Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بوکھلایا ہوا کون؟ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 562 - Saadi kay Qalam Say - Bokhlaya Hua Kon

بوکھلایا ہوا کون؟

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 562)

اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم … سبحان اللہ! ’’آیۃ الکرسی‘‘ علم کا خزانہ، قوت کا راز، حفاظت کا حصار، رزق کی چابی اور فتوحات کا نشان…آئیے پڑھتے ہیں… اللّٰہ لاالہ الا ھوالحی القیوم( الی آخرھا)

آیت الکرسی پڑھتے وقت کتنا مزا آتا ہے … کتنا سکون ملتا ہے اور کتنا نور دل میں اُترتا ہے …ترجمہ ذہن میں رکھ کر پڑھتے چلے جائیں … ایک ایک جملے کو دل میں اُتارتے چلے جائیں… اور پھر اپنے عظیم رب کی محبت اور اس کی صفات میں گم ہو جائیں… بتوں کے پجاری کیا جانیں کہ ’’آیۃ الکرسی‘‘ کیا ہے؟ یہ تو ’’توحید‘‘ کا ایسا جام ہے جو انسان کو آسمانوں سے بھی بلند لے جاتا ہے… آئیے ایک بار پھر پڑھتے ہیں…اللّٰہ لا الہ الا ھوالحی القیوم ( الی آخرھا)

 

یا اللہ! آپ کا شکر ہے آپ نے ہمیں… حضرت آقا مدنی ﷺ کی برکت سے…’’آیۃ الکرسی‘‘ عطاء فرمائی… یا اللہ! ہمیں اس کا نور، اس کی قوت، اس کی برکت… اور اس کی روشنی عطاء فرما…

اے مجاہدین کرام!… آیۃ الکرسی پڑھو، آیۃ الکرسی سمجھو، آیۃ الکرسی کو اپناؤ…اور آیۃ الکرسی کا نور اپنے اندر بھرو…پھر دیکھو! تمہاری فتوحات اور تمہاری یلغار کہاں تک پہنچتی ہے…

ایک یادگار سفر

’’آیۃ الکرسی‘‘ پر مزید بات پھر کبھی… آج بس اتنا ہی عرض ہے کہ… ان دنوں آپ میں سے جس کو جو مسئلہ یا پریشانی لاحق ہو…وہ’’ آیۃ الکرسی ‘‘ کو مضبوط پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنا مسئلہ حل کرالے… نیا ہجری سال شروع ہے…محرم الحرام کے مبارک ایام ہیں…ہرسو مجاہدین کی فتوحات کے غلغلے ہیں…ہر طرف دشمنان اسلام کے لئے رسوائی ہے… آپ پر کوئی جسمانی تکلیف ہو یا باطنی… کوئی مالی تنگی ہو یا گھریلو پریشانی… ذہن کا اُلجھاؤ ہو یا حال کی غفلت… جادو کا تیر ہو یا نظر کا تندور … قرضے کا وبال ہو یا محتاجی کا خوف… آیۃ الکرسی ان سب کا کافی اور شافی علاج ہے… بغیر تھکے پڑھتے جائیں اور یقین کے ساتھ مانگتے جائیں…

اچھا اب آتے ہیں…یادگار سفر کی طرف … یہ واقعی عجیب سفر ہے…اس سفر میں ہم نے چراغ کو سورج بنتے… اور غار کو محل بنتے دیکھا ہے… اگر آپ پانی کے ایک چھوٹے سے تالاب کو دیکھیں کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا دریا بن جائے تو کیا آپ یہ منظر کبھی بھلا سکیں گے؟…

جی ہاں… یہ یادگار سفر…جہاد کا سفر ہے … ہم نے جب جہاد سے بیعت کی اور دوستی جوڑی تو…جہاد ایک چراغ تھا…اور پھر اسی سفر میں ہم نے اسے ناقابل شکست سورج بنتے دیکھا… وہ ایک چشمہ تھا مگر اب وہ ایک دریا ہے جو…سمندر بننے والا ہے… جب ہم جہاد کے خیمے میں آئے تو نہ کشمیر میں جہاد کی کوئی شاخ تھی …اور نہ عراق و شام میں جہاد کی بجلیاں تھیں…

بس دو ہی محاذ تھے… ایک افغانستان اور دوسرا فلسطین…ایک محاذ کھلا تھا اور ایک بند … نہ کوئی بڑے خواب تھے اور نہ کوئی بڑے نام … بس کچھ غریب لوگ اسلام کا یہ فریضہ پورا کر رہے تھے…گمنام شہداء اور گمنام غازی… مگر ان کا خون وہاں پہنچ رہا تھا…جہاں سے فیصلے اُترتے ہیں… اور ان کا خون اس زمین پر گر رہا تھا…جو کچھ نہیں بھولتی، جو کوئی چیز نظر انداز نہیں کرتی… وہ چھوٹے سے بیج کو اپنے اندر سمو کر…اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑا درخت بنا دیتی ہے… شہداء کے اس گمنام خون نے زیر زمین سفر شروع کیا … ایک طرف وہ ’’وسط ایشیا‘‘ کی طرف بڑھا… اور دوسری طرف اس نے ’’غزوہ ہند‘‘ کا چراغ روشن کر دیا… اب مجاہدین کے بیانات میں چار ، پانچ محاذوں کا تذکرہ گونجنے لگا… مگر شہداء کے خون کا سفر کہاں رکنے والا تھا؟…

اس نے ’’وسط ایشیا‘‘ میں اپنی ایک ٹھوکر سے … شراب خانوں کو گرا کر ان کے نیچے دبی مساجد کو اُٹھایا…اور پھر ہزاروں میناروں سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کی اذاں گونجنے لگی… حالانکہ یہ وہ علاقے تھے جہاں نعوذ باللہ کمیونسٹوں نے…اللہ تعالیٰ کا جنازہ نکال کر کہا تھا کہ…اس زمین پر اب کبھی ’’ اللہ ‘‘ کا نام نہیں لیا جائے گا… تاجکستان، پھر ازبکستان … پھر قفقاز، پھر چیچنیا اور پھر سائبیریا …کہیں چند ماہ، کہیں چند سال… اور کہیں ابھی تک…مگر ایک طبقہ تو بن گیا…اہل جہاد کا طبقہ، اہل عزیمت کا طبقہ… دوسری طرف ’’غزوہ ہند‘‘ کا چراغ روشن ہوا تو ’’برہمنی سامراج‘‘ کے وہ تمام عزائم چکنا چور کر گیا… جو وہ ایک سو سال سے دل میں پالے بیٹھا تھا… آپ ’’جہاد کشمیر ‘‘ سے پہلے والے انڈیا کو دیکھیں… اور پھر جہاد کشمیر کے بعد والے انڈیا میں دیکھیں… آپ کو واضح فرق نظر آئے گا…ہم نے اس یادگار جہادی سفر میں… انڈیا کو اژدھے سے کیچوا بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا… اکھنڈ بھارت کا وہ خواب… جس کے لئے ستر سال تک خونی محنت کی گئی تھی… ایسا ذلیل ہوا کہ… اب انڈیا کا ایک ایک انگ زخمی ہے، کس کس شکست کا تذکرہ کروں؟…

انڈیا کی ذلت کی داستان… اس کے ’’ راج بھون‘‘ سے لے کر ’’قندھار‘‘ تک پھیلی پڑی ہے … بس رہ سہہ کر طاقت کا ایک بھرم قائم تھا… جو پٹھان کوٹ اور اوڑی نے خاک بنا کر اُڑا دیا… اب جھوٹے دعوے ہیں…اور کانپتی ٹانگیں… کیا آج کی سٹیلائٹ دنیا نے ایسا کوئی حملہ یا سرجیکل سٹرائیک دیکھا ہے جو… کسی کو کہیں بھی نظر نہیں آ رہا…

پٹھان کوٹ کا حملہ چار کشمیری مجاہدین نے کیا…وہ پوری دنیا کو نظر آ گیا… اور کئی دن تک وہ دیکھا اور دکھایا جاتا رہا… اوڑی کا حملہ چار کشمیری مجاہدین نے کیا…وہ ساری دنیا نے دیکھا اور سنا… جبکہ ’’انڈیا‘‘ کا ’’سرجیکل سٹرائیک ‘‘ جو بقول اس کے…ہیلی کاپٹروں اور سینکڑوں کمانڈوز کے ساتھ کیا گیا… اب تک نہ کسی آنکھوں والے کو نظر آیا… اور نہ کسی اندھے کو… دراصل جہاد کشمیر جو غزوہ ہند ہے… اس نے انڈیا کی رگوں کا خون نچوڑ لیا ہے… اس لئے اب نہ تو ڈھاکہ ہے اور نہ اس کا پلٹن گراؤنڈ… اب تو رات دن ذلت ہی ذلت ہے…عبرتناک ذلت…

بات یادگار سفر کی چل رہی تھی…جہاد کا سفر اور شہداء کرام کے خون کا سفر براعظم افریقہ میں داخل ہوا…وہاں کئی محاذ کھل گئے… عراق و شام میں داخل ہوا جہاں ہر طرف محاذ کھل گئے…

سبحان اللہ! ایک چشمہ کس طرح سے ٹھاٹھیں مارتا دریا بنا کہ…آج دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ’’ جہاد‘‘ ہے… آج دنیا کا سب سے نمایاں مسئلہ جہاد ہے… جہاد آج میڈیا سے لے کافروں کے حواس تک…ہر جگہ ’’وکٹری سٹینڈ‘‘ پر کھڑا ہے … اب ان حالات میں جہاد کی آیات پڑھیں تو دل جھومنے لگتا ہے… ہر آیت کا نقشہ زمین پر موجود ہے… ان حالات میں جہاد کے ابواب پڑھیں تو آنکھیں چمکنے لگتی ہیں… جہاد کا ہر باب آج زمین پر نظر آ رہا ہے… اور تو اور آپ جہاد کی جزئیات پڑھ لیں … آپ کو ان کی عملی تصویر اپنے زمانے میں نظر آ جائے گی… ارے مسلمانو! اب تو جہاد کی محبت دل میں ایسی بٹھا لو کہ… ہمارے مرنے کے بعدہماری قبر کی مٹی سے بھی… الجہاد الجہاد کی خوشبو آئے…

بوکھلایا ہوا کون ہے؟

اس وقت ’’انڈیا‘‘ نے پاکستان کے خلاف جو اقدامات اُٹھائے ہیں…مقبوضہ کشمیر کے المناک مناظر دیکھ کر یہ سب کچھ پاکستان کو کرنا چاہیے تھا… سارک کانفرنس میں شرکت ہو یا کنٹرول لائن پر فائرنگ کی ابتداء…جب ہماری شہہ رگ کشمیر میں… نوے دن سے ظلم و جبر کا طوفان برپا ہے تو ہمیں چاہیے تھا کہ… ہم سارک کانفرنس خود منسوخ کرتے… اور کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ بھی خود ختم کرتے… نوے دن میں ہمارے کتنے مسلمان شہید کئے گئے اور کتنے معذور اور زخمی…

مگر ہمارے ہاں ٹھوس فیصلوں کی کمی ہے … بھارت اگر اپنے اٹھارہ فوجیوں کے لئے یہ سارے اقدامات کر سکتا ہے تو ہم اپنے ہزاروں کشمیری شہداء کے لئے یہ سب کچھ کیوں نہیں کر سکتے؟ … باقی رہا پانی بند کرنے کا معاملہ تو انڈیا یہ پہلے سے کرتا چلا آ رہا ہے… مگر اب وہ مزید کچھ نہیں کر سکے گا… اگر ان کے پاس ڈیم اور بند بنانے والے آلات ہیں تو ہمارے پاس ان سب کو توڑنے کا بہترین انتظام موجود ہے… ایک بزدل قاتل مودی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہمیں پیاسا مارنے کی کوشش کرے…انڈین میڈیا بار بار یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ…انڈیا کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے ہم بوکھلائے ہوئے ہیں… حالانکہ انڈیا نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے… اس پر یا تو خوشی منائی جا سکتی ہے یا خون کو جوش دلایا جا سکتا ہے… یا کم از کم ہنسا جا سکتا ہے… ہر دن نئی بات، نئی حماقت اور نئے لطیفے…حقیقت میں دیکھا جائے تو…اس وقت انڈین حکمران اور انڈین میڈیا دونوں بری طرح سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں… کیا بولیں اور کیا نہ بولیں …کیا کریں اور کیا نہ کریں؟…

انڈیا اس وقت شدید ذہنی شکست کا سامنا کر رہا ہے…حکومت پاکستان اگر کچھ ہمت دکھائے تو اس وقت کشمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے اور پانی کا بھی… اور کچھ نہیں تو حکومت صرف مجاہدین کا راستہ کھول دے… تب ان شاء اللہ 71ء کی تمام کڑوی یادیں… 2016ء کے حسین فاتحانہ مناظر میں گم ہو جائیں گی…

لاالہ الااللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ،لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor