Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بہت سے پول (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 561 - Saadi kay Qalam Say - Bohat se Pol

بہت سے پول

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 561)

اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ سوال ہے… اپنے لئے اور آپ سب مسلمانوں کے لئے…ایمان کامل، دائم کا…عافیت دارین کا اور حسن خاتمہ کا … یا اللہ! عطاء فرما، یا اللہ! عطاء فرما، یا اللہ! عطاء فرما…آمین

اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر

ہاتھ خالی، دامن خالی، دل خالی، جھولی خالی … پھر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان کہ…اللہ تعالیٰ کے دشمن ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں…الحمد للہ ، الحمد للہ، الحمد للہ… یہ وہ نعمت ہے کہ جس کا اگر دن رات لاکھوں بار شکر ادا کریں تو حق ادا نہ ہو … قرآن و سنت کو دیکھ لیں…سب سے بڑا گناہ ’’ شرک‘‘ ہے… قرآن و حدیث پڑھ لیں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی اور مشرک ہیں … سیرت رسول ﷺ پڑھ لیں ہمارے آقا مدنی ﷺ کو سب سے زیادہ ایذائیں اور تکلیفیں مشرکوں نے پہنچائیں… گالیاں، دھمکیاں، تشدد ، سازشیں اور تمسخر… قرآن مجید کو غور سے دیکھ لیں …اللہ تعالیٰ جن کو نجس اور ناپاک قرار دے رہے ہیں… وہ ہیں مشرک… بتوں کے پجاری … لاکھوں کروڑوں خدا ماننے والے… بے شمار دیوی دیونیاں کو پوجنے والے…یعنی موجودہ زمانے میں ہندو… یہ مشرکین سب سے بڑے گناہگار، سب سے بڑے مجرم، سب سے بڑے گستاخ ، سب سے زیادہ نجس و ناپاک اور سب سے بڑے دشمن ہیں… اللہ اور اس کے رسول کے یہ دشمن… اگر ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو… الحمد للہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے…

 

ماشاء اللّٰہ لاقوۃ الاباللّٰہ

ہم تو اپنے ’’رب تعالیٰ‘‘ اور اس کے دین کی وفاداری میں کچھ نہ کر سکے… یہ احسان ہے اُن شہداء کرام کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کیا … مشرکین سے قتال کیا…وہ غازی جنہوں نے معرکے لڑے… وہ شہداء جو جانوں سے گزر گئے … وہ بہادرجنہوں نے خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں…دین اسلام کے وہ وفادار جو دشمنوں پر بجلی بن کر گرے …وہ سرفروش جنہوں نے انڈین کالے سانپ کو کیچوا بنا دیا… ہم چونکہ ان کے خادم ہیں، نوکر ہیں…ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو…الحمد للہ ہمارا نام بھی … اس فہرست میں آ گیا… وہ فہرست جس سے دشمنان اسلام کے دل جلتے ہیں … اس فہرست میں نام آنے کے بعد زندگی اگرچہ تنگ اور مشکل ہو جاتی ہے… مگر ایک اُمید جاگ اُٹھتی ہے… بڑی دلکش اُمید …مغفرت کی اُمید… اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اُمید…قیامت کے دن رسوائی سے حفاظت کی امید…

یااللہ!،یااللہ!،یااللہ!

بہت سے پول کھل گئے

یہ صدی بڑی عجیب ہے… اس میں بڑے بڑے پول کھل گئے… جھوٹی طاقت کے پروپیگنڈے کر کے جو لوگ …دنیا کے ’’دادا ‘‘ بنے ہوئے تھے…اُن میں سے بہت سے بے نقاب ہو چکے ہیں… اور کئی ایک ہونے والے ہیں… یہ ساری کرامت شہداء کے خون نے دکھائی… آپ آج کل انڈین میڈیا پڑھیں اور سنیں… بس چیخیں ہی چیخیں ہیں… حملے کے بعد جو شور تھا کہ…ماردو، پکڑ لو…اور گھس کر مارو … وہ شور اب آہوں،سسکیوں اور حسرتوں میں بدل چکا ہے… اب کہا جا رہا ہے کہ… ہمارے اندر کے بھیدیوں نے نقصان پہنچایا… کبھی کہا جا رہا ہے کہ ہماری فوج نکمی اور ناکارہ ہے… اپنے کیمپ کی حفاظت نہ کر سکی حالانکہ مجاہدین کو چھ جگہ روکا جا سکتا تھا…کبھی کہا جا رہا ہے کہ ہماری فضائی طاقت کمزور ہے … ساٹھ فی صد طیارے چلنے کے قابل نہیں… کبھی کہا جا رہا ہے کہ ہم جنگ کریں گے مگر غربت کے خلاف …بے روزگاری کے خلاف …واقعی یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی کرامت ہے… یہ کشمیر کے مظلوم خون کی کرامت ہے… یہ خون اب انڈیا کے گلے تک سرایت کر چکا ہے… اور اب اس خون کا سفر انڈیا کے دماغ کی طرف شروع ہو چکا ہے… جو اللہ تعالیٰ آنسو کے ایک قطرے سے کسی کی جہنم بجھا سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ شہید کے خون کے قطرے سے…بڑی بڑی طاقتوں اور طوفانوں کو بجھا دیتا ہے…

افضل گورو شہید، برہان وانی شہید… اور کشمیر کے ایک لاکھ شہداء کا خون اب دہلی کی طرف بڑھ رہا ہے… بہت شان سے ، بہت رعب سے …اور بہت تیزی سے… اسی لئے انڈیا کے اوسان خطاء ہیں… وہاں کے لیڈروں کی عقلیں اور فوج کا حوصلہ… دونوں ایک ساتھ اُڑ چکے ہیں … یہ جو آپ ہر طرف ’’اوڑی اوڑی‘‘ کا شور سن رہے ہیں …یہ دراصل اُڑی ہوئی عقل … اُڑے ہوئے حوصلے اور اُڑی ہوئی عزت کا ماتم ہے…

زندگی کا کمال

یہ جو قرآن مجید میں بار بار فرمایا گیا کہ … رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں…ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ … زندگی رکتی نہیں گذر جاتی ہے … گذرتی جاتی ہے… تنگ زندگی بھی گزر جاتی ہے اور کھلی زندگی بھی… مالدار زندگی بھی گذر جاتی ہے اور فقر و فاقے والی زندگی بھی…رات دن آتے جاتے ہیں اور زندگی کی گاڑی بغیر رکے چلتی رہتی ہے… آپ کے پاس پا سپورٹ ہو، اس کے ہر صفحے پر کسی ملک کا ویزہ ہو، آپ کا کریڈٹ کارڈ آخری ہندسے پر ہو…آپ کا ہر دن نئے ملک میں… آپ کے دستر خوان پر ہر دن نئی قسم کے کھانے…اور آپ کے جسم پر ہر دن نیا لباس …یہ زندگی بھی گزر جائے گی… جب کوئی درد، بڑھاپا یا بیماری آئے گی تو پچھلا کوئی عیش کام نہ آئے گا…اور اگر آپ کی زندگی تنگ ہو آپ ایک سیل، ایک کمرے، ایک گھر تک محدود ہوں …نہ کہیںجا سکتے ہیں اور نہ کسی دوسرے ملک کی سیر کر سکتے ہیں… آپ کا کھانا، پہننا سب گزارے لائق تو…یہ زندگی بھی گزر جائے گی… اور ماضی کی کوئی پریشانی آپ کے ساتھ نہیں چلے گی… یہ وہ نکتہ ہے جو حکمت والی محکم کتاب قرآن مجید بار بار سمجھاتی ہے… تاکہ انسان اپنی زندگی کی آسانی،عیاشی اور راحت کے لئے… اپنے ایمان کا سودا نہ کرے…اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے… اپنی آخرت کو نہ بیچے…

یا اللہ! سمجھ اور استقامت کا سوال ہے…

تعریف یا مذمت

امریکہ میں ایک مسلمان عالم دین کو … صلیبی قاتل نے شہید کر دیا…اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے… اُن عالم دین کے اہل خانہ میں سے کسی نے بیان دیا کہ…وہ بڑے پر امن آدمی تھے … اُنہوں نے کبھی مکھی کو بھی نہیں مارا تھا پھر اُنہیں کیوں شہید کیا گیا؟… آپ بتائیے یہ اُن بزرگوں کی تعریف تھی یا مذمت؟…مجھے یقین ہے کہ وہ ایسے نہیں ہوں گے اسی لئے تو انہیں نشانہ بنایا گیا…اسی طرح کئی لوگ اپنے بارے میں بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ…ہم پر امن مسلمان ہیں ہم نے بندوق تو درکنار کبھی ہاتھ میں پستول اور چھری تک نہیں پکڑی… آپ بتائیں … یہ لوگ اس جملے سے اپنی تعریف کر رہے ہوتے ہیں یا مذمت؟ … دنیا میں امن کا پیغام حضرات انبیاء علیہم السلام لے کر آئے اور حضرات انبیاء علیہم السلام نے جہاد کیا، اسلحہ اُٹھایا … دشمنوں کو قتل فرمایا…زمین کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کے لئے اہل فساد کو ختم فرمایا… دراصل بعض لوگ اپنی طبعی بزدلی کو اپنی ’’امن پسندی‘‘  سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ’’امن پسند‘‘ نہیں ہوتے… آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ’’النافع‘‘ بھی ہے نفع پہنچانے والا… اور ’’ الضارّ ‘‘ بھی ہے یعنی ضرر اور نقصان کا مالک… حضرت ہود ، حضرت صالح اور حضرت لوط علیہم السلام کی قوموں کا فساد جب حد سے بڑھ گیا تو … اُن کو ضرر اور نقصان پہنچایا گیا…کیونکہ جو مجرموں کو ضرر اور نقصان نہ پہنچا سکتا ہو وہ عدل اور انصاف قائم نہیں رکھ سکتا…اگر ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور ابی بن خلف کو ضرر اور نقصان پہنچا کر بدر کے کنویں میں نہ ڈالا جاتا تو عرب کے انسانوں کو اسلام کی نعمت نصیب نہ ہوتی… اور اسلام دنیا بھر میں نہ پھیلتا … ہم مسلمانوں کو یہ سکھایا گیا کہ … اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناؤ… اللہ تعالیٰ کی صفات کی روشنی میں اپنے اخلاق کی تعمیر کرو… جن کو نفع پہنچانے کا حکم ہے ان کو نفع پہنچاؤ اور جن کو نقصان پہنچانے کا حکم ہے ان کو نقصان پہنچاؤ… تم دنیا میں امن پسندی کے ایوارڈ لینے کے لئے نہیں بھیجے گئے… بلکہ امن پھیلانے کے لئے بھیجے گئے ہو اور امن آئے گا ’’ایمان ‘‘ سے اور سلامتی آئے گی’’اسلام ‘‘ سے… اور ایمان و اسلام دونوں جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہیں …کیونکہ جہاد کے بغیر فساد ختم ہو ہی نہیں سکتا…

ایک کوشش کریں

اگر کوئی اپنے والد کے دشمن سے دوستی کرے تو لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ بے وفا، غدار، بے غیرت… تو پھر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے ’’دوستی‘‘ کرنے والوں کو کیا کہا جائے گا؟…بھائیو اور بہنو! کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے وفادار بنو…دین اسلام کے وفادار بنو … حضرت آقا مدنی ﷺ کے وفادار بنو… بہت سے لوگ جو عمل میں بہت کمزور تھے مگر وہ ’’وفادار ‘‘ پکے تھے… وہ کامیاب ہو گئے … اور بڑے بڑے مقامات پا گئے… کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنیاں مول لیں … جنگیں لڑیں اور خطرے اُٹھائے…اللہ تعالیٰ کی غیرت گوارا نہیں فرماتی کہ ایسے وفاداروں کو حساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے…

اس لئے آئیے! جہاد کے راستے کو اپنائیے … تاکہ وفاداروں میں شامل ہو جائیں…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor