراد سوشل میڈیا پر …طرح طرح کی پوسٹیں چھوڑ کر مسلمانوں کو اُلجھاتے رہتے ہیں… اور ان کا قیمتی وقت اپنی فضول اور بے کار باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں… چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ان ایام میں سوشل میڈیاپر …لوگوں کو حج،جہاد، روزے ، قربانی اور تکبیرات کی طرف متوجہ کرتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے… بلکہ مسلمانوں کو فضول بحثوں اور فضول باتوں میں الجھاتے رہتے ہیں… اور اپنے اس بد عمل پر نہ نادم ہوتے ہیں اور نہ شرمندہ…

آئیے موبائل بند کرتے ہیں…فیس بک اور ٹوئٹر پر تالا ڈالتے ہیں…ای میل اور تبصرے بازی کو طلاق دیتے ہیں …اور جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں …

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

غلطی کس کی ہے

مسلمان تو تسلیم کے خوگر ہیں…یعنی بات سننے اور بات ماننے والے… اگر مسلمانوں کو وہ آیات بار بار سنائی جائیں جن میں… عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کا بیان ہے… اور ان کو وہ احادیث سنائی جائیں جن میں اس مبارک عشرے کے عجیب و غریب فضائل ہیں…تو یقینی بات ہے کہ پورا ماحول ہی بدل جائے گا…مساجد کا رنگ رمضان جیسا… اور ان کی رونق اعتکاف جیسی ہو جائے گی…

بازاروں میں گانوں کی جگہ تکبیریں گونجیں گی …اور ہر طرف اعمال صالحہ کا نور ہی نور نظر آئے گا… مگر افسوس کہ…جن کے ذمہ دین بیان کرنا تھا … انہوں نے کچھ غفلت سے کام لیا اور کچھ بے توجہی کی کہ وہ مسلمان جن کی بات سنی جاتی ہے …انہوں نے بھی اس بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی…اور نہ دعوت دینے والوں نے … ان آیات اور احادیث کی دعوت کا پر اثر ماحول بنایا … صرف قربانی کی بات اور دعوت خوب چلی … اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے… الحمد للہ قربانی کا ماحول خوب سجتا ہے اور یہ امت مسلمہ کی سعادت ہے… کئی ظالم لوگ ’’قربانی ‘‘ کے خلاف بھی سرگرم ہوتے ہیں مگر ان کا ناپاک جادو …بہت کم اور بد نصیب لوگوں پر ہی چلتا ہے… اب ضرورت اس بات کی ہے کہ…امت مسلمہ کے علماء، خطباء، واعظین، مبلغین اور اہل قلم عشرہ ذی الحجہ کے موضوع پر محنت کریں …اس موضوع کو ازسرنو پڑھیں، سمجھیں اور پھر اس دعوت کو وقت آنے سے پہلے ہی ہر طرف پھیلائیں، بہت امید ہے کہ اس کی برکت سے امت مسلمہ کو یہ نعمت دوبارہ اجتماعی طور پر نصیب ہو جائے گی…اور ہر طرف نیکی ، قربانی، عبادت اور تکبیرات کا ماحول بن جائے گا ان شاء اللہ

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

کون نیت کرتا ہے؟

ابھی الحمد للہ اس مبارک عشرے کے چند باقی ہیں …آپ میں سے کون نیت کرتا ہے کہ ان شاء اللہ …اس عشرے کے باقی ایام …اللہ تعالیٰ کے لئے ، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی محنت میں گذاریں گے؟… الحمد للہ بہت سے مسلمان پہلے سے ہی اس بارے میں بیدار ہیں…میں اپنے اردگرد ایسے افراد کو دیکھ رہا ہوں جو الحمد للہ ان ایام کو پانے اور کمانے کے لئے… خوب محنت کر رہے ہیں…وہ جہاد کا کام پہلے سے زیادہ کرتے ہیں …وہ روزانہ روزے رکھتے ہیں، کیونکہ حضرت آقا مدنی ﷺ ان نو دنوں کے روزے کا اہتمام فرماتے تھے…اسی طرح وہ تکبیر، تسبیح اور تہلیل میں بھی محنت کرتے ہیں … اور حسب استطاعت مال بھی خرچ کر رہے ہیں…لیکن جو ابھی تک بیدار نہیں ہوئے اور سستی میں پڑے ہیں وہ باقی دنوں کو غنیمت جان لیں… گذشتہ سال کے رنگ و نور اور کئی مکتوبات میں ان دنوں کیلئے عبادت کا نصاب عرض کیا گیا تھا …آپ اسے پڑھ لیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے عطا فرمودہ ان دنوں کو …اپنے لئے آخرت کا خزانہ اور آخرت کا سرمایہ بنا لیں… بہترین قربانی …حسب استطاعت نفل قربانی … روزانہ کاروزہ… نمازوں کی بہترین پابندی، تکبیرات کی کثرت … تیسرے کلمے کی فراوانی …مریضوں کی عیادت… غریبوں کی مدد… غیبت، بد نظری اور دیگر گناہوں سے اجتناب… مسلمانوں کو معاف کرنا…کثرت سے توبہ، استغفار…اور جہاد کی بھرپور محنت… یا اللہ! میری اور تمام نیت کرنے والوں کی مغفرت فرما اور ہمیں’’ تکبیر‘‘ کی حقیقی برکات اپنی رحمت سے عطاء فرما…

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

تھکاوٹ نہیں ، سعادت

کوئی سوچے گا کہ آخر ہم کیا کیا کریں؟ … ابھی رمضان المبارک کی محنت تھی اور اب عشرہ ذی الحجہ کی محنت…آخر دنیا کے کام کاج بھی تو کرنے ہیں… یہ سوچ درست نہیں …دنیا کے ضروری کام کاج سے نہ کسی نے روکا ہے اور نہ کوئی روک سکتا ہے… نہ رمضان میں اور نہ ذو الحجہ میں … مگر سال میں بار بار ایسے سنہری مواقع کا آنا… ہمارے لئے سختی نہیں سعادت ہے…اس امت کو اللہ تعالیٰ نے عمریں چھوٹی دی ہیں… پچاس سے ستر سال… کوئی کوئی آگے بھی نکل جاتا ہے… اور کوئی کوئی پہلے بھی چلا جاتا ہے…مگر اوسط عمر بہرحال اتنی ہے…جبکہ اس امت کا مقام … پچھلی تمام امتوں سے آگے اور اونچا ہے … انہوں نے جو سفر دو سو سال کی عبادت سے طے کیا ہم نے اس سے بڑا سفر بیس ، چالیس سال کی عبادت سے طے کرنا ہے… حضرت آقا مدنیﷺ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو خصوصی ایام اور خصوصی اوقات عطاء فرما دئیے … یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے… ایک رات لیلۃ القدر کی عبادت ایک صدی کی عبادت سے بڑھ کر بنا دی… اور عشرہ ذی الحجہ کے اعمال کو بے حد وزنی اور قیمتی بنا دیا…ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ… ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں … اور ہمارے پاس’’ کلمہ طیبہ‘‘ جیسی بے مثال نعمت موجود ہے… حضرت محمد ﷺ کی اُمتِ اجابت میں سے ہونا…ہمارے لئے وہ شان ہے جو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا…اسی شان کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قرب کے خاص ایام اور خاص گھڑیاں عطاء فرماتے ہیں… ہمیں اُکتانا نہیں چاہیے بلکہ خوشی منانی چاہیے… اور اللہ تعالیٰ کی ان انمول نعمتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے…

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد،اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبرلا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor