Bismillah

576

۱۴ تا۲۰ربیع الثانی۱۴۳۸ھ  ۱۳تا۱۹جنوری۲۰۱۷ء

اعصاب شکن (رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے)

Rangonoor 567 - Saadi kay Qalam Say - Aasaab Shikan

اعصاب شکن

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 567)

اللہ تعالیٰ ہی سے دین پر ’’استقامت‘‘ کا سوال ہے

…اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ دِیْنِکَ

امریکی انتخابات

آج 8نومبر 2016ء بروز منگل… امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں …دیکھیں! دو فتنوں میں سے کون سا فتنہ مسلط ہوتا ہے… ایک طرف ’’ہیلری‘‘ ہے اور ایک طرف ’’ٹرمپ‘‘… ایک ’’ناگ‘‘ ہے اور ایک ’’ناگن‘‘…

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ

 

زیادہ امکان ’’ہیلری‘‘ کا ہے… لیکن اگر ’’ٹرمپ‘‘ آ جائے تو فائدہ ہو گا…کیونکہ’’کفر ‘‘ جتنا سخت اور جتنا واضح ہو…مسلمان اسی قدر جلد بیدار اور مضبوط ہوتے ہیں… کفر ہر حال میں کفر ہوتا ہے… جس طرح مہلک زہرہرحال میںزہر ہوتا ہے…لیکن میٹھا زہر اور میٹھا کفر…زیادہ خطرناک ہوتا ہے… جیسے انڈیا میں ’’ بی جے پی‘‘ کے آنے سے کشمیر کی تحریک پھرگرم ہوئی… انڈیا کے مسلمان زیادہ بیدار ہوئے اور اُن کے دین میں پختگی آئی… ’’کانگریس‘‘ میٹھا زہر تھا… اور ’’بی جے پی‘‘ کڑوا زہر… کڑوے زہر سے لوگ آسانی سے بچ جاتے ہیں… ’’ٹرمپ‘‘ اگر آ گیا تو جہاد کو بہت فائدہ ہو گا… بلکہ دنیا دیکھ لے گی کہ امریکہ خود ’’محاذ ‘‘ بن جائے گا…کفر جب بھی نفاق کا چولا اُتار کر کھلی دشمنی پر آتا ہے تو اسلام اور مسلمانوں کو قوت ملتی ہے… ابو جہل تھا تو ’’غزوہ بدر‘‘ آیا…

دجال آئے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی رضی اللہ عنہ جیسے مجاہدین تشریف لائیں گے… امریکہ کے خفیہ ادارے ’’ٹرمپ ‘‘ کو خود سامنے لائے ہیں…تاکہ مسلمانوں کو ڈرایا جا سکے کہ…اگر تم باز نہ آئے تو ’’ٹرمپ‘‘ جیسے لوگ بھی آ سکتے ہیں جو مکمل صفایا کر دیں گے… اب ممکن ہے کہ… ٹرمپ کو ہرا دیا جائے کیونکہ مقصد صرف اس کا خوف پھیلانا تھا…مگر خفیہ ادارے اسلام اور مسلمانوں کی فطرت کونہیں سمجھتے… ہر مسلمان کو کلمہ پڑھنے کے بعد اس بات کا مکمل اطمینان ہوتا ہے کہ… اسلام ختم نہیں ہو سکتا اور مسلمانوں کا صفایا نہیں ہو سکتا… یہ اُمت آخری اُمت ہے… اس نے آخر تک رہنا ہے… دنیا کے سارے ایٹم بم ایک ہی وقت میں چلا دئیے جائیں تب بھی اسلام اور مسلمان ختم نہیں ہو سکتے …یہ قرآن عظیم الشان کا سچا وعدہ ہے… یہ حضرت آقا مدنی ﷺکی مقبول دعاء کا معجزہ ہے … اس لئے مسلمان بے فکر ہو کر لڑتے ہیں… اور کسی بڑے سے بڑے اور خطرناک سے خطرناک دشمن کی دم پر پاؤں رکھنے سے بھی نہیں ڈرتے… ہاں! یہ امت محمد ﷺ ہے… یہ بنی اسرائیل نہیں…ہاں واللہ ثم واللہ یہ بنی اسرائیل نہیں…غزوہ بدر اور صحابہ کرام ہی اس امت کے لئے مثال ہیں… نہ کہ بنی اسرائیل… ہاں اس امت کے بعض بد نصیب لوگوں کے لئے حضور اقدس ﷺ نے یہ وعید سنائی ہے کہ… وہ یہود و نصاریٰ یعنی بنی اسرائیل کے طریقوں کو اپنائیں گے… اور اُنہی کے طریقوں پر چلیں گے…

یا اللہ! اس ’’وعید ‘‘ سے ہم سب کی حفاظت فرما…

ماضی کا منظر نامہ

ساری دنیا پر کفر چھایا ہوا تھا…ہر طرف شیطان کی حکومت تھی…روئے زمین کا ایک چپہ بھی اس کی حکمرانی سے محفوظ نہیں تھا… حتی کہ کعبہ شریف میں بھی بتوں کی شیطانی پوجا جاری تھی… آسمانی دین بگڑ چکے تھے…بس کچھ لوگ ہی اسلامی ادیان پر مکمل عمل پیرا تھے… وہ بھی کمزور، بے بس، بے اختیار اور دور دور بکھرے ہوئے تھے …ان حالات میں مکہ مکرمہ میں ایک نور چمکا… حضرت محمد ﷺ کی ’’بعثت ‘‘ہوئی… اور پھر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ اور لڑائی شروع ہو گئی…یہ لڑائی قرب قیامت تک رہے گی… اس لڑائی میں بس دو لشکر ہیں… ایک حضرت محمد ﷺ کا لشکر… اور ایک کفر و شیطان اور نفاق کا لشکر… اس جنگ میں … کوئی غیر جانبدار نہیں رہ سکتا… ہر کسی کو ان دونوں لشکروں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا… اور اس لڑائی میں حصہ لینا ہو گا… جن کی قسمت اچھی ہوتی ہے… وہ حضرت محمدﷺ کے لشکر کا حصہ بنتے ہیں… اور جو ( نعوذ باللہ) شقی، محروم اور بد نصیب ہوتے ہیں… وہ دوسری طرف کے لشکر میں شامل رہتے ہیں… ’’محمدی لشکر‘‘ کے بانی، امام، امیر اور رہبر حضرت محمد ﷺ جب غار حرا سے’’ نور نبوت‘‘ لے کر اُتر رہے تھے تو … یہ لشکر بس ایک فرد پر مشتمل تھا… جب آپ ﷺ گھر پہنچے تو … لشکر میں اضافہ ہوا اور افراد دو ہو گئے اور اسی دن … دو اور افراد بھی لشکر کا حصہ بن گئے … اور تعداد چار ہو گئی… دو مرد ، ایک عورت اور ایک بچہ… اور مقابلہ تھا ساری دنیا کے شیطانی طاغوتی نظام سے … یہ منظر سوچتے ہوئے بھی انسان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں… دنیا میں جو بھی کسی دعوے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے… اس کے ساتھ کوئی کنبہ ، کوئی قبیلہ ،کوئی لسانی جتھا… کوئی طاقت ہوتی ہے… مگر یہ لشکربس ان چار نفوس پر مشتمل تھا… اور باقی ہر کوئی دشمن… کام شروع ہوا تو ترقی کم اور مشقت زیادہ تھی… چالیس افراد بنتے بنتے کئی سال بیت گئے…اور کئی قیامتیں ٹوٹ گئیں…

مگر مدنی لشکر…کبھی حوصلہ نہیں ہارتا… مدنی لشکر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا… مدنی لشکر کبھی اپنے مقصد کو نہیں بھولتا… استقامت اور مسلسل محنت اس لشکر کی وہ شان ہے…جو دنیا کے کسی اور لشکر میں نہیں ہے… لشکر مکہ مکرمہ میں تیار ہو رہا تھا… اور چھاؤنی مدینہ منورہ میں بن رہی تھی… لشکر اور چھاؤنی اکھٹے ہوتے ہیں تو …جہاد شروع ہو جاتا ہے…

اور پھر وہ شروع ہو گیا…اور زخم کھاتا، گرتا پڑتا…مسلسل قدم بڑھاتا دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا…

اگلا منظر نامہ

مدنی لشکر کے جہاد کی بھی یہی شان تھی… استقامت اور مسلسل محنت… چنانچہ وہ نہ فتح میں اِترایا… اور نہ ظاہری شکست میں گھبرایا… وہ نہ کہیں اَکڑ کر رکا… اور نہ کہیں زخم کھا کر گرا… وہ نہ بانہیں پھیلاتی دنیا کی ہری بھری گود میں رکا… اور نہ منہ موڑتی صدمے پہنچاتی مصیبتوں میں اَٹکا … وہ چلتا گیا… اور زمین اُس کے آگے بچھتی گئی … وہ اسلام کو لے کر بڑھتا گیا اور کفر کا نظام دنیا سے سمٹتا گیا…ہاں! محمدی لشکر یعنی مدنی لشکر نے وہ فتوحات حاصل کیں جو دنیا کی کوئی قوم کبھی حاصل نہ کر سکی… صرف تیس سال کے عرصہ میں اسلام دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا… ایک ناقابل شکست طاقت… روم کے روما سے بڑی طاقت… فارس کے کسریٰ سے بڑی طاقت…

بھیانک منظر نامہ

ایک ہزار سال تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بننے والا ’’اسلام‘‘ پھر آزمائشوں کا شکار ہوا … شیطان نے اپنے حواریوں کو… متحد کر لیا …کفر اور نفاق کا بندھن مضبوط ہوا… اور مسلمانوں پر اندر باہر سے یلغاریں ہونے لگیں … نہ رکنے اور نہ مڑنے والا مدنی لشکر بکھر گیا… اسلام کے اندر طرح طرح کے غیر اسلامی فتنوں نے زور پکڑا… حکومت کی کرسی پر وہ عیاش افراد آ بیٹھے جن کے جسموں میں… نہ غیرت کا خون تھا اور نہ ایمان کا نور… وہ بزدلی اور شہوت پرستی کا بھوسہ تھے… مدنی لشکر کے اصل افراد اورمجاہد … جان پر کھیل کر محنت کرتے رہے مگر وہ کمزور ہو چکے تھے… اور یوں بالآخر ایک دن… خلافت اسلامیہ کا آخری علامتی مینار بھی گر گیا… پورے پورے خطے اسلام اور مسلمانوں سے خالی کرا لیے گئے… ملکوں اور علاقوں کے نام اور تہذیب کو بدل دیا گیا… ظاہری طور پر بہت سی زمینیں اور ملک مسلمانوں کے پاس رہے مگر… وہاں اسلامی حکومت کا نام و نشان نہیں تھا… وہاں مدنی تہذیب پر پابندی تھی… مسلمانوں میں ظاہری عبادات رہ گئیں… مگر ان میں عزت ، عظمت اور غیرت کی روح کو فناء کرنے کی ہر کوشش کی گئی… یہاں تک کہ… مسلمان ظاہری طور پرآزاد… مگر حقیقت میں غلام بنا دیئے گئے… سیاسی غلام ، اقتصادی غلام ، تہذیبی غلام ، تعلیمی غلام… حالت یہاں تک جا پہنچی کہ …مسلمانوں کے لئے نعوذ باللہ ’’سنت‘‘ ایک ذلت بنا دی گئی… اور ’’حیوانیت‘‘ ایک فیشن بن گئی… غلامی کا یہ دورانیہ… تین سے چار سو سال تک چلتا گیا… مگر اسلام تو اسلام ہے… وہ ختم نہ ہوا… مسلمان تو مسلمان ہے وہ بھی ختم نہ ہوا… اور پھر اچانک دھند اور دھول کے اس اندھے طوفان کے سر پر جہاد کا سورج مسکرایا… کفر اور شیطان جو مکمل طور پر مطمئن ہو چکے تھے…انہوں نے آنکھیں مسل مسل کر دیکھا تو حیران رہ گئے … مدنی لشکر پھر جمع ہو رہا تھا…جہاد پھر للکار رہا تھا … اور دنیا میں اگلے مرحلے کی جنگ شروع ہو چکی تھی…

اعصاب شکن جنگ

چار سو سال کی غلامی…بہت بڑی مدت ہے… ان چار سو سالوں میں’’ کفر ‘‘نے اپنی طاقت حد درجہ بڑھا لی… کفر اور شیطان نے سر جوڑ کر اپنی ایک ہزار سالہ شکست کے عوامل پر غور کیا… اور پھر قیامت تک کے غلبے کی تیاری باندھی…طرح طرح کا مہلک اسلحہ… کفر کی غلامی پر فخر سکھانے والا تعلیمی نظام… اور انتہائی خطرناک معاشی دادا گیری… اور پھر مغربی جمہوریت کا منحوس طریقہ کار… الغرض … مسلمانوں کے لئے کسی میدان میں کچھ نہ بچا… اور ان کے لئے سوائے سر جھکا کر جینے کے…ا ور کوئی راستہ نہ چھوڑا گیا تھا…حتی کہ حضرت آقا مدنی ﷺ کی قابل فخر، قابل رشک… داڑھی مبارک کی سنت نعوذ باللہ مسلمانوں کے اندر… ایک مذاق بن گئی… اور اسلامی حدود و تعزیرات پر نعوذ باللہ’’وحشت‘‘ کا لیبل لگا دیا گیا… اور پھر چوکیداری ایسی سخت کہ مسلمانوں کے کسی ملک میں…اسلام کا ایک قانون بھی نافذ ہو تو ساری دنیا کے کتے مل کر اس قدر زور سے بھونکنے لگتے ہیں کہ… بالآخر وہ قانون واپس لینا پڑتا ہے… اکثر مسلمانوں سے قرآن مجید چھین لیا گیا… انہیں قرآن پڑھنا تک نہیں آتا… الغرض… مدینہ پاک کی ہر چیز کو ہر جگہ شکست، قدامت، رجعت اور پسماندگی کا نشان بنایا جانے لگا… مگر کفر کی یہ رات بالآخر ختم ہونی تھی… مدنی لشکر کے سپاہی جمع ہونے لگے… وہ حضرت آقا مدنیﷺکے دین کی ایک ایک چیز کی حفاظت کے لئے …سربکف میدانوں میں اُتر آئے… کفر نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں ختم کرنے کے لئے پوری طاقت جھونک دی… مگر ’’مدنی لشکر‘‘ جب چل پڑتا ہے تو… ہوائیں اُس کے ساتھ چلتی ہیں… اور دشمن تقسیم ہو جاتے ہیں…اور شیطان کی ہوا اُکھڑ جاتی ہے…

ہاں آج سے تقریباً سینتیس (۳۷) سال پہلے… مدنی لشکر کے جہاد کا ایک نیا دور شروع ہوا … چار سو سالہ غلامی کو شکست دینے کے لئے اس لشکر نے عزم و ہمت کے ساتھ ’’مدنی جہاد‘‘ شروع کیا… اور پھر زمین کا نقشہ اور اس کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا… مگر ماضی کی جنگوں اور اس جنگ میں ایک بڑا فرق ہے… ماضی کی جنگیں محدود وقت کے لئے ہوتی تھیں… مگر یہ نئی جنگ بہت لمبی ہے، بہت لمبی… اور آپ جانتے ہیں کہ … لمبی جنگ اعصاب شکن ہوتی ہے… یہ انسانی اعصاب کو توڑ دیتی ہے… اور بڑے بڑے ملکوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ کر گرا دیتی ہے…

 مثال لیجئے

لمبی جنگ…ملکوں کو بھی تھکا دیتی ہے اور افراد کو بھی… لمبی جنگ بڑی سے بڑی طاقت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے… آپ سوویت یونین کو دیکھیں وہ ایک خطرناک طاقت کے ساتھ آگے بڑھا… اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سائبیریا کے پہاڑوں سے …دریائے آمو تک کے میدانوں کو ہڑپ کر لیا… مگر پھر وہ افغانستان میں آیا تو یہاں … اسے ایک لمبی اور طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑا… لمبی جنگ آپ کو کیا دیتی ہے؟

روز کے خر چے، زخمیوں اور معذوروں کے ریلے…مسلسل فکر مندی… بڑے بڑے قبرستان…مرنے والوں کے ورثاء کے لاوارث جتھے اور اسی طرح کی کئی چیزیں… یہ سب کچھ سوویت یونین کو اندر ہی اندر سے پگھلاتا گیا… اور صرف دس سال میں دنیا کا یہ مضبوط ترین ملک اور اتحاد ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا… اور اب امریکہ بالکل اسی صورتحال سے دوچار ہونے جا رہا ہے … کشمیر کی لمبی لڑائی نے انڈیا کو ایسا کھوکھلا کر دیا ہے کہ… وہ ساری دنیا کی منتیں کر رہا ہے کہ … میں نے ایک سرجیکل سٹرائیک کیا ہے… آپ لوگوں کو اگرچہ نظر نہیں آیا مگر مہربانی کر کے آپ اُسے مان لیں… کیونکہ میں نے وہ سٹرائیک بہت چپکے سے چھوڑا ہے…

اصل بات

یہ ساری تمہید عرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ…اب جو کفر اور اسلام کی جنگ شروع ہو چکی ہے… یہ بہت لمبی اور اعصاب شکن جنگ ہے اور اس جنگ میں صرف وہی فریق جیتے گا … جو زیادہ دیر تک لڑ سکا… آج کل کی جنگ ماضی کی جنگوں جیسی نہیں ہے کہ… بادشاہ مار دو جنگ ختم …کسی کا امیر مار دو جنگ ختم…بڑا جرنیل مار دو جنگ ختم …دوچار کرارے وار کردو جنگ ختم… نہیں اب ان چیزوں سے جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑتا … اب صرف اس بات کا اثر پڑتا ہے کہ …کون سا فریق کب تک میدان میں رہتا ہے… اور کب تک میدان میں رہ سکتا ہے… اس لئے وہ خوش نصیب افراد جو اس زمانے میں ’’مدنی لشکر‘‘ کا حصہ ہیں وہ …اپنا حوصلہ، اسٹیمنا اور عزم مضبوط کریں… وہ اگر بڑھتی عمر کے تقاضوں ، مسلسل آزمائشوں اور اُکتا دینے والی صورتحال سے نہ گھبرائے…اور میدان میں ڈٹے رہے تو اُن کے دشمن ایک ایک کر کے پگھلتے جائیں گے… اسی لئے ضروری ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہیں… اپنے عزم کو تازہ کرتے رہیں… اور مدنی لشکر کی اصل شان کے مطابق …استقامت اور مسلسل محنت سے نہ اُکتائیں… آپ کی کوئی محنت ضائع نہیں جا رہی مگر یہ جنگ ہی ایسی ہے کہ…فوری نتائج نہیں دکھاتی… اس لئے نہ گھبرائیں…نہ تھکیں ، نہ اُکتائیں اور نہ پیچھے ہٹیں…

ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online