Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفاتحہ (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

rangonoor 441 - Saadi kay Qalam Say - Al-Fatiha

الفاتحہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 441)

اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایک خاص فرشتے کو زمین پر بھیجا… اُس دن سے پہلے یہ فرشتہ کبھی زمین پر تشریف نہیں لایا تھا… اس فرشتے کے لئے آسمان کا ایک خاص دروازہ کھولا گیا جس سے وہ زمین پر اُترا… آسمان کا یہ دروازہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا… یہ فرشتہ اپنے رب کا پیغام لیکر ایک صحرائی زمین پر اُترا… وہاں دو عظیم شخصیات تشریف فرما تھیں…

(۱) تمام جہان کے سردار حضرت آقا مدنی محمدﷺ

اور

(۲) تمام ملائکہ یعنی فرشتوں کے سردار حضرت جبریل امین علیہ السلام

فرشتے نے آکر سلام عرض کیا اور فرمایا:

 آپ(ﷺ) کو دو نوروں کی بشارت ہو جو پہلے کسی نبی کو عطاء نہیں کئے گئے…ان میں سے ایک نور ’’سورۃ الفاتحہ‘‘ ہے اور دوسرا نور’’سورہ بقرہ‘‘ کی آخری آیات ہیں…

سُبْحَانَ اﷲ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اﷲِ الْعَظِیْم وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

یہ جو کچھ اوپر لکھا ہے یہ ایک’’حدیث صحیح‘‘ کا مفہوم ہے، اور یہ حدیث’’مسلم شریف‘‘ میں موجود ہے… لیجئے نور مل گیا، روشنی مل گئی، راستہ مل گیا… آپ میں سے جو پاکی کی حالت میں ہوں… ابھی ایک بار دل کی توجہ سے سورۂ فاتحہ پڑھ لیں پھر بات آگے بڑھاتے ہیں… امید ہے آپ نے پڑھ لی ہوگی… سبحان اﷲ! قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت… ایسی سورت جس میں ہمارے ہر مسئلے کا حل موجود ہے… ایسی سورت جو نہ تورات میں نازل ہوئی اور نہ انجیل و زبور میں… ایسی سورت جو خاص طور پر حضرت آقا مدنیﷺ اور آپ کی اُمت کو عطاء فرمائی گئی…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

ارے بھائیو! اوربہنو! اپنے مسلمان ہونے پر شکر ادا کرو… اگر کوئی صرف سورہ فاتحہ کے نور کی ایک جھلک دیکھ لے تو اسے اندازہ ہو جائے کہ اسلام کتنی بڑی نعمت ہے اور کلمہ طیبہ کتنی عظیم نعمت ہے… کلمہ طیبہ کی برکت سے ہمیں سورۂ فاتحہ مل گئی…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

دیکھیں سورۃ فاتحہ میں ایک وسیع جزیرہ ہے… عبدیت اور طاقت کا شاندار پُرسکون جزیرہ…

اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن…

بس ایک کی غلامی میں آکر ہر غلامی سے آزاد ہو جائو… ایک کی بندگی میں آکر ہر ذلت اور ہر طاقت کی بندگی سے نجات پا جائو… اور ایک سے مدد مانگ کر ساری مخلوق کی محتاجی سے بچ جائو… دنیا بھر کے کافر مشرک اور منافق اس پُر کیف جزیرے سے محروم… ہر ذلت ہر غلامی اور ہر محتاجی میں جکڑے ہوئے… چلو وہ تو جدیدیت اور مادہ پرستی کے پجاری مگر ایمان والوں کو کیا ہوا… مسلمانوں کو کیا ہوا کہ سورہ فاتحہ سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے… سبحان اﷲ… الفاتحہ، الفاتحہ، الفاتحہ… کھولنے والی، رستہ دکھانے والی، تاریکیوں کو توڑنے والی… گمراہیوں کو شکست دیکر ہدایت کی فتح کے جھنڈے گاڑنے والی سورہ فاتحہ…تعجب ہے ہم پر کہ ہمارے پاس سورہ فاتحہ موجود ہے مگر ہم پھر بھی دھکے کھا رہے ہیں… اچھا ایک بات بتائیں! آج صبح سے اب تک آپ نے کتنی بار سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟… نماز کی ہر رکعت میں تو ضرور پڑھی ہو گی، مگر یہ بتائیں کہ کتنی بار سمجھ کر توجہ سے پڑھی؟… ہاں! شاید ایک بار بھی نہیں… ہم تو نماز میں سورہ فاتحہ اتنی جلدی پڑھتے ہیں جیسے ہمارے پیچھے کوئی بھیڑیا لگا ہوا ہو اور ہم جان بچانے کو بھاگ رہے ہوں… آہ! افسوس، جس عظیم سورۃ کے ہر جملے پر بادشاہوں کے شہنشاہ حضرت رب العالمین خود جواب عطاء فرماتے ہیں، ہم اس سورت کو بھی جلدی جلدی بے توجہی سے پڑھ جاتے ہیں… نہ توجہ، نہ سمجھ، نہ شوق نہ ولولہ… نہ محبت نہ مناجات، نہ عظمت، نہ احترام… اور نہ اپنے محبوب رب سے گفتگوکرنے کی کیفیت اور حلاوت…

موبائل یاریاں کرنے والوں کو دیکھا ہو گا کہ ناپاک آوازوں میں کیسے کھوئے کھوئے ہوتے ہیں… اور ہم اپنے عظیم رب سے مناجات کرتے وقت… نہ اُن کی عظمت سے لرزتے ہیں اور نہ اُن کے شوق میں پگھلتے ہیں… ارے، سورہ فاتحہ کے ہر جملے پر اﷲ رب العالمین خود جواب عطاء فرماتے ہیں

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

آج سے نیت کر لیں کہ ہم ان شاء اﷲ… آئندہ جب بھی سورہ فاتحہ پڑھیں گے… رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر شوق اور توجہ سے پڑھیں گے… تب ہم پر اس عظیم ترین اور مبارک ترین سورت کے انوارات چھم چھم برسیں گے… تھوڑا سا سوچیں…

آج ہم پر جو سب سے بڑی بیماری مسلّط ہے… وہ ہے ناامیدی،مایوسی اور ناشکری کی بیماری… سورۃ فاتحہ کا پہلا لفظ’’الحمد‘‘… ہمیں شکر گزار بناتا ہے… ہم شکر گزار بن گئے تو تمام مایوسیاں، ناکامیاں اور ناشکریاں منہ چھپا کر بھاگ جائیں گی… ہم آج رزق، رہائش اور معیشت کے مسائل سے دوچار ہیں… سورہ فاتحہ میں’’ربّ العالمین‘‘ موجود ہے… جس کو ربّ مل جائے گا یعنی خوب دیکھ بھال کر کے محبت کے ساتھ پالنے والا… تو پھر اور کیا چاہئے؟…

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن…

آج ہم پریشان ہیں، دربدر ہیں، منتشر ہیں اور اس دنیا کے فریبوں میں پھنسے ہوئے مر رہے ہیں، لٹک رہے ہیں… سورہ فاتحہ میں ہمارا مالک موجود ہے جو ہمارے اصل دن کا مالک ہے… مالک مل جائے تو مملوک چیزیں ضائع نہیں ہوتیں… اور آخرت کی فکر نصیب ہو جائے تو دنیا کے مسائل بہت ہلکے ہو جاتے ہیں… دوسری طرف ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے، اپنی شامت اعمال سے اور اپنے دشمن شیطان کی سازشوں کی وجہ سے ہر طرح کی زحمتوں اور مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں… سورہ فاتحہ میں رحمتوں کا وسیع سمندر موجود ہے… عام رحمتیں بھی اور خاص رحمتیں بھی… دنیا کی رحمتیں بھی اورآخرت کی رحمتیں بھی…

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم… مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن… الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن…

سوچئے اور غور کیجئے سورہ فاتحہ میں ہر وہ چیز مل جائے گی، جس کے ہم محتاج ہیں اور جس کے ہم آگے محتاج ہوں گے… سب سے بڑی چیز سیدھا راستہ ہے، منزل تک پہنچانے والا راستہ… اسی کو ہدایت کہتے ہیں… وہ بھی فاتحہ میں موجود ہے…

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم…

اﷲ والے بندے تو بس اسی جملے سے ہی… اﷲ تعالیٰ کی رہنمائی حاصل کر لیتے ہیں… یہ جملہ ایک طرف’’ ہدایت‘‘ کے لامتناہی دروازے کھولتا ہے تو دوسری طرف بندے کے دل میں’’الہام‘‘ کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے … تب اُسے ہر معاملہ میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سیدھی راہ اور ٹھیک راستے کا الہام ہونے لگتا ہے… کئی لوگ تو سورہ فاتحہ سے ہی استخارہ کر لیتے ہیں… دو رکعت نماز ادا کی، استخارہ کی مسنون دعاء پڑھی… اور پھر سورہ فاتحہ کے نور میں غوطے لگانے لگے… جب بھی کسی مسئلے نے الجھایا، جب بھی کسی مشکل نے تڑپایا… وہ سورہ فاتحہ کے ذریعہ روشنی مانگنے لگے… ہمارے چاروں طرف تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے نا؟… شیطان کے اندھیرے، نفس کے اندھیرے، شہوات کے اندھیرے، کم فہمی اور بے علمی کے اندھیرے… روشنی ہو تو کمرے کی ہر چیز نظر آجاتی ہے… اسی طرح نور ہو تو سیدھا اور غلط سب نظر آجاتا ہے… اندھیرے میں گاڑی چلاؤ تو کسی کھائی میں گرے گی… اس کی لائٹیں جلا لو تو مزے سے سیدھی سڑک پر دوڑتے ہوئے منزل تک جا پہنچو… سورہ فاتحہ کے ’’نور‘‘ ہونے میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا… مگر نور کو روشن کرنے کے لئے دل کی توجہ اور اخلاص کا بٹن دبانا پڑتا ہے… اخلاص اور توجہ سے سورہ فاتحہ پڑھتے جارہے ہیں… اور جب اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم پر پہنچتے ہیں تو… اسے بار بار پڑھتے ہیں…

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم

تب نور چمکتا ہے اور ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ نظر آنے لگتا ہے… عرض یہ کر رہا تھا کہ اس میں استخارہ بھی ہے…اچھا:آج ایک بات کا وعدہ کر لیں… آپ یقین کریں آپ یہ وعدہ کرنے کے بعد نہ ان شاء اﷲ دنیا میں پچھتائیں گے اور نہ آخرت میں…وعدہ یہ کریں کہ’’استخارہ‘‘ کو اپنا معمول بنائیں گے… اور کبھی بھی، جی ہاں کبھی بھی کسی اور سے اپنے لئے استخارہ نہیں کرائیں گے… یاد رکھیں استخارہ بہت اونچا اور مبارک عمل ہے… حضرات صحابہ کرام کو استخارہ یوں سکھایا جاتا تھا جس طرح سے قرآن مجید کی آیات سکھائی جاتی ہیں… استخارہ انسان کی زندگی کو خیر اور رحمت سے بھر دیتا ہے… صرف پانچ منٹ کا عمل اور فضائل و فوائد ہمیشہ ہمیشہ کروڑوں اور اربوں سالوں سے بھی زیادہ کے… مگر کسی اور سے اپنے لئے استخارہ کرانا اچھا کام نہیں… اوراس سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوتا… کیا نعوذباﷲ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ… اﷲ تعالیٰ ہماری نہیں سنتے اور فلاں کی سنتے ہیں؟… توبہ توبہ اﷲ تعالیٰ سے ایسی بدگمانی… کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں استخارہ کا جواب سمجھ نہیں آتااس لئے دوسروں سے کراتے ہیں… یہ بھی غلط… استخارہ کا کوئی جواب ہوتا ہی نہیں… بلکہ استخارہ کے بعد خیر کاراستہ خود کھل جاتا ہے اور شر کا راستہ خود بند ہوجاتا ہے… نہ خواب، نہ الہام اور نہ کچھ اور… ہمارے ہاں کچھ لوگ نجومیوں سے مستقبل کے حالات پوچھتے ہیں…سفر ٹھیک ہے یا نہیں؟… فلاں تجارت نفع مند ہو گی یا نہیں؟ فلاں رشتہ اچھا ہوگا یا نہیں؟… نجومیوں کے ہاں جو جاتاہے وہ ایمان سے دور ہوجاتا ہے… حضوراقدسﷺ نے بہت سخت وعید فرمائی ہے… اور نجومیوں کی تصدیق کرنے کو کفر جیسا قرار دیا ہے… اب جو لوگ ان وعیدوں کی وجہ سے نجومیوں کے پاس نہیں جا سکتے… مگراُن کو بھی ہر وقت دنیا کے مسائل کی فکر اور خواہش لگی رہتی ہے… انہوں نے اس کا متبادل نکال لیا ہے کہ فلاں سے استخارہ کرالو… اور اس میں انداز بالکل نجومیوں والا ہوتا ہے کہ جی ہم نے فلاں سے استخارہ دکھلوایا ہے…

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااَلِیْہِ رَاجِعُوْن، اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااَلِیْہِ رَاجِعُوْن، اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااَلِیْہِ رَاجِعُوْن…

آہ مسلمان! اﷲ تعالیٰ نے تیرے لئے اپنے ہاں ایک دروازہ کھولا اور تو دوسروں کی ڈیوٹی لگا رہا ہے کہ وہ اس دروازے پر جا کر تیرے مستقبل کے بارے میں اﷲ تعالیٰ سے پوچھ آئیں… بھائیو! آپ جن سے استخارہ کرواتے ہیں، کبھی جا کر خود اُن کے حالات دیکھیں کہ وہ کیسی پریشانیوںمیں ہوتے ہیں… اگر اُن کے پاس عرش سے ہر ’’خیر‘‘ پوچھنے کا موبائل ہوتا تو وہ اپنے لئے ہر خیر جمع کر لیتے، نہ کبھی بیمار ہوتے نہ کبھی تکلیف پاتے، نہ کبھی ان کا حادثہ ہوتا… علم غیب تو اﷲ تعالیٰ کا خاصّہ ہے… اور استخارہ کا یہ مقصد ہرگز نہیں… بلکہ استخارہ تو بندگی کا ایک قرینہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے خیر کی دعاء مانگی جائے اور شر سے بچانے کی درخواست کی جائے… اﷲ تعالیٰ نے اس عمل میں یہ تأثیر اور برکت عطاء فرما دی ہے کہ جو شخص اپنے معاملات میں استخارہ کرتارہے… یعنی اللہ تعالیٰ سے پوچھ پوچھ کر چلے تو اللہ تعالیٰ اُسے ایک خاص قوت اور روشنی عطاء فرما دیتے ہیں… آپ سب اپنے معاملات کا ضرور استخارہ کیا کریں… مگر کبھی بھی کسی اور سے اپنے لئے ہرگز ہرگزاستخارہ نہ کرائیں… اس سے عقیدہ بھی بگڑتا ہے، عمل بھی خراب ہوتا ہے… اور انسان توہم پرست بن کر بالآخر نجومیوں اور غلط عاملوں کے ہاتھوں اپنا ایمان کھو بیٹھتا ہے…

ہاں، اللہ والوں اور نیک لوگوں سے مشورہ کیا کریں… اُن سے دعاء کرایا کریں اور اُن سے شرعی رہنمائی لیا کریں… مگر اُن کو غیب دانی، اور مستقبل کے خیر و شر کے فیصلے کرنے کی ڈیوٹی نہ دیں… کئی نیک لوگ اس لئے لوگوں کے ’’استخارے‘‘ کر دیتے ہیں کہ اگر ہم نے نہ کئے تو یہ باز نہیں آئیں گے بلکہ کسی نجومی یا غلط عقیدہ کے عامل کے پاس چلے جائیں گے… چنانچہ وہ دعاء کرکے کسی ایک پہلو کا فیصلہ سنا دیتے ہیں… حالانکہ انہیں بھی کچھ نظر نہیں آتا… اور نہ شریعت میں ایسے شعبدے موجود ہیں…بس جن میں کچھ روحانیت ہوتی ہے وہ اپنی دعائ، اپنے رونے دھونے اور اپنی عاجزی کے ذریعہ روشنی پانے کی کوشش کرتے ہیں… اور پھر ان کی طبیعت کا رجحان جس طرف ہو وہ بتا دیتے ہیں… ان کی نیت اچھی ہوتی ہے… مگر بہتر یہ ہوگا کہ وہ سامنے والے کو پوری حقیقت بتا دیا کریں…اورخود استخارہ کرنے کی ترغیب دیا کریں… آپ آج تو اس شخص کو نجومیوں اور غلط عاملوں سے بچالیں گے مگر… کل کیا ہوگا؟… اس کی عادت اگر یہی بن گئی کہ ہر سفر سے پہلے، ہر رشتہ سے پہلے اور ہرکام سے پہلے اسے مستقبل میں خیر کی گارنٹی درکار ہوئی تو یہ… ضرور نجومیوں اور غلط عاملوں کے ہاتھوں پھنسے گا… اس لئے اچھا ہے کہ اس کو خیر اور شر کی تقدیر، علم غیب کا مسئلہ اور استخارہ کی حقیقت آج ہی سمجھا دی جائے… تاکہ اگر اس کی قسمت اچھی ہو تو اس کا ایمان بچ جائے…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

بات سورہ فاتحہ کی چل رہی تھی… بہت سی اہم باتیں رہ گئیں… مگر موضوع استخارہ کی طرف پھسل گیا، دراصل کافی عرصہ سے استخارہ کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ ہے مگر وہ پورا نہیں ہورہا… ہر طرف’’استخارہ سینٹر‘‘ کھل رہے ہیں… سنا ہے ٹی وی پر بھی استخارہ کے پروگرام چل رہے ہیں…ایسے لوگ بھی دوسروں کے استخارے کر رہے ہیں جو خود قدم قدم پر بھٹکتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں… فیس لیکربھی استخارے کئے جارہے ہیں… آہ! افسوس استخارہ جیسا مقدس لفظ بھیڑیوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے… کاش وہ اپنے ان نجومیانہ کاموں کا’’استخارہ‘‘ کے علاوہ کوئی اور نام رکھ لیتے… سورہ فاتحہ میں الحمدللہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے… یہ سات آیات ہیں… جو سات آسمانوں اور سات زمینوں پر حاوی ہیں… یہ سات آیات جہنم کے سات دروازے بند کر دیتی ہیں… یہ سات آیات ہر روحانی اور ظاہری ترقی کو سات آسمانوں سے اوپر لے جانے کی طاقت رکھتی ہیں… آپ آج ارادہ کر لیں کہ…سورہ فاتحہ کا ترجمہ یاد کریں گے، سورہ فاتحہ کو صحیح تلفظ سے پڑھیں گے… اور نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت ٹھہرٹھہر کر توجہ سے کریں گے… اور اپنے معاملات، بیماریوںاور پریشانیوںکے حل کے لئے… سورہ فاتحہ پڑھیں گے… باقی باتیں پھر کبھی ان شاء اللہ…

لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ، لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

اللھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا…

 لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor